Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 614

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى الزُّرَقِيَّ حَدَّثَهُ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ؛ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نَا مَالِكٌ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ يَحْيَى الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ". فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ. فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنِ الَّذِي تَكَلَّمَ آنِفًا". قَالَ رَجُلٌ: أَنَا. فَقَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا".

"حضرت رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک دن ہم رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ۔ پھر جب آپ نے رکوع سے اپنا سر اٹھایا تو کہا: سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ۔تو آپ کے پیچھے کھڑے ایک شخص نے یہ دعا پڑھی:رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکاًا فِیْہِ۔"اے ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریف ہے، بہت زیادہ ، پاکیز ہ اور بابرکت تعریفیں ( تیرے لیے ہیں) پھر جب رسول اللہﷺ نے نماز سے سلام پھیرا تو پوچھا : ابھی ابھی کس شخص نے گفتگو کی ہے ؟ اس شخص نے عرض کی : میں نے کی ہے۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو جلدی کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ کون ان کلمات کو پہلے لکھے۔"

نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 614

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 615

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ قَالَ: مَا حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ إِلَّا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ رَكْعَةٍ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ". زَادَ أَحْمَدُ: "مِنَ الْمُسْلِمِينَ". وَقَالُوا: "اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَقَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ، كِتَابِ "الْكَبِيرُ".

"حضرت ابو ہریرہؓ بیا ن کرتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺ نے آخری ( رکعت کے ) رکوع سے سر اٹھایا تو یہ دعا مانگی : اے اللہ ابو لید بن الولید ، سلمہ بن ہشام ، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ ( میں موجود) بے بس وکمزوروں کو نجات عطا فرما۔"جناب احمد نے اپنی روایت میں یہ اضافہ بیان کیا ہے : "مسلمان میں سے ( کمزور مضر کے لوگوں پر اپنا سخت عذاب نازل فرما اور ان پر حضرت یوسف ؑ( کے عہد ) کی قحط سالی کی طرح قحط سالی مسلط کر دے۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے یہ پورا باب کتاب الکبیر کی کتاب الصلاۃ میں بیان کیا ہے ۔"

سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 615

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 616

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ.

"حضر ت ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب ؓ کو سنا کہ رسو ل اللہﷺ مغرب اور صبح کی نماز میں قنوت کیا کرتے تھے۔"

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 616

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 617

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [79 - أ]: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، قَنَتَ، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ".

"حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جب عشاء کی نماز پڑھتے تو رکوع سے سر اٹھاتے اور سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ"کہتے ، پھر قنوت کرتے، آپ یہ دعا مانگتے : "اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات نصیب فرما۔ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو آزادی نصیب فرما، اے اللہ! ولید بن الولید کو رہائی عطا فرما، اے اللہ! اہل مکہ میں سے کمزور مومنوں کو نجات عطا فرما۔ اے اللہ! مضر پر اپنی پکڑ سخت کر دے ، اے اللہ! ان پر حضرت یوسف ؑ کے زمانے کی قحط سالی جیسی قحط سالی مسلط کر دے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ أ]: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 617

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 618

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، أَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، أَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَلُ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا فِي الظُّهْرِ، وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ، وَالْعِشَاءِ، وَالصُّبْحِ، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، إِذَا قَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ، يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ، عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ، وَيُؤَمِّنُ مَنْ خَلْفَهُ، قَالَ: أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، فَقَتَلُوهُمْ. قَالَ عِكْرِمَةُ: هَذَا مِفْتَاحٌ لِلْقُنُوتِ.

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ایک ماہ تک مسلسل ظہر ، مغرب ، عشاء اور صبح میں ہر نماز کے بعد ، آخری رکعت میں جب آپ سمع اللہ لمن حمدہکہتے تو قنوت کرتے آپ بنی سلیم کے ایک قبیلے رعل ، ذکوان اور عصیہ پر بد دعا کرتے تھے اور آپ کے پیچھے مقتدی صحابہ آمین کہتے تھے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ آپ نے ان کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لیے ( کچھ قراء کرام ) بھیجے تھے تو انہوں نے انہیں قتل کر دیا ۔ عکرمہ کہتے ہیں : یہ حدیث دعائے قنوت ( کی مشروعیت کی ) کنجی ہے ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← ثَابِتُ بْنُ يَزِيَدَ أَبُو زَيْدٍ الْأَحْوَلٌ، ← أَبُو النُّعْمَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 618

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 619

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، [عَنْ] (1) أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَقْنُتُ إِلَّا أَنْ يَدْعُوَ لِأَحَدٍ، أَوْ يَدْعُوَ عَلَى أَحَدٍ، وَكَانَ إِذَا قَالَ: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، قَالَ: "رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، اللَّهُمَّ أَنْجِ ... " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ صرف اسی قنوت نازلہ کرتے تھے جب کسی کےلیے دعا کرنا ہوتی یا کسی کی بد دعا دینی ہوتی ۔ آپ جب سمع اللہ لمن حمدہ"کہتے توربنا ولک الحمدکہنے کے بعد دعا منگتے: اے اللہ(فلاں کو) نجات دے دے ۔ "پھر پوری حدیث بیان کی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 619

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 620

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنِ مَرْزُوقٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَقْنُتُ إِلَّا إِذَا دَعَا لِقَوْمٍ أَوْ دَعَا عَلَى قَوْمٍ.

"حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ ( مسلسل وہمیشہ) قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے مگر جب کسی قوم کے حق میں دعائے خیر کرنا ہوتی یا کسی قوم کو بد دعا دینی ہوتی ( تو قنوت کرتے تھے)"

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنِ مَرْزُوقٍ الْبَاهِلِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 620

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 621

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ فِي صَلَاةٍ شَهْرًا، يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ: "اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينِ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ". قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَدْعُ لَهُمْ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "أَوَ مَا تَرَاهُمْ قَدْ قَدِمُوا"؟

"حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک ماہ تک نماز میں قنوت نازلہ پڑھی آپ اپنی دعا میں یہ فرماتے : اے اللہ! ولید بن الولید کو نجات عطا فرما ، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو رہائی نصیب فرما، اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو آزادی دے دے ، اے اللہ کمزور مومنوں کو نجات عطا فرما دے ، اے اللہ: مضر پر اپنا سخت عذاب نازل فرما، اے اللہ! ان پر حضرت یوسفؑ کے زمانے کے قحط کی طرح کا قحط مسلط کردے۔ "حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں: ایک روز صبح کے وقت آپ نے ان کےلیے دعا نہ کی تو میں نے آپ کو یاد دلایا ، آپ نے فرمایا: کیا تم نے انہیں دیکھا نہیں کہ وہ ( آزادی پانے کے بعد) آچکے ہیں( لہٰذا اب قنوت کی ضرورت باقی نہیں رہی) "

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← يَحْيَى ← أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 621

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 622

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: "رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ، ثُمَّ قَالَ: "اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا"، دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ [79 - ب] شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ) [آل عمران: 128].

"حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو فجر کی نماز میں سنا کہ آپ نے آخری رکعت میں جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھایا تو ربنا ولک الحمد پڑھا، پھر یہ دعا مانگی : اے اللہ! فلاں فلاں شخص پر لعنت فرما، آپ نے کچھ منافقین کو بددعا دی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:(لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْ ءٌ أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ أَوْ یُعَذِّیَھُمْ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ)(۱۲۸:۳)"اے نبی) آپ کا اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے ، چاہے تو انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں ۔"

ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 622

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 623

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عَلَى أَرْبَعَةِ نَفَرٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ) [آل عمران: 128] قَالَ: فَهَدَاهُمُ اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ أَيْضًا. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: الَّتِي نَزَلَتْ فِي غَيْرِهِمْ مِمَّنْ هُوَ ضِدُّهُمْ، إِذْ مَنْ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يُنَجِّيَهُمْ، مُؤْمِنُونَ مَظْلُومُونَ، وَمَنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ بِاللَّعْنِ، كُفَّارٌ وَمُنَافِقُونَ ظَالِمُونَ، فَأَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْ يَتْرُكَ لَعْنَ مَنْ كَانَ يَلْعَنُهُمْ، وَأَعْلَمَ أَنَّهُمْ ظَالِمُونَ، وَأَنْ لَيْسَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِهِمْ شَيْءٌ، وَأَنَّ اللَّهَ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُمْ، أَوْ تَابَ عَلَيْهِمْ، فَتَفَهَّمُوا مَا بَيَّنْتُهُ تَسْتَيْقِنُوا بِتَوْفِيقِ خَالِقِكُمْ غَلَطَ مَنِ احْتَجَّ بِهَذِهِ الْأَخْبَارِ أَنَّ الْقُنُوتَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَنْسُوخٌ بِهَذِهِ الْآيَةِ.

"حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ چار افراد پر بد دعا کیا کرتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی(لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْ ءٌ أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ أَوْ یُعَذِبَھُمْ فَإِنَّھْمْ ظَالِمُوْنَ)(128:3)"اے نبی آپ کا اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے چاہے تو انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔"فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی ہدایت نصیب فرما دی۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث بھی غتریب ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ عرب کے کچھ قبائل کو بد دعا دیا کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : (لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْ ءٌ أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ أَوْ یُعَذِبَھُمْ فَإِنَّھْمْ ظَالِمُوْنَ)(128:3)"اے نبی آپ کا اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے چاہے تو انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔"فرماتے ہیں :ان احادیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت کے ساتھ ( کفار پر ) لعنت کرنا منسوخ ہوگیا ، لیکن وہ دعا منسوخ نہیں ہوئی جسے نبی کریمﷺ اہل مکہ کے پاس قید مسلمانوں کی آزادی کےلیے کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان ( کمزور مسلمانوں ) کو ان سے نجا ت عطا فرما دے ۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ یہ آیت (أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ أَوْ یُعَذِّبِھُمْ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ) ان مومنوں کے بارے میں نازل ہوئی ہو ،جو کفار کے پاس ان کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے ۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت(أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ أَوْ یُعَذِّبَھُم ْفَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ) ان کافروں اور منافقوں کے متعلق نازل فرمائی ہے جن پر نبی کریمﷺ بد دعا کرتے ہوئے لعنت کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتا دیا کہ جن لوگوں کو نبی کریمﷺ اپنی دعائے قنوت میں لعنت کرتے ہیں ان کے معاملے میں نبی کریمﷺ کو کچھ اختیار نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دے دی کہ اگر اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر کے انہیں اسلام کی ہدایت نصیب فرما دے یا انہیں ان کے کفر ونفاق کی وجہ سے عذاب سے دو چار کردے تو وہ اپنے کفر اور نفاق کی حالت میں ظالم ہیں۔ اس سے مراد وہ مومن لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق نبی کریمﷺ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ انہیں کفار کے ظلم و ستم سے آزادی نصیب فرما دے ۔ اس لیے ولید بن الولید ، سلم بن ہشام ، عیاچ بن ابی ربیعہ اور اہل مکہ میں سے کمزور مسلمان ان دشمن کفا رکے قبضہ سے ان کی نجات کےلیے نبی کریمﷺ نے کفار مکہ کی قید سے ان کی رہائی تک ان کی آزادی کی دعا ترک نہیں کی، آپ نے ان کے حق میں دعا اس آیت کے نزول کی وجہ سے ترک نہیں کی جو کفار اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ۔ جو ظالم تھے، مظلوم نہیں تھے۔ کی آپ نے یحییٰ بن ابی کثیر کی حضرت ابوسلمہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث نہیں سنی کہ ایک دن نبی کریمﷺ نے صبح کی نماز میں ان کےلیے دعا نہ کی تو میں نے آپ کو یاد دلایا تو آپ نے فرمایا: کیا تم انہیں دیکھ نہیں رہے کہ وہ( آزادی پانے کے بعد مدینہ منورہ ) آچکے ہیں؟"اے نبی ! آپ کا اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے چاہے تو انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ ،فرماتے ہیں: تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی ہدایت نصیب فرما دی ۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: یہ حدیث بھی غریب ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ عرب کے کچھ قبائل کو بد دعا دیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی : (لَیْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْ ءٌ أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ أَوْ یُعَذِبَھُمْ فَإِنَّھْمْ ظَالِمُوْنَ)(128:3)"(اے نبی )آپ کا اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے چاہے تو انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔"فرماتے ہیں :پھر ( اللہ تعالیٰ نے ) انہیں اسلام کی ہدایت عطا فرما دی ۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ان احادیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیت کے ساتھ لہٰذا جو میں نے بیان کیا اسے خوب سمجھ لو ، اور اپنے خالق ومالک کو توفیق سے یقین کر لو کہ جس شخص نے ان احادیث سے یہ استدال کیا ہے کہ صبح کی نماز میں قنوت کرنا اس آیت کے ساتھ منسوخ ہوچکا ہے ، اس کا استدلال غلط ہے ۔"

عَبْدُ اللَّهِ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 623

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 624

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سجدے کےلیے جھکتے وقت اللہ اکبر کہا کرتے تھے۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا. ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 624

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 625

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ -وَهَذَا لَفْظُ بُنْدَارٍ- قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: [80 - أ] سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمُ [بِـ] صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ: ثُمَّ يَقُولُ: "اللَّهُ أَكْبَرُ"، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ، وَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ مُجَافِيًا يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، زَادَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: ثُمَّ يَسْجُدُ. وَقَالُوا جَمِيعًا، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي.

"جناب عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو حمید الساعدی ؓ کو دس صحابہ کرام کی موجودگی میں ، جن میں حضرت ابو قتادہ ؓ بھی شامل ہیں، سنا ۔ حضرت ابو حمید ؓ نے فرمایا: میں رسول اللہﷺ کی نماز کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔ بے شک رسول اللہ ﷺ جب نماز کےلیے کھڑے ہوتے ۔" پھر حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا۔ اور کہا:"پھر آپ اللہ اکبر کہتے ، پھر آپ زمین کی طرف جھکتے اور اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے الگ رکھتے ۔"جناب محمد بن یحییٰ نے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ) فرمایا: آپ اپنے دونوں بازو اپنے دونوں پہلوؤں سے دو ررکھتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے ۔"محمد بن یحییٰ نے یہ اضافہ کیا: "پھر آپ سجدہ کرتے ۔"تمام صحابہ کرام نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ، نبی کریمﷺ اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔"

أَعْلَمُكُمُ [بِـ] صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو حُمَيْدٍ: ← أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، ← أ]: ← عَطَاءٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بُنْدَارٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ -وَهَذَا لَفْظُ بُنْدَارٍ- ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 625

chevron_left Previous
1…789…41
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals