Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1364

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، نَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ قَالَ: لَا، إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، وَإِنَّمَا الْقَصْرُ وَاحِدَةٌ عِنْدَ الْقِتَالِ، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتْ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وُجُوهِ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ، فَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ، وَسَلَّمَ أُولَئِكَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ جَابِرٍ: إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، أَرَادَ (1) لَيْسَتَا بِقَصْرٍ عَنْ صَلَاةِ الْمُسَافِرِ.

جناب یزید الفقیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا ہے ، جبکہ ان سے سوال کیا گیا کیا سفر میں دو رکعت نماز قصر ہے؟ انوں نے فرمایا : نہیں ۔ بے شک سفر میں دو رکعات نماز قصر نہیں ہے ، بلکہ قصر نماز تو جنگ کے وقت ایک رکعت ادا کرنا ہے پھر فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے نماز کی اقامت کی گی ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہو گیا ۔ اور ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آرا تھا آپ نے اپنے پیچھے کھڑے گروہ کو ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھائی ۔ پھر وہ چلے گے۔ اور ان کی جگہ پر کھڑے ہو گے جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے پھر وہ گروہ آ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بھی ایک رکعت اور دو سجدے کرائے پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ کے پیچھے کھڑے ہونے والوں نے بھی سلام پھیر دیا اور (دشمن کے سامنےکھڑے) گروہ نے بھی سلام پھیر لیا ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں حضرت جابر ؓ کا یہ فرمان : سفر میں دو رکعات مسافر کی نماز قصر نہیں ہے (بلکہ مسافر کی مکمل نماز ہے )۔

الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ ← يَزِيدُ الْفَقِيرُ أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1364

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1365

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، وَكَانَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا. مُرْ أَصْحَابَكَ فَيَقُومُوا طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ خَلْفَكَ، فَتُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْكَعُ وَيَرْكَعُونَ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَتَقُومُ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ قَامَ الَّذِينَ يَلُونَكَ، وَخَرَّ الْآخَرُونَ سُجَّدًا، ثُمَّ تَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى قَائِمَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، ثُمَّ تُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنْ هَاجَمَهُمْ هَيْجٌ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمُ الْقِتَالُ وَالْكَلَامُ.

جناب سیلم بن عبد السلوالی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سعید بن عاص ؓ کے ساتھ طبرستان میں تھے اور ان کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے چند صحابہ کرام بھیہ موجود تھے ۔انہوں نے دیگر صحابہ سے پوچھا : آپ میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟حضرت حذیفہؓ نے فرمایا : میں نے پھر نماز خوف کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا : اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ وہ دو گروہوں میں کھڑے ہو جایئں ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آرا ہو جایئں اور دوسرا گروہ آپ کے پیچھے صف بنا لے۔ پھر تم تکبیر کہو تو سب بھی تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دے ۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ بھی رکوع کریں پھر تم سر اٹھائو تو وہ سب بھی سر اٹھایئں ، پھر تم سجدہ کرو تو تیرے قریب والا گروہ سجدہ کر لے۔ اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے ۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھا لو تو تمہارے قریب والے لوگ کھڑے ہو جائیں اور دوسرا گروہ والے سجدہ کر لے ۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ سب بھی رکوع کر لیں ۔ پھر تم سجدے کرو تو تمہارے قریب والا گروہ بھی سجدے کر لے جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے ۔پھر جب تم اپنا سر سجدوں سے اٹھا لو تو دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والے لوگ سجدہ کر لیں۔ پھر تم ان کے ساتھ مل کر سلام پھیر دو ، اور تم اپنے ساتھیوں کو حکم دو کہ اگر ان پر زور دار حملہ ہو جائے تو ان کے لیے جنگ کرنا اور بات چیت کرنا حلال ہو جائے گا ۔

حُذَيْفَةَ ← لَهُمْ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ ← كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، وَكَانَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1365

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1366

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ [147 - ب] كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَإِنْ كَانَ خَوْفٌ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ، صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلَى أَقْدَامِهِمْ، أَوْ رُكْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ وَغَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا. قَالَ نَافِعٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَوَى ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

جناب سیلم بن عبد السلوالی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سعید بن عاص ؓ کے ساتھ طبرستان میں تھے اور ان کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے چند صحابہ کرام بھیہ موجود تھے ۔انہوں نے دیگر صحابہ سے پوچھا : آپ میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟حضرت حذیفہؓ نے فرمایا : میں نے پھر نماز خوف کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا : اپنے ساتھیوں کو حکم دیں کہ وہ دو گروہوں میں کھڑے ہو جایئں ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آرا ہو جایئں اور دوسرا گروہ آپ کے پیچھے صف بنا لے۔ پھر تم تکبیر کہو تو سب بھی تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دے ۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ بھی رکوع کریں پھر تم سر اٹھائو تو وہ سب بھی سر اٹھایئں ، پھر تم سجدہ کرو تو تیرے قریب والا گروہ سجدہ کر لے۔ اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے ۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھا لو تو تمہارے قریب والے لوگ کھڑے ہو جائیں اور دوسرا گروہ والے سجدہ کر لے ۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ سب بھی رکوع کر لیں ۔ پھر تم سجدے کرو تو تمہارے قریب والا گروہ بھی سجدے کر لے جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے ۔پھر جب تم اپنا سر سجدوں سے اٹھا لو تو دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والے لوگ سجدہ کر لیں۔ پھر تم ان کے ساتھ مل کر سلام پھیر دو ، اور تم اپنے ساتھیوں کو حکم دو کہ اگر ان پر زور دار حملہ ہو جائے تو ان کے لیے جنگ کرنا اور بات چیت کرنا حلال ہو جائے گا ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1366

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1367

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَى أَصْحَابُ مَالِكٍ هَذَا الْخَبَرَ عَنْهُ، فَقَالُوا: قَالَ نَافِعٌ: لَا أَرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَاهُ يُونُسُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ؛ ح وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا الشَّافِعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مَالِكٍ؛ ح وَثَنَا الرَّبِيعُ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، عَنْ مَالِكٍ.

امام صاحب نے اپنی سند کے ساتھ امام مالک سے امام شافعی ؒ کی روایت بیان کی ہے۔

مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← وَثَنَا الرَّبِيعُ، ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ، ← وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← أَبُو بَكْرٍ، ثَنَاهُ يُونُسُ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← نَافِعٌ: لَا أَرَى ابْنَ عُمَرَ ذَكَرَهُ إِلَّا ← أَبُو بَكْرٍ: رَوَى أَصْحَابُ مَالِكٍ هَذَا الْخَبَرَ عَنْهُ، فَقَالُوا:

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1367

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1368

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْقَوْمِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتُّ رَكَعَاتٍ، وَلِلْقَوْمِ ثَلَاثٌ ثَلَاثٌ.

حضرت ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو نماز مغرب (نماز خوف کے طور پر ) تین رکعات پڑھائیں ، تو پھر آپ نماز سے فارغ ہو گے دوسرا گروہ آیا تو آپ نے انہیں بھی تین رکعات پڑھائیں اس طرح نبی اکرم ﷺ کی چھ رکعات ہو گئیں اور صحابہ کرام کی تین تین رکعات ہوئیں۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَشْعَثَ، ← عَمْرُو بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1368

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1369

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ- عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: (إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى) [النساء: 102]، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: كَانَ جَرِيحًا. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت(إِنْ کَانَ بِکُمْ أَذًا مِّنْ مَّطَرٍ أَوْکُنْتُمْ مَرْضٰی)(النسا :102) اگر تمہیں بارش کی وجہ سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو (ہتھیار اتار کر نماز پڑھ لو) اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عبدالرحمان بن عوف ؓ زخمی تھے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: كَانَ جَرِيحًا. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ الْكُسُوفِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ: (إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى) [النساء: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ- ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1369

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1370

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي قَوْلِهِ: "فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا"، دِلَالَةٌ عَلَى حُجَّةِ مَذْهَبِ الْمُزَنِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْمَسْأَلَةِ الَّتِي (1) خَالَفَهُ فِيهَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي الْحَالِفِ إِذَا كَانَ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَقَالَ: إِذَا وَلَدْتُمَا وَلَدًا، فَأَنْتُمَا طَالِقَتَانِ. قَالَ الْمُزَنِيُّ: إِذَا وَلَدَتْ إِحْدَاهُمَا وَلَدًا طُلِّقَتَا، إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ الْمَرْأَتَيْنِ لَا تَلِدَانِ جَمِيعًا وَلَدًا وَاحِدًا، وَإِنَّمَا تَلِدُ وَاحِدًا واحدا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ، فَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا" إِنَّمَا أَرَادَ إِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَ إِحْدَاهُمَا فَصَلُّوا، إِذِ الْعِلْمُ مُحِيطٌ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ، كَمَا لَا تَلِدُ امْرَأَتَانِ وَلَدًا وَاحِدًا.

حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بے سک سورج اور چاند کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا ، لیکن وہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشا نیاں ہیں ، لہذا جب تم یہ نشانی دیکھو تو نماز پڑھو: امام ابو بکر فرماتے ہیں آپ کا یہ ارشاد گرامی کہ جب تم یہ نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اس میں امام مزنی ؒ کے مذہب کی دلیل و حجت موجود ہے اس مسلہ میں جس میں ہمارے اصحاب محد ثین نے ان کی مخالفت کی ہیں کہ مقسم کھانے والے کی جب دو بیویاں ہو اور وہ ان سے کہے : جب تم دونوں بچہ پیدا کرو گی تو تم دونوں کو طلاق ہو جائے گی ۔ امام مزنی ؒ فر ماتے ہیں : جب ان میں سے ایک عورت نے بچے کو جنم دے دیا تو دونوں کو طلاق ہو جائے گی۔ کیو نکہ یہ بات یقینی ہے کہ دونوں عورتیں بیک وقت ایک ہی بچے کو جنم نہیں دے سکتی ۔ بلکہ ایک عورت ایک ہی بچے کو ہی جنم دے گی۔ لہذا نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان : جب تم یہ نشانی دیکھو تو نماز پڑھو ۔ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ جب تم ان میں سے کسی ایک کا گرہن دیکھو تو نماز پڑھو ، کیو نکہ یہ بات یقینی ہے کہ سورج چاند کو بیک وقت گرہن نہیں لگتا جس طرح کہ دو عورتیں ایک ہی بچے کو جنم نہیں دے سکتیں۔

أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1370

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1371

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، فَقَامَ، حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي أَطْوَلَ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلَاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الْآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا، يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ".

حضرت ابو موسیٰ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں سورج گرہن لگا تو آپ گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑے ہوئے ، اس ڈر سے کہ کہیں یہ قیامت ہی نہ ہو ۔ آپ اٹھ کر مسجد میں تشریف لے آئے آپ نے کھڑے ہو کر نہایت طویل قیام ، رکوع اور سجدوں کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کر دیں ۔ میں نے آپ کو ایسی طویل ترین نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا ۔ پھر (نماز کے بعد) آپ نے فرمایا : بلا شبہ یہ نشایناں جنہیں اللہ تعالی بھیجتا ہے یہ کسی شخص کی موت یا زند گی کی وجہ سے وقوع پذیر نہیں ہوتیں ۔ بلکہ اللہ تعالی انہیں بھیج کر اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ۔لہذا جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو اللہ تعالی کے ذکر، اس سے دعا و التجا اور اس سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنے کی طرف جلدی کرو۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٍ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1371

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1372

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، [148 - أ] نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاحْمَدُوا اللَّهَ، وَكَبِّرُوا، وَسَبِّحُوا، وَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ كُسُوفُ أَيِّهِمَا انْكَسَفَ". قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ.

حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو لوگ کہنے لگے:سورج گرہن حضرت ابراہیم ؓ کی وفات کی وجہ سے ہوا ہے۔رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے ،آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا :اور فرمایا:بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔لہذا جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرو(اَلْحَمْدُ لِلہِ پڑھو)اَللہُ اَکْبَر اور سُبْحَانَ اللہِ پڑھو،اور اس وقت تک نماز پڑھو جب تک ان میں سے جسے گرہن بھی لگا ہےاس کا گرہن صاف نہ ہوجائے ۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :پھر رسول اللہ ﷺ (منبرسے)اترے تو دورکعات نماز پڑھائی۔"

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1372

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1373

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا أنا أَرْتَمِي (1) بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذِ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا، وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَيْتُ وَهُوَ قَائِمٌ، رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ وَيَدْعُو حَتَّى انْجَلَتْ، وَقَرَأَ سُورَتَيْنِ، وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ.

"حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں اپنے تیروں کے ساتھ تیراندازی کی مشق کررہاتھا،اچانک سورج کو گرہن لگ گیا۔میں نے تیر پھینک دئیے اور رسول اللہ ﷺ کی طرف چل پڑا،میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ کھڑے تھے،اپنے دونوں ہاتھ بلند کرکے ،تسبیح ،تکبیر ،تحمید اور دعا کر رہے تھےحتی کہ گرہن دورہوگیا،اور آپ نے دوسورتیں پڑھ کر دورکعات پڑھائیں۔"

بَيْنَمَا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ← سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1373

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1374

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- نَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مِنَ الْعَجَلَةِ، وَلَاثَ إِلَيْهِ النَّاسُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَمَا تُصَلُّونَ، فَلَمَّا كُشِفَ عَنْهَا، خَطَبَنَا، فَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا حَتَّى يَنْكَشِفَ مَا بِكُمْ".

"حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھے کہ سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ جلدی کی وجہ سے اپنی چادر کو کھینچے ہوئے مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور لوگ بھی آپ کے پاس جمع ہوگئے،آپ نے دورکعات پڑھائیں جس طرح کہ تم نماز پڑھتے ہو،پھر جب سورج گرہن چھٹ گیا توآپ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: "بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا دھمکاتا ہے،اور لوگوں میں سے کسی کی موت کی وجہ سے انہیں گرہن نہیں لگتا ،لہذا جب تم ان دونوں میں سے کسی کو گرہن لگا دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا مانگو حتی کہ تمہاری یہ مشکل دور ہوجائے۔"

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1374

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ اکُسُوفِ · حديث 1375

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِنَّهُ لَمَّا كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُودِيَ: أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَكَذَا رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ أَيْضًا عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو.

"حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگا تو یہ اعلان کیا گیا :بے شک جمع کرنے والی نماز (تیارہے) (اس)کے لئے آؤ ۔"پھر مکمل حدیث بیان کی۔"امام ابو بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اسی طرح اس روایت کو معاویہ بن سلام نے بھی حضرت ابو سلمہ کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شَيْبَانَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of an eclipse prayer · Hadith 1375

chevron_left Previous
1…293031…60
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals