صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ السَّھوِ فِی الصَّلاَۃِ · حديث 1028
قَالَ الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا فُضَيْلٌ -يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ- عَنْ مَنْصُورٍ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، ثَنَا مَنْصُورٌ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى أَيْضًا، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَيْضًا نَحْوَهُ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ فِي الصَّلَاةِ أَوْ نَقَصَ مِنْهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: "وَمَا ذَاكَ؟ " فَذَكَرْنَا لَهُ الَّذِي صَنَعَ، فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: "إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ، وَلَكِنِّي بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي، وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُسَلِّمْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ". هَذَا حَدِيثُ أَبِي مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ. قَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ: فَسَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْهُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ مَنْصُورٍ، وَلَا أَحْفَظُهُ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ فِي حَدِيثِهِ: التَّحَرِّيَ، وَقَالَ: "فَأَيُّكُمْ سَهَا فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيُسَلِّمْ ثُمَّ لِيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ إِذَا بَنَى عَلَى التَّحَرِّي سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ. وَهَكَذَا أَقُولُ. وَإِذَا بَنَى عَلَى الْأَقَلِّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلَامِ، عَلَى خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. وَلَا يَجُوزُ عَلَى أَصْلِي دَفْعُ أَحَدِ الْخَبَرَيْنِ بِالْآخَرِ، بَلْ يَجِبُ اسْتِعْمَالُ كُلِّ خَبَرٍ فِي مَوْضِعِهِ. وَالتَّحَرِّي هُوَ أَنْ يَكُونَ قَلْبُ الْمُصَلِّي إِلَى أَحَدِ الْعَدَدَيْنِ أَمْيَلَ، وَالْبِنَاءُ عَلَى الْأَقَلِّ مَسْأَلَةٌ غَيْرُ مَسْأَلَةِ التَّحَرِّي، فَيَجِبُ اسْتِعْمَالُ كِلَا الْخَبَرَيْنِ فِيمَا رُوِيَ فِيهِ.
" حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی تو اس نماز میں کچھ اضافہ کر دیا یا اس میں کچھ کمی کر دی، پھر آپ ہماری طرف اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ متوجہ ہوئے ، ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا نماز میں کچھ تبدیلی ہو گئی ہے ؟ آپ نے پوچھا : وہ کیا ( تبدیلی ) ہے ؟ تو ہم نے آپکو آپکے عمل کے متعلق بتادیا ۔ لہٰذا آپ نے اپنا پاوں موڑا اور قبلہ رخ ہو کر دو سجدے کیے، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر آپ نے فرمایا: اگر نماز میں کوئی تبدیلی ہوتی تو میں تمہیں بتا دیتالیکن میں ایک انسان ہوں ، میں بھی تمہاری طرح بھول جاتا ہوں ، اس لیے جب میں بھول جاوں تو میری یاد دہانی کرا دیا کرو ۔ اور تم میں سے جس شخص کو بھی اپنی نماز میں ( کمی بیشی ) کا شک ہو تو وہ درست ( تعداد رکعات ) کے متعلق غورو فکر کرے پھر اس کے مطابق نماز مکمل کرلے، پھر سلام پھر لے اور دو سجدے کر لے ۔" ابو مو سیٰ کی عبد الرحمان سے روایت ہے : ابو موسیٰ کہتے ہیں : جناب ابن مہدی نے فرمایا: میں نے امام سفیان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا:: میں نے یہ روایت منصور سے سنی تھی مگر مجھے یاد نہیں ۔ جنا ب احمر بن عبدہ نے اپنی روایت میں " التحری " ( تحقیق و جستجو ) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ اور کہا: " تم میں سے جس شخص سے اپنی نماز میں بھول ہو جائے اور اسے پتہ نہ چلے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے تو وہ سلام پکرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کر لے۔ امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ نمازی جب تحقیق و جستجو پر بنیاد کر کے ( نماز مکمل کرے گا) تو سہو کے دو سجدے سلام پکرنے کے بعد کرے گااور یہی پیرا موقف ہے۔ اور جب کم ترین عدد پر بنا کرے گاتو سہو کے دو سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے سے پہلے کرے گا ۔ جیسا حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت میں ہے ۔ میرے نزدیک ایک روایت کو دوسری کے ساتھ رد کرنا اصلا درست اور جائز نہیں ہے بلکہ ہر روایت پر اس کے مقام پر عمل کرنا واجب ہے۔ "التحری " ( تحقیق و جستجو یہ ہے کہ نمازی کا دل کسی ایک عدد کی طرف زیادہ مائل ہو جبکہ کم سے کم عدد پر بنیاد رکھنے کا مسئلہ تھری کے مسئلے سے مختلف ہے ۔ لہٰذ ادونوں روایتوں پر اسی طرح عمل کرنا واجب ہے جیسے وہ بیان کی گئی ہیں ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو دَاوُدَ، أَيْضًا نَحْوَهُ ← أَبُو مُوسَى أَيْضًا، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى، ← مَنْصُورٌ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، ← أَبُو مُوسَى وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ← مَنْصُورٌ، ← فُضَيْل يَعْنِي ابْن عِيَاض ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of forgetfulness in prayer · Hadith 1028
