Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا · حديث 1244

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ؛ ح وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ الْإِنْسَانُ أَرْبَعِينَ آيَةً.

ام المومنین عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (نفل نماز میں) بیٹھ کر قرات فرماتے ، اور رکوع کرنے کا ارداہ فرماتے تو آپ اتنی دیر قیام کرتے ( اورتلاوت کرتے)جتنی دیر میں انسان چالیس آیات کی تلاوت کر لیتا ہے ۔(پھر رکوع کرتے)۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الوليد بن أبي هشام ← إِسْمَاعِيلُ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ← الوليد بن أبي هشام ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down · Hadith 1244

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا · حديث 1245

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ. فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ.

جناب عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز کی کیفیت پوچھی تو انہوں نے فرمایا: آپ رات کو کافی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کافی دیر تھ بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے ، چنانچہ جب آپ کھڑے ہو کر قرات کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے، اور جب آپ قرات بیٹھ کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھے بیٹھے کر لیتے۔

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ مِنَ التَّطَوُّعِ. ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down · Hadith 1245

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا · حديث 1246

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ- عَنْ بُدَيْلٍ وَأَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا، رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا.

جناب عبداللہ بن شفیق حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ رات کو کافی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے،لہذا جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے ، اور جب آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← بُدَيْلٍ وَأَيُّوبَ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down · Hadith 1246

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا · حديث 1247

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ، ثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهُ سَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا. فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا، وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا. فَقَالَ أَبُو خَالِدٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، فَقَالَ: كَذَبَ حُمَيْدٌ وَكَذَبَ

جناب عبداللہ بن شفیق سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہﷺ کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ رات کو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، تو جب آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھے بیٹھے کر لیتے ، اور جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کر تے ابو خالد بیان کرتے ہیں کہ مین نے یہ حدیث ہشام بن عروہ کو بیان کی تو انہوں نے کہا : حمید کو غلطی لگی ہے ، اور عبداللہ بن شفیق نے بھی درست نہیں کہا ، مجھے میرے والد (حضرت عروہ) نے عائشہ ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے کبھی بیٹھ کر نماز نہیں پڑھی حتی کہ جب آپ بوڑھے ہو گئے تو ااپ سورتوں کی تلاوت (بیٹھ کر) کرتے، اور جب ان کی کچھ آیات باقی رہ جاتیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کی تلاوت کرتے اور رکوع کرتے۔ ابو بکر نے اسی طرح کہا ہے کہ آپ سورتیں پڑھتے ۔ امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں جناب ہشام بن عروہ نے عبداللہ بن شفیق کی روایت کا انکار کیا ہے ، کیونکہ ان کے نزدیک عبداللہ کی خبر کا ظاہری مفہوم ان کی روایت کے خلاف ہے جبکہ میرے نزدیک وہ ان کی حدیث کے خلاف نہیں ہے ۔ کیونکہ خالد کی عبداللہ کے واسطے سے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ ، جب آپ کھڑے ہو کر قرات کرتے تو آپ رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر کرتے ۔ ان الفاظ کے لھاظ سے یہ حدیث حضرت عروہ اور عمر کی حدیث کے خلاف نہیں ہے ۔ کیونکہ خالد کی روایت کے یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب ساری قرات بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ، اور جب آپ کی ساری قرات کھڑے ہو کر ہوتی تو آپ رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے ، اور جناب عبداللہ بن شفیق نے نبی کریم ﷺ کی نماز کی وہ کیفیت بیان نہیں کی جس میں کچھ قرات آپ نے بیٹھ کر کی ، اور کچھ قرات کھڑے ہو کر کی ۔ بلاشبہ یہ کیفیت حضرت عروہ ، ابو سلمہ اور عمرہ نے نے عائشہ ؓ سے بیان کی ہے۔ کہ جب آپ ﷺ کی قرات دونوں طرح ہوتی ، کچھ قرات کھڑے ہو کر اور کچھ بیٹھ کر تو پھر انہوں نے بیان کیا کہ آپ کھڑے ہو کر رکوع کرتے تھے ۔ جب کہ آپ کی قرات دونوں طریقوں سے ہوتی تھی۔ لیکن حضرت عروہ ، ابو سلمہ اور عمرہ نے یہ بیان نہیں کیا کہ جس نماز میں آپ بیٹھ کر اور کھڑے ہو کر (دونوں طریقوں سے ) قرات کرتے تھے اور رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے تھے، آپ اس نماز کی ابتدا کیسے کرتے تھے ،(کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر) جبکہ ابن سیرین نے عبداللہ بن شفیق کے واسطے سے حضرت عائشہ ؓ سے جو روایت بیان کی ہے ، اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے ۔ اس نماز کی ابتدا کھڑے ہو کر کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← حُمَيْدٍ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down · Hadith 1247

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا · حديث 1248

حدثنا سلم بن جنادة ثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن ابن سيرين عن عبد الله بن شقيق العقيلي عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قائما وقاعدا فإذا افتتح الصلاة قائما ركع قائما وإذا افتتح الصلاة قاعدا ركع قادعا قال أبو بكر : فهذا الخبر يبين هذه الأخبار كلها فعلى هذا الخبر إذا افتتح الصلاة قائما ثم قعد وقرأ انبغى له أن يقوم فيقرأ بعض قراءته ثم يركع وهو قائم فإذا افتتح صلاته قاعدا قرأ جميع قراءته ثم يركع وهو قائم فإذا افتتح صلاته قاعدا قرأ جميع قراءته وهو قاعد ثم ركع وهو قاعد إتباعا لفعل النبي صلى الله عليه وسلم

جناب ابن سیرین ، عبداللہ بن شفیق کے واسطے سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ (نفل نماز) کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پڑھا کرتے تھے۔ تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز کی ابتدا کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے ، نماز کی ابتدا بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ، امام ابو بکر فرماتے ہیں : یہ روایت گذشتہ تمام روایات کو کھول کر بیان کرتی ہے، چنانچہ اس روایت کے مطابق جب نماز ی ، نماز کی ابتدا کھڑے ہو کر کرے ، پھر بیٹھ جائے اور قرات کرے تو اس کے لیے مناسب لائق بات یہ ہے کہ وہ کھڑے ہو کر کچھ قرات کرے اور پھر کھڑے کھڑے رکوع کر لے ۔ اور جب وہ اپنی نماز کی ابتدا بیٹھ کر کرے اور ساری قرات بیٹھ کر کرے تو پھر اسے رکوع بھی بیٹھ کر نا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کے فعل کی اتباع اور پیروی کرتے ہوئے۔

عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down · Hadith 1248

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا · حديث 1249

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: نَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُكْتِبِ؛ وَثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُسَيْنٍ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةُ النَّائِمِ عَلَى نِصْفِ صَلَاةِ الْقَاعِدِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ أَعْلَمْتُ قَبْلُ أَنَّ الْعَرَبَ تُوقِعُ اسْمَ النَّائِمِ عَلَى الْمُضْطَجِعِ، وَعَلَى النَّائِمِ الزَّائِلِ الْعَقْلِ بِالنَّوْمِ، وَإِنَّمَا أَرَادَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ: وَصَلَاةُ النَّائِمِ: الْمُضْطَجِعَ لَا زَائِلَ الْعَقْلِ بِالنَّوْمِ، إِذْ زَائِلُ الْعَقْلِ بِالنَّوْمِ لَا يَعْقِلُ الصَّلَاةَ فِي وَقْتِ زَوَالِ الْعَقْلِ.

حضرت عمران بن حصین ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ، لیٹ کر نماز پڑھنے والے کا اجر و ثواب بیٹھ کر نماز پڑھنے والے سے آدھا ہے ۔ امام ابو بکر ؒفرماتے ہیں کہ : میں یہ بات بیان کر چکا ہوں کہ عرب ٹائم (سونے والا) کا اطلاق لیٹنے والے شخص پر بھی کرتے ہیں اور اس سونے والے پر بھی کرتے ہیں جس کی عقل و شعور نیند کی وجہ سے زائل ہو چکی ہو۔ بے شک مصطفیٰ ﷺ کہ اس فرمان : سونے والی کی نماز ، مراد لیٹنے والا ہے نہ کہ جس کی عقل و شعور نیند کی وجہ سے ختم ہو چکی ہو ۔ کیونکہ نیند کی وجہ سے جس شخص کی عقل ختم ہو چکی ہو وہ اس حالت میں نماز کو نہیں سمجھتا (تو پھر اسے ادا کیسے کرے گا)۔

"صَلَاةُ النَّائِمِ عَلَى نِصْفِ صَلَاةِ الْقَاعِدِ". ← النَّبِيِّ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← حُسَيْنٌ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← حُسَيْنٍ الْمُکْتِبِ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down · Hadith 1249

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا · حديث 1250

نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، نَا ابْنُ الْمُبَارَكِ؛ ح وَثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، جَمِيعًا عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ بِي الْبَاصُورُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ: "صَلِّ قَائِمًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَجَالِسًا، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ". وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بواسیر تھی تو مین نے نبی اکرم ﷺ سے نماز کی کیفیت کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : کھڑے ہو کر نماز پڑھو ، اگر تمہیں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھ لو،اگر تمہیں اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو پہلو کے بل (لیٹ کر پڑھ لو) امام ابن مبارک ؒ کی روایت میں ، با صور، کی بجائے ،بواسیر، کے لفظ آئے ہیں (معنی دونوں کے ایک ہیں ۔)۔

الصَّلَاةِ ← كَانَ بِي الْبَاصُورُ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← وَكِيعٌ، جَمِيعًا ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down · Hadith 1250

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1251

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ الضُّحَى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ قَدْ خَرَّجْتُهُ قَبْلُ.

امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں ،سیدہ ام ہانی کی یہ حدیث میں اس سے پہلے بیان کر چکا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ والے دن چاشت کی آٹھ رکعات ادا کی تھیں۔

أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أُمِّ هَانِئٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1251

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1252

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَعْرَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِيَأْخُذْ كُلُّ إِنْسَانٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ" فَفَعَلْنَا (1)، فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ. قَدْ خَرَّجْتُ هَذِهِ الْقِصَّةَ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ فِي نَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ (ایک سفر میں ) ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات کے آخری پہر آرام کے لیے پڑائو ڈالا تو ہم بیدار نہ ہو سکے حتی کہ سورج طلوع ہو گیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہر شخص اپنی سواری کے سر کو پکڑ لے( اور یہاں سے چل پڑے) کیو نکہ اس جگہ شیطان ہمارے پاس آگیا ہے اور اس نے ہمیں (نماز سے) غافل کر دیا ہے (چنانچہ کچھ آگے جا کر) آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا۔(فجر کی) دو سنتیں ادا کیں، پھر اقامت کہی گئی تو آپ نے صبح کی نماز پڑھائی۔ میں یہ واقعہ اس جگہ کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی بیان کر چکا ہوں ، جس میں نبی کریم ﷺ کی صبح کی نماز سے سوئے رہ جانے کا تذکرہ ہے حتی کہ سورج طلوع ہو گیا تھا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1252

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1253

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا أَبِي وَشُعَيْبٌ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْرُكُ رَكْعَتَيْنِ حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ.

حضرت براہ بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ اٹھارہ سفر کیے ہیں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (ان سفروں میں ) سورج کے زوال کے وقت دو رکعات چھوڑتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ، جناب یونس بن عبداللہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں نے آپ کو ظہر سے پہلے دو رکعات چھوڑتے کبھی نہیں دیکھا۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ ← أبي بسرة الغفاري ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1253

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1254

وقد روى الكوفيون أعجوبة عن ابن عمر إني خائف أن لا تجوز روايتها إلا تبين علتها لا إنها أعجوبة في المتن إلا أنها أعجوبة في الإسناد في هذه القصة رووا عن نافع و عطية بن سعد العوفي عن ابن عمر قال : صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم في الحضر والسفر فصليت معه في الحضر الظهر أربع ركعات وبعدها ركعتين والعصر أربع ركعات ليس بعدها شيء والمغرب ثلاثا وبعدها ركعتين والعشاء أربعا وبعدها ركعتين والغداة ركعتين وقبلها ركعتين وصليت معه في السفر الظهر ركعتين وبعدها ركعتين والعصر ركعتين وليس بعدها شيء والمغرب ثلاثا وبعدها ركعتين وقال هي وتر النهار لا ينقص في حضر ولا سفر والعشاء ركعتين وبعدها ركعتين والغداة ركعتين وقبلها ركعتين ناه أبو الخطاب نا مالك بن سعير نا ابن أبي ليلى عن نافع و عطية بن سعد العوفي عن ابن عمر وروى هذا الخبر جماعة من الكوفيين عن عطية عن ابن عمر منهم أشعت بن سوار و فراس و حجاج بن أرطاة منهم من اختصر الحديث ومنهم من ذكره بطوله وهذا الخبر لا يخفى على عالم بالحديث أن هذا غلط وسهو عن ابن عمر قد كان ابن عمر رحمه الله ينكر التطوع في السفر ويقول لو كنت متطوعا ما باليت أن أتم الصلاة وقال : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي قبلها ولا بعدها في السفر

امام صاحب فرماتے ہیں : کوفیوں نے حضرت ابن عمر سے ایک عجوبہ (حیرت انگیز ،طرفہ تماشا) بیان کیا ہے مجھے ڈر ہے کہ اسے بیان کرنا جائز نہیں ہو گا الا یہ کہ اس کی علت بیان کی جائے یہ عجوبہ متن میں نہیں ہے بلکہ اس قصے کی سند میں ہے ۔ کوفیوں نے حضرت نافع اور عطیہ بن سعد العوفی کے واسطے سے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضر اور سفر میں نمازیں پڑھی ہیں ۔ تو میں نے آپ کے ساتھ حضر میں میں نماز ظہر چار رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں ۔ عصر کی چار رکعات ادا کیں اس کے بعد کچھ نہیں پڑھا اور مغرب کی تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں اور عشا کی چار رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں ۔ اور نماز فجر دو رکعات اور اس پہلے بھی دو رکعات ادا کیں اور میں نے سفر میں آپ کے ساتھ نماز ظہر دو رکعات اور اس کے بعد بھی دو رکعات پڑھیں ۔ نماز عصر دو رکعات ادا کیں اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھی۔ مغرب کی نماز تین رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا کیں ، اور آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دن کے وتر ہیں۔ یہ حضر اور سفر میں کم نہیں ہوتی۔ اور نماز عشا دو رکعات اور اس کے بعد بھی دو رکعات ادا کیں ، صبح کی نماز دو رکعات اور اس سے پہلے بھی دو رکعات (سنتیں ) ادا کیں ۔ امام صاحب فرماتے ہیں : ہمیں یہ روایت ابو الخطاب نے مالک بن سعید کے واسطے سے ابن ابی لیلیٰ سے بیان کی ہے اور وہ نافع اور عطیہ بن سعد عوفی کے واسطے سے حضرت ابن عمر ؓ سے بیان کرتے ہیں ۔ یہ روایت اہل کوفہ کی ایک جماعت نے عطیہ کے واسطے سے حضرت ابن عمر سے بیان کی ہے۔ ان میں اشعت بن سوار ، فراس اور حجاج بن ارطاۃ شامل ہیں ۔ ان میں سے کچھ راوی اسے مختصر اور کچھ تفصیل کے ساتھ مکمل حدیث بیان کرتے ہیں ۔ یہ حدیث کسی محدث پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ کہ یہ حضرت ابن عمر ؓ کی طرف غلط طور پر منسوب کی گئ ہے ۔ کیو نکہ حضرت ابن عمرؓ اللہ ان پر رحم کرے، تو سفر میں نفل نماز پڑھنے سے انکار کرتے تھے ، اور فرماتے تھے: اگر میں نے نفل ہی پڑھنے ہوتے تو پھر مجھے فرض نماز ہی مکمل اور پوری پڑھ لینی چاہیے تھی ۔ نیز انہوں نے فرمایا : میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ سفر میں فرض نماز سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔

ابن عمر إني خائف ← وقد روى الكوفيون أعجوبة

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1254

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1255

حدثنا بندار نا يحيى نا بن أبي ذئب حدثني عثمان بن عبد الله بن سراقة قال سمعت بن عمر يقول : رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصلي قبلها ولا بعدها في السفر

جناب عبداللہ بن سراقہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو فرماتے سنا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو سفر میں دیکھا ہے کہ آپ فرض نماز سے پہلے اور اس کے بعد (نفل) نماز نہیں پڑھتے تھے۔

رأيت رسول الله لا يصلي قبلها ولا بعدها في السفر ← بن عُمَرَ ← عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The gates of the gates of voluntary prayers in travel · Hadith 1255

chevron_left Previous
1…192021…60
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals