صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1256
وحدثناه بندار نا عثمان - يعني ابن عمر - نا ابن أبي ذئب عن عثمان بن عبد الله بن سراقة : أنه رأى حفص بن عاصم يسبح في السفر ومعهم في ذلك السفر عبد الله بن عمر فقيل : أن خالك ينهى عن هذا فسألت ابن عمر عن ذلك فقال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصنع ذلك لا يصلي قبل الصلاة ولا بعدها قلت : أصلى بالليل ؟ فقال : صل بالليل ما بدأ لك
عثمان بن عبداللہ بن سرا قہ سے مروی ہے کہ انہوں نے جناب حفص بن عاصم کو سفر میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی ان کے ساتھ تھے۔ تو ان کے ساتھ کہا گیا : آپ کے ماموں (عبداللہ بن عمر) اس سے منع کرتے ہیں ۔چنانچہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ یہ کام نہیں کیا کرتے تھے۔ آپ فرض نماز سے پہلے اور بعد میں (نفل) نماز نہیں پڑھتے تھے۔ میں نے عرض کی : میں رات کو (نفل) پڑھ سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا : رات کو جتنی چاہو (نفل) نماز پڑھ لو۔
عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ -يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ-، ← بُنْدَارٌ
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1256
