Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1564

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ نُصَلِّيَ مِمَّا يَلِي يَمِينَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَنَّهُ كَانَ يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ عَنْ يَمِينِهِ.

"حضرت براء ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی دائیں جانب کھڑے ہو کر نماز پڑھنا پسند کرتے تھے کیونکہ آپ اپنی دائیں جانب سلام پہلے پھیرتے تھے۔"

كَانَ يُعْجِبُنَا ← أَبِيهِ ← يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1564

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1565

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، نَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ. وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ حِينَ انْصَرَفَ: "رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ، يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ".

"حضرت براء بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہم آپ کی دائیں طرف کھڑے ہونا پسند کرتے۔میں نے آپ کو نماز سے فارغ ہو کر یہ دعا پڑھتے سنا:"اے میرے پروردگار ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھاۓ گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔"

حِينَ انْصَرَفَ: "رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ، يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ". ← يَمِينِهِ. وَسَمِعْتُهُ ← كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← ابْنِ الْبَرَاءِ، ← ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1565

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1566

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "خَيْرُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاةِ".

"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو نماز میں اپنے کندھوں کو نرم رکھتا ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ ← جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو عَاصِمٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1566

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1567

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ وَيَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ هَارُونَ أَبِي مُسْلِمٍ (1)، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ قُرَّةَ قَالَ: كُنَّا نُنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَيْنَ السَّوَارِي، وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا. [165 - أ]

"حضرت قرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے کے لیے (صفیں بنانے سے) منع کیا جاتا تھا اور ہمیں وہاں سے ہٹا دیا جاتا تھا۔"

الصَّلَاةِ بَيْنَ السَّوَارِي، وَنُطْرَدُ عَنْهَا طَرْدًا. أ] ← کُنَّا نُنْھٰی ← أَبِيهِ قُرَّةَ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← قَتَادَةَ ← هَارُونَ أَبِي مُسْلِمٍ، ← أَبُو قُتَيْبَةَ، وَيَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1567

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1568

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَزَحَمَنَا إِلَى السَّوَارِي، فَقَالَ: كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"جناب عبدالحمید بن محمود بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ہجوم کی وجہ سے ہم ستونوں تک پہنچ گئے تو انہوں نے فرمایا:"ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں اس کا م سے بچتے تھے۔"

كُنَّا نَتَّقِي هَذَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ← صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَزَحَمَنَا إِلَى السَّوَارِي، ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ مَحْمُودٍ، ← يَحْيَى بْنِ هَانِئٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1568

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1569

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو،

"حضرت علی شیبان ؓ جو کہ وفد کے رکن تھے، فرماتے ہیں:ہم نے نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔نبی کریم ﷺ نماز مکمل کی تو ایک شخص کو دیکھا جو صف کے پیچھے اکیلا نماز پڑھ رہا تھا، نبی کریم ﷺ اس شخص کے پاس کھڑے ہو گئے، یہاں تک کہ اس نے اپنی نماز مکمل کر لی۔ پھر اپ نے اسے کہا:"اپنی نماز دوبارہ پڑھو کیونکہ صف کے پیچھے اکیلے آدمی کی نماز نہیں ہوتی۔

مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1569

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1570

قال أبو بكر : و في أخبار وابصة بن معيد : رأى رجلا صلى خلف الصف وحده فأمره أن يعيد الصلاة و احتج بعض أصحابنا و بعض من قال بمذهب العراقيين في إجازة صلاة المأموم خلف الصف وحده بما هو بعيد الشبه من هذه المسألة احتجوا بخبر أنس بن مالك أنه صلى و امرأة خلف النبي صلى الله عليه و سلم فجعله عن يمينه و المرأة خلف ذلك فقالوا : إذا جاز للمرأة أن تقوم خلف الصف وحدها جاز صلاة المصلي خلف الصف وحده ! و هذا الاحتجاج عندي غلط لأن سنة المرأة أن تقوم خلف الصف وحدها إذا لم تكن معها امرأة أخرى و غير جائز لها أن تقوم بحذاء الإمام و لا في الصف مع الرجال و المأموم من الرجال إن كان واحدا فسنته أن يقوم عن يمين إمامه و إن كانوا جماعة قاموا في صف خلف الإمام حتى يكمل الصف الأول و لم يجز للرجل أن يقوم خلف الإمام و المأموم واحد و لا خلاف بين أهل العلم أن هذا الفعل لو فعله فاعل فقام خلف إمام و مأموم قد قام عن يمينه خلاف سنة النبي صلى الله عليه و سلم و إن كانوا قد اختلفوا في إيجاب إعادة الصلاة و المرأة إذا قامت خلف الصف و لا امرأة معها و لا نسوة فاعلة ما أمرت به و ما هو سنتها في القيام و الرجل إذا قام في الصف وحده فاعل ما ليس من سنته إذ سنته أن يدخل الصف فيصطف مع المأمومين فكيف يكون أن يشبه ما زجر المأموم عنه مما هو خلاف سنته في القيام بفعل المرأة فعلت ما أمرت به مما هو سنتها في القيام خلف الصف وحدها ؟ ! فالمشبه المنهي عنه بالمأمور به مغفل بين الغفلة مشبه بين فعلين متضادين إذ هو مشبه منهي عنه بمأمور به فتدبروا هذه اللفظة يبن لكم بتوفيق خالقنا حجة ما ذكرنا و زعم مخالفونا من العراقيين في هذه المسألة أن المرأة لو قامت في الصف مع الرجال حيث أمر الرجل أن يقوم أفسدت صلاة من عن يمينها و من عن شمالها و المصلي خلفها و الرجل مأمور عندهم أن يقوم في الصف مع الرجال فكيف يشبه فعل المرأة لو فعلت أفسدت صلاة ثلاثة من المصلين بفعل من هو مأمور بفعله إذا فعله لا يفسد فعله صلاة أحد ؟ !

"امام ابوبکر ؓ فرماتے ہیں:حضرت وابصہ بن معبد کی روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے دیکھا تو آپ نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔ہمارے بعض اصحاب محدثین اور اہل عراق کے مذہب کے پیروکار بعض فقہاء نے صف کے پیچھے اکیلے شخص کی نماز کے درست ہونے کے بارے میں ایک ایسی دلیل کو اپنی حجت بنایا ہے جس کا اس مسئلہ سے دور کا تعلق اور مشابہت بھی نہیں ہے انہوں نے حضرت انس بن مالک کی اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ انہوں نے اور ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ آپ ﷺ نے حضرت انس کو اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا اور عورت کو اپنے پیچھے کھڑا کر لیا۔"لہذا یہ حضرات کہتے ہیں: جب عورت کے لیے صف کے پیچھے اکیلے کھڑے ہونا جائز ہے، تو پھر اکیلے مرد نمازی کی صف کے پیچھے نماز بھی جائز ہے میرے نزدیک یہ استدال غلط ہے کیونکہ عورت جب اکیلی ہو، اس کے ساتھ دوسری کوئی عورت موجود نہ ہو، تو عورت کی نماز کار طریقہ ہی یہ ہے کہ وہ صف کے پیچھے اکیلی کھڑی ہو۔ اس کے لیے امام کے ساتھ کھڑا ہو نا جائز نہیں ہے اور نہ مردوں کے ساتھ ان کی صف میں شامل ہونا درست ہے جبکہ اکیلے مرد مقتدی کی نماز کا طریقہ یہ ہے کہ وہ امام کی دائیں جانب کھڑا ہو گا اور اگر وہ زیادہ تعداد میں ہوں، تو امام کے پیچھے صف میں کھڑے ہوں گے حتٰی کہ پہلی صف مکمل ہو جاۓ اور اکیلے مقتدی کا امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے اہل علم کا اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کی اگر کسی شخص نے یہ کام کیا اور وہ اکیلا ہی امام کے پیچھے کھڑا ہو گیا، جبکہ ایک مقتدی امام کی دائیں جانب کھڑا ہو چکا تھا، تو اس کا یہ کام خلافٍ سنت ہو گا۔ اگر چہ نماز کو دہرانے کےوجوب میں ان کا اختلاف ہے جبکہ عورت اگر صف کے پیچھے اکیلی کھڑی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایک عورت یا عورتوں کی جماعت نہ ہو تو اس نے وہ کام کیا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور قیام کا اس کا طریقہ ہے اور جب مرد صف کے پیچھے اکیلا کھڑا ہوتا ہے تو اس نے اپنے طریقہ نماز کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ صف میں داخل ہو کر مقتدیوں کے ساتھ صف بناۓ لہٰذاق یہ کیسے ممکن ہے کہ مرد کا وہ فعل جس سے اسے منع کیا گیا ہے اور وہ اس کے طریقہ نماز کے بھی خلاف ہے، وہ عورت کے اس فعل کے مشابہ ہو جاۓ جس کا عورت کو حکم دیا گیا او ر اکیلے ہونے کی صورت میں صف کے پیچھے کھڑے ہونے میں اس کی سنت اور طریقہ بھی ہے؟ اس لیے ممنوع فعل کو ماموربہ کے ساتھ مشابہت دینے والے واضح غفلت کا شکار ہیں کیونکہ انہوں نے دو متضاد فعلوں میں تشبیہ دی ہے ایک ممنوع کام کو مامور بہ کام کے مشابہ قراردے دیا ہے پس تم ان الفاظ میں غورفکر کرو ۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تم پر ہماری دلیل واضح ہو جاۓ گی۔ اس مسئلہ میں ہمارے مخالف اہل عراق کا موقف یہ ہے کہ اگر عورت مردوں کے ساتھ صف میں کھڑی ہو گئی، جہاں مردوں کو کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔تو وہ عورت اپنے دائیں، بائیں اور اپنے پیچھے نماز پڑھنے والے مردوں کی نماز فاسد بنا دے گی۔ حالانکہ ان کے نزدیک مرد کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ صف میں مردوں کے ساتھ کھڑا ہو۔اس لیے اس مرد کا یہ فعل عورت کے فعل سے کیسے مشابہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ (یہ ممنوع) کام کرے تو تین آدمیوں کی نماز فاسد کرے دے۔ لیکن اگر مرد ہی ممنوع کام کرے تو کسی ایک کی بھی نماز فاس نہ ہو؟۔

ابصة بن معيد رأى رجلا صلى خلف الصف وحده فأمره ← أبو بكر و في أخبار

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1570

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1571

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ (2) بْنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا جَدِّي، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ؛ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ لِلنَّاسِ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ رُكُوعٌ، فَلْيَرْكَعْ حِينَ يَدْخُلُ، ثُمَّ لِيَدُبَّ رَاكِعًا حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ، فَإِنَّ ذَلِكَ السُّنَّةُ. قَالَ عَطَاءٌ: وَقَدْ رَأَيْتُهُ هُوَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

"جناب عطاء سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو منبر پر لوگوں کو یہ کہتے ہوۓ سنا:"جب تم میں سے کو ئی شخص اس حال میں مسجد میں داخل ہو کہ لوگ رکوع میں ہوں تو وہ داخل ہوتے ہی رکوع میں چلا جاۓ پھر رکوع ہی کی حالت میں آہستہ آہستہ چلتے ہوۓ صف میں شامل ہوجاۓ، بلاشبہ یہ سنت ہے جناب عطاء فرماتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ کو ایسے کرتے ہوۓ دیکھا۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَی الْمِنْبَرِ ← عَطَاءٌ، اَنَّہٗ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← جَدِّي، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1571

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1572

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، وَلَا تَخْتَلِفُوا، فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ، وَإِيَّاكُمْ وَهَيْشَاتِ الْأَسْوَاقِ". لَفْظًا وَاحِدًا، غَيْرَ أَنَّ بِشْرًا لَمْ يَنْسِبِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

"حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"تم میں سے اہل دانش اور عقل مند لوگ میرے نزدیک کھڑے ہوں ، پھر وہ جو(عقل وتمیز میں) ان کے قریب ہوں۔پھر وہ جوان کے قریب ہوں۔ اور تم آپس میں اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل بھی مختلف ہو جائیں گے اور تم بازاروں کے شوروغل سے(مسجدوں میں)پرہیز کرو۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1572

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1573

مَنْ أَضَلُّوا، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ تَعْنِي بِهَذَا؟ قَالَ: "الْأُمَرَاءُ". أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مَقْدَمٍ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ السَّدُوسِيُّ، ثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ (1)، عَن قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا بِالْمَدِينَةِ فِي الْمَسْجِدِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ قَائِمٌ أُصَلِّي، فَجَبَذَنِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي جَبْذَةً، فَنَحَّانِي وَقَامَ مَقَامِي. قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا عَقَلْتُ صَلَاتِي، فَلَمَّا انْصَرَفَ، فَإِذَا هُوَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: يَا فَتَى! لَا يَسُؤْكَ اللَّهُ، إِنَّ هَذَا عَهْدٌ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْنَا أَنْ نَلِيَهُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَقَالَ: "هَلَكَ أَهْلُ الْعُقْدَةِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا عَلَيْهِمْ آسَى، وَلَكِنْ آسَى عَلَى

"حضرت قیس بن عیاد بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں پہلی صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہاتھا، جب ایک شخص نے مجھے پیچھے سے کھینچ لیا۔مجھے ہٹا کرو وہ خود اس جگہ کھڑا ہو گیا۔ فرماتے ہیں:"اللہ کی قسم! (غصے کی وجہ سے) میں اپنی نماز سمجھ نہ سکا(کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں) پھر جب وہ نماز سےفارغ ہوۓ تو وہ حضرت ابی بن کعب ؓ تھے۔انہوں نے فرمایا: اے نوجوان! اللہ تمہارا بھلا کرے۔اللہ کے نبی ﷺ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم امام کے قریب کھڑے ہوں پھر وہ قبلہ رخ ہوۓ اور فرمایا:رب کعبہ کی قسم!حکمران ہلاک ہو گئے، تین بار فرمایا:پھر فرمایا:اللہ کی قسم! ان پر افسوس نہیں لیکن ا فسو تو ان لوگوں پر ہے جو(دوسروں کو)گمراہ کر رہے ہیں کہتے ہیں:میں نے پوچھا:اس سے آپ کی مراد کون لوگ ہیں؟ انہوں نے فرمایا:میری مراد مراء (حکمران) ہیں۔

مَنْ أَضَلُّوا،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1573

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1574

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ مُحَمَّدٌ: ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ النَّاسَ، وَأَنْ يَؤُمَّهُمْ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَهَذَا اللَّفْظُ الَّذِي ذَكَرَهُ لَفْظُ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ.

"حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بنی عمروبن عوف کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔(آپ کی عدم موجودگی میں)نماز کے وقت ہو گیا تو مؤذن حضرت ابوبکر ؓ کے پاس آیا اور ان سے لوگوں کی امامت کرنے کی درخواست کی۔(انہوں نے نماز شروع کردی) پھر رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آےٌ آپ کی صفوں کو چیر تے ہوۓ آگے بڑھے حتٰی کہ اگلی صف میں کھڑے ہو گئے۔پھر مکمل حدیث بیان کی یہ الفاظ جناب اسماعیل کی روایت کے ہیں۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← إِسْمَاعِيلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَمِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1574

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1575

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى فَكَبَّرَ، فَكَبِّرُوا، وَإِذَا رَكَعَ، فَارْكَعُوا، وَلَا تَخْتَلِفُوا عَلَيْهِ، فَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا، وَلَا تَبْتَدِرُوا قَبْلَهُ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:یقیناً امام اس لیے(بنایا گیا) ہے کہ اس کی اقتدا کی جاۓ لٰہذا جب وہ نماز پڑھانے کے لیے تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور اس سے اختلاف نہ کرو(اس سے مختلف کا م نہ کرو) جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو رَبَّنا وَلَکَ الْحَمْدَ کہو اور جب وپ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور تم اس سے پہلے جلدی نہ کرو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1575

chevron_left Previous
1…567…18
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals