صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 945
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ- أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ؛ ح وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ؛ ح وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ أَنَّ يَحْيَى حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بِابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ: عَجِبْتُ لِلنَّاسِ وَقَصْرِهِمْ لِلصَّلَاةِ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: (فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ (1) أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا) [النساء: 101] وَقَدْ ذَهَبَ هَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "هُوَ صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ". هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ.
حضرت یعلیٰ بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے کہا : مجھے لوگوں کے نماز قصر کرنے پر تعجب ہوتا ہے حالنکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے " فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَا ح اَنْ تَقْصُرُوْ مِنَ الصَلاَ ۃِ اِنْ خِفْتُمْ اَن یَفْتِنَکُمُ الَذِیْنَ کَفَرُوْا)(النساء:101) "اور اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈال دیں گے تو تم پر نماقز قصر کرنے میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے " اور اب تو یہ خوف ختم ہوچکا ہے ۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : مجھے بھی اس بات پر تعجب ہوا تھا جس پر تمہیں ہوا ہے ، اس لیے میں نے اس بات کا تذکرہ رسو ل اللہ ﷺ کے سامنے کیا تھا تو آپ نے فرمایا : " یہ ایک صدقہ ہے جسے اللہ تعالیی نے تم پر بطور رحمت کیا ہے تو تم اس کا صدقہ قبول کرو ( اورچ اس رخصت سے فائدہ اٹھاو)۔ "
قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَجِبْتُ لِلنَّاسِ وَقَصْرِهِمْ لِلصَّلَاةِ، وَقَدْ ← يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← وَقَرَأْتُهُ عَلَى بُنْدَارٍ أَنَّ يَحْيَى ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← ابْنِ أَبِی عَمَّارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عبد الله يعني ابن إدريس ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of obligatory travel · Hadith 945
