Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2737

ثَنَا الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلٍ، سَمِعْتُ عَطَاءً، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "يَأْتِي الرُّكْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مِنْ أَبِي قُبَيْسٍ لَهُ لِسَانٌ وَشَفَتَانِ، يَتَكَلَّمُ عَنْ مَنِ اسْتَلَمَهُ بِالنِّيَّةِ، وَهُوَ يَمِينُ اللَّهِ الَّتِي يُصَافِحُ بِهَا خَلْقَهُ".

حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "حجر اسود قیا مت کے دن ابی قیس پہا ڑ سے بھی بڑا بن کر آئے گا ،اس کی ایک زبا ن اور دو ہونٹ ہوں گے ،جس شخص نے (اس کی گواہی کے حصو ل کی ) نیت سے اس کا استلا م کیا ہوگا یہ اس شخص کے بارے میں گواہی دے گا ۔یہ اللہ تعالیٰ کا دایا ں ہاتھ ہے جس کے ساتھ وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَطَاءٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمَؤَمَّلِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْحَسَنُ الزَّعْفَرَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2737

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2738

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ [272 - أ]؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ؛ ح وَثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالطَّوَافُ بِالْبَيْتِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ لَيْسَ لِغَيْرِهِ". انْتَهَى حَدِيثُ بُنْدَارٍ، وَزَادَ الْآخَرُونَ فِي الْحَدِيثِ: وَالسَّعْيُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.

۔۔حضرت عائشہ ؓ ،نبی کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا : "بے شک جمرات کو رمی کرنا او ر بیت اللہ شریف کا طواف کرنا ،یہ سب اللہ تعالی ٰ کے ذکرکرنے کےلیے مقرر کیے گئے ہیں ،اس کےسوا کوئی مقصد نہیں ۔"جناب بندار کی روایت انہی الفاظ پر ختم ہو جاتی ہے۔دیگر راویوں کی روایت میں یہ اضافہ ہے : "صفا اور مروہ کی سعی کرنے کا مقصد بھی اللہ تعالی ٰ کا ذکر کرنا ہے۔"

"إِنَّمَا جُعِلَ رَمْيُ الْجِمَارِ وَالطَّوَافُ بِالْبَيْتِ لِإِقَامَةِ ← النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ← سُفْيَانَ كُلُّهُمْ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْمَسْرُوقِيُّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ أ]؛ ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2738

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2739

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّايِبِ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ، فَمَنْ تَكَلَّمَ، فَلَا يَتَكَلَّمْ إِلَّا بِخَيْرٍ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمر النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِدَ الرَّجُلِ يَسِيرُ قَدْ زَنَقَهُ بِهِ أَنْ يَقُودَهُ (1) بِيَدِهِ، وَهُوَ طَائِفٌ بِالْبَيْتِ، مِنْ بَابِ الْكَلَامِ الْحَسَنِ فِي الطَّوَافِ قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي بَابٍ آخَرَ.

حضرت ابن عباس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : "بے شک بیت اللہ شریف کا طواف نما ز کی مانند ہے مگر اس میں تمہیں بات چیت کی اجا زت ہے ۔لہذا جو شخص بات چیت کرے تو وہ صرف خیر و بھلائی والی بات چیت کر ے۔"امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں:نبی اکرم ﷺ کا طواف کرنے کے دوران اس شخص کو حکم دینا جو ایک آدمی کی ناک میں چمڑے کی رسی ڈالے اسے طواف کرارہا تھا ،کہ وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر طوا ف کرائے ،یہ حدیث بھی اچھی اور عمدہ کلا م کرنے کے باب کے متعلق ہے۔ میں نے اس حدیث کو ایک اور باب میں بیان کیا ہے ۔(دیکھیے حدیث

ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ ← طَاوُوسٍ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2739

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2740

ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْحِجْرُ مِنَ الْبَيْتِ، لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَافَ بِالْبَيْتِ مِنْ وَرَائِهِ، وَقَالَ اللَّهُ: (وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ) [الحج: 29]. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: "الْحِجْرُ مِنَ الْبَيْتِ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الِاسْمَ بِاسْمِ الْمَعْرِفَةِ بِالْأَلِفِ وَاللَّامِ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ الشَّيْءِ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لما أَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُصَلِّيَ فِي الْحِجْرِ، وَقَالَ: "الْحِجْرُ مِنَ الْبَيْتِ"، أَرَادَ بَعْضَ الْحِجْرِ لَا كُلَّهُ. وَابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يُرِدْ بِقَوْلِهِ: "الْحِجْرُ مِنَ الْبَيْتِ"، جَمِيعَ الْحِجْرِ، وَإِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَهُ عَلَى مَا خَبَّرَتْ عَائِشَةُ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ بَعْضَ الْحِجْرِ مِنَ الْبَيْتِ لَا جَمِيعَهُ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے ،کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ شریف کا طواف حطیم کے باہر سے کیا تھا ۔اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :(وِلْیَطَوَّفُوْابِالْبَیْتِ الْعَتِیْقٍ) "اور چاہیے کہ وہ قدیم گھر (بیت اللہ ) کا طواف کریں ۔"امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں :یہ الفاظ "حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے ۔"یہ اسی قسم کے ہیں ۔جس کے بارے میں ہم اپنی کتب میں کئی مقامات پر واضح کر آئے ہیں کہ الف لا م کے ساتھ اسم معرفہ کا اطلاق ( کل چیز کی بجا ئے ) بعض دفعہ کسی چیز کے کچھ حصے پر بو ل دیا جا تا ہے ۔نبی کریم ﷺ نےحضرت عائشہ ؓ کو حطیم میں نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا اورفرمایا : "حطیم بیت اللہ کاحصہ ہے "آپ کی مراد یہ بھی کہ کچھ حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے، مکمل حطیم (بیت اللہ کا ) حصہ نہیں ہے اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ کے اس فرمان "حطیم بیت اللہ میں سے ہے "سے ان کی مراد یہ نہیں کہ مکمل حطیم بیت اللہ کا حصہ ہے ،بلکہ انکی مراد یہ تھی کہ حطیم کا کچھ حصہ بیت اللہ کا حصہ ہے ۔جیسا کہ حضر ت عائشہ ؓ نے نبی اکرم ﷺسے خبر دی ہے کہ حطیم کا کچھ حصہ بیت اللہ میں سے ہے ،پورا حطیم بیت اللہ کا حصہ نہیں ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2740

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2741

ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ؛ حَ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ: وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ الْمَلَكِ: مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ -يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ- سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا. قَالَ: قَالَ الْحَارِثُ: بَلَى أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا. قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَإِنِّي لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ". فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي فَلَأُرِيكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ". فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ. هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ. وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا. وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا؟ " قُلْتُ: لَا. قَالَ: "تَعَزُّزًا أَلَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا كَرِهُوا أَنْ يَدْخُلَهَا دَعُوهُ يَرْتَقِي، حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ". قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ. جَمِيعها لَفْظًا وَاحِدًا، غَيْرَ أَنَّ مُحَمَّدًا قَالَ: الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ جَنَابٍ. وَقَالَ: قَالَ الْحَارِثِ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: فَكَانَ الْحَارِثُ مُصَدَّقًا لَا يُكَذَّبُ. قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ [272 - ب]- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "ولَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ"، وَقَالَ: يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي.

۔۔جناب عبداللہ بن عبید بیان کرتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان کے دور حکومت میں حارث بن عبداللہ ان کے پاس ایک قاصد کی حیثیت سے گئے تو عبدالملک نےکہا :میرے خیا ل میں ابو خبیب یعنی ابن زبیر ؓ نے وہ حدیث حضرت عائشہ ؓ سے سنی نہیں ہے جس کے سننے کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ۔جناب حار ث کہتے ہیں :کیوں نہیں ،وہ حدیث تو میں نے بھی حضر ت عائشہ ؓ سے سنی ہے ۔عبدالملک نےکہا :تم نے حضرت عائشہ ؓ کو کیا فرماتےہوئے سنا ہے ؟جناب حارث کہتے ہیں ،حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک تیری قوم نے بیت اللہ کی بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا اور اگر وہ نئے نئے شرک سے نکل کر مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو میں اس حصے کو بیت اللہ کی بنیا دوں میں دوبارہ شامل کر دیتا جو انہوں نے چھوڑ دیاتھا لہذا اگر میرے بعد تیری قوم بیت اللہ کو ج( پرانی بنیادوں پر )بنانا چاہے ،تو آؤ میں تمہیں وہ حصہ دکھا دوں جو انہوں نے چھوڑدیا تھا ۔"چنانچہ آپ ﷺ نےحضرت عائشہ ؓ کو تقریباً ساٹھ ہاتھ کے برابرکی جگہ دکھائی ( جو بیت اللہ میں شامل نہیں کی گئی تھی اور وہ حطیم یا حجر کہلا تی ہے ) "یہ روایت جناب عبداللہ بن عبید کی ہے ۔جناب ولید بن عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے :نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : "تو میں بیت اللہ کے زمین سے ملے ہوئے دو دروازے بناتا ،ایک مشرقی جانب اور دوسر امغربی جانب ۔کیا تمہیں معلوم ہے تیری قوم نے بیت اللہ کا دروازہ اونچا کیوں رکھا تھا ؟"میں نے عرض کیا :نہیں ۔آپ نے فرمایا : "تکبروغرور کے اظہا ر کےلیے ،تاکہ بیت اللہ شریف میں صرف وہی شخص داخل ہوسکے جس کو یہ اجازت دیں ۔اور جب ان کا با پسندیدہ شخص اس میں داخل ہونے کےلیے اوپر چڑھتا تو وہ اسے چڑھنے دیتے ،حتی کہ جب وہ بیت اللہ میں داخل ہونے کےقریب ہو تا تو اسے دھکا دے کر گرادیتے ۔"عبدالملک نےحار ث سے کہا :کیا تم نے حضرت عائشہ ؓ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے ؟انہوں نے جواب دیا :جی ہا ں، سنا ہے ۔اس پر عبدالملک کچھ دیر سر جھکا ئے زمین کریدتا رہا پھر کہنے لگا :کاش میں بیت اللہ کو (حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کی تعمیر کی ہوئی بنیادوں پر ) باقی رہنے دیتا اور (بیت اللہ کو توڑکر نئے سرے سے بنانے کی )ذمہ داری انہی پر رہنے دیتا ،جو انہوں نے اپنے ذمےلی تھی ۔"سب راویوں کی روایات کے الفاظ متحد ہیں ،صرف محمد کی روایت میں یہ الفا ظ مختلف آئے ہیں :ولید بن عطاءبن جناب بیان کرتے ہیں کہ حارث نے کہا :میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ سے سنی ہے ۔جناب حارث اس حدیث کی تصدیق کرنے والے تھے ،جھٹلانے اور انکا ر کرنے والے نہیں تھے ۔عبد الملک نے پوچھا :تم نے حضرت عائشہ ؓ کو کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟جناب حارث نے جواب دیا :میں نے انہیں سنا وہ فرما رہی تھیں :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور فرمایا: "تو میں اس کے دودروازے بناتا ۔"اور فرمایا: "وہ اس شخص کو اوپر چڑھنے دیتے ۔"

الحارث بن عبد الله بن أبي ربيعة ← الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنِ بَکْرٍ ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2741

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2742

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ. فَبَنَيْتُهُ عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اسْتَقْصَرَتْ فِي بِنَائِهِ وَجَعَلْتُ لَها خَلْفًا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي بَابًا آخَرَ فِي خَلْفٍ. ثَنَاهُ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا: مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: لِي.

اللہ کو توڑکر اسے ابراہیم ؑ کی بنیادوں پر بنا دیتا ۔کیونکہ قریش نے (اسے تعمیر کرتے وقت ) اس کی بنیادوں کو چھوٹا کر دیا تھا اور میں کعبہ شریف کی پچھلی جانب ایک دروازہ بناتا ۔"امام ابوبکر ؒفرماتے ہیں : "خَلْفًا"کا معنی ہے :ایک اور دروازہ پچھلی جانب بنا دیتا ۔سلم بن جنادہ نے اس کو ابو معاویہ کے حوالے سے ہشام سے بیان کیا ہے ۔لیکن اس میں "لِی"(مجھے )کالفظ بیان نہیں کیا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2742

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2743

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ فَقَالَ: أجْعَلهَا عُمْرَةً، فَإِنْ أَنَا صُدِدْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا أَرَى سَبِيلَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا، وَأُشْهِدُكُمْ أنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجَّةً، فَلَمَّا أَتَى قُدَيْدًا اشْتَرَى هَدْيًا وَسَاقَهُ مَعَهُ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ -يَعْنِي طَافَ- وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَفْعَلُ.

امام نافع ؒفرماتے ہیں : حضرت ابن عمر ؓ نے حج کا ارادہ کیا،پھر کہنے لگے :میں اسے عمرہ بنا لیتاہوں ،اگر مجھے راستے میں روک دیا گیا تو میں اسی طرح کروں گا جس طرح رسو ل اللہ ﷺ نے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) کیا تھا ۔پھر جب بیداء مقام پر پہنچے تو فرمایا:میرے خیا ل میں حج اور عمرے کا ایک ہی حکم ہے ۔لہذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے ( حج قراں کی نیت کر لی ہے ) پھر جب قدید مقام پر پہنچے تو قربانی کا اونٹ خریدا اور اسے اپنے ساتھ لے کر چل دیے حتی کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے ۔پس بیت اللہ شریف کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دورکعت ادا کیں ۔اور صفا مروہ کی سعی کی ،پھر فرمایا :میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔

أجْعَلهَا عُمْرَةً، فَإِنْ ← أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2743

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2744

ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِينَ قَرَنُوا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب صحابہ کرام نے حج قران کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا تھا

عَائِشَةَ: أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ الَّذِينَ قَرَنُوا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا. ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2744

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2745

ثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ بْنِ وَائِلِ بْنِ وَضَّاحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَجْزَأَهُ لَهُمَا طَوَافٌ وَاحِدٌ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، ثُمَّ يَحِلُّ مِنْهُمَا جَمِيعًا".

۔۔"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جس شخص نے حج اور عمرے کا احرام باندھا ہے تو اسے ان دونوں کےلیے ایک ہی طواف کافی ہوگا ۔پھر وہ اپنا حج مکمل کرنے تک احرام نہ کھولے ۔پھر (10 ذوالحجہ کو ) ان دونو ں کا اکٹھا احرام کھول دے ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← ابْنُ الدَّرَاوَرْدِيِّ ← هِشَامُ بْنُ يُونُسَ بْنِ وَائِلِ بْنِ وَضَّاحٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2745

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2746

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ. ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ لَبَّى بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَنَعَ.

۔۔حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حج اور عمرے کا تلبیہ پکا را پھر ان دونوں کےلیے ،ایک ہی طواف کیا ،اور فرمایا :میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا تھا ۔

هَكَذَا رَأَيْت رَسُولَ اللهِ صَنَعَ. ← ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ لَبَّى بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2746

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2747

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالُوا: ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهُ، يُخْبِرُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ! لَا يُمْنَعَنَّ أَحَدٌ طَافَ (1) بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ كَانَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ". وَلَفْظُ مَتْنِ الْحَدِيثِ لَفْظُ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ. وَقَالَ عَلِيٌّ وَأَحْمَدُ: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ.

۔۔حضرت جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "اے عبد مناف کے بیٹو!دن اور رات کی جس گھڑی میں بھی کوئی شخص اس بیت اللہ شریف کا طواف کرنا چاہے یا نمازپڑھنا چاہے تو تم اسے ہر گز نہ روکنا ۔"حدیث کے متن کے الفاظ علی بن خشرم کی روایت کے ہیں ۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهُ، يُخْبِرُ ← مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2747

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2748

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُؤَمَّلٍ -يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ- عَنْ حُمَيْدٍ مَوْلَى عَفْرَاءَ (2)، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا بِمَكَّةَ، إِلَّا بِمَكَّةَ، إِلَّا بِمَكَّةَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا أَشُكُّ فِي سَمَاعِ مُجَاهِدٍ مِنْ أَبِي ذَرٍّ.

حضرت ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "صبح کی نماز کے بعد اور عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں ہے سوائے مکہ مکرمہ کے،سوائے مکہ مکرمہ کے ،سوائے مکہ مکرمہ کے ۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : "مجھے حضرت ابوذرؓ سے امام مجاہد کے سماع میں شک ہے ۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← مُجَاهِدٍ ← حُمَيْدٍ مَوْلَى عَفْرَاءَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُؤَمَّلٍ -يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ- ← سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ الْقِدَاحُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ الْعَابِدِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2748

chevron_left Previous
1…192021…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals