صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ النِّسَاءِ فِی الجَمَاعَۃِ · حديث 1708
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَشَارَ أَحَدُنَا إِلَى أَخِيهِ بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَفْعَلُ هَذَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ؟! إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَوْ [أ] (2) أَلَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ، أَنْ يَقُولَ هَكَذَا -وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ- ثُمَّ سَلَّمَ عَلَى أَخِيهِ مَنْ عَنِ يَمِينِهِ، وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ.
’’حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے تو ہم سے ایک شخص اپنی دائیں اور بائیں جانب(سلام پھیرتے وقت) اپنے بھائی کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتا۔پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھا لی تو فرمایا:’’کیا بات ہے کہ تم میں سے ایک شخص اس طرح اشارہ کرتا ہے گویا کہ وہ سرکش گھوڑے کی دمیں ہوں؟ یقیناً تم میں سے کسی شخص کو صرف اتنا ہی کافی ہے، یا (کہا کہ) کیا تم میں سے کسی شخص کو اتنا کافی نہیں ہے کہ و ہ اس طرح کرے اور آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک اپنی دائیں ران پر رکھا اور انگلی کے ساتھ اشارہ کیا پھر وہ اپنی دائیں اور بائیں جانب والے کو سلام کہے۔‘‘
جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ، ← مِسْعَرٍ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1708
