صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ العِیدَینِ الفِطرِ وَالاَضحَیِ وَمَا یُحتَاجُ فِیھِمَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1445
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ الْفَرَّاءِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمَ عِيدٍ عَلَى رَاحِلَتِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ تَحْتَمِلُ مَعْنَيَيْنِ. أَحَدُهُمَا أَنَّهُ خَطَبَ قَائِمًا لَا جَالِسًا، وَالثَّانِي أَنَّهُ خَطَبَ عَلَى الْأَرْضِ. كَإِنْكَارِ أَبِي سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ لَمَّا أَخْرَجَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ يُخْرِجُ الْمِنْبَرَ.
"حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے عید والے دن اپنی سواری پر خطبہ ارشاد فرمایا۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: اس لفظ کے دو معانی ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ آپ نے کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا، بیٹھ کر خطبہ نہیں دیا۔ دوسرا معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ آپ نے زمین پر خطبہ دیا (منبر پر نہیں دیا) جیسا کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مروان کو (عیدگاہ کی طرف) منبر نکالنے پر روکا تھا اور اسے فرمایا تھا: (عہد نبوی میں) منبر نہیں نکالا جاتا تھا۔
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ*، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them · Hadith 1445
