صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَوقَاتِ الَّتِی یُنھٰی عَن صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ فِیھِنَّ · حديث 1279
وفي خبر جابر بن يزيد بن الأسود السوائي عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال للرجلين بعد فراغه من صلاة الفجر : إذا صليتما في رحالكما ثم جئتما والإمام يصلي فصليا معه تكون لكما نافلة سأخرجه إن شاء الله بتمامه أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه يعقوب بن إبراهيم الدورقي و زياد بن أيوب قالا حدثنا هشيم أخبرنا يعلي بن عطاء عن جابر بن يزيد السوائي عن أبيه قال أبو بكر : والنبي صلى الله عليه وسلم في هذا الخبر قد أمر من صلى الفجر في رحله أن يصلي مع الإمام وأعلم أن صلاته تكون مع الإمام نافلة فلو كان النهي عن الصلاة بعد الفجر حتى تطلع الشمس نهيا عاما لا نهيا خاصا لم يجز لمن صلى الفجر في الرحل أن يصلي مع الإمام فيجعلها تطوعا وأخبار النبي صلى الله عليه وسلم : سيكون عليكم أمراء يؤخرون الصلاة عن وقتها فصلوا الصلاة لوقتها واجعلوا صلاتكم معهم سبحة فيها دلالة على إن الإمام إذا أخر العصر أو الفجر أو هما إن على المرء أن يصلي الصلاتين جميعا لوقتهما ثم يصلي مع الإمام ويجعل صلاته معه سبحة وهذا تطوع بعد الفجر وبعد العصر وقد أمليت قبل خبر قيس بن قهد وهو من هذا الجنس والنبي صلى الله عليه وسلم قد زجر بني عبد مناف وبني عبد المطلب أن يمنعوا أحدا يصلي عند البيت أي ساعة شاء من ليل أو نهار
جناب یزید بن اسود السوائی کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نماز فجر کی ادائیگی کے بعد دو آدمیوں سے فرمایا : جب تم اپنی رہائش گاہوں پر نماز پڑھ لو پھر تم (مسجد میں ) آئو جبکہ امام نماز پڑھا رہا ہو تو تم اس کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو ، وہ تمہارے لیے نفل بن جائے گی۔ میں عنقریب یہ روایت مکمل بیان کر دوں گا، ان شا اللہ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے اس روایت میں اس شخص کو امام کے ساتھ نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے جو نماز فجر اپنی رہا ش گاہ پر پڑھ چکا تھا ۔ آپ نے بیان فرمایا کہ امام کے ساتھ اس کی نماز نفل ہو جائے گی لہذا اگر نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے کی ممانعت عام ہوتی، خاص نہ ہوتی تو جو شخص اپنی رہائش گا ہ میں فجر پڑھ چکا ہو اس کے لیے امام کے ساتھ (دوبارہ) نماز فجر کو نفل بناتے ہوئے ادا کرنا جائز نہ ہوتا ۔نیز نبی کریم ﷺ کی یہ احادیث کہ عنقریب تم پر ایسے حکمران اور امرا مقر ر ہو گے جو نمازوں کو ان کے اوقات سے موٗخر کریں گے ۔ تو تم نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لو اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل شمار کر لو۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب امام نماز عصر ، یا نماز فجر ، یا دونوں کو موخر کر کے ادا کرتا ہو تو آدمی پر واجب ہے کہ وہ دونوں نمازیں ان کے وقت پر ادا کر لے۔ پھر امام کے ساتھ بھی ادا کر لے۔ اور امام کے ساتھ پڑھنے والی نماز کو نفل بنا لے ۔ اور یہ فجر اور عصر کے بعد نفل نماز ہو گی اور میں اس سے پہلے حضرت قیس بن قہد کی حدیث بھی لکھوا چکا ہوں ۔ وہ بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔اور نبی کریم ﷺ نے بنی عہد مناف اور بنی عبد المطلب کو منع کیا ہے کہ وہ بیت اللہ میں دن یا رات کی کسی بھی گھڑی میں نماز پڑھنے والے کو روکیں۔
أَبِيهِ ← وفي خبر جابر بن يزيد بن الأسود السوائي
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them · Hadith 1279
