Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1279

وفي خبر جابر بن يزيد بن الأسود السوائي عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال للرجلين بعد فراغه من صلاة الفجر : إذا صليتما في رحالكما ثم جئتما والإمام يصلي فصليا معه تكون لكما نافلة سأخرجه إن شاء الله بتمامه أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه يعقوب بن إبراهيم الدورقي و زياد بن أيوب قالا حدثنا هشيم أخبرنا يعلي بن عطاء عن جابر بن يزيد السوائي عن أبيه قال أبو بكر : والنبي صلى الله عليه وسلم في هذا الخبر قد أمر من صلى الفجر في رحله أن يصلي مع الإمام وأعلم أن صلاته تكون مع الإمام نافلة فلو كان النهي عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس نهيا عاما لا نهيا خاصا لم يجز لمن صلى الفجر في الرحل أن يصلي مع الإمام فيجعلها تطوعا وأخبار النبي صلى الله عليه وسلم : سيكون عليكم أمراء يؤخرون الصلاة عن وقتها فصلوا الصلاة لوقتها واجعلوا صلاتكم معهم سبحة فيها دلالة على إن الإمام إذا أخر العصر أو الفجر أو هما إن على المرء أن يصلي الصلاتين جميعا لوقتهما ثم يصلي مع الإمام ويجعل صلاته معه سبحة وهذا تطوع بعد الفجر وبعد العصر وقد أمليت قبل خبر قيس بن قهد وهو من هذا الجنس والنبي صلى الله عليه وسلم قد زجر بني عبد مناف وبني عبد المطلب أن يمنعوا أحدا يصلي عند البيت أي ساعة شاء من ليل أو نهار

جناب یزید بن اسود السوائی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز فجر کی ادائیگی کے بعد دو آدمیوں سے فرمایا : جب تم اپنی رہائش گاہوں پر نماز پڑھ لو پھر تم (مسجد میں ) آئو جبکہ امام نماز پڑھا رہا ہو تو تم اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو ، وہ تمہارے لیے نفل بن جائے گی۔ میں عنقریب یہ روایت مکمل بیان کر دوں گا، ان شا اللہ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے اس روایت میں اس شخص کو امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے جو نماز فجر اپنی رہا ش گاہ پر پڑھ چکا تھا ۔ آپ نے بیان فرمایا کہ امام کے ساتھ اس کی نماز نفل ہو جائے گی لہذا اگر نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے کی ممانعت عام ہوتی، خاص نہ ہوتی تو جو شخص اپنی رہائش گا ہ میں فجر پڑھ چکا ہو اس کے لیے امام کے ساتھ (دوبارہ) نماز فجر کو نفل بناتے ہوئے ادا کرنا جائز نہ ہوتا ۔نیز نبی کریم ﷺ کی یہ احادیث کہ عنقریب تم پر ایسے حکمران اور امرا مقر ر ہو گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے موٗخر کریں گے ۔ تو تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل شمار کر لو۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب امام نماز عصر ، یا نماز فجر ، یا دونوں کو موخر کر کے ادا کرتا ہو تو آدمی پر واجب ہے کہ وہ دونوں نمازیں ان کے وقت پر ادا کر لے۔ پھر امام کے ساتھ بھی ادا کر لے۔ اور امام کے ساتھ پڑھنے والی نماز کو نفل بنا لے ۔ اور یہ فجر اور عصر کے بعد نفل نماز ہو گی اور میں اس سے پہلے حضرت قیس بن قہد کی حدیث بھی لکھوا چکا ہوں ۔ وہ بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔اور نبی کریم ﷺ نے بنی عہد مناف اور بنی عبد المطلب کو منع کیا ہے کہ وہ بیت اللہ میں دن یا رات کی کسی بھی گھڑی میں نماز پڑھنے والے کو روکیں۔

أَبِيهِ ← وفي خبر جابر بن يزيد بن الأسود السوائي

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1279

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1280

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عبد الجبار بن العلاء و أحمد بن منيع قالا ثنا سفيان عن أبي الزبير عن عبد الله بن باباه عن جبير بن مطعم ح وثنا محمد بن يحيى و محمد بن رافع قالا ثنا عبد الرزاق أخبرنا ابن جريج ح وثنا أحمد ابن المقدام ثنا محمد بن بكر أخبرنا ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع عبد الله بن باباه يخبر عن جبير بن مطعم : عن النبي صلى الله عليه وسلم خبر عطاء هذا : يا بني عبد مناف يا بني عبد المطلب إن كان إليكم من الأمر شيء فلا أعرفن ما منعتم أحدا يصلي عند هذا البيت أي ساعة شاء من ليل أو نهار هذا لفظ حديث ابن جريج غير أن أحمد بن المقدام قال : إن كان لكم من الأمر شيء وقال : أي ساعة من ليل أو نهار

حضرت جبیر بن مطعم ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف ! اے نبی عبد المطلب ! اگر تمہیں ( بیت اللہ کے انتظام و انصرام میں سے) کچھ ذمہ داری اور اختیار ملا ہے تو مجھے ہرگز یہ اطلاع نہ ملنے کہ تم نے کسی شخص کو اس بیت اللہ میں دن یا رات کی کسی گھڑی میں بھی نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ یہ ابن جریح کی روایت کے الفاظ ہیں۔ جبکہ احمد بن مقدام کے الفاظ یہ ہیں: اگر تمہیں اس انتظام و انصرام میں سے کچھ ذمہ داری ملی ہے۔ اور کہا رات یا دن کی جس گھڑی میں ( چاہے ، نماز پڑھ لے)۔

أي ساعة من ليل أو نهار ← إن كان لكم من الأمر شيء ← جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهُ، يُخْبِرُ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أحمد ابن المقدام ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← محمد بن يحيى و محمد بن رافع ← جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← عبد الجبار بن العلاء و أحمد بن منيع ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1280

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1281

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَتْ: لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً، وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَمَّارٍ. وَقَالَ يُوسُفُ: قَالَتْ: لَا، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً. فَأَمَّا الدَّوْرَقِيُّ فَإِنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَقُلْ: هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟

حضرت علقمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ ؓ سے پوچھا : اے ام المومنین ! رسول اللہ ﷺ کا عمل مبارک کیسا ہو تا تھا ، کیا آپ ( عبادت و عمل کے لیے) کچھ دن مخصوص کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نہیں۔ آپ کا عمل مبارک ہمیشگی والا ہوتا تھا ۔ اور تم میں سے کون (عمل کرنے کی اتنی) استطاعت رکھتا ہے جتنی استطاعت رسول اللہ ﷺ کو نصیب تھی۔ یہ ابو عمار کی حدیث کے الفاظ ہیں ، جناب یوسف کے الفاظ یہ ہیں: انہوں نے فرمایا : نہیں آپ کا عمل مبارک ہمیشگی اور دوام والا ہوتا تھا ۔ جبکہ جناب الدروقی نے اپنی روایت میں یہ کہا : میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسے ہوتی تھی۔ اور یہ الفاظ بیان نہیں کئے : کیا آپ کچھ دنوں کو ( عمل و عبادت کے لیے) خاص کرتے تھے ؟

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1281

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1282

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "مَنْ هَذِهِ؟ " فَقُلْتُ: فُلَانَةُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا". قَالَتْ: وَكَانَ أَحَبُّ الدِّينِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس بنی اسد کی ایک عورت بیٹھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ آپ نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کی : فلاں عورت ہے جو اپنی (نفل) نماز (کی کثرت ) کی وجہ سے مشہور ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : رک جائو ، تم پر تمہاری طاقت کے مطابق عمل کرنا واجب ہے ۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالی ( اجر و ثواب عطا کرتے) نہیں تھکتے حتی کہ تم ہی (عمل کرتے) تھک جائو گے ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: آپ ﷺ کے نزدیک محبوب ترین عمل وہ تھا جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی اختیار کرتا۔

وَكَانَ أَحَبُّ الدِّينِ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ. ← النَّبِيُّ "مَهْ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا". ← "مَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ: فُلَانَةُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا. ← كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1282

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1283

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ (1): كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَاوَمَ وَإِنْ قَلَّ، وَكَانَ النَّبِيُّ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا. وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: (الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ) [المعارج: 23].

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو وہ عمل سب سے زیادہ محبوب تھا جس پر ہمیشگی اور دوام اختیار فرماتے اگرچہ وہ تھوڑا ہوتا ۔ نیز نبی کریم ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اس پر ہمیشگی اختیار کرتے ۔ اور حضرت ابو سلمہ ؓ نے یہ آیت تلاوت کی (الَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلَا تِھِمْ دَآئِمُوْنَ)(المعارج:23)(سچے مومن وہ ہیں )جو اپنی نمازوں پر ہمیشگی اختیار کرتے ہیں۔

أَبُو سَلَمَةَ: (الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ) ← كَانَ النَّبِيُّ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا. ← كَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَى النَّبِيِّ مَا دَاوَمَ وَإِنْ قَلَّ، ← عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عِيسَى؛ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1283

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1284

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَا: ثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ -وَهُوَ ابْنُ يَسَافٍ- عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ بَيْضَاءَ مُرْتَفِعَةً".

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عصر کے بعد نماز نہ پڑھی جائے الا یہ کہ سورج سفید (روشن) اور بلند ہو ۔

عَلِيٍّ، ← وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ← هِلَالٍ -وَهُوَ ابْنُ يَسَافٍ- ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1284

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1285

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أَنْ تُصَلُّوا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.

حضرت علی ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم عصر کے بعد نماز نہ پڑھو ۔ الا یہ کہ تم نماز اس حال میں پڑھو کہ سورج ابھی بلند ہو۔

"لَا تُصَلُّوا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا أن تصلوا والشمس مرتفعۃ۔ ← النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← وَهْبِ بْنِ الْأَجْدَعِ ← هِلَالٍ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْیَانَ، وَشُعْبَۃَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1285

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1286

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ- عَنْ عَلِيٍّ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلَ حَدِيثَ أَبِي مُوسَى سَوَاءً. قَالَ سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي بِمَكَّةَ يَعْنِي أَمْ غَيْرِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: وَهْبُ [140 - ب] بْنُ الْأَجْدَعِ (1) قَدِ ارْتَفَعَ عَنْهُ اسْمُ الْجَهَالَةِ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ الشَّعْبِيُّ أَيْضًا، وَهِلَالُ بْنُ يَسَافٍ.

جناب عاصم بن ضمرہ حضرت علیؓ کی نبی کریم ﷺ سے ابو موسیٰ کی طرح روایت بیان کرتے ہیں : امام سفیان فرماتے ہیں : مجھے معلوم نہیں کہ یہ حکم مکہ مکرمہ کے لیے ہیں یا دیگر شہروں کے لیے ، امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے میں نے محمد بن یحیی ٰ کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہب بن اجدع کے مجہول اور غیر معروف ہونے کی حالت ختم ہو چکی ہے کیو نکہ ان سے امام شعی ہلال بن یساف نے بھی روایت بیان کی ہے۔

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَكْرٍ: "هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ← سُفْيَانُ: فَلَا أَدْرِي بِمَكَّةَ يَعْنِي أَمْ غَيْرِهَا. ← النَّبِيِّ بِمِثْلَ حَدِيثَ أَبِي مُوسَى سَوَاءً. ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمٍ -وَهُوَ ابْنُ ضَمْرَةَ- ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1286

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1287

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، نَا الْجُرَيْرِيُّ، وَكَهْمَسٌ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، نَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، ثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثَنَا سُلَيْمٌ -يَعْنِي ابْنَ أَخْضَرَ- ثَنَا كَهْمَسٌ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ". هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ. زَادَ أَبُو كُرَيْبٍ: فَكَانَ ابْنُ بُرَيْدَةَ يُصَلِّي قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ.

حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے ۔ ہر دو اذنوں ( اذان اور اقامت) کے درمیان (نفل) نماز ہے۔پھر تیسری مر تبہ فرمایا : جو پڑھنا چاہے ،(وہ پڑھ لے) یہ ابو کریب اور احمد بن عبدہ کی حدیث ہے ابو کریب نے یہ الفاظ زیادہ بیان کئے ہیں ،لہذا حضرت عبداللہ بن بریدہ نماز مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔

بين كل آذانين صلاة بين كل آذانين صلاة ثم ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← كَهْمَسٌ، جَمِيعًا ← سُلَيْمٌ -يَعْنِي ابْنَ أَخْضَرَ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ الْعَطَّارُ، ← بُنْدَارٌ ← الْجُرَيْرِيُّ وَكَهْمَسُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← بُنْدَارٌ ← کهمس بن الحسن ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1287

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1288

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ، قَامَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَبْتَدِرُونَ السَّوَارِيَ يُصَلُّونَ حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ يُصَلُّونَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ شَيْءٌ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُرِيدُ شَيْئًا كَثِيرًا.

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب موذن اذان دے دیتا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام جلدی جلدی ستونوں کو سترہ بنا کر نماز پڑھنی شروع کر دیتے حتی کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لاتے اور وہ اسی طرح مغرب سے پہلے دو رکعات پڑھ رہے ہوتے ۔ اور اذان اور اقامت کے درمیان کچھ ( زیادہ) وقفہ نہیں ہوتا تھا ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : حضرت انس کا مطلب ہے کہ زیادہ طویل وقفہ نہیں ہوتا تھا ۔

أَنَسٍ، ← عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1288

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1289

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو مَعْمَرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ، نَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ: "صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ: "لِمَنْ شَاءَ"، خَشِيَ أَنْ يَحْسَبَهَا النَّاسُ سُنَّةً. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا اللَّفْظُ مِنْ أَمْرِ الْمُبَاحِ، إِذْ لَوْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَمْرِ الْمُبَاحِ لَكَانَ أَقَلُّ الْأَمْرِ أَنْ يَكُونَ سُنَّةً إِنْ لَمْ يَكُنْ فَرْضًا، وَلَكِنَّهُ أَمْرُ إِبَاحَةٍ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ لِأَمْرِ الْإِبَاحَةِ عَلَامَةً، مَتَى زَجَرَ عَنْ فِعْلٍ ثُمَّ أَمَرَ بِفِعْلِ مَا قَدْ زَجَرَ عَنْهُ، كَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ أَمْرَ إِبَاحَةٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ زَاجِرًا عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تغْرِبِ الشَّمْسِ عَلَى الْمَعْنَى الَّذِي بَيَّنْتُ، فَلَمَّا أَمَرَ بِالصَّلَاةِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ صَلَاةَ تَطَوُّعٍ كَانَ ذَلِكَ أَمْرَ إِبَاحَةٍ، وَأَمْرُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا بِالِاصْطِيَادِ عِنْدَ الْإِحْلَالِ مِنَ الْإِحْرَامِ أَمْرُ إِبَاحَةٍ، إِذْ كَانَ اصْطِيَادُ (1) صَيْدِ الْبَرِّ فِي الْإِحْرَامِ مَنْهِيًّا عَنْهُ، لِقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلَا: (غَيْرَ مُحِلِّي الصَّيْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ) [المائدة: 1] وَبِقَوْلِهِ: (وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا) [المائدة: 96]، وَبِقَوْلِهِ: (لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ) [المائدة: 95] فَلَمَّا أَمَرَ بَعْدَ الْإِحْلَالِ بِاصْطِيَادِ صَيْدِ الْبَرِّ كَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ أَمْرَ إِبَاحَةٍ، قَدْ بَيَّنْتُ هَذَا الْجِنْسَ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ فَضَائِلِ الْمَسَاجِدِ وَبِنَائِهَا وَتَعْظِيمِهَا

حضرت عبداللہ مزنی ؓ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مغرب سے پہلے دو رکعات پڑھو ۔پھر فرمایا:مغرب سے پہلے دو رکعات ادا کرو ، پھر تیسری مرتبہ فرمایا: جو پڑھنا چاہیے۔ آپ کو یہ خدشہ ہوا کہ کہیں لوگ اسے لازمی نہ سمجھ لیں ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ مباح امر کے ہیں ۔ کیونکہ اگر یہ مباح امر سے نہ ہوتے تو کم از کم سنت ہوتے ، اگرچہ فرض نہ بھی ہوتے ، لیکن یہ امر اباحت و جواز کے لیے ہے۔ اور میں اپنی کتابوں کے کئی مقامات پر بیان کر چکا ہوں کہ مباح امر کی علامت یہ ہوتی ہے کہ جب آپ کسی کام سے منع فرمایئں ۔ پھر اسی ممنوع کام کرنے کا ھکم دیں تو یہ کام مباح ہو گا ۔نبی کریم ﷺ نے عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا، اس معنی اور مفہوم پر جسے میں یان کر چکا ہوں ، پھر جب آپ نے غروب آفتاب کے بعد نفل نماز پڑھنے کا حکم دیا تو یہ حکم اباحت اور جواز کے لیے ہو گا۔ اسی طرح اللہ تعالی کا (حاجی کو) احرام کی پانبدیوں سے فارغ ہونے کے بعد شکار کرنے کا حکم دینا ، مباح حکم ہے کیونکہ حالت احرام میں خشکی کا شکار کرنا ممنوع تھا ۔ اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے(غَیْرَ مُحِلَی الصَّیْدِ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ)(المائدہ:۱)جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کو حلال نہ جانو۔ اور اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے :(وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرَ مَادُمْتُمْ حُرُمًا)(المائدۃ:96) اور جب تم احرام کی حالت میں ہو تمہارے لیے خشکی کا شکار حرام کیا گیا ہے ۔ اور اس ارشاد باری تعالی کی وجہ سے ۔ تم حالت احرام میں شکار کو قتل نہ کرو ۔ لہذا جب اللہ تعالی نے احرام کھولنے پر خشکی کا شکار کرنے کا حکم دیا تو یہ حکم اباحت و جواز کے لیے ہے۔(فرض یا واجب نہیں) میں نے یہ قسم کتاب معافی القرآن میں بیان کی ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1289

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ فَضَائِلِ المَسَاجِدِ وَبِنَا ئِھَا وَتَظِیمِھَا · حديث 1290

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ قَالَ: قال: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي نَجْلِسُ فِي الطَّرِيقِ، فَيَعْرِضُ عَلَيَّ الْقُرْآنَ وَأَعْرِضُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ: "مَسْجِدُ الْحَرَامِ"، قَالَ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: "ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى"، قَالَ، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: "أَرْبَعُونَ سَنَةً"، ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ".

جناب ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد بزرگوار راست میں بیٹھ کر قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں :(ایک دفعہ) انہوں نے سجدہ والی آیت تلاوت کی تو سجدہ بھی کیا مین نے ان سے عرض کی : کیا آپ راستے میں سجدہ کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا :ہاں! میں نے حضرت ابو زر ؓ کو فرماتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ، روئے زمین پر سب سے پہلے کونسی مسجد بنائی گئی تھی ؟آپ نے فرمایا:مسجد حرام (بیت اللہ)۔ میں نے پوچھا پھر کونسی ؟ آپ نے فرمایا : پھر مسجد اقصیٰ میں نے دریافت کیا : ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ تھا ؟ آپ نے فرمایا : چالیس سال ، پھرت آپ نے فرمایا :تمہیں جہاں نماز کا وقت ہو جائے (وہیں ) تم نماز پڑھ لو ، وہیں مسجد ہے۔

"أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ". ← "أَرْبَعُونَ سَنَةً"، ثُمَّ ← قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا؟ ← "ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى"، ← قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ ← "مَسْجِدُ الْحَرَامِ"، ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ: أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ ← أَبَا ذَرٍّ ← نَعَمْ ← فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَسْجُدُ فِي الطَّرِيقِ؟ ← وَأَبِي نَجْلِسُ فِي الطَّرِيقِ، فَيَعْرِضُ عَلَيَّ الْقُرْآنَ وَأَعْرِضُ عَلَيْهِ، ← كُنْتُ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization · Hadith 1290

chevron_left Previous
1…222324…60
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals