صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1040
وقال إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم سمعت أبا هريرة يقول : صحبت النبي صلى الله عليه وسلم ثلاث سنوات ثناه بندار نا يحيى بن سعيد عن إسماعيل بن أبي خالد و أبو هريرة إنما صحب النبي صلى الله عليه وسلم بخيبر وبعده وهو يخبر أنه شهد هذه الصلاة مع النبي صلى الله عليه وسلم فمن يزعم أن خبر ابن مسعود ناسخ لقصة ذي اليدين لو تدبر العلم وترك العناد ولم يكابر عقله علم استحالة هذه الدعوى إذ محال أن يكون المتأخر منسوخا والمتقدم ناسخا وقصة ذي اليدين بعد نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الكلام في الصلاة بسنين فيكف يكون المتأخر منسوخا والمتقدم ناسخا على أن قصة ذي اليدين ليس من نهي النبي صلى الله عليه وسلم عن الكلام في الصلاة بسبيل وليس هذا من ذلك الجنس إذ الكلام في الصلاة على العمد من المصلي مباح والمصلي عالم مستيقن أنه في الصلاة فنسخ ذلك وزجروا أن يتعمدوا الكلام في الصلاة على ما كان قد أبيح لهم قبل لا أنه كان أبيح لهم أن يتكلموا في الصلاة ساهين ناسين لا يعلمون أنهم في الصلاة فنسخ ذلك وهل يجوز للمركب فيه العقل يفهم أدنى شيء من العلم أن يقول : زجر الله المرء إذا لم يعلم أنه في الصلاة أن يتكلم أو يقول : نهى الله المرء أن يتكلم في الصلاة وهو لا يعلم أن الله قد زجر عن الكلام في الصلاة وإنما يجب على المرء أن لا يتكلم في الصلاة بعد علمه أن الكلام في الصلاة محظور غير مباح و معاوية بن الحكم السلمي إنما تكلم وهو لا يعلم أن الكلام في الصلاة محظور فقال في الصلاة خلف النبي صلى الله عليه وسلم لما شمت العاطس ورماه القوم بأبصارهم : واثكل أمياه ما لكم تنظرون إلي ؟ فلما تكلم في الصلاة بهذا الكلام وهو لا يعلم أن هذا الكلام محظور في الصلاة علمه صلى الله عليه وسلم أن كلام الناس في الصلاة محظور غير جائز ولم يأمره صلى الله عليه وسلم بإعادة تلك الصلاة التي تكلم فيها بهذا الكلام والنبي صلى الله عليه وسلم في قصة ذي اليدين إنما تكلم على أنه في غير الصلاة وعلى أنه قد أدى فرض الصلاة بكماله وذو اليدين كلم النبي صلى الله عليه وسلم وهو غير عالم أنه قد بقي عليه بعض الفرض إذ جائز عنده أن يكون الفرض قد رد إلى الفرض الأول إلى ركعتين كما كان في الابتداء ألا تسمعه يقول للنبي صلى الله عليه وسلم : أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ فأجابه النبي صلى الله عليه وسلم بأنه لم ينس ولم تقصر وهو عند نفسه في ذلك الوقت غير مستيقن أنه قد بقي عليه بعض تلك الصلاة فاستثبت أصحابه وقال لهم أكما يقول ذو اليدين ؟ فلما استيقن أنه قد بقي عليه ركعتان من تلك الصلاة قضاهما فلم يتكلم صلى الله عليه وسلم في هذه القصة بعد علمه ويقينه بأنه قد بقي عليه بعض تلك الصلاة فأما أصحابه الذين أجابوه وقالوا للنبي صلى الله عليه وسلم بعد مسألته إياهم : أكما يقول ذو اليدين قالوا نعم فهذا كان الجواب المفروض عليهم أن يجيبوه عليه السلام وإن كانوا في الصلاة عالمين مستيقنين أنهم في نفس فرض الصلاة إذالله عز وجل فرق بين نبيه المصطفى وبين غيره من أمته بكرمه له وفضله بأن أوجب على المصلين أن يجيبوه وإن كانوا في الصلاة في قوله { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } وقد قال المصطفى صلى الله عليه وسلم لأبي بن كعب و لأبي سعيد بن المعلي لما دعا كل واحد منهما على الانفراد وهو في الصلاة فلم يجبه حتى فرغ من الصلاة : ألم تسمع فيما أنزل علي أو نحوه هذه اللفظة { يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم } قد خرجت هذين الخبرين في غير هذا الموضع فبين أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في كلامهم الذي تكلموا به يوم ذي اليدين وكلام ذي اليدين على الصفة التي تكلم بها وبين من بعدهم فرق في بعض الأحكام أما كلام ذي اليدين في الابتداء فغير جائز لمن كان بعد النبي صلى الله عليه وسلم أن يتكلم بمثل كلام ذي اليدين إذ كل مصل بعد النبي صلى الله عليه وسلم إذا سلم في الركعتين من الظهر أو العصر يعلم ويستيقن أنه قد بقي عليه ركعتان من صلاته إذ الوحي منقطع بعد النبي صلى الله عليه وسلم ومحال أن ينتقص من الفرض بعد النبي صلى الله عليه وسلم فكل متكلم يعلم أن فرض الظهر والعصر أربعا كل واحد منهما على الانفراد إذا تكلم بعد ما قد صلى ركعتين وبقيت عليه ركعتان عالم مستيقن بأن كلامه ذلك محظور عليه منهي عنه وأنه متكلم قبل إتمامه فرض الصلاة ولم يكن ذو اليدين لما سلم النبي صلى الله عليه وسلم من الركعتين عالم ولا مستيقن بأنه قد بقي عليه بعض الصلاة ولا كان عالما أن الكلام محظور عليه إذ كان جائز عنده في ذلك الوقت أن يكون فرض تلك الصلاة قد رد إلى الفرض الأول إلى ركعتين كما كان في الابتداء وقوله في مخاطبته النبي صلى الله عليه وسلم دال على هذا ألا تسمعه يقول للنبي صلى الله عليه وسلم أقصرت الصلاة أم نسيت وقد بينت العلة التي لها تكلم أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بعد قول النبي صلى الله عليه وسلم لذي اليدين : لم أنس ولم تقصر وأعلمت أن الواجب المفترض عليهم كان أن يجيبوا النبي صلى الله عليه وسلم وإن كانوا في الصلاة وهذا الفرض اليوم ساقط غير جائز لمسلم أن يجيب أحدا ـ وهو في الصلاة ـ بنطق فكل من تكلم بعد انقطاع الوحي فقال لمصل قد سلم من ركعتين : أقصرت الصلاة أم نسيت ؟ فواجب عليه إعادة تلك الصلاة إذا كان عالما أن فرض تلك الصلاة أربع لا ركعتين وكذاك يجب على كل من تكلم وهو مستيقن بأنه لم يؤد فرض تلك الصلاة بكماله فتكلم قبل أن يسلم منها في ركعتين أو بعدما سلم في ركعتين وكذاك يجب على كل من أجاب إنسانا وهو في الصلاة إعادة تلك الصلاة إذالله عز وجل لم يجعل لبشر أن يجيب في الصلاة أحدا في الصلاة غير النبي صلى الله عليه وسلم الذي خصه الله بها وهذه مسألة طويلة قد خرجتها بطولها مع ذكر احتجاج بعض من اعترض على أصحابنا في هذه المسألة وأبين قبح ما احتجوا على أصحابنا في هذه المسألة من المحال وما يشبه الهذيان إن وفقنا الله
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے تین سال نبی اکرم ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل کیا ۔ حضرت ابو ہریرہ نبی کریم ﷺ کی صحبت میں جنگ خیبر اور اس کے بعد کے عرصے میں رہے ہیں ۔ اور وہ یہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ نماز نبی کریم ﷺ کے ساتھ ادا کی تھی ، لہٰذ اجو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث ذوالیدین کے قصے کی ناسک ہے، اگر یہ شخص علم میں غورو فکر کرے ، جد چھوڑ دے اور اپنی عقل ہی کو اہمیت و بڑائی نہ دے تو اس دوعوے کے نا ممکن ہونے کو جان لے گا۔ کیونکہ یہ نا ممکن ہے کہ متاخر حکم منسوخ ہوا اور متقدم حکم ناسخ ہوا۔ اور ذوالیدین کا قصہ نبی اکرم ﷺ کے نماز میں گفتگو سے منع کرنے کے کئی سال بعد کا ہے ، چنانچہ متاخر حکم منسوخ اور متقدم حکم ناسخ کیسے ہو سکتا ہے ۔ جبکہ ذوالیدین کے قصے کو نبی کریم ﷺ کے نماز میں بات چیت کے منع قرار دینے کے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں ۔ اور یہ مسئلی اس جنس کے ساتھ تعلق بھی نہین رکھتا، کیونکہ ( جس کلام سے منع کیا گیا وہ ) جائز کلام تھا جسے نمازی عمد ا نماز میں کرتا اور اسے یقینی علم ہوتا ہے کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ۔ تو یہ کلام منسوخ ہو گیا اور نمازیوں کو روک دیا گیا ہے کہ وہ عمدا نماز کے دوران میں کلام کریں جبکہ پہلے ان کے لیے یہ جائز تھا ۔ یہ نہیں کہ ان کے لیے نماز میں بھول چوک کی صورت میں گفتگو کرنا جائز قرار دیا گیا تھا ، جبکہ انہیں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ حالت نماز میں ہیں ، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔ کیا کسی عقل مند شخص ، جو معمولی سی علمی سوجھ بوجھ رکھتا ہو ، کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نمازی کو بات چیت کرنے سے منع کیا ہے جبکہ اسے علم ہی نہ ہو کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ، یا وہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے نمازی کو نماز میں بات چیت کرنے سے منع کیا ہے حالانکہ اسے علم ہی نہ ہو کہ اللہ تعالیی نے نماز میں گفتگو سے منع کیا ہے ۔ بے شک نمازی کو جب علم ہو جائے کہ اللہ تعالیی نے نماز میں کلام کرنے سے منع کر دیا ہے تو اس کے لیے واجب ہے کہ وہ نماز میں کالم نہ کرے ۔ حضرت معاویہ بن سلمیٰ ؓ نے ( نماز کے دوران میں ) گفتگو کی حا لانکہ انہیں علم نہیں تھا کہ نماز میں گفتگو گرنا ممنوع ہے۔ لہٰذ اانہوں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے ہوئے چھینک مارنے والے کو جواب دیا (اسے یَرْحَمْکَ اللہُ کہا ) اور نمازیوں نے انہیں گھورنا شروع کر دیا ، تو انہوں نے کہا : ہائے میری ماں مجھے روئے تم مجھے کیوں گھور رہے ہو؟ چنانچہ جب انہوں نے دوران نماز میں یہ کلام کی حالانکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ نماز کی حالت میں ایسا کلام کرنا منع ہے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سکھایا کہ نماز میں لوگوں سے ہم کلامی ممنوع اور ناجائز ہے۔ مگر آپ نے اسے اس نماز کو دوبارہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا جس میں انہون نے کلام کی تھی۔ جبکہ ذویالیدین کے قصے میں نبی کریم ﷺ نے اس بنا پر کلام کی تھی کہ آپ کے خیال میں آپ مکمل نماز ادا کر چکے تھے اور حالت نماز میں نہیں تھے ۔ اور ذوالیدین نے آپ سے گفتگو کی تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اس پر ابھی فرضی نماز کچھ باقی ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک یہ ممکن تھا کہ فرض نماز پہلے کی طرح دو رکعت کر دی گئی ہو جیسا کہ ابتدائے اسلام میں تھا ۔ کیا تم اسے یہ کہتے ہوئے نہیں سنتے کہ وہ نبی کریم ﷺ سے عرض کرتا ہے : " کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ تو نبی کریم ﷺ نے اسے جواب دیا کہ نہ نمازز کم ہوئی ہے نہ میں بھولا ہوں ۔ حالانکہ اس وقت آپ کو یقین نہیں تھا کہ آپ پر کچھ نماز باقی ہے ۔ لہٰذا آپ نے صحا بہ کرام سے تحقیق کی اور ان سے پوچھا: کیا معاملہ اسی طرح ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہا ہے؟ پھر جب آپکو یقین ہو گیا کہ آپ کی نماز کی دو رکعتیں باقی رہ گئی ہیں تو پھر آپ نے مزید گفتگو نہیں کی ۔ البتہ صحابہ کرام کی گفتگو آپ ﷺ کے سوال کے جواب میں تھی ، جب ااپ نے ان سے پوچھا کہ کیا معاملہ اسی طرح ہے جس طرح ذوالیدین کہہ رہا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( آپ کے سوال پر) ان کا جواب دینا فرض تھا اگرچہ وہ نماز کی حالت میں ہی ہوں ، اور انہیں اپنے نماز میں ہونے پورا علم و یقین بھی ہو ، کیونکہ اللہ تعالیی نے اپنے خصوصی فضلو کرم کی بنا پر اپنے نبی مسطفیٰ اور دیگر لوگوں میں فرق رکھا ہے ۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیی نے نمازیوں پر رسول اللہ ﷺ کی لبیک کہنا واجب قرار دیا گیا ہے اگرچہ وہ نماز ہی پڑھ رہے ہون ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ) " اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کا رسول کا کہنا مانو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتا ہے ۔" نبی کریم ﷺ نے حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو سعید بن معلیٰ ؓ سے فرمایا جبکہ آپ نے ان دونوں کو الگ الگ بلایا تھا اور وہ نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے نماز سے فارغ ہونے تک آپ کی پکار کا جواب نہیں دیا تھا : کیا تم نے وہ حکم نہیں سنا جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے یا آپ نے اس قسم کے الفاظ فرمائے ( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ)( یَااَیُھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْسْتَجِیْبُوْ ا لِلّہِ ا للرَّسُوْلِ اِذَدَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ) اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو جب وہ تمہیں اس بات کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتا ہے ۔" میںن نے یہ دو احادیث اس جگہ کے علاوہ دوسرے مقام پر بھی باین کی ہیں ۔ ذوالیدین والے دن نبی کے صحابہ ؓ کے کلام میں اور ذوالیدین کی گفتگو میں جس انداز سے انہوں نے گفتگو کی اور ان کے بعد آنے والے لوگوں کی کلام میں بعض احکام کا فرق ہے ۔ نبی کریم ﷺ کے ( اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ) بعد کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ ذوالیدین کی طرح کلام کرے جیسا کہ انہوں نے ابتدا میں کلام کیا ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے بعد ہر نمازی جب ظہر یا عصر کی دو رکعتون کے بعد سلام پھیر ے گا تو اسے بخوبی علم و یقین ہو گا کہ ابھی اس کی نماز سے دو رکعتیں باقی ہیں ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے ، اور یہ نا ممکن ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد فرض نماز میں کمی واقع ہو۔ لہٰذا ہر بات کرنے والا جانتا ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز کی چار چار رکعات فرض ہیں ۔ جب وہ دو رکعتوں کے بعد کلام کرے گا ۔اور دو رکعتیں ابھی باقی ہوں گی تو اسے مکمل یقین ہو گا کہ اس کا یہ بات چیت کرنا اس کے لیے حرام اور منع ہے ۔
بعده وهو يخبر ← إسماعيل بن أبي خالد و أبو هريرة إنما صحب النبي بخيبر ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← صحبت النبي ثلاث سنوات ثناه بندار ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1040
