صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1660
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: نَا فُلَيْحٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو هُرَيْرَةَ، قُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَأَتَيْتُهُ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا فِي قِصَّةِ الْعَرَاجِينَ، قَالَ: ثُمَّ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكِ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ بَرَقَتْ بَرْقَةٌ، فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ، فَقَالَ: "مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ؟ "، فَقَالَ: عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ اللَّيْلَةَ قَلِيلٌ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا. قَالَ: "فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ"، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ، فَقَالَ: "خُذْ هَذَا فَسَيُضِيءُ لَكَ أَمَامَكَ عَشْرًا وَخَلْفَكَ عَشْرًا، فَإِذَا دَخَلْتَ بَيْتَكَ فَرَأَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ، فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ تَكَلَّمَ، فَإِنَّهُ الشَّيْطَانُ" قَالَ: فَفَعَلَ، فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَ.
’’حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمان ؒ بیان کرتے ہیں :جب حضرت ابوہریرہؓ فوت ہوگئے تومیں نے (دل میں )کہ:اللہ کی قسم !اگر میں حضرت ابو سعید ؓ کی خدمت میں (حصو ل علم کےلیے )حاضر ہو جاؤں تو بہت بہتر ہوگا ۔لہذا میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا ۔‘‘پھر انہوں نے عراجین کھجو ر کی شاخوں کے قصے کے بارے میں ایک طویل حدیث بیان کی ۔انہوں نے فرمایا :’’پھر اس رات بادل خوب امنڈا کر آیا(اور خوب بارش برسی ) ۔پھر جب رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز کے لیے بار تشریف لائے تو بجلی چمکی ،جس سے آپ ﷺ نے حضرت قتادہ بن نعمان ؓ کو دیکھا۔تو پوچھا:’’اے قتادہ !ایسی رات میں کیسے چل کر آئے ؟ انہوں نےعرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے معلوم تھاکہ آج رات نمازی کم ہوں گے اس لیے میں نے پسند کیا کہ میں نماز جماعت کے ساتھ ادا کروں ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا :جب تم نماز پڑھ لوتو ٹھہرےرہناحتیٰ کہ میں تمہیں جانے کی اجازت دے دوں ۔پھر جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کرلی تو حضرت قتادہ ﷺ کو کھجور کی ایک شاخ عنایت کی ۔ اور فرمایا :’’یہ شاخ لے لو ،تمہارے آگے اور پیچھے دس دس (ہاتھ ) روشن کردے گی ۔پھر جب تم اپنے گھر داخل ہوجاؤ اور گھر کے ایک کونے میں سایہ دیکھو تو گفتگو کرنے سے پہلے اسے مارنا کیونکہ وہ شیطان ہے ۔‘‘راوی کہتے ہیں کہ تو انہوں نے ایسے ہی کیا ۔ اس لیے ہم بھی ان شاخوں کو پسند کرتے ہیں ۔‘‘
أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحٌ، ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1660
