صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 543
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ؛ ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ، مَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا -فَسَأَلَ، وَلَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَتَعَوَّذَ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى.
"حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے قراءت شروع کی تو سو آیات کی تلاوت فرمائی ، میں نے ( دل میں ) کہا: آپ رکوع کریں گے ۔ پھر آپ نے قراءت جاری رکھی اور دو سو آیات تک قراءت کی ، میں نے ( دلی میں) کہا: ( اب) آپ رکوع کریں گے ( لیکن ) آپ نے پھر قراءت کی حتی کہ سورت ختم کردی ، میں نے کہا: آپ اب رکوع کریں گے ( مگر) آپ نے پھر سورۂ نساء شروع کر دی ، آپ نے (مکمل سورت) تلاوت کرنے کے بعد رکوع کیا تو آپ کا میرے خیال میں رکوع بھی آپ کے قیام کی طرح ( طویل ) تھا۔ آپ نے اپنے رکوع میں یہ کلمات پڑھے"سبحان ربی العظیم" پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ بھی آپ کے رکوع کی طرح طویل تھا۔ آپ نے اپنے سجدوں میں یہ تسبیح پڑھی:"سبحان ربی الاعلیٰ"آپ جب کسی آیت رحمت کی تلاوت فرماتے تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرتے ، اور جب کسی عذاب والی آیت کی قراءت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے عذاب سے پناہ مانگتے اور جب کسی ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ وتقدیس ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ۔ یہ مومل کی روایت ہے ۔"
حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو مُوسَى، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 543
