صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1400
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ الشَّمْسَ كَسَفَتْ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَّ النَّاسُ إِنَّمَا كَسَفَتْ لِمَوْتِهِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، وَإِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَادْعُوا وَتَصَدَّقُوا".
"حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سورج کو جس دن گرہن لگ گیا جس دن رسول اللہ ﷺ کے لخت جگر ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔تو لوگوں نے سمجھا کہ سورج گرہن ان کی موت کی وجہ سے لگا ہے۔چنانچہ نبی کریم ﷺ (خطاب کے لئے)کھڑے ہوئے اورفرمایا: "لوگو!سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں ،انہیں کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا،لہذا جب تم گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھنے میں جلدی کرو،اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف لپکو،دعا کیا کرواور صدقہ خیرات کیا کرو۔ "
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُوَيْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1400
