صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 590
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَعْلَمُ غَيْرَ هَذَا. قَالَ: فَقَالَ: "إِذَا قُمْتَ (1) إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا". قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ: عَنْ سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَارُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، غَيْرُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِنَّمَا قَالُوا: عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
"حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی ، (پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ) آپ کو سلام کیا ، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: واپس جا کر نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔"حتی کہ اس نے تین بار اسی طرح نماز پڑھی ( اور آپ نے اسے واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا ) بالآخر اس شخص نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے ! میں اس کے علاوہ ( نماز کا طریقہ ) نہیں جانتا ۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں : آپ نے ( اسے نماز کا طریقہ سکھاتے ہوئے ) فرمایا: جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو، پھر قرآن مجید سے تمہیں جو یاد ہو۔ اس کی تلاوت کرو، پھر رکوع کرو تو پورے اطمینان کے ساتھ رکوع کرو ، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ تو بالکل سیدھے کھڑے ہوجائے ، پھر سجدہ کرو تو مکمل اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو، پھر ( سجدے سے سر اٹھاؤ تو ) بالکل سیدھے بیٹھ جاؤ ، اپنی پوری نماز میں اسی طرح ( مکمل اطمینان اور سکون اختیار) کرو۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ، میں نے یحییٰ بن خلاد کی رفاعہ بن رافع سے روایات کو کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: اس حدیث کے روایت کرنے والے راویوں میں س یحییٰ بن سعید کے سوا کسی راوی نے اسے عبید اللہ بن عمر عن سعید عن ابیہ سے بیان نہیں کیا بلکہ وہ سے اسے حضرت سعید کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہؓ سے بیان کرتے ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← بُنْدَارٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 590
