صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1624
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، وَأَبُو طَالِبٍ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، قَالُوا: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، نَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: "مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟، قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: "مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ. ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ"؟ قُلْنَا: نَعَمْ. فَقَالَ: "مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ". قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ. فَقَالَ: "مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّي بِالنَّاسِ". قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ أَبِي رَجُلٌ أَسِيفٌ، فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَهُ، فَقَالَ: "إِنَّكُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ، مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ"، ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَأَمَرُوا بِلَالًا، فَأَذَّنَ، وَأَقَامَ، وَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "جِيئُونِي بِإِنْسَانٍ أَعْتَمِدُ عَلَيْهِ"، فَجَاءُوا بِبَرِيرَةَ، وَرَجُلٍ آخَرَ، فَاعْتَمَدَ عَلَيْهِمَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأُجْلِسَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَنَحَّى فَأَمْسَكَهُ، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ. هَذَا حَدِيثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
"حضرت سالم بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیمار ہوۓ تو آپ بے ہوش ہو گئے۔پھر آپ کو ہوش آیا تو پوچھا:کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔آپ نے فرمایا:بلال ؓ سے کہو کہ وہ اذان کہیں اور ابوبکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔پھر آپ ﷺدوبارہ بے ہوش ہو گئے۔پھر آپ کو ہوش آیا تودریافت کیا:کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ہم نے جواب دیا:جی ہاں ۔آپ ﷺ نے فرمایا:بلال ؓ کا حکم دہ کہ وہ اذان کہے اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔پھر آپ ﷺ بے ہوش ہو گئے پھر آپ کو ہوش آیا تو حضرت عائشہؓ نے عرض کی: بے شک میرے ابا جان بڑنے نرم دل انسان ہیں(وہ آپ کی عدم موجودگی برداشت نہیں کر سکیں گے) اس لیے اگر آپ ﷺ ان کے علاوہ کسی کو حکم د ے دیں تو بہتر ہے۔پھر آپﷺ کو ہوش آیا تو آپ نے پوچھا:کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ ہم نے بتایا کہ جی ہاں وقت ہو گیا ہے۔آپ نے فرمایا:بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی:بلاشبہ میرے والد گرامی نرم دل ہیں(وہ آپ کی جدائی میں رونے لگیں گے) اس لیے اگر آپ ان کے علاوہ کسی آدمی کو حکم دیں تو بہتر ہو گا۔تو آپ ﷺ نے فرمایا:بے شک تم یوسف ؑ کے قصہ والی عورتوں جیسی ہو۔بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔پھر آپ بے ہوش ہو گئے۔لوگوں نے حضرت بلا ل اذان کہنے کی التجا کی تو انہوں نے اذان کہی اور اقامت پڑھی اور انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ سے لوگوں کونماز پڑھانے کی درخواست کی (تو انہوں نے نماز شروع کر دی ) پھر آپ ﷺ کو ہوش آیا تو پوچھا:کیا نماز کھڑی ہوگئی ہے؟ میں نے جواب دیا:جی ہاں۔آپ ﷺ نے فرمایا:میرے پاس ایک آدمی لاؤ جس کا سہارا لے سکوں۔تووہ حضرت بریرہؓ اور ایک اور آدمی کو بلا بلاۓ چنانچہ آپ ان دوںو کا سہار ا لے کر نامز کے لیے تشریف لاۓ توآپ کو حضرت ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دیا گیا۔اس پر حضرت ابوبکر ؓ پیچھے ہٹنے لگے تو آپ نے انہیں روک لیا حتٰی کہ نماز سے فارغ ہو گئے۔یہ قاسم بن محمد کی حدیث ہے۔"
سالم بن عبيد ← نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ ← نُعَیْمِ بْنِ اَبِیْ ھِنْدَ، ← سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی الْاَزْدِیُّ ← أَبُو طَالِبٍ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، ← الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1624
