Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2785

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ- ثَنَا حَبِيبٌ -وَهُوَ الْمُعَلِّمُ- قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً، ثُمَّ يَطُوفُوا، ثُمَّ يُقَصِّرُوا أَوْ يَحْلِقُوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نےاپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے حج کو عمرہ بنا لیں پھر بیت اللہ شریف کاطواف کریں ،سر کے بال کٹوالیں یا منڈوا لیں (اور حلال ہو جائیں )سوائے ان لوگو ں کے جن کے پاس قربانی کےجانور ہیں ۔(تو وہ حج قران کریں )۔ "

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← حَبِيبٌ -وَهُوَ الْمُعَلِّمُ- ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2785

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2786

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ [عَطَاءٌ] (1): قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَبِيحَةَ رَابِعٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَقَالَ: "أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَاءَ". قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ جَابِرٌ: وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبُوا النِّسَاءَ وَلَكِنَّهُ أَحَلَّهُ لَهُمْ.

۔۔حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح کے وقت مکہ مکرمہ تشریف لائے ۔پھر جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ نے ہمیں حکم دیا (کہ عمرہ کرکے )احرام کھول دو ۔اور فرمایا: "احرام کھول دو اور اپنی بیویوں سے ہمبستری کر سکتے ہو ۔"حضرت جا بر ؓ فرماتے ہیں :آپ نے صحابہ کرام پر بیویو ں سے جماع کرنا لازمی قرار نہیں دیا تھا لیکن آپ نے ان کےلیے حلا ل قرار دیا تھا (کہ اگر وہ ضرورت محسوس کریں تو اپنی خواہش پوری کرسکتے ہیں ۔)

ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2786

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2787

ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ؛ ح وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ طَرِيقٌ وَمَنْحَرٌ".

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "مکہ مکرمہ کی ہرشاہراہ راستہ بھی ہے اور قربان گاہ بھی ہے ۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَنَّهُ ← أُسَامَةُ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← وَحَدَّثَنِي أُسَامَةُ؛ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2787

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2788

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ". قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ حجتہ الوداع میں (سفر پر )نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باند ھا اور تلبیہ پکارا۔وہ فرماتی ہیں :میں مکہ مکرمہ اس حال میں پہنچی کہ میں حائضہ تھی ۔میں نے بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا مروہ کی سعی کی ۔پھر میں نے رسول اللہﷺسے اس با ت کا شکوہ کیا تو آپ نے فرمای: "اپنے بال کھول دو،کنگھی کر لو اور حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کے اعمال ترک کردو ۔لہذا میں نے ایسے ہی کیا ۔پھر جب ہم نے حج ادا کر لیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا (تا کہ وہاں سے عمرے کااحرام باندھ سکوں ) پس میں نے عمرہ ادا کیا ۔آپ نے فرمایا : "یہ تمہارے عمرے کے بدلے میں ہے ۔"امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں :کافی عرصے سے حضرت عائشہ ؓ کی اس حدیث کے بارے میں میرادل الجھن اور تردد کا شکا ر تھا ۔نبی اکرم ﷺکا انھیں یہ فرمانا : "اپنے سر کے بال کھو ل دو اور کنگھی کر لو ۔"مجھے خدشہ تھا کہ نبی اکرم ﷺ کے حضرت عائشہ ؓ کو یہ حکم دینے میں ہمارے مخالفین کے مذہب کی دلیل ہے جو اس مسئلہ میں کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نےحضرت عائشہ کو عمرہ نسخ کرنے کا حکم دیا تھا ۔پھر مجھے اپنے مذہب اور موقف کے درست ہونے کی دلیل مل گئی اور وہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کا موقف یہ تھا کہ عمرہ کرنےوالا حرم میں داخل ہوجائے تو اس کےلیے وہ تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں جو حج کرنے والے پر جمرہ عقبہ کی رمی کر لینے کے بعد ختم ہو جاتی ہیں ۔اس لیے حضرت عائشہ ؓ کا حدود حرم میں داخل ہونے کے بعد بال کھولنا اور کنگھی کرنا حلا ل تھا ۔اس کی دلیل وہ روایت ہے جوانہوں نے بیان کی ہے ۔حضرت عائشہ بنت طلحہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے بال کھول دے اور انہیں دھولے ،اور انہوں نے فرمایا:بے شک عمرہ کرنے والا جب حدودحرم میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ اسی طرح حلا ل ہو جاتا ہے جیسے حاجی جمرہ عقبہ کو رمی کرنے کے بعد حلال ہو جاتا ہے ۔امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں :امام شافعی ؒفرماتے ہیں :رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ کو ان کے عمرے میں طواف اور سعی سے روکا تھا ،یہ نہیں کہ انہیں عمرہ نسخ کرنے کا حکم دیا تھا ۔آپ نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ حج کا احرام باندھ کر حج قران کی نیت کر لیں ۔ امام شافعی کی یہ رائے حضرت ابن عمر ؓ کے عمل جیسی ہے ۔جیسا کہ انہوں نے پہلے عمرے کااحرام باندھا تھا پھر کہنے لگے :میرے خیال میں حج اور عمرے کا حکم وطریقہ ایک ہی ہے ۔میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کی نیت بھی کرلی ہے ۔اس طرح انہوں نے عمرے کی سعی اور طواف کرنے سے پہلے اپنے عمرے کےساتھ حج کو بھی ملا لیا ۔اور وہ حج قران کرنے والے بن گئے اور نبی ارم ﷺ کا حضرت عائشہ ؓ کو یہ فرمانا: "یہ تمہارے عمرے کی جگہ ہے"اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اعمال تم ادا نہیں کر سکی تھی وہ اب ادا کرلیے ہیں ۔یہ ان کا بدلہ ہو گئے ہیں ۔امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں :میں نے اس روایت کوایک طویل مسئلہ میں بیان کیا ہے جس میں میں نے حجتہ الوداع کے بارے میں صحابہ کرام کی روایات اور ان کے مختلف الفاظ کو جمع کر ے ان میں معنوی اتحاد واتفاق پید کیا ہے ۔

ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2788

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2789

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا، أَخْبَرَهُ؛ ح ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا (1) جَمِيعًا".

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہو تو وہ حج اور عمرے کا احرام باندھے پھر وہ عمرے کے بعد احرام نہ کھولے حتی کہ (10ذوالحجہ کو)حج اور عمرے دونوں کااحرام اکٹھا کھولے گا۔"

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2789

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2790

ثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ الْعَبْدِيَّ- عَنْ مُحَمَّدٍ -وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ- عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ؛ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَجِّ عَلَى أَنْوَاعٍ ثَلَاثَةٍ: فَمِنَّا مَنْ أَحْرَمَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ مُفْرِدًا، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ، فَمَنْ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ فَلَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ مِمَّا حُرِّمَ عَلَيْهِ حَتَّى يَقْضِيَ مَنَاسِكَ الْحَجِّ. وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مُفْرَدَةٍ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ قَضَى عُمْرَتَهُ حَتَّى يَسْتَقْبِلَ حَجًّا.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج میں روانہ ہوئےتو ہم نے تین قسم کےاحرام باندھے تھے ۔ہم میں سے کچھ لوگوں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا ۔ہم میں سے کچھ افراد نے صرف حج کا احرام باندھا تھا اور کچھ نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو جس شخص نے حج اور عمرے کا احرام باندھا تھا تو وہ مناسک حج ادا کرنے تک کسی پابندی سے آزاد نہ ہو جو اس پر احرام کی وجہ سے لاگو ہوئی تھیں ۔اور جس نے عمرے کا احرام باندھا تھا تو وہ بیت اللہ شریف کا طواف کرنے اور صفا مروہ کی سعی کرنے کے بعد فارغ ہوگیا حتی کہ اس نے (8ذوالحجہ کو)حج کا احرام باندھا ۔

عَائِشَةَ ← يَحْيَى بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدٍ -وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ- ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ الْعَبْدِيَّ- ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2790

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2791

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ، ثَنَا عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَضًا شَدِيدًا فَدَعَا وَلَدَهُ (2)، فَجَمَعَهُمْ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَنْ حَجَّ مِنْ مَكَّةَ مَاشِيًا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى مَكَّةَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خَطْوَةٍ سَبْعَمِائَةِ حَسَنَةٍ، كُلُّ حَسَنَةٍ مِثْلُ حَسَنَاتِ الْحَرَمِ". قِيلَ لَهُ: مَا حَسَنَاتُ الْحَرَمِ؟ قَالَ: "بِكُلِّ حَسَنَةٍ مِائَةُ أَلْفِ أَلْفِ حَسَنَةٍ" (1).

جناب زاذان بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ شدید بیمار ہوگئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو بلا کر جمع کیا اور فرمایا :میں نے رسول اللہﷺکوفرماتے ہوئے سنا ہے : "جس شخص نے مکہ مکرمہ سے پید ل چل کر حج ادا کیا حتی کہ وہ واپس مکہ مکرمہ آگیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں لکھ دیتے ہیں ۔ہر نیکی حرم کی نیکیوں کی مثل ہو گی ۔ "ان سے پوچھا گیا :حرم کی نیکیوں سے کیا مراد ہے ؟انہوں نے فرمایا :ہر نیکی دس کروڑ نیکیوں کے برابر ہوگی ۔

مَرِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ مَرَضًا شَدِيدًا فَدَعَا وَلَدَهُ فَجَمَعَهُمْ، ← زَاذَانَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عيسى بن سوادة، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ الْكِنْدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2791

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2792

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الْعَبَادَانِيَّ (2) ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا أَبُو حَازِمٍ، وَهُوَ نَبْتَكُ (3)، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ آدَمَ أَتَى الْبَيْتَ أَلْفَ آتِيَةٍ، لَمْ يَرْكَبْ قَطُّ فِيهِنَّ مِنَ الْهِنْدِ عَلَى رِجْلَيْهِ".

حضرت ابن عباس ،نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "حضرت آدم ؑنے بیت اللہ شریف کے ایک ہزار حج کیے ۔ہر بار ہندوستان سے پیدل چل کرآئے کسی حج میں بھی سواری پر نہیں آئے ۔"

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبُو حَازِمٍ، وَهُوَ نَبْتَكُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَزِيدَ الْعَبَادَانِيَّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2792

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2793

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ [ابْنِ عُمَرَ] قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ خَطَبَ النَّاسَ وَأَخْبَرَهُمْ بِمَنَاسِكِهِمْ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے یوم الترویہ (8ذوالحجہ )سے ایک دن پہلے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور انہیں حج کے مناسک بتائے ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا كَانَ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِيَوْمٍ خَطَبَ النَّاسَ وَأَخْبَرَهُمْ بِمَنَاسِكِهِمْ. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيِّ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2793

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2794

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيَّ- أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَأَمَرَنَا بَعْدَمَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَإِذَا أَرَدْتُمْ أَنْ تَنْطَلِقُوا إِلَى مِنًى فَأَهِلُّوا"! قَالَ: فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے حج کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :آپ نے ہمیں بیت اللہ کے طواف اور صفامروہ کی سعی کے بعد احرام کھولنے کاحکم دیا۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "جب تم (8ذوالحجہ کو ) منیٰ جانے کا ارادہ کرو تو(دوبارہ )احرام باندھ لینا ۔"چنانچہ ہم نے بطحاء سے احرام باندھا۔

فَأَمَرَنَا بَعْدَمَا طُفْنَا أَنْ نَحِلَّ. ← حَجَّةِ النَّبِيِّ ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2794

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2795

ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاوُدَ؛ ح ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثَنَا دَاوُدُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، قَالَ: اجْعَلُوهَا عُمْرَةً؛ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ". قَالَ: فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ صَرَخْنَا بِالْحَجِّ، وَانْطَلَقْنَا إِلَى مِنًى.

حضرت سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کےساتھ (حج کےلیے )نکلے ۔(مکہ مکرمہ پہنچ کر ) جب ہم نے طواف کرلیا تو آپ نے فرمایا : "اپنے اس حج کو عمرے میں تبدیل کرلو ،سوائے اس کے جو قربانی کا جانور ساتھ لایا ہے ۔"تو ہم نے اسے عمرہ بنالیا ۔پھر جب یوم ترویہ آیا تو ہم نے حج کا تلبیہ پکارااور منیٰ کی طرف چلے گئے ۔

فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ صَرَخْنَا بِالْحَجِّ، وَانْطَلَقْنَا إِلَى مِنًى. ← اجْعَلُوهَا عُمْرَةً؛ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ". ← خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى إِذَا طُفْنَا بِالْبَيْتِ، ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← دَاوُدُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2795

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2796

ثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ قَالَ: بِمِنًى. قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ قَالَ: بِالْأَبْطَحِ. ثُمَّ [قَالَ]: افْعَلْ كَمَا فَعَلَ أُمَرَاؤُكَ.

جناب عبدالعزیز بن بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے سوال کیا اور ان سے عرض کی :مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سمجھی ہو۔ آپ ﷺ نے یوم الترویہ کو ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟انہوں نے جواب دیا : منیٰ میں ۔ میں نے عرض کیا: روانگی والے دن عصر کی نماز کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ابطح میں ۔پھر فرمایا: تم ویسے ہی کرو جیسے تمہارے حکمران کریں ۔ (وہ جہاں نماز پڑھیں تم وہیں پڑھ لو۔)

افْعَلْ كَمَا فَعَلَ أُمَرَاؤُكَ. ← بِالْأَبْطَحِ. ثُمَّ ← بِمِنًى. قُلْتُ: فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ؟ ← رَسُولِ اللَّهِ أَيْنَ صَلَّى الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ؟ ← بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَقُلْتُ: ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2796

chevron_left Previous
1…232425…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals