Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1124

ثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ فَرَآنِي وَأَنَا أُصَلِّيهِمَا، فَنَهَانِي، فَجَذَبَنِي، وَقَالَ: "تُرِيدُ أَنْ تُصَلِّيَ لِلصُّبْحِ أَرْبَعًا؟ ".

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ "فرض" نماز کی اقامت ہو گئی اور میں نے دو سنتیں ادا نہیں کی تھیں تو آپ نے مجھے دیکھا کہ میں وہ سنتیں ادا کر رہا ہوں تو آپ نے مجھے منع کیا اور مجھے کھینچا اور فرمایا : تم صبح کی چار رکعات پڑھنا چاہتے ہو ؟ ابو عامر بن صالح بن رستم سے پوچھا گیا : کیا یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی ؟انہوں نے کہا :ہاں "۔ جناب ابن ابی ملکیہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :"صبح کی " نماز کی اقامت ہو گئی تو میں نے کھڑے ہو کر دو سنتیں ادا کرنی شروع کر دیں۔ تو رسول اللہ ﷺنے مجھے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا : کیا تم صبح کی چار رکعات پڑھو گئے؟۔

"تُرِيدُ أَنْ تُصَلِّيَ لِلصُّبْحِ أَرْبَعًا؟ ← أُصَلِّيهِمَا، فَنَهَانِي، فَجَذَبَنِي، ← أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَلَمْ أُصَلِّ الرَّكْعَتَيْنِ فَرَآنِي ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them · Hadith 1124

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1125

ثنا أحمد بن المقدام العجلي ثنا حماد - يعني ابن زيد - ح وثنا أحمد بن عبدة قال : أخبرنا عباد - يعني ابن عباد المهلبي - ح و ثنا أحمد بن عبدة أيضا عن عبد الواحد بن زياد ح و ثنا محمد بن عبد الله بن يزيد المقرئ نا الفزاري يعني مروان بن معاوية ح و ثنا أحمد بن منيع نا أبو معاوية ح وثنا بندار ثنا محمد بن جعفر ثنا شعبة ح و ثنا محمد بن يحيى القطعي نا محمد بن بكر أخبرنا شعبة كلهم عن عاصم - يعني الأحول - عن عبد الله بن سرجس قال : جاء رجل ورسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الصبح فركع ركعتين فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال يا فلان أيتهما صلاتك التي صليت معنا أو التي صليت لنفسك ؟ هذا لفظ حديث حماد بن زيد

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک شخص اس وقت آیا جبکہ رسول اللہ ﷺصبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔ تو اس نے پہلے دو سنتیں ادا کیں " پھر جماعت کے ساتھ مل گیا " پھر جب رسول اللہ ﷺاپنی نماز مکمل کی تو فرمایا :" اے فلاں"تم نے کونسی نماز فرض شمار کی ہے، جو تم نے ہمارے ساتھ پڑھی ہے یا وہ جو تم نے اکیلے پڑھی ہے؟" یہ حماد بن زید کی حدیث کے الفاظ ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ← عَاصِمٌ يَعْنِي: الْأَحْوَلَ ← شُعْبَةُ، كُلُّهُمْ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← و، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← و، ← الْفَزَارِيُّ يَعْنِي مَرْوَانَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← و، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← أحمد بن عبدة أيضا ← و، ← عباد يعني ابن عباد المهلبي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them · Hadith 1125

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الرَّکعَتَینِ قَبلَ الفَجرِ وَمَا فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1126

ثنا علي بن حجر السعدي بخبر غريب غريب قال : ثنا محمد بن عمار - يعني الأنصاري - عن شريك بن عبد الله - وهو ابن أبي نمر - عن أنس قال : خرج النبي صلى الله عليه وسلم حين أقيمت الصلاة فرأى ناسا يصلون ركعتين بالعجلة فقال : أصلاتان معا ؟ فنهى أن يصلي في المسجد إذا أقيمت الصلاة ثنا محمد بن عقيل نا حفص بن عبد الله حدثني إبراهيم بن طهمان عن شريك عن أنس بمثله إلى قوله : أصلاتان معا ؟ لم يزد على هذا قال محمد بن إسحاق : روى هذا الخبر مالك بن أنس و إسماعيل بن جعفر عن شريك بن أبي نمر عن أبي سلمة مرسلا وروى إبراهيم بن طهمان عن شريك كلا الخبرين عن أنس وعن أبي سلمة جميعا حدثنا بهما محمد بن عقيل ثنا حفص بن عبد الله نا إبراهيم بن طهمان بالإسنادين جميعا منفردين خبر أنس منفردا و خبر ابن سلمة منفردا

" حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺباہر تشریف لائے جبکہ اقامت ہو چکی تھی تو آپ نے کچھ لوگوں کو جلدی جلدی دو رکعات "سنت" ادا کرتے دیکھا ۔ آپ نے فرمایا : کیا دو نمازیں اکھٹی ادا کرنا چاہتے ہیں؟لہذا آپ نے مسجد میں اقامت ہونے کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرما دیا ۔جناب شریک نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ تک مذکورہ بالا روایت جیسی حدیث بیان کی ہے :کیا دو نمازیں اکھٹی ادا کرنا چاہتے ہیں ۔"جناب محمد بن اسحاق فرماتے ہیں:یہ روایت امام مالک بن انس اور اسماعیل بن جعفر نے شریک بن ابی نمر کے واسطے سے جناب ابو سلمہ سے مرسل بیان کی ہے اور ابراہیم بن طہمان نے شر یک کے واسطے سے یہ دونوں حدیثیں حضرت انس اور ابو سلمہ سے بیان کی ہیں۔جناب ابراہیم بن طہمان نے دونوں حدیثوں کو الگ الگ اسانید سے بیان کیا ہے۔حضرت انس کی حدیث کو الگ طور پر اور حضرت ابو سلمہ کی روایت کو الگ سند سے بیان کیا ہے۔"

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them · Hadith 1126

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1127

نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ -وَقَرَأَه عَلَيْنَا مِنْ كِتَابِهِ- نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، نَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَاسْتُأُذِنَّا فَأُدْخِلْنَا عَلَيْهَا، فَقُلْنَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! نَبِّئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ [124 - أ]-تَعْنِي قَوْلَهُ: (وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (4)) -[القلم]، قَالَ: بَلَى. قَالَتْ: فَإِنَّ خُلُقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ. فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! نَبِّئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَتْ: أَلَسْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: (يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ)؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى. قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ فَرَضَ الْقِيَامَ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُهُمْ، وَأَمْسَكَ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَاءِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ التَّخْفِيفَ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ، فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ، ثُمَّ ذَكَرُوا الْحَدِيثَ، وَفِي آخِرِ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِحَدِيثِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ.

حضرت سعد بن ہشام بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت حکیم بن افلح کے پاس آیا ، پھر ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں گئے ، ہم نے اجازت طلب کی تو ہمیں حاضری کی اجازت مل گئی۔ہم نے عرض کی اے ام المو منین :مجھے رسول اللہ ﷺکے اخلاق حسنہ کے بارے میں بتائیں ۔ تو انہوں نے فرمایا : کیا آپ قرآن مجید کی تلاوت نہیں کرتے۔ ان کی مراد اللہ تعالی کا یہ فرمان تھا :(وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ)(القلم:۴)" یقینا آپ خلق عظیم پر کار بند ہیں" انہوں نے کہا :کیوں نہیں ، میں یہ فرمان تلاوت کرتا ہوں ام المومنین نے فرمایا :بلا شبہ رسول اللہ ﷺکا اخلاق قرآن ہی تھا ۔ پھر میں نے عرض کی :اے ام المومنین ،مجھے رسول اللہ ﷺ کے قیام "رات کی نماز"کے متعلق خبر دیں ۔ انہوں نے فرمایا : کیا تم سورۃ المزل کی تلاوت نہیں کرتے ۔ وہ کہتے ہیں : میں عرض کی : جی کرتا ہوں پس انہوں نے فرمایا : بے شک اللہ تعالی نے اس سورت کی ابتدا میں رات کا قیام فرض کیا تھا ۔تو اللہ کے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام نے ایک سال تک رات کا قیام کیا حتی کے ان کے قدم سوجھ گئے ۔ اور اللہ تعالی نے اس سورت کے آخری حصہ کو آسمان میں بارہ مہبیے روکے رکھا ۔ پھر اللہ تعالی نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی۔ لہذا رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نفل ہو گیا۔پھر انہوں نے بقیہ حدیث بیان کی ۔حدیث کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : "تو میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں ام المومنین کی گفتگو سنائی ۔ تو انہوں نے فرمایا :"اماں جی نے سچ فرمایا ہے ۔"

سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٍ جَمِيعًا ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارٌ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدَةُ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ، أَيْضًا ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ -وَقَرَأَه عَلَيْنَا ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1127

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1128

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي -يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ- قَالَ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ نَاسٌ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الثَّالِثَةُ كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ فَصَلَّى فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ، عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يُنَادُونَ الصَّلَاةَ، فَكَمُنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاةَ الْفَجْرِ قَامَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَتَشَهَّدَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمْ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيِّ.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آدھی رات کے وقت گھر سے مسجد تشریف لے گئے اور نماز " تہجد " ادا کی ۔ کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ، صبح ہوئی تو لوگوں نے اس بارے میں ایک دوسرے کو بتایا پھر جب تیسری رات ہوئی تو بہت سارے لوگ مسجد میں جمع ہو گئے ، آپ تشریف لائے تو انہوں نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر جب چوتھی رات ہوئی تو سارے لوگ مسجد میں نہ سما سکے، اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے پاس تشریف نہ لائے ان میں چند افراد نماز نماز کہہ کر آپ کو آوازیں دیتے رہے مگر رسول اللہ ﷺبھی ان کے پاس تشریف نہ لائے ۔ یہاں تک آپ نماز فجر کے لیے تشریف لائے۔یہاں تک کہ آپ نماز فجر کے لیے تشریف لائے ۔پھر جب آپ نے نماز فجر مکمل کی تو آپ کھڑے ہوئے ، لوگوں کی طرف اپنا چہرہ مبارک کے ساتھ متوجہ ہوئے ،خطبہ پڑھا ، اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :اما بعد ، بلا شبہ مجھ پر تماری حالت ، آمد پو شیدہ نہیں تھی لیکن مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں تم پر رات کی نماز فرض قرار نہ دے دی جائے ، پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز آ جائو۔ یہ جناب الدورتی کے حدیث کے الفاظ ہیں۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← -يَعْنِي ابْنَ شِهَابٍ- ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1128

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1129

نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، ثَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَلِيلٍ الْمُقْرِئُ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ اللَّخْمِيُّ التِّنِّيسِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ". قَالَ يُونُسُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ".

" حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم فلاں شخص کی طرح ہرگز نہ ہو جانا ، وہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اس نے قیام اللیل چھوڑ دیا ۔ جناب یونس کی روایت میں یہ الفاظ ہیں :"رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے عبداللہ تم فلاں کی طرح نہ ہونا۔"

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ اللَّخْمِيُّ التِّنِّيسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَلِيلٍ الْمُقْرِئُ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1129

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1130

نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، نَا مَنْصُورٌ؛ ح وَثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ؛ ح وَثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ مَنْصُورٍ؛ ح وَثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا أَبُو دَاوُدَ، نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ذَاكَ شَيْطَانٌ بَالَ فِي أُذُنِهِ -أَوْ فِي أُذُنَيْهِ-". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى.

کریم ﷺ کے پاس ھاضر ہوا اور اس نے عرض کی : بے شک فلاں آدمی کل رات نماز سے سویا ررہا ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس آدمی کے کان یا دونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے "اس لیے صبح تک بے ہوش سویا رہا ہے"یہ ابو موسی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔"

الصَّلَاةِ ← إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ ← أَبِي وَائِلٍ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← مَنْصُورٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مَنْصُورٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1130

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1131

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَا: ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [124 - ب] يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ إِذَا هُوَ نَامَ، كُلُّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْهِ، يَقُولُ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِنْ تَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ، فَإِذَا صَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ، فَأَصْبَحَ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الدَّوْرَقِيِّ.

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے مرفوع روایات بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : کہ شیطان تم میں سے کسی شخص کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے جبکہ وہ سویا ہوتا ہے ۔ ہر گرہ پر یہ پھونک دیتا ہے :تیرے لیے رات بڑی طویل ہے ۔ چناچہ اگر وہ بیدار ہو گیا اور اللہ کا ذکر کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے اور اگر وضو کر لیتا ہے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں ۔ پھر اگر نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں۔چناچہ وہ صبح کے وقت ہشاش بشاش اور خوش مزاج ہوتا ہے و گرنہ صبح کے وقت پریشان حال ، خراب طبیعت اور سست ہوتا ہے ۔ یہ جناب الدورقی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1131

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1132

نَا عَلِيُّ بْنُ قُرَّةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مَطَرٍ الرِّمَّاحُ، نَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (1)، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَامَ عَقَدَ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ عُقَدٍ، فَإِنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَذَكَرَ اللَّهَ حُلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِنْ تَوَضَّأَ حُلَّتْ عُقْدَتَانِ، فَإِنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ حُلَّتِ الْعُقَدُ كُلُّهَا، فَحُلُّوا عُقَدَ الشَّيْطَانِ، وَلَوْ بِرَكْعَتَيْنِ".

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بے شک بندہ جب سو جاتا ہے تو شیطان اس پر تین گرہیں لگا دیتا ہے ۔ پھر اگر وہ رات کو بیدار ہو کر اللہ تعالی کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، اگر وضو کر لیتا ہے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں ، پھر اگر دو رکعات ادا کر لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں لہذا شیطان کی گرہیں کھولا کرو اگرچہ دو رکعات ہی کے ساتھ ہو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَلِيُّ بْنُ قُرَّةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مَطَرٍ الرِّمَّاحُ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1132

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1133

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، نَا أَبِي، نَا الْأَعْمَشُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سُفْيَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى إِلَّا عَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ حِينَ يَرْقُدُ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى انْحَلَّتِ الْعُقَدُ". ثَنَا مُحَمَّدٌ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى إِلَّا عَلَيْهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ حِينَ يَرْقُدُ بِاللَّيْلِ، بِمِثْلِهِ، وَزَادَ "وَأَصْبَحَ خَفِيفًا طَيِّبَ النَّفْسِ قَدْ أَصَابَ خَيْرًا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْجَرِيرُ: الْحَبْلُ.

" جناب ابو سیفان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا :رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر مرد اور عورت کے سر پر رسی سے گرہیں لگائی جاتی ہیں جب وہ سوتا ہے۔پھر اگر وہ بیدار ہوا اس نے اللہ کا ذکر کیا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ۔ پھر جب اُٹھ کر وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں ۔ جناب ابو سیفان حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایات کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر مرد اور عورت جب رات کو سوتا ہے تو اس پر رسی سے گرہ لگا دی جاتی ہے۔ اوپر والی روایت کی طرح حدیث بیان کی اور یہ اضافہ بیان کیا : " اور وہ صبح کے وقت ہلکا پھلکا خوش مزاج ہوتا ہے ، اس نے بہت سی خیرو بھلائی حاصل کی ہوتی ہے ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : الجریر اے سے مراد رسی ہے ۔"

جَابِرًا ← أَبَا سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1133

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1134

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ -وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَقَالَ يُوسُفُ: يَرْفَعُهُ قَالَ: سُئِلَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ، وَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: "أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ".

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے مرفوع روایات بیان کرتے ہیں کہ آپ سے پوچھا گیا :فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل و اعلیٰ ہے اور رمضان المبارک کے بعد کونسے روزے افضل ہیں؟تو آپ نے فرمایا:فرض نماز کے بعد افضل ترین نماز رات کے وسط میں نماز ادا کرنا ہے اور رمضان المبارک کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں ۔"

سُئِلَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ وَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ ← يُوسُفُ: يَرْفَعُهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ إِلَی النَّبِيِّ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ← عَبْدِ الْمَلِکِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1134

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلَاۃِ التَّطَوعِ بِاللَّیلِ · حديث 1135

نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ؛ ح، وَثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمُكَفِّرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ".

" حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سےروایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :"رات کو قیام کیا کرو کیوں کہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کی عادت ہیں تمہارے لیے تمہارے رب کی قربت کے حصول کا ذریعہ ،برائیوں کا کفارہ اور گناہوں سے منع کرتا ہے ۔"

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← أَبُو صَالِحٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayer at night · Hadith 1135

chevron_left Previous
1…535455…60
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals