Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1376

وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ قَالَ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى. حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ مَتِينٌ، يُرِيدُ: أَنَّهُ ثِقَةٌ حَافِظٌ.

"امام صاحب نے حجاج الصواف کی سند بیان کی ہے۔امام صاحب فرماتے ہیں:میں نے محمدبن یحییٰ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حجاج الصواف ثقہ اور حافظ ہے۔"

حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ مَتِينٌ، يُرِيدُ: أَنَّهُ ثِقَةٌ حَافِظٌ. ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ← حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، ← أَبُو بَكْرٍ، ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى. ← أَبُو طَاهِرٍ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1376

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1377

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ؛ ح وَثَنَا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا رَوْحٌ، ثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدٍ -وَهُوَ ابْنُ أَسْلَمَ- عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ ذَاكَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ [148 - ب] انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ فِي مَقَامِكَ هَذَا -قَالَ الرَّبِيعُ: شَيْئًا- ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَأَنَّكَ تَكَعْكَعْتَ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: تَكَعْكَعْتَ. فَقَالَ: "إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ، وَقَالُوا: فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا. -قَالَ الرَّبِيعُ- وَرَأَيْتُ أَوَ أُرِيتُ النَّارَ، وَقَالَ الْآخَرَانِ: وَرَأَيْتُ النَّارَ، وَقَالُوا، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ"، قَالَ الرَّبِيعُ، قَالُوا: لِمَ؟ وَقَالَ الْآخَرَانِ: بِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "بِكُفْرِهِنَّ". قِيلَ: أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: "يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ. قَالَ أَبُو مُوسَى: قَالَ رَوْحٌ: وَالْعَشِيرُ الزَّوْجُ.

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا اور صحابہ کرام آپ کے ساتھ موجود تھے ۔آپ نے(نماز کسوف پڑھائی)تو سورۃ بقرۃ کی مقدار کے برابر طویل قیام کیا،پھر آپ نے بڑا طویل رکوع کیا،پھرآپ نے رکوع سے(سرمبارک)اٹھایاتوبڑاطویل قیام کیا،جو پہلے قیام سے کم تھا۔پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے چھوٹا تھا۔پھر آپ نے سجدے کیے۔پھرآپ نے ایک طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا۔پھرآپ نے لمبا رکوع کیا جو(پہلی رکعت کے)رکوع سے کم تھا۔پھرآپ نے سرمبارک اٹھایا۔پھر آپ نے طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا۔پھر آپ نے ایک لمبا رکوع کیا جو اس پہلے رکوع سے چھوٹا تھا۔پھرآپ نے سجدے کیے اور نماز ختم کی اس حال میں کہ سورج صاف اور روشن ہوچکاتھا۔(فراغت کے بعد ) آپ نے فرمایا:بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ان دونوں کو گرہن کسی شخص کی موت یا اس کی زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔صحابہ کرام نے عرض کی:اے اللہ کے رسول!ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اس جگہ(دوران نماز)کوئی چیز پکڑی،پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ خوفزدہ ہوکر پیچھے ہٹ گئے۔آپ نے فرمایا :بے شک میں نے جنت دیکھی تو اس کے انگوروں کا ایک خوشہ پکڑنے کی کوشش کی اگر میں وہ خوشہ لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اسے کھاتے رہتے (اوروہ ختم نہ ہوتا۔)اور میں نے جہنم بھی دیکھی تو میں نے آج جیسا خوفناک منظر کبھی نہیں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں۔صحابہ کرام نے عرض کی:اللہ کے رسول!اس کی کیا وجہ ہے؟آپ نے فرمایا:عورتوں کے کفرکی وجہ سے۔عرض کی گئی:کیا وہ اللہ تعالٰی کے ساتھ کفر کرنے کی وجہ سے(جہنم میں کثرت سے ہیں؟)۔آپ نے فرمایا:وہ اپنے خاوندوں سے ناشکری کرتی ہیں حسن سلوک کا شکریہ ادا نہیں کرتیں ،اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ طویل عرصہ تک حسن سلوک سے پیش آؤ،پھر وہ تمہاری طرف سے کوئی تکلیف پائے تو وہ کہہ دیتی ہے:میں نےکبھی تمہاری طرف سے خیر وبھلائی نہیں پائی۔"جناب روح بیان کرتے ہیں کہ :عشیر کا معنی شوہر ہے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْد -وهُوَ ابْنُ أَسْلَم- ← مَالِكٍ، ← رَوْحٌ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعِ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1377

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1378

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْكَبًا لَهُ قَرِيبًا، فَلَمْ يَأْتِ حَتَّى كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ، فَكُنَّا بَيْنَ يَدَيِ الْحجر، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ سَرِيعًا، وَقَامَ مَقَامَهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي، وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَكَبَّرَ [وَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ] ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودِ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا دُونَ السُّجُودِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ وَانْصَرَفَ، فَكَانَتْ صَلَاتُهُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَجَلَسَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ. أنا أبو طاهر، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: مِثْلَهُ.

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوکر ایک قریبی جگہ پر تشریف لے گئے،پھر آپ کے واپس آنے سے پہلے ہی سورج کو گرہن لگ گیا،میں چند عورتوں کے ساتھ باہر نکلی،(ابھی)ہم حجرے کے سامنے ہی تھیں کہ آپ اپنی سواری سے (اترکر)تیزی کے ساتھ تشریف لائے،اور آپ اپنی نماز پڑھانے والی جگہ پر کھڑے ہوگئے۔لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے تو آپ نے اللہ اکبر کہا ۔(اور نماز شروع کردی)۔آپ نے بڑا طویل قیام کیا ،پھر ایک طویل رکوع کیا،پھر سراٹھایا،پھر آپ نے کھڑے ہو کر ایک طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے مختصر تھا،پھرآپ نے رکوع کیا توطویل رکوع کیا۔مگر وہ پہلے رکوع سے مختصرتھا۔پھرآپ نے اپنا سر مبارک اٹھایاپھر آپ نے سجدہ کیا تو بڑا طویل سجدہ کیا،پھر سجدے سے سراٹھایا پھر پہلے سجدے سے مختصر سجدہ کیا۔پھر آپ کھڑے ہوگئے،آپ نے ایک طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔پھر آپ نے رکوع کیا تو طویل رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے مختصر تھا۔پھر آپ نے سرمبارک اٹھایااور لمبا قیام کیا مگر وہ پہلے قیام سے چھوٹا تھاپھر آپ نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا مگر وہ پہلے رکوع سے چھوٹا تھا۔پھر آپ نے سجدے کئے اور نماز مکمل کردی اس طرح آپ کی نماز میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔پھر آپ بیٹھ گئے اور سورج (اس وقت تک) روشن ہوچکاتھا۔"

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1378

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1379

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ -يَعْنِي ابْنَ صَدَقَةَ- ثَنَا سُفْيَانُ -وَهُوَ ابْنُ حُسَيْنٍ- عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتِ: انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، ثُمَّ قَرَأَ قِرَاءَةً يَجْهَرُ فِيهَا، ثُمَّ رَكَعَ عَلَى نَحْوِ مما قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ثُمَّ رَكَعَ عَلَى نَحْوِ مما قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَسَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى فَصَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعَ فِي الْأُولَى، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ" قَالَ: وَذَلِكَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ مَاتَ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا كَانَ هَذَا لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ.

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے،آپ نے جہری قراءت کی،پھر آپ نے اپنی قراء ت کی مقدار کے برابر (لمبا)رکوع کیا،پھر(رکوع سے سرمبارک)اٹھایا تو (پھراپنی پہلی قراءت جتنی قراءت کی)پھر اپنی قراءت کی مقدار کے برابر رکوع کیا،پھر آپ نے اپنا سرمبارک اٹھایا اور سجدے کیا۔پھر آپ دوسری رکعت کے الئے اٹھے تو پھر اسی طرح (قراءت اور رکوع) کیا جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا۔پھر فرمایا:بے شک سور ج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں ۔انہیں کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا لہذا جب گرہن لگے تو نماز کی طر ف لپکو(تاکہ اللہ تعالیٰ تمہاری یہ مشکل حل کرے)راوی کہتے ہیں "اس دن (رسول اللہ ﷺ کے لخت جگر)ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تھی تو لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ سورج گرہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے لگاہے۔"

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ -وَهُوَ ابْنُ حُسَيْنٍ-، ← إِبْرَاهِيمُ -يَعْنِي ابْنَ صَدَقَةَ- ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1379

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1380

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: وَكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَقَالَ [149 - أ]: "وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا، فَإِذَا خَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ".

"حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ایک شدید گرمی والے دن سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو نمازپڑھائی تو آپ نے (اس قدر)طویل قیام کیا کہ صحابہ کرام گرنے لگےپھر آپ نے رکوع کیا تولمبا رکوع کیا۔پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد طویل قیام کیا،پھر آپ نے دوسجدے کئے۔پھر آپ کھڑے ہوئے تو پہلے کی طرح (طویل قیام )کیا ۔اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے ادا کئے،پھر آپ نے فرمایا :بلاشبہ مجھے ہر وہ چیز دکھائی گئی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔پھر مکمل حدیث بیان کی۔اور فرمایا : "بے شک عرب کے لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن کسی عظیم اور بڑے شخص کی وفات کی وجہ سے لگتا ہے اور بے شک یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں،جو وہ تمہیں دکھاتاہے،لہذا جب ان دونوں کو گرہن لگے تو تم نماز پڑھو حتی کہ وہ صاف اور روشن ہوجائے۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1380

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1381

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَاهُ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا شَدِيدَ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ جَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ يَتَأَخَّرُ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ كُلُّ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ، فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا، وَلَوْ شِئْتُ لَأَخَذْتُهُ، ثُمَّ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا فَقَصَرَتْ يَدَيَّ عَنْهُ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ، فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ خِيفَةَ تَغْشَاكُمْ، وَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَإِنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْخَسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا اللَّهُ، فَإِذَا خَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ".

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں شدید گرمی والے دن سورج گرہن لگا،تورسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو نماز کسوف پڑھائی۔آپ نے اتنا طویل قیام کیا کہ صحابہ کرام گرنے لگ گئےپھر آپ نے رکوع کیا تو اسے بھی طویل کیا۔پھرآپ کھڑے ہوئے تو اسی (پہلی رکعت) کی طرح کیا۔پھر آپ نے آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا شروع کردیا۔اس طرح چار رکوع اور چار سجدے اد اکیے،پھر فرمایا:مجھے ہروہ چیز دکھائی گئی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔مجھ پر جنت پیش کی گئی حتی کہ میں نے اس سے انگوروں کا ایک خوشہ پکڑنا چاہا اور اگر میں چاہتا تو میں اسے پکڑ لیتا۔پھر میں نے اس میں ایک خوشہ لینا چاہاتو میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکا۔پھر مجھے جہنم دکھائی گئی تو میں نے اس ڈرسے پیچھے ہٹنا شروع کردیا کہ کہیں وہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔اور میں نے ایک سیاہ فام طویل حمیری عورت بھی دیکھی جسے ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جارہاتھا۔اس نے بلی کو باندھے رکھا نہ اسے خود کچھ کھانے کو دیا اور نہ اسے آزاد کیا،کہ وہ زمینی کیڑے مکوڑے کھا لیتی(اس طرح وہ بھوکی پیاسی مرگئی)اور میں نے ابو ثمامہ عمر وبن مالک کو جہنم میں اپنی انتڑیاں کھینچتے ہوئے دیکھا اور لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ بے شک سورج اور چاند کو گرہن کسی بڑے سردار کی موت کی وجہ سے ہی لگتاہے۔اور بلاشبہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ،جو اللہ تعالیٰ تمہیں دکھاتاہے،لہذا جب گرہن لگے تو سورج کے روشن ہونے تک نماز پڑھو۔"جناب بندار نے "القمر"کا لفظ ہمیں بیان نہیں کیا۔جناب عطاء اپنی سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر رکعت میں دورکوع کئے تھے۔"

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1381

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1382

أخبرنا أبو طاهر حدثنا أبو بكر قال وقد حدثنا بندار حدثنا معاذ بن هشام نا أبي و ابن أبي عدي عن هشام عن قتادة عن عطاء عن عبيد بن عمير عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى في كسوف ست ركعات وأربع سجدات

"سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا بیان ہے کہ بے شک رسول اکرم ﷺ نے نمازکسوف میں چھ رکوع اور چار سجدے کئے تھے"

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← أبي و ابن أبي عدي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارٌ ← وقد ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1382

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1383

أخبرنا أبو طاهر حدثنا أبو بكر حدثنا يعقوب بن إبراهيم حدثنا ابن علية حدثنا ابن جريج عن عطاء ح وحدثنا محمد بن هشام حدثنا إسماعيل - يعني ابن علية - أخبرنا ابن جريج عن عطاء قال سمعت عبيد بن عمير يحدث قال أخبرني من أصدق قال فظننت أنه يريد عائشة رضي الله عنها أنها قالت : كسفت الشمس على في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام بالناس قياما شديدا يقوم بالناس ثم يركع ثم يقوم ثم يركع فركع ركعتين في كل ركعة ثلاث ركعات فركع الثالثة ثم سجد حتى أن رجالا يومئذ ليغشى عليهم حتى سجال الماء ليصب عليهم مما قام بهم يقول إذا كبر : الله أكبر فإذا رفع رأسه قال : سمع الله لمن حمده فلم ينصرف حتى تجلت الشمس فقام فحمد الله وأثنى عليه وقال : إن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته ولكنهما آيتان من آيات الله يخوفكم بهما فإذا كسفا فافزعوا إلى الله حتى ينجليا

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں سورج گرہن لگا تو آپ نے نماز (کسوف پڑھائی)اور صحابہ کرام کو بڑا طویل قیام کرایا۔آپ نے صحابہ کو قیام کرایا،پھر رکوع کیا ،پھر قیام کرایا،پھر رکوع کیا،اس طرح آپ نے دورکعات ادا کیں،ہر رکعت میں تین رکوع کئے،آپ نے تیسرا رکوع کیا ،پھر سجدہ کیا حتی کہ اس دن آپ کے طویل قیام کی وجہ سے کچھ صحابہ بے ہوش ہوگئے اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے۔آپ جب تکبیر کہتے تو اللہ اکبر کہتے،پھر جب رکوع سے سراٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے لہذا آپ نے سورج روشن ہونے تک نماز ختم نہ کی۔پھر آپ نے کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی۔اور فرمایا: "بلاشبہ سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت یا حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا،لیکن یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمہیں ڈراتا ہے،جب انہیں گرہن لگے تو تم اللہ (کے ذکر) کی طرف جلدی کرو حتی کہ یہ دونوں روشن اور صاف ہو جائیں۔"

مَنْ أُصَدِّقُ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1383

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1384

وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: سِتُّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ.

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں سورج گرہن لگا تو آپ نے نماز (کسوف پڑھائی)اور صحابہ کرام کو بڑا طویل قیام کرایا۔آپ نے صحابہ کو قیام کرایا،پھر رکوع کیا ،پھر قیام کرایا،پھر رکوع کیا،اس طرح آپ نے دورکعات ادا کیں،ہر رکعت میں تین رکوع کئے،آپ نے تیسرا رکوع کیا ،پھر سجدہ کیا حتی کہ اس دن آپ کے طویل قیام کی وجہ سے کچھ صحابہ بے ہوش ہوگئے اور ان پر پانی کے ڈول ڈالے گئے۔آپ جب تکبیر کہتے تو اللہ اکبر کہتے،پھر جب رکوع سے سراٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے لہذا آپ نے سورج روشن ہونے تک نماز ختم نہ کی۔پھر آپ نے کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء بیان کی۔اور فرمایا: "بلاشبہ سورج اور چاند کو کسی شخص کی موت یا حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا،لیکن یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ تمہیں ڈراتا ہے،جب انہیں گرہن لگے تو تم اللہ (کے ذکر) کی طرف جلدی کرو حتی کہ یہ دونوں روشن اور صاف ہو جائیں۔"

جَابِرٍ: سِتُّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ. ← عَطَاءٍ، ← وَفِي خَبَرِ عَبْدِ الْمَلِكِ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1384

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1385

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى فِي كُسُوفٍ، قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ سَجَدَ وَالْأُخْرَى مِثْلُهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذِهِ الْأَخْبَارِ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ"، فَجَائِزٌ لِلْمَرْءِ أَنْ يُصَلِّيَ فِي الْكُسُوفِ كَيْفَ أَحَبَّ وَشَاءَ مِمَّا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَدَدِ الرُّكُوعِ، إِنْ أَحَبَّ رَكَعَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رُكُوعَيْنِ، وَإِنْ أَحَبَّ رَكَعَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، وَإِنْ أَحَبَّ رَكَعَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، لِأَنَّ جَمِيعَ هَذِهِ الْأَخْبَارِ صِحَاحٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَذِهِ الْأَخْبَارُ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ مَرَّاتٍ لَا مَرَّةً وَاحِدَةً.

"حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے نماز کسوف پڑھائی،آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا،پھر آپ نے تلاوت کی پھر رکوع کیا ،پھر آپ نے قراءت کی پھر رکوع کیا،پھر قرآن پڑھا،پھر رکوع کیا،پھر آپ نے سجدے کئے،دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی۔"امام ابوبکررحمہ اللہ فرماتے ہیں:میں نے ان روایات کی اسانید کتاب الکبیر میں بیان کردی ہیں۔لہذا آدمی کے لئے جائز ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق نماز کسوف میں جتنے رکوع پسند کرے اور چاہے ادا کرلے۔اگر وہ ہر رکعت میں دو رکوع کرنا پسند کرے تو دو رکوع کر لے۔اوراگر چاہے تو ہر رکعت میں تین رکوع کرے۔اور اگر پسند کرے تو ہر رکعت میں چار رکوع کرے۔کیونکہ یہ تمام روایات نبی کریم ﷺ سے صحیح ثابت ہیں۔اور یہ روایات اس بات کی دلیل ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سورج گرہن میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ کئی مرتبہ نماز کسوف پڑھی ہے۔"

الْأُخْرَى مِثْلُهَا. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← حَبِيبٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1385

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1386

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ يَوْمَ مَاتَ فِيهِ ابْنُهُ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَرَأَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ انْحَدَرَ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ، فَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَتَقَدَّمَتِ الصُّفُوفُ مَعَهُ، فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ أَضَاءَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَالَ: "أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكِ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ".

"حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں جس دن رسول اللہ ﷺ کا لخت جگر ابراہیم رضی اللہ عنہ فوت ہوا،اس دن سورج کو گرہن لگا۔تو آپ نے لوگوں کو چھ رکوع چار سجدوں کے ساتھ اداکرائے،آپ نے تکبیر کہی پھر طویل قراءت کی کی،پھر اپنی قراءت کے برابر طویل رکوع کیا،پھر آپ نے رکوع سے اپنا سرمبارک اٹھایا توپہلی قراءت سے کچھ کم قراءت کی پھر آپ نے اپنی قراءت کی مقدار کے برابر طویل رکوع کیا،پھر آپ نے رکوع سے سرمبارک اٹھایا تو اپنی دوسری قراءت سے کچھ کم قراء ت کی،پھر اس قراءت کے برابر رکوع کیا،پھر اپناسرمبارک اٹھایا پھر آپ نے نیچے جھک کر دوسجدے کئے،پھر آپ (دوری رکعت کے لئے)کھڑے ہوگئے اور سجدے کرنے سے پہلے تین رکوع کیے،ان میں سے ہر رکوع اپنے بعد والے سے طویل ہوتا تھا مگر آپ کا رکوع آپ کے قیام کے برابر ہوتا تھا۔پھر آپ اپنی نماز میں پیچھے ہٹے تو لوگوں کی صفیں بھی آپ کے ساتھ پیچھے ہٹ گئیں۔پھر آپ آگے بڑھے تو صفیں بھی آگے بڑھ گئیں پھر آپ نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا۔پھر آپ نے فرمایا :لوگو!بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں اور ان دونوں کو کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ،لہذا جب تم گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھا کروحتی کہ سورج روشن ہوجائے۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1386

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1387

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الكنانِيُّ، قَالَ أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، ثُمَّ قَامَ فَاقَترَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ".

حضرت عائشہ رضی اللہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارک میں سورج گرہن لگا تو مسجد میں تشریف لے گئے،آپ (نماز کے لئے)کھڑے ہوگئے اور"اَللہُ اَکْبَرُ"کہا۔اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں۔رسول اللہ ﷺ نے بڑی طویل قراءت فرمائی۔پھر "اَللہُ اَکْبَرُ"کہا اور طویل رکوع کیا۔پھر رکوع سے سرمبارک اٹھایا۔توسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہَ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُکہا پھرآپ نے کھڑے ہو کر طویل قراءت کی،مگر یہ پہلی قراءت سے کم تھی،پھر آپ نے اللہ اکبر کہہ کر طویل رکوع کیا،اور یہ رکوع پہلے رکوع سے چھوٹا تھا۔پھر آپ نے سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہَ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہا۔پھر آپ نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی،اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے مکمل کر لئے۔آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے ہی سورج روشن ہوچکا تھا۔پھر آپ نے کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا:اور اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق اس کی حمدوثناء بیان کی۔پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں اور ان دونوں کو کسی انسان کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ،لہذا جب تم ان دونوں(میں سے کسی ایک)کو گرہن لگادیکھو تو نماز پڑھنے میں جلدی کرو۔"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الكنانِيُّ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1387

chevron_left Previous
1…303132…60
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals