صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 972
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ. قَالَ مَالِكٌ: أَرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مَطَرٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ كُلُّهُمْ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ فِي غَيْرِ الْمَطَرِ غَيْرُ جَائِزٍ (1)، فَعَلِمْنَا وَاسْتَيْقَنَّا أَنَّ الْعُلَمَاءَ لَا يُجْمِعُونَ أَنَّهُ جَمَعَ فِي الْحَضَرِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، لَمْ يَحِلَّ لِمُسْلِمٍ عَلِمَ صِحَّةَ هَذَا الْخَبَرِ أَنْ يَحْظُرَ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْحَضَرِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، فَمَنْ يَنْقِلُ (1) فِي رَفْعِ هَذَا الْخَبَرِ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ وَلَا مَطَرٍ، ثُمَّ يَزْعُمُ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ عَلَى مَا جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا غَيْرُ جَائِزٍ، فَهَذَا جَهْلٌ وَإِغْفَالٌ، غَيْرُ جَائِزٍ لِعَالِمٍ أَنْ يَقُولَهُ.
" حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز ظہر اور عصر کو جمع کر کے پرھا، اور مغرب اور عشاء کو جمع کر کے ادا کیا ، بغیر کسی خوف اور سفر کے۔" امام مالک رحمۃ اللہ رلیہ فرماتے ہیں : " میرے خیال میں آپ نے اس طرح ( نمازوں کو جمع کرنا ) بارش کی حالت میں کیا تھا ۔" امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قصر میں بغیر بارش کے دو نمازوں کو جمع کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا ہمیں معلوم ہے اور یقین ہے کہ علمائے کرام نبی اکرم ﷺ سے صحیح سند سے منقول حدیث کے خلاف نیز اس کی معارض بھی کوئی روایت نہ ہو ، اکٹھے نہیں ہو سکتے اور علمائے حجاز کا اس پر اتفاق ہے کہ بارش میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے ۔ لہٰذا ہم نے نبی اکرم ﷺ کے حضرن میں دو نمازوں کو جمع کرنے کی تاویل اس معنی میں کی ہے جس میں مسلمانوں کا اتفاق نہیں ہے۔ کیونکہ نا ممکن ہے کہ مسلمانوں کا اتفاق نبی کریم ﷺ کی حدیث کے خلاف ہو جائے حالنکہ اس حدیث کے خلاف نبی اکرم ﷺ کی کوئی حدیث بھی مروی نہ ہو ۔ اور وہ روایت جو اہل عراق نے بیان کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں بغیر ٖخوف اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کیا ہے تو وہ غلط اور سہو ہے اور تمام مسلمانوں کے قول کے مخالف ہے اور اگر نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث ثابت ہو جائے کہ آپ نے حضر میں بغیر کسی خوف اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کیا ہے تو جو مسلمان اس حدیث کی صحت کے بارے میں جان لے، اس لیے حلا و جائز نہیں کہ وہ حضر میں بغیر کسی خوف اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کرنا ممنوع قرار دے۔ لہٰذا جو شخص یہ مرفوع حدیث بیان کرے کہ نبی اکرم ﷺ نے بغیر کسی خوف ، سفر اور بارش کے دو نمازوں کو جمع کیا ہے پھر وہ یہ دعوی کرے کہ نبی کریم ﷺ کے دو نمازوں کو جمع کرنے کے طریقی کے مطابق دو نمازیں جمع کرنا جائز نہیں ہے تو یہ جہالت اور غفلت ہے، کسی عالم کو زیب نہیں دیتا کہ ایسی بات کہے۔"
ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي الزبير المكي ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 972
