صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 860
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ- نَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ -وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الظُّهْرُ- رَكْعَتَيْنِ، فَأَتَى خَشَبَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ عَلَيْهَا يَدَيْهِ، إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ. وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ. وَرَجُلٌ -قَصِيرُ الْيَدَيْنِ أَوْ طَوِيلُهُمَا- يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَوْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: "لَمْ تَقْصُرْ، وَلَمْ أَنَسَ". فَقَالَ: بَلْ نَسِيتَ. فَقَالَ: "صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ. وَذَكَرَ بُنْدَارٌ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ.
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں شام کی دو نمازوں یعنی ظہر اور عصر میں سے ایک نماز دو رکعت پڑھائی ، میرا غالب گمان ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی ۔ پھر آپ مسجد کے قبلے میں موجود لکڑی کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر ٹکا کر اس پر رکھ دیے۔ اور جلد بعض لوگ مسجد سے نکل گئے۔ اور یہ کہتے گئے کہ نماز کم ہو گئی ہے۔ جبکہ لوگوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ بھی موجود تھے وہ دونوں آپ سے بات کرتے ہوئے ڈرے ۔ ایک شخص جس کے ہاتھ چھوتے یا بڑے ہونے کی وجہ سے اسے ذوالیدین ( دو ہاتھوں والا ) کہا جاتا تھا ، اس نے کہا: ( اے اللہ کے رسول ) کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نہ نماز کم ہوئی ہے نہ میں بھولا ہوں۔ تو اس نے عرض کی : بلکہ آپ بھول گئے ہیں ۔ تو آپ نے دریافت کیا : کیا ذوالیدین سچ کہ رہا ہے؟ انہون نے جواب دیا ؛ جہ ہاں، آپ نے( بقیہ) دو رکعت ادا کیں پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہی اور اپنے سجدے کی مثل یا اس سے طویل سجدہ کیا پھر سجدے سے سر اٹھایا۔ ( پھر دوسرا سجدہ کیا) بندار نے مکمل حدیث بیان کی ہے ۔ امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے یہ مکمل باب " کتاب السہو فی الصلاۃ" میں بیان کر دیا ہے۔
وَأَكْبَرُ ظَنِّي ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance · Hadith 860
