صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الاِستِقَاءِ وَمَا فِیھَا مِنَ السُّنَنِ · حديث 1411
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ. قَالَ شُعْبَةُ، قُلْتُ لِثَابِتٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ. قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "وَفِي خَبَرِ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ.
"حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بارش طلب کرنے کی دعا کے علاوہ اور کسی دعا میں اپنے دونوں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے حضرت ثابت سے پوچھا: کیا آپ نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ (بڑی تعجب والی بات ہے۔) میں نے پوچھا کیا آ پ نے یہ حدیث حضرت انس سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: سبحان اللہ (بڑی تعجب خیز بات ہے)۔" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: جناب معمر کی امام زہری سے روایت میں یہ الفاظ پہلے بھی لکھوا چکا ہوں کہ: اور آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے۔"
الزُّهْرِيِّ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ. ← أَبُو بَكْرٍ: "وَفِي خَبَرِ مَعْمَرٍ، ← سُبْحَانَ اللَّهِ. ← مِنْ أَنَسٍ؟ ← سُبْحَانَ اللَّهِ. قُلْتُ: ← مِنْ أَنَسٍ؟ ← شُعْبَةُ، قُلْتُ لِثَابِتٍ: أَنْتَ ← كَانَ النَّبِيُّ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ. ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it · Hadith 1411
