صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ الخَوفِ · حديث 1364
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، نَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنِي يَزِيدُ الْفَقِيرُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ قَالَ: لَا، إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، وَإِنَّمَا الْقَصْرُ وَاحِدَةٌ عِنْدَ الْقِتَالِ، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتْ خَلْفَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِي خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّهُمُ انْطَلَقُوا، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ الَّذِينَ كَانُوا فِي وُجُوهِ الْعَدُوِّ، وَجَاءَتْ تِلْكَ الطَّائِفَةُ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَّمَ، فَسَلَّمَ الَّذِينَ خَلْفَهُ، وَسَلَّمَ أُولَئِكَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُ جَابِرٍ: إِنَّ الرَّكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ لَيْسَتَا بِقَصْرٍ، أَرَادَ (1) لَيْسَتَا بِقَصْرٍ عَنْ صَلَاةِ الْمُسَافِرِ.
جناب یزید الفقیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے سنا ہے ، جبکہ ان سے سوال کیا گیا کیا سفر میں دو رکعت نماز قصر ہے؟ انوں نے فرمایا : نہیں ۔ بے شک سفر میں دو رکعات نماز قصر نہیں ہے ، بلکہ قصر نماز تو جنگ کے وقت ایک رکعت ادا کرنا ہے پھر فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے نماز کی اقامت کی گی ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک گروہ کھڑا ہو گیا ۔ اور ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آرا تھا آپ نے اپنے پیچھے کھڑے گروہ کو ایک رکعت دو سجدوں کے ساتھ پڑھائی ۔ پھر وہ چلے گے۔ اور ان کی جگہ پر کھڑے ہو گے جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے پھر وہ گروہ آ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں بھی ایک رکعت اور دو سجدے کرائے پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو آپ کے پیچھے کھڑے ہونے والوں نے بھی سلام پھیر دیا اور (دشمن کے سامنےکھڑے) گروہ نے بھی سلام پھیر لیا ۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں حضرت جابر ؓ کا یہ فرمان : سفر میں دو رکعات مسافر کی نماز قصر نہیں ہے (بلکہ مسافر کی مکمل نماز ہے )۔
الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ أَقْصُرُهُمَا؟ ← جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُسْأَلُ ← يَزِيدُ الْفَقِيرُ أَنَّهُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the prayer of fear · Hadith 1364
