Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1040

وقال إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم سمعت أبا هريرة يقول : صحبت النبي صلى الله عليه وسلم ثلاث سنوات ثناه بندار نا يحيى بن سعيد عن إسماعيل بن أبي خالد و أبو هريرة إنما صحب النبي صلى الله عليه وسلم بخيبر وبعده وهو يخبر أنه شهد هذه الصلاة مع النبي صلى الله عليه وسلم فمن يزعم أن خبر ابن مسعود ناسخ لقصة ذي اليدين لو تدبر العلم وترك العناد ولم يكابر عقله علم استحالة هذه الدعوى إذ محال أن يكون المتأخر منسوخا والمتقدم ناسخا وقصة ذي اليدين بعد نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الكلام في الصلاة بسنين فيكف يكون المتأخر منسوخا والمتقدم ناسخا على أن قصة ذي اليدين ليس من نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الكلام في الصلاة بسبيل وليس هذا من ذلك الجنس إذ الكلام في الصلاة على العمد من المصلي مباح والمصلي عالم مستيقن أنه في الصلاة فنسخ ذلك وزجروا أن يتعمدوا الكلام في الصلاة على ما كان قد أبيح لهم قبل لا أنه كان أبيح لهم أن يتكلموا في الصلاة ساهين ناسين لا يعلمون أنهم في الصلاة فنسخ ذلك وهل يجوز للمركب فيه العقل يفهم أدنى شيء من العلم أن يقول : زجر الله المرء إذا لم يعلم أنه في الصلاة أن يتكلم أو يقول : نهى الله المرء أن يتكلم في الصلاة وهو لا يعلم أن الله قد زجر عن الكلام في الصلاة وإنما يجب على المرء أن لا يتكلم في الصلاة بعد علمه أن الكلام في الصلاة محظور غير مباح و معاوية بن الحكم السلمي إنما تكلم وهو لا يعلم أن الكلام في الصلاة محظور فقال في الصلاة خلف النبي صلى الله عليه وسلم لما شمت العاطس ورماه القوم بأبصارهم : واثكل أمياه ما لكم تنظرون إلي ؟ فلما تكلم في الصلاة بهذا الكلام وهو لا يعلم أن هذا الكلام محظور في الصلاة علمه صلى الله عليه وسلم أن كلام الناس في الصلاة محظور غير جائز ولم يأمره صلى الله عليه وسلم بإعادة تلك الصلاة التي تكلم فيها بهذا الكلام والنبي صلى الله عليه وسلم في قصة ذي اليدين إنما تكلم على أنه في غير الصلاة وعلى أنه قد أدى فرض الصلاة بكماله وذو اليدين كلم النبي صلى الله عليه وسلم وهو غير عالم أنه قد بقي عليه بعض الفرض إذ جائز عنده أن يكون الفرض قد رد إلى الفرض الأول إلى ركعتين كما كان في الابتداء ألا تسمعه يقول للنبي صلى الله عليه وسلم : أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ فأجابه النبي صلى الله عليه وسلم بأنه لم ينس ولم تقصر وهو عند نفسه في ذلك الوقت غير مستيقن أنه قد بقي عليه بعض تلك الصلاة فاستثبت أصحابه وقال لهم أكما يقول ذو اليدين ؟ فلما استيقن أنه قد بقي عليه ركعتان من تلك الصلاة قضاهما فلم يتكلم صلى الله عليه وسلم في هذه القصة بعد علمه ويقينه بأنه قد بقي عليه بعض تلك الصلاة فأما أصحابه الذين أجابوه وقالوا للنبي صلى الله عليه وسلم بعد مسألته إياهم : أكما يقول ذو اليدين قالوا نعم فهذا كان الجواب المفروض عليهم أن يجيبوه عليه السلام وإن كانوا في الصلاة عالمين مستيقنين أنهم في نفس فرض الصلاة إذالله عز وجل فرق بين نبيه المصطفى وبين غيره من أمته بكرمه له وفضله بأن أوجب على المصلين أن يجيبوه وإن كانوا في الصلاة في قوله { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } وقد قال المصطفى صلى الله عليه وسلم لأبي بن كعب و لأبي سعيد بن المعلي لما دعا كل واحد منهما على الانفراد وهو في الصلاة فلم يجبه حتى فرغ من الصلاة : ألم تسمع فيما أنزل علي أو نحوه هذه اللفظة { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } قد خرجت هذين الخبرين في غير هذا الموضع فبين أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في كلامهم الذي تكلموا به يوم ذي اليدين وكلام ذي اليدين على الصفة التي تكلم بها وبين من بعدهم فرق في بعض الأحكام أما كلام ذي اليدين في الابتداء فغير جائز لمن كان بعد النبي صلى الله عليه وسلم أن يتكلم بمثل كلام ذي اليدين إذ كل مصل بعد النبي صلى الله عليه وسلم إذا سلم في الركعتين من الظهر أو العصر يعلم ويستيقن أنه قد بقي عليه ركعتان من صلاته إذ الوحي منقطع بعد النبي صلى الله عليه وسلم ومحال أن ينتقص من الفرض بعد النبي صلى الله عليه وسلم فكل متكلم يعلم أن فرض الظهر والعصر أربعا كل واحد منهما على الانفراد إذا تكلم بعد ما قد صلى ركعتين وبقيت عليه ركعتان عالم مستيقن بأن كلامه ذلك محظور عليه منهي عنه وأنه متكلم قبل إتمامه فرض الصلاة ولم يكن ذو اليدين لما سلم النبي صلى الله عليه وسلم من الركعتين عالم ولا مستيقن بأنه قد بقي عليه بعض الصلاة ولا كان عالما أن الكلام محظور عليه إذ كان جائز عنده في ذلك الوقت أن يكون فرض تلك الصلاة قد رد إلى الفرض الأول إلى ركعتين كما كان في الابتداء وقوله في مخاطبته النبي صلى الله عليه وسلم دال على هذا ألا تسمعه يقول للنبي صلى الله عليه وسلم أقصرت الصلاة أم نسيت وقد بينت العلة التي لها تكلم أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بعد قول النبي صلى الله عليه وسلم لذي اليدين : لم أنس ولم تقصر وأعلمت أن الواجب المفترض عليهم كان أن يجيبوا النبي صلى الله عليه وسلم وإن كانوا في الصلاة وهذا الفرض اليوم ساقط غير جائز لمسلم أن يجيب أحدا ـ وهو في الصلاة ـ بنطق فكل من تكلم بعد انقطاع الوحي فقال لمصل قد سلم من ركعتين : أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ فواجب عليه إعادة تلك الصلاة إذا كان عالما أن فرض تلك الصلاة أربع لا ركعتين وكذاك يجب على كل من تكلم وهو مستيقن بأنه لم يؤد فرض تلك الصلاة بكماله فتكلم قبل أن يسلم منها في ركعتين أو بعدما سلم في ركعتين وكذاك يجب على كل من أجاب إنسانا وهو في الصلاة إعادة تلك الصلاة إذالله عز وجل لم يجعل لبشر أن يجيب في الصلاة أحدا في الصلاة غير النبي صلى الله عليه وسلم الذي خصه الله بها وهذه مسألة طويلة قد خرجتها بطولها مع ذكر احتجاج بعض من اعترض على أصحابنا في هذه المسألة وأبين قبح ما احتجوا على أصحابنا في هذه المسألة من المحال وما يشبه الهذيان إن وفقنا الله

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے تین سال نبی اکرم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل کیا ۔ حضرت ابو ہریرہ نبی کریم ﷺ کی صحبت میں جنگ خیبر اور اس کے بعد کے عرصے میں رہے ہیں ۔ اور وہ یہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ نماز نبی کریم ﷺ کے ساتھ ادا کی تھی ، لہٰذ اجو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث ذوالیدین کے قصے کی ناسک ہے، اگر یہ شخص علم میں غورو فکر کرے ، جد چھوڑ دے اور اپنی عقل ہی کو اہمیت و بڑائی نہ دے تو اس دوعوے کے نا ممکن ہونے کو جان لے گا۔ کیونکہ یہ نا ممکن ہے کہ متاخر حکم منسوخ ہوا اور متقدم حکم ناسخ ہوا۔ اور ذوالیدین کا قصہ نبی اکرم ﷺ کے نماز میں گفتگو سے منع کرنے کے کئی سال بعد کا ہے ، چنانچہ متاخر حکم منسوخ اور متقدم حکم ناسخ کیسے ہو سکتا ہے ۔ جبکہ ذوالیدین کے قصے کو نبی کریم ﷺ کے نماز میں بات چیت کے منع قرار دینے کے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں ۔ اور یہ مسئلی اس جنس کے ساتھ تعلق بھی نہین رکھتا، کیونکہ ( جس کلام سے منع کیا گیا وہ ) جائز کلام تھا جسے نمازی عمد ا نماز میں کرتا اور اسے یقینی علم ہوتا ہے کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ۔ تو یہ کلام منسوخ ہو گیا اور نمازیوں کو روک دیا گیا ہے کہ وہ عمدا نماز کے دوران میں کلام کریں جبکہ پہلے ان کے لیے یہ جائز تھا ۔ یہ نہیں کہ ان کے لیے نماز میں بھول چوک کی صورت میں گفتگو کرنا جائز قرار دیا گیا تھا ، جبکہ انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ حالت نماز میں ہیں ، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔ کیا کسی عقل مند شخص ، جو معمولی سی علمی سوجھ بوجھ رکھتا ہو ، کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نمازی کو بات چیت کرنے سے منع کیا ہے جبکہ اسے علم ہی نہ ہو کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ، یا وہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے نمازی کو نماز میں بات چیت کرنے سے منع کیا ہے حالانکہ اسے علم ہی نہ ہو کہ اللہ تعالیی نے نماز میں گفتگو سے منع کیا ہے ۔ بے شک نمازی کو جب علم ہو جائے کہ اللہ تعالیی نے نماز میں کلام کرنے سے منع کر دیا ہے تو اس کے لیے واجب ہے کہ وہ نماز میں کالم نہ کرے ۔ حضرت معاویہ بن سلمیٰ ؓ نے ( نماز کے دوران میں ) گفتگو کی حا لانکہ انہیں علم نہیں تھا کہ نماز میں گفتگو گرنا ممنوع ہے۔ لہٰذ اانہوں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے ہوئے چھینک مارنے والے کو جواب دیا (اسے یَرْحَمْکَ اللہُ کہا ) اور نمازیوں نے انہیں گھورنا شروع کر دیا ، تو انہوں نے کہا : ہائے میری ماں مجھے روئے تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ چنانچہ جب انہوں نے دوران نماز میں یہ کلام کی حالانکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ نماز کی حالت میں ایسا کلام کرنا منع ہے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سکھایا کہ نماز میں لوگوں سے ہم کلامی ممنوع اور ناجائز ہے۔ مگر آپ نے اسے اس نماز کو دوبارہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا جس میں انہون نے کلام کی تھی۔ جبکہ ذویالیدین کے قصے میں نبی کریم ﷺ نے اس بنا پر کلام کی تھی کہ آپ کے خیال میں آپ مکمل نماز ادا کر چکے تھے اور حالت نماز میں نہیں تھے ۔ اور ذوالیدین نے آپ سے گفتگو کی تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اس پر ابھی فرضی نماز کچھ باقی ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک یہ ممکن تھا کہ فرض نماز پہلے کی طرح دو رکعت کر دی گئی ہو جیسا کہ ابتدائے اسلام میں تھا ۔ کیا تم اسے یہ کہتے ہوئے نہیں سنتے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے عرض کرتا ہے : " کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو نبی کریم ﷺ نے اسے جواب دیا کہ نہ نمازز کم ہوئی ہے نہ میں بھولا ہوں ۔ حالانکہ اس وقت آپ کو یقین نہیں تھا کہ آپ پر کچھ نماز باقی ہے ۔ لہٰذا آپ نے صحا بہ کرام سے تحقیق کی اور ان سے پوچھا: کیا معاملہ اسی طرح ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ پھر جب آپکو یقین ہو گیا کہ آپ کی نماز کی دو رکعتیں باقی رہ گئی ہیں تو پھر آپ نے مزید گفتگو نہیں کی ۔ البتہ صحابہ کرام کی گفتگو آپ ﷺ کے سوال کے جواب میں تھی ، جب ااپ نے ان سے پوچھا کہ کیا معاملہ اسی طرح ہے جس طرح ذوالیدین کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( آپ کے سوال پر) ان کا جواب دینا فرض تھا اگرچہ وہ نماز کی حالت میں ہی ہوں ، اور انہیں اپنے نماز میں ہونے پورا علم و یقین بھی ہو ، کیونکہ اللہ تعالیی نے اپنے خصوصی فضلو کرم کی بنا پر اپنے نبی مسطفیٰ اور دیگر لوگوں میں فرق رکھا ہے ۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیی نے نمازیوں پر رسول اللہ ﷺ کی لبیک کہنا واجب قرار دیا گیا ہے اگرچہ وہ نماز ہی پڑھ رہے ہون ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ) " اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کا رسول کا کہنا مانو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتا ہے ۔" نبی کریم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو سعید بن معلیٰ ؓ سے فرمایا جبکہ آپ نے ان دونوں کو الگ الگ بلایا تھا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے نماز سے فارغ ہونے تک آپ کی پکار کا جواب نہیں دیا تھا : کیا تم نے وہ حکم نہیں سنا جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے یا آپ نے اس قسم کے الفاظ فرمائے ( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ)( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ) اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو جب وہ تمہیں اس بات کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتا ہے ۔" میںن نے یہ دو احادیث اس جگہ کے علاوہ دوسرے مقام پر بھی باین کی ہیں ۔ ذوالیدین والے دن نبی کے صحابہ ؓ کے کلام میں اور ذوالیدین کی گفتگو میں جس انداز سے انہوں نے گفتگو کی اور ان کے بعد آنے والے لوگوں کی کلام میں بعض احکام کا فرق ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے ( اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ) بعد کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ ذوالیدین کی طرح کلام کرے جیسا کہ انہوں نے ابتدا میں کلام کیا ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے بعد ہر نمازی جب ظہر یا عصر کی دو رکعتون کے بعد سلام پھیر ے گا تو اسے بخوبی علم و یقین ہو گا کہ ابھی اس کی نماز سے دو رکعتیں باقی ہیں ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے ، اور یہ نا ممکن ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد فرض نماز میں کمی واقع ہو۔ لہٰذا ہر بات کرنے والا جانتا ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز کی چار چار رکعات فرض ہیں ۔ جب وہ دو رکعتوں کے بعد کلام کرے گا ۔اور دو رکعتیں ابھی باقی ہوں گی تو اسے مکمل یقین ہو گا کہ اس کا یہ بات چیت کرنا اس کے لیے حرام اور منع ہے ۔

بعده وهو يخبر ← إسماعيل بن أبي خالد و أبو هريرة إنما صحب النبي بخيبر ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← صحبت النبي ثلاث سنوات ثناه بندار ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1040

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1040

نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ذُو الشِّمَالَيْنِ مِنْ خُزَاعَةَ حَلِيفٌ لِبَنِي زُهْرَةَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "كُلٌّ لَمْ يَكُنْ". فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: "أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ! فَأَتَمَّ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ، وَلَمْ يَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حِينَ يَقَّنَهُ النَّاسُ.

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا تو بنی زہرہ کے حلیف خزاعہ کے ایک شخص ذوالشمالین نے آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئےتو پوچھا: کیا ذوالدین سچ کہہ رہا ہے۔ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ تو آپ نے اپنی باقی نماز مکمل کی او سہو کے دو سجدے نہیں کیے حتیٰ کہ لوگوں نے آپ کو یقین دلایا۔ (کہ آپ واقعی بھول گئے تھے۔)"

«رَكْعَتَيْنِ» ← سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1040

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1041

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، نَا يُوسُفُ، نَا الْأَوْزَاعِيُّ،

"امام زہری کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے مجھے یہ قصہ بیان کی ہے لیکن اس میں حضرت ابو ہریرہ کا تذکرہ نہیں کیا۔ اور ان کی روایات ان الفاظ پر ختم ہوگئی ہے: تو آپ نے اپنی بقیہ نماز مکمل کی۔"

الْاَوْزَاعِیُّ ← يُوسُفُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1041

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1042

وثنا محمد بن يحيى نا أبو صالح حدثني الليث حدثني يونس عن ابن شهاب قال : أخبرني ابن المسيب و أبو سلمة ابن عبد الرحمن و أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و عبيد الله بن عبد الله بن عتبة أن أبا هريرة قال : صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر أو العصر فسلم في ركعتين من إحداهما فقال له ذو الشمالين ابن عبد عمرو بن نضلة الخزاعي وهو حليف بني زهرة : أقصرت الصلاة أم نسيت يا رسول الله ؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لم أنس ولم تقصر قال ذو الشمالين : قد كان بعض ذلك فأقبل رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس فقال : أصدق ذو اليدين ؟ قالوا : نعم يا رسول الله ! فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتم الصلاة ولم يحدثني أحد منهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سجد سجدتين وهو جالس في تلك الصلاة وذلك فيما نرى - والله أعلم - من أجل أن الناس يقنوا رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى استيقن

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، ان دو میں سے کسی ایک نمازمیں آپ نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا تو بنی زہرہ کے حلیف ذوالشمالین بن عبد عمرو بن نضلہ الخزاعی نے آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کم ہوئی ہے۔ ذوالشمالین نے عرض کی اس میں سے کچھ ضرور ہوا ہے، پس رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کردریافت کیا: کیا ذوالیدین درست کہہ رہا ہے؟ انہوں نے عرض کی! جی ہاں، اے اللہ کے رسول : تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز مکمل کی۔" امام زہری کہتے ہیں: (ابن مسیّب، ابو سلمہ، ابو بکر بن عبد الرحمٰن اور عبید اللہ) ان میں سے کسی نے بھی مجھے یہ بیان نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس نماز ( کے تشہد) میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے تھے۔ ہمارے خیال میں یہ اس لیے تھا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو ( نماز میں بھول جانے کا) یقین دلایا حتیٰ کہ آپ کو یقین ہو گیا (تو آپ نے سجدے کیے) واللہ اعلم

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1042

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1043

ثنا محمد بن يحيى نا أبو سعيد الجعفي حدثني ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب حدثني سعيد بن المسيب و عبيد الله بن عبد الله و أبو سلمة بن عبد الرحمن و أبو بكر بن عبد الرحمن أن أبا هريرة قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر قال محمد بن يحيى بمثل حديث أبي صالح غير أنه لم يذكر كلام الزهري في آخر الحديث

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، جناب محمد بن یحییٰ نے بھی ابو صالح کی طرح حدیث بیان کی ہے مگر انہون نے حدیث کے آخر میں امام زہری کا کلام ذکر نہیں کیا۔"

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1043

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1044

ثنا محمد نا سليمان بن عبد الرحمن نا الوليد بن مسلم نا عبد الرحمن بن عمرو قال : سألت الزهري عن رجل سها في صلاته فتكلم فقال : أخبرني سعيد بن المسيب و أبو سلمة و عبيد الله بن عبد الله أن أبا هريرة قال ثم ذكر نحو حديثهم في قصة ذي اليدين

" جناب عبدالرحمان بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام زہری سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنی نماز میں بھول کر گفتگو کرتا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: مجھے سعید بن مسیّب، ابو سلمہ اور عبید اللہ بن عبد اللہ نے بیان کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں پھر ذوالیدین کے قصے میں مذکورہ ان کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔"

سعيد بن المسيب و أبو سلمة و عبيد الله بن عبد الله ← رَجُلٍ سَهَا فِي صَلاَتِهِ فَتَكَلَّمَ ← سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ ← عَبْد الرَّحْمَن بْنِ عَمْرٍو، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1044

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1045

ثنا محمد نا أبو صالح عن الليث عن ابن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن و سعيد بن المسيب و أبي بكر بن عبد الرحمن و ابن أبي حثمة عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يسجد يوم ذي اليدين سمعت محمد بن يحيى يقول في كتاب العلل بعد ذكره أسانيد هذه الأخبار وقال : بين ظهراني هذه الأسانيد

" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالیدین والے دن (سہو کے) سجدے نہیں کیے۔ میں نے محمد بن یحییٰ کو سنا وہ ان روایات کی اسانید کتاب العلل میں بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ان اسانید کے درمیان یہ اسانید بھی ہیں (جو درج ذیل ہیں۔)"

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1045

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1046

وثنا محمد قال : وحدثنا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن الزهري عن أبي سلمة و أبي بكر بن سليمان عن أبي هريرة :

" امام صاحب اپنے استاد محمد بن یحییٰ کی سند سے ابو بکر بن سلیمان کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي سلمة و أبي بكر بن سليمان ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← وحدثنا عبد الرزاق ← وثنا محمد

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1046

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1047

حدثنا محمد قال : وفيما قرأت على عبد الله بن نافع وحدثني مطرف عن ابن شهاب عن أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة قال : بلغني

" جناب ابو بکر بن سلیمان بَلَغَنِیْ (مجھے یہ روایت پہنچی ہے) کے الفاظ کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔"

بلغني ← أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة ← ابْنِ شِهَابٍ، ← على عبد الله بن نافع وحدثني مطرف ← وفيما ← مُحَمَّدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1047

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1048

وثنا محمد أيضا قال وثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح عن ابن شهاب أن أبا بكر بن سليمان بن أبي حثمة أخبره أنه بلغه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : بهذا الخبر

" جناب ابو بکر بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ انہیں خبر ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔"

أنه بلغه ← ابن شهاب أن أبا بكر بن سليمان بن أبي حثمة ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← وثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد ← وَثَنَا مُحَمَّدٌ أَيْضًا،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1048

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1049

ثنا محمد نا أبو اليمان قال أنا شعيب عن الزهري أخبرني أبو بكر بن سليمان بن أبي حثمة : أن النبي صلى الله عليه وسلم سها في صلاته

" جناب ابو بکر بن سلیمان بن ابی حشمہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی نماز میں بھول گئے ۔"

أبو بكر بن سليمان بن أبي حثمة ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← مُحَمَّدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1049

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1050

وثنا محمد نا مطرف وقرأنه على ابن نافع عن مالك عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب و أبي سلمة بن عبد الرحمن : مثل ذلك

" جناب ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیّب اسی کی مثل روایت کرتے ہیں۔"

سعيد بن المسيب و أبي سلمة بن عبد الرحمن مثل ذلك ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← مطرف وقرأنه على ابن نافع ← وثنا محمد

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1050

chevron_left Previous
1…464748…60
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals