صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1051
ثنا محمد ونا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح قال قال ابن شهاب وأخبرني هذا الخبر سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : وأخبرنيه أبو سلمة بن عبد الرحمن و أبو بكر بن عبد الرحمن و عبيد الله بن عبد الله : سمعت محمد بن يحيى يقول : وهذه الأسانيد عندنا محفوظة عن أبي هريرة إلا حديث أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة فإنه يتخالج في النفس منه أن يكون مرسلا لرواية مالك و شعيب و صالح بن كيسان وقد عارضهم معمر فذكر في الحديث أبا هريرة والله أعلم قال أبو بكر : فقوله في خبر محمد بن كثير عن الأوزاعي في آخر الخبر : ولم يسجد سجدتي السهو حين لقنه الناس إنما هو من كلام الزهري لا من قول أبي هريرة ألا ترى محمد بن يوسف لم يذكر هذه اللفظة في قصته ولا ذكره ابن وهب عن يونس ولا الوليد بن مسلم عن عبد الرحمن بن عمرو ولا أحد ممن ذكرت حديثهم خلا أبي صالح عن الليث عن ابن شهاب فإنه سها في الخبر وأوهم الخطأ في روايته فذكر آخر الكلام الذي هو من قول الزهري مجردا عن أبي هريرة إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسجد يوم ذي اليدين ولم يحفظ القصة بتمامها و الليث في خبره عن يونس قد ذكر القصة بتمامها وأعلم أن الزهري إنما قال : لم يسجد النبي صلى الله عليه وسلم يومئذ إنه لم يحدثه أحد منهم أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد يومئذ لا أنهم حدثوه عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يسجد يومئذ وقد تواترت الأخبار عن أبي هريرة من الطرق التي لا يدفعها عالم بالأخبار أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد سجدتي السهو يوم ذي اليدين قال أبو بكر : قد أمليت خبر شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن أبي هريرة وطرق أخبار يحيى بن أبي كثير عن أبي سلمة عن أبي هريرة وطرق أخبار محمد بن سيرين عن أبي هريرة وخبر داود بن الحصين عن أبي سفيان مولى ابن أبي أحمد عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد يوم ذي اليدين سجدتي السهو قال أبو بكر : خرجت طرق هذه الأخبار وألفاظها في كتاب الكبير
امام صاحب اپنے استاد محمد بن یحییٰ سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث بیان کرتے ہیں: (امام صاحب فرماتے ہیں) میں نے محمد بن یحییٰ کو فرماتے ہوئے سنا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ تمام اسانید ہمارے نزدیک محفوظ و ثابت ہیں سوائے ابو بکر بن سلیمان بن ابی حثمہ کی روایت کے۔ اس کے بارے میں میرے دل میں خدشہ ہے کہ یہ مالک، شعیب اور صالح بن کیسان کی روایت سے مرسل ہوگی کیونکہ معمر نے ان کے بر خلاف حدیث کی سند میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واسطہ بیان کیا ہے۔ (واللہ اعلم) امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: محمد بن کثیر کی اوزاعی سے روایت (۱۰۴۰) کے آخر میں یہ الفاظ "اور آپ نے سہو کے دو سجدے نہ کیے جب آپ کو لوگوں نے یاد دہانی کرائی: یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ امام زہری کا کلام ہے۔ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ محمد بن یوسف (روایت نمبر ۱۰۴۱) نے یہ الفاظ اس قصے میں بیان نہیں کیے۔ نہ ابن وہب نے یونس کی روایت میں اور نہ ولید بن مسلم نے عبدالرحمٰن بن عمرو کی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں (دیکھیں روایت نمبر ۱۰۴۳،۱۰۴۴) جن راویوں کی روایات میں ذکر کی ہیں ان میں سے کسی نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے، سوائے ابو صالح کے جو لیث کے واسطے سے امام زہری سے بیان کرتے ہیں، بے شک ان سے روایت میں بھول ہوئی ہے اور انہوں نے اپنی روایت میں غلطی کا وہم ڈال دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے امام زہری کی آخری کلام حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذکر کے بغیر ہی ذکر کر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالیدین (کے واقعہ) والے دن (سہو) کے سجدے نہیں کیے اور مکمل قصہ یا د نہیں رکھا۔ جبکہ لیث نے یونس سے روایت میں مکمل قصہ بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ بے شک امام زہری نے فرمایا: اس دن نبی کریم ﷺ نے سہو کے سجدے نہیں کیے اور یہ کہ ان کے اساتذہ میں سے کسی نے انہیں بیان نہیں کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اس دن سجدے کیے تھے۔ یہ نہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہیں بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس دن سجدے نہیں کیے تھے۔ بلاشبہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے متواتر روایات کے ساتھ مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ذوالیدین (کے واقعہ ) والے دن سہو کے سجدے کیے تھے۔ ان روایات کا انکار نبی کریم ﷺ کے فرامین کی معرفت رکھنے والا شخص نہیں کر سکتا۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں: میں شعبہ کی سعد بن ابراہیم کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت املاء کرا چکا ہوں، یحییٰ بن ابی کثیر کی ابو سلمہ کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کے طرق بھی بیان کر چکا ہوں۔ اور محمد بن سیر ین کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اسانید بھی بیان کر چکا ہوں، داؤد بن حصین کی ابو سفیان مولیٰ ابن ابی احمد کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت بھی بیان کر چکا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے ذوالیدین ( کے واقعہ ) والے دن سہو کے دو سجدے کیے تھے۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں: میں ان روایات کی اسانید اور الفاظ کتاب "الکبیر" میں بیان کر چکا ہوں۔
صَالِحٍ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدٍ
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1051
