Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2617

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، قَالَا: ثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ. حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي -وَهُوَ بِالْعَقِيقِ- أَنْ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقُلْ: عُمْرَةً فِي حَجَّةٍ".

حضر ت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسو ل اللہ ﷺ نےبیان فرمایا :آج رات میرے پاس میرے رب کا ایک فرشتہ آیا ، جب کہ آپ اس رات وادی عقیق میں تشریف فرما تھے ،کہ آپ اس مبارک وادی میں نماز ادا کریں اور کہیں : "عمرہ ،حج میں شامل ہو گیا ہے ( آئندہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ہے ۔)"

رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2617

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2618

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ [261 - ب] بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَبَّيْكَ بِحَجة وَعُمْرَةٍ".

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ان الفاظ میں تلبیہ کہا اور نیت کی :لَبَّیْکَ بِحَجِّ وَعُمْرَۃِ"اے اللہ میں حج اور عمرے کی ادائگی کےلیے حاضر ہوں ۔

أَنَسِ ب] بْنِ مَالِكٍ؛ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← خَالِدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2618

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2619

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ كُلُّهُمْ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا"، مِرَارًا.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :لبیک عمرۃ و حجاً لبیک عمرۃ وحجًا :اے اللہ میں عمرہ اور حج دونوں کی ادائیگی کےلیے حاضر ہوں ۔اے اللہ میں عمرہ اور حج دونوں کی ادائیگی کےلیے حاضر ہوں"آپ یہ کلمات بار بار پڑھتے رہے تھے۔

"لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا"، مِرَارًا. ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَنَسًا ← يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ كُلُّهُمْ ← هُشَيْمٌ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2619

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2620

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: "نَبْدَأُ بِالَّذِي بَدَأَ اللَّهُ بِهِ"، فَبَدَأَ بِالصَّفَا، حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِ سَبْعَةٍ عَلَى الْمَرْوَةِ، فَجَاءَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِهَدِيَّةٍ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "بِمَ أَهْلَلْتَ؟ " قَالَ، قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ. قَالَ: "فَإِنِّي أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ". فَذَكَرَ الدَّوْرَقِيُّ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ أَهَلَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ غَيْرُ عَالِمٍ فِي وَقْتِ إِهْلَالِهِ مَا الَّذِي بِهِ أَهَلَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا كَانَ مُهِلًّا مِنْ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ، وعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَحِمَهُ اللَّهُ مِنْ نَاحِيَةِ الْيَمَنِ، وَإِنَّمَا عَلِمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَا الَّذِي بِهِ أَهَلَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ اجْتِمَاعِهِمَا بِمَكَّةَ، فَأَجَازَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِهْلَالَهُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ غَيْرُ عَالِمٍ فِي وَقْتِ إِهْلَالِهِ أَهَلَّ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَجِّ أَوْ بِالْعُمْرَةِ أَوْ بِهِمَا جَمِيعًا. "وَقِصَّةُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ مِنْ هَذَا الْبَابِ لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ مُنِيخٌ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال: قَدْ أَحْسَنْتَ، غَيْرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُتَعَقَّبِ أَمَرَ عَلِيًّا بِغَيْرِ مَا أَمَرَ بِهِ أَبَا مُوسَى، أَمَرَ عَلِيًّا بِالْمُقَامِ عَلَى إِحْرَامِهِ إِذْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَمْ يَجز لَهُ الْإِحْلَال إِلَى أَنْ يبلغ الْهَدْي مَحِلَّهُ، وَأَمَرَ أَبَا مُوسَى بِالْإِحْلَالِ بِعُمْرَةٍ إِذْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، وَقَدْ بَيَّنْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج کی نیت سے (مدینہ منورہ سے ) نکلے حتی کہ رسول اللہﷺ مکہ مکرمہ پہنچ گئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے (طواف کیا) اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت ادا کیں ،پھر آپ نے فرمایا: "ہم بھی (سعی کی )ابتداءاسی سے کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں ) ابتداء کی ہے ۔"لہذ ا آپ نے صفا پہاڑی سے (سعی کی ) ابتداء کی ۔حتی ٰ کہ آخری ساتواں چکرمروہ پہاڑی پر پہنچ کر ختم کیا اور سعی سے فارغ ہوگئے ۔حضرت علی بن ابی طالب ،اللہ ان پر رحم کرے ،یمن سے آپ کے قربانی کے جانورلے کر حاضر ہوگئے ۔تو رسول اللہ ﷺنے ان سے پوچھا : "تم نے احرام باندھتے وقت کیا نیت کی تھی ۔(کس حج کا تلبیہ پکاراتھا ) "انہوں نے عر ض کی : میں نے کہا تھا :اے اللہ !میں بھی اسی نیت سے احرام باندھتا ہوں جس نیت سے تیرے رسول نے احرام باندھا ہے ۔آپ نے فرمایا: "بے شک میں حج کا احرام باندھا ہے ۔"پھر جناب دورقی نے بقیہ حدیث بیان کی ۔امام ابوبکؒر فرماتے ہیں :حضرت علی ؓ نے نبی کریم ﷺ کے احرام کی طرح احرام باندھا حالانکہ احرام باندھتے وقت حضرت علی ؓ کو معلوم نہیں تھا کہ نبی کریم ﷺ نے کس حج کی نیت کرکے احرام باندھا ہے ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کےراستے میں آنے والے میقات ذوالحلیفہ سے احرام باندھا تھا جبکہ حضرت علی ؓ اس وقت یمن کی جانب موجود تھے اور حضرت علی ؓ کومکہ مکرمہ پہنچ کر آپ سے معلوم ہوتھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کس حج کی نیت سے احرام باندھا ہے ۔لیکن نبی کریم ﷺنے حضرت علی ؓ کے اسی احرام کو درست قرار دے دیاجو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نیت پر احرام باندھا تھا حالانکہ احرام باندھتے وقت انہیں معلوم نہیں تھاکہ رسول اللہﷺ نے حج ،عمرے یا ان دونوں کی نیت سے احرام باندھا ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا قصہ بھی اس مسئلے کے متعلق ہے ۔ جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے جب کہ آپ بطحا ء میں تشریف فرماتھے ۔آپ نے انہیں فرمایاتھا :تم نے بہت اچھا کیا ہے ( کہ اپنی قربانی ساتھ لائے اس لیے عمرہ ادا کرکے احرام کھول لو) لیکن آخر میں نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو حضرت ابو موسیٰ سے مختلف حکم دیا ۔آپ نے حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ وہ اپنے احرام میں پا بند رہیں کیونکہ انکے پاس قربانی کاجانور موجود تھا ۔لہذ ا انہیں ( 10ذوالحجہ کو ) قربانی کا جانو ر اپنی جگہ پہنچنے تک احرام کھولنے کی اجازت نہ تھی ۔اور آپ نے حضرت ابو موسی ؓ کو عمرہ کرکے احرام کھولنے کا حکم دیا کیونکہ ان کے پاس قربانی کاجانور موجود نہیں تھا ۔میں نے یہ مسئلہ کتاب الکبیر میں بیان کردیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2620

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2621

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ أَحْمَدُ أَخْبَرَنَا، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنْ تَلْبِيَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ، لَا شَرِيكَ لَكَ". قَالَ مُؤَمَّلٌ فِي حَدِيثِهِ: وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ: لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ.

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہےکہ نبی کریم ﷺ کا تلبیہ اس طرح ہے (لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَتَہ لَک وَالْمُلْکَ ، لَا شَرِیْکَ لَکَ) : اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، میں تیری عبادت پر قائم ہوں ۔میں تیری فرمانبرداری کےلیے حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ،اے اللہ ! میں حاضر ہوں ۔بلاشبہ ساری تعریفیں تیر ے ہی لائق ہیں اور تمام نعمتیں تیر ی ہی ملکیت ہیں ۔ اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے ۔تیرا کوئی شریک نہیں ہے ۔جناب مؤمل کی روایت میں ہے :حضرت ابن عمر ؓ نے ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے : "اے اللہ میں حاضر ہوں، میں تیری عبادت پر قائم ہوں ،میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ،میں تیری عبادت کی موافقت کرتا ہوں ، ہر طرح کی خیروبرکت تیرے ہاتھو ں میں ہے ۔تمام امیدیں تیری ذا ت سے وابستہ ہیں اور ہر عمل تیری ہی رضا کے حصو ل کےلیے ہے۔

نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَحْمَدُ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2621

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2622

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مُؤَمَّلٍ.

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے ،وہ فرماتے ہیں:میں نے تلبیہ رسول اللہ سے سیکھا ہے ۔"پھر جناب مؤمل کی حدیث کی طرح بیان کی ۔

تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مُؤَمَّلٍ. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2622

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2623

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا وَكِيعٌ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ: "لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ".

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے تلبیہ میں یہ الفاظ کہے : "(لَبَّیْکَ إِلٰہَ الْحَقِّ) "اے سچے اور حقیقی معبود ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← وَكِيعٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2623

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2624

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ [262 - أ] بْنَ الْفَضْلِ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ".

حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کےتلبیہ میں یہ الفاظ بھی شامل تھے : (لَبَّیْکَ إِلٰہَ الْحَقِّ) "اے الہ الحق میں تیری خدمت میں حاضر ہوں ۔"

عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2624

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2625

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ". وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: "بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ".

جناب خلا د بن سائب اپنے والد گرامی حضرت سائب ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا : "میرے پاس جبرائیل تشریف لائے تو انہوں نے کہا :اپنے صحابہ کو حکم دیجیے کہ وہ تلبیہ کہتے ہوئے اپنی آواز بلند کریں ۔"جناب احمد کی روایت میں "بِالْاِ ھْلَالِ وَالتَّلْبِیَتِہ" الفاظ ہیں ۔معنی دونوں کا ایک ہی ہے کہ تلبیہ پکاریں ۔)

أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: "بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ". ← مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ". ← أَتَانِي جِبْرِيلُ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2625

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2626

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، [لَبَّيْكَ] لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ. قَالَ: وَأَمَّا النَّاسُ يَزِيدُونَ "ذَا الْمَعَارِجِ" وَنَحْوِهِ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْمَعُ لَا يَقُولُ شَيْئًا.

جناب جعفر اپنے والد محرم سے بیان کرتے ہیں ،وہ فرماتے ہیں :ہم حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے حج کے بارے میں سوال کیا ۔تو انہوں نے فرمایا :آپ (سفر حج ) کےلیے نکلے حتی کہ آپ کی سواری آ پ کو لے کر بیداء مقام پرسیدھی ہوئی توآپ نے بلند آواز سے یہ کلمات توحید پکارے ((لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، إنَّ الْحَمْدَ وَ النِّعْمَتَہ لَک وَالْمُلْکَ ، لَا شَرِیْکَ لَکَ) ": اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، میں تیری عبادت پر قائم ہوں ۔میں تیری فرمانبرداری کےلیے حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ،اے اللہ ! میں حاضر ہوں ۔بلاشبہ ساری تعریفیں تیر ے ہی لائق ہیں اور تمام نعمتیں تیر ی ہی ملکیت ہیں ۔ اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے ۔تیرا کوئی شریک نہیں ہے"جب کہ صحابہ کرام "ذاالمعارج "(اے سڑھیوں والے ) کے الفاظ بڑھا دیتے تھےاور نبی کریم ﷺ یہ الفاظ سننے کے باوجود انہیں کچھ نہیں کہتے تھے ۔

حَجَّةِ النَّبِيِّ ← أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَسَأَلْنَاهُ ← أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2626

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2627

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ". وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: "بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ".

۔۔حضرت سائب ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آ پ نے فرمایا : "میرے پاس جبرائیل آتے تو انہوں نے فرمایا:اپنے ساتھیو ں کو حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں ۔"جناب احمد بن منیع کی روایت میں "بالا ھلال والتلبیتہ"کے الفاظ ہیں

أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: "بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ". ← مُرْ أَصْحَابَكَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ". ← أَتَانِي جِبْرِيلُ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← عبد الملك بن أبي بكر بن الحارث بن هشام ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2627

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2628

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "جَاءَنِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا صِيَاحَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ فَإِنَّهَا شِعَارُ الْحَجِّ".

حضرت زید بن خالد جہنی ؓؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : "جبرائیل ؑتشریف لائے تو فرمایا : اے محمد ﷺ !اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ وہ بآواز بلند تلبیہ پکاریں کیونکہ یہ شعار حج ہے ۔"

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ← الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2628

chevron_left Previous
1…91011…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals