Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 532

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه أحمد بن منيع نا يعقوب بن إبراهيم نا سليمان التيمي عن أنس : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بهذا : و هذا خطأ فاحش و الخبر إنما هو عن سليمان عن أبي المنهال سيار بن سلامة عن أبي برزة كذا رواه هؤلاء الحفاظ الذين الحديث صناعتهم

"حضرت جابر بن سمرۃ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ تمہاری نمازوں جیسی نماز پڑھایا کرتے تھے لیکن آپ مختصر اور ہلکی نماز پڑھاتے تھے آپ نماز فجر میں سورۃ واقعہ اور اسی جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اس حدیث کو فن حدیث سے ناواقف شخص نے روایت کیا تو اس سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے ، اس نے اس روایت کو سلیمان تیمی کی سند سے حضرت انس بن مالک سے مرفوعاً بیان کیا ہے ( حالانکہ یہ روایت حضرت ابوبرزہ اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے مروی ہے ۔)"

أَبِي بَرْزَةَ كَذَا رَوَاهُ هَؤُلاَءِ الْحُفَّاظُ الَّذِينَ الْحَدِيثُ صِنَاعَتُهُمْ(1/265) ← أَبِي الْمِنْهَالِ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، ← سُلَیْمَانَ ← أَنَسٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 532

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 533

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ غَيْر مَرَّة، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ (1)، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ (الم تَنْزِيلُ)، وَ (هَلْ أَتَى). أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُخَوَّلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ؛ ح وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، نَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُخَوَّلٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ الْبَطِينَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ (الم تَنْزِيلُ)، وَ (هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ)، وَفِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، وَالْمُنَافِقُونَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ. قَالَ: حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ (الم (1) تَنْزِيلُ) السجدة، وَ (هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ).

" حضر ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ جمعۃ المبارک کےدن نماز فجر میں سورہ ( الَم تَنْزِیْلُ) اور سورہ (ھَلْ أَتٰی عَلَی الْإِنْسَانِ) پڑھا کرتے تھے۔"امام صاحب نے اپنے دو اساتذہ کرام جناب بندار اور صغائی کی سند سے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت بیان کرتےہیں کہ: " رسول اللہﷺ جمعۃ المبارک کے دن صبح کی نماز میں سورہ الم تنزیل اور سورہ (ھل اتی اعلی الانسان ) پڑھا کرتے تھے ۔ امام صاحب اپنے استاد جناب الفضل بن یعقوب کی سند سے حضرت ابن عباسؓ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ : نبی اکرمﷺ جمعہ والے دن کی صبح کی نماز میں سورہ(الَم تَنْزِیْلُ) اور(ھَلْ أَتٰی عَلَی الْإِنْسَانِ) پڑھا کرتے تھے ( یعنی سورہ سجدہ اور سورہ دھر)"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← مُخَوَّلٌ، ← شُعْبَةُ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← وَحَدَّثَنَا الصَّنْعَانِيُّ، ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← مُخَوَّلٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← كَانَ النَّبِيُّ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ (الم تَنْزِيلُ)، وَ (هَلْ أَتَى). ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ غَيْر مَرَّة، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 533

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 534

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو عَمَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَا:

"حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ ( کی سواری کی نکیل تھامے آپ کی سواری ) کو ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں چلا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: اے پیارے عقبہ ! تم سوار نہیں ہوگے؟ تو میں نے رسول اللہﷺ کی سواری پر سوار ہونا بڑی بے ادبی خیال کی۔ آپ نے پھر فرمایا: پیارے عقبہ! تم سوار نہیں ہوگے؟ لہٰذا میں ڈر گیا کہ کہیں آپ کی نافرمانی نہ ہوجائے ۔ تو رسول اللہﷺ سواری سے اتر گئے اور میں کچھ دیر کےلیے اس پر سوار ہوگیا ۔ پھر میں اتر گیا اور رسو ل اللہﷺ سوار ہوگئے ( کچھ دیر کے بعد) پھر آپ نے فرمایا: پیارے عقبہ ! کیا میں تمہیں ایسی دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں جنہیں لوگوں نے پڑھا ہے ۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! ضرور سکھا دیں تو آپ نے مجھے ( یہ دو سورتیں ) پڑھائیں :(قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ) اور (قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ)پھر نماز کھڑی کی گئی ، آپ نے نماز پڑھائی اور یہی دو سورتیں پڑھیں ۔ پھر آپ میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: پیارے عقبہ ! تم نے ( ان دو سورتوں کے مقام و مرتبہ کو ) کیسے پایا؟ ان دونوں سورتوں کے سوتے وقت اور اٹھتے وقت پڑھا کرو۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں کہ: حدیث کے یہ الفاظ جب بھی تو سونے لگے یا بیدار ہونے لگے ۔"یہ اسی جنس سے ہے جسے میں نے بیان کیا کہ عرب نائمکاالفاظ لیتنے والے پر بھی بولتے ہیں اور اس شخص پر بھی بولتے ہیں جس کی عقل سونے کی حالت میں زائل ہوچکی ہوتی ہے ۔ نبی اکرمﷺ کے فرمان" ان دونوں سورتوں کو پڑھا کرو جب تم سو جاؤ "سے آپ کی مراد یہ ہے کہ : جب تم سونے کےلیے لیٹو کیونکہ اگر نائم سے مراد ایشا شخص لیں جس کی عقل زائل ہوچکی ہو تو ایسے شخص کو مخاطب کرنا ہی محال و ناممکن ہے کہ اسے یہ کہا جائے کہ جب تم سو جاؤ ، اور اس کی عقل زائل ہو جائے ، تو معوذ تین کو پڑھا کرو ۔ اسی طرح حضرت عمران بن حصین سے مروی حضرت بریدہ ؓ کی حدیث کا معنی ہے ( جس میں ہے ) سونے والے کی نماز کا اجروثواب بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کے اجر سے نصف ہے " اس حدیث میں بھی سونے والے " سے آپ کی مراد لیٹنے والا ہے ۔ وہ نائم مراد نہیں جس کی عقل سونے کی حالت میں زائل ہوچکی ہو۔ کیونکہ ایسا نائم( سونے والا ) جس کی عقل زائل ہو چکی ہو ، نماز کا مخاطب نہیں ہے اور عقل کے زائل ہونے کی وجہ سے اس کےلیے نماز پڑھنا ممکن بھی نہیں ہے ۔"

أَبُو عَمَّارٍ، وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 534

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 535

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عبد الله بن هاشم حدثنا عبد الرحمن - يعني ابن مهدي - ح ونا عبدة بن عبد الله الخزاعي أخبرنا زيد يعني ابن الحباب كلاهما عن معاوية - وهو ابن صالح - قال عبدة : قال حدثني العلاء بن الحارث الحضرمي وقال ابن هاشم عن العلاء بن الحارث عن القاسم مولى معاوية عن عقبة بن عامر قال : كنت أقود برسول الله صلى الله عليه وسلم راحلته في السفر فقال يا عقبة ألا أعلمك خير سورتين قرئتا ؟ قلت : بلى قال : قل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس فلما نزل صلى بهما صلاة الغداة قال : كيف رأيت يا عقبة هذا لفظ حديث عبد الرحمن ولم يقل عبده : في السفر وقال : فلم يرني أعجبت بهما فصلى بالناس الصبح فقرأ بهما ثم قال لي : يا عقبة كيف رأيت

"حضرت عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہﷺ کی سواری ( کی نکیل تھامے اسے ) چلا رہا تھا تو آپ نے فرمایا: اے عقبہ : کیا میں تمہیں پڑھی گئی دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں ؟ میں نے عرض کی : ضرور سکھا دیں ۔ آپ نے فرمایا:(قُلْ أَعُوْذُبِرَبِّ الْفَلَقِ) اور(قُلْ أَعُوْذُبِرَبِّ النَّاسِ) پھر جب آپ اترے اور پڑاؤ ڈالا تو آپ نے صبح کی نماز میں یہی دو سورتیں تلاوت کیں ۔ ( پھر آپ نے ) فرمایا: اے عقبہ ( ان سورتوں کی عظمت کے بارے میں ) کیا خیال ہے یہ عبدالرحمٰن کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ اور عبدہ راوی نے "سفر میں "کے الفاظ روایت نہیں کیے ۔ اور فرمایا: آپ نے دیکھا کہ مجھے یہ دو سورتیں زیادہ پسند نہیں آئیں ( ان کی فضیلت و عظمت میرے دل میں نہیں بیٹھی ) تو آپ نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی تو یہی دو سورتیں تلاوت فرمائیں ۔ پھر مجھے فرمایا: اے عقبہ ! کیا خیال ہے ؟( ان کی فضیلت کیسی ہے ؟)"

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← الْقَاسِمِ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← ابْنُ هَاشِمٍ ← العلاء بن الحارث الحضرمي ← عَبْدَةُ ← مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ← زيد يعني ابن الحباب كلاهما ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 535

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 536

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا موسى بن عبد الرحمن المسروقي و عبد الرحمن بن الفضل بن الموفق قالا حدثنا أبو أسامة و زيد بن أبي الزرقاء كلاهما عن سفيان عن معاوية بن صالح عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير الحضرمي عن أبيه عن عقبة بن عامر : أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في صلاة الغداة قل أعوذ برب الفلق وقل أعوذ برب الناس هذا لفظ حديث يزيد بن أبي الزرقاء وفي حديث أبي أسامة قال : سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المعوذتين أمن القرآن هما ؟ فأمنا بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الفجر قال أبو بكر : أصحابنا يقولون : الثوري أخطأ في هذا الحديث وأنا أقول : غير مستنكر لسفيان أن يروي هذا عن معاوية وعن غيره

"حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ صبح کی نماز میں ( قُلْ أَعُوْذُبَرِبِّ الْفَلَقِ) اور (قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ) پڑھا کرتے تھے۔ یہ یزید بن ابی الزرقاء کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ حضرت ابو اسامہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: کہتے ہیں : میں نے رسول اللہﷺ سے معوذ تین کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ قرآن مجید میں سے ہیں ؟ تو رسول اللہﷺ نے ان دو سورتوں کے ساتھ ہمیں نماز فجر کی امامت کرائی ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ہمارے اصحاب ( محدثین) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو روایت کرنے میں امام سفیان ثوری ؒ سے غلطی ہوئی ہے جبکہ میں کہتا ہوں کہ امام سفیان ثوری کا معاویہ اور دیگر رواۃ سے یہ حدیث بیان کرنا باعث عیب نہیں ہے ۔"

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← أبو أسامة و زيد بن أبي الزرقاء كلاهما ← موسى بن عبد الرحمن المسروقي و عبد الرحمن بن الفضل بن الموفق ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 536

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 537

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ-، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ [70 - ب] يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، قَالَ: وَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ لَهُمْ بِهَا فِي الصَّلَاةِ مِمَّا يَقْرَأُ بِهِ، افْتَتَحَ بِـ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ بِسُورَةٍ أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرُوهُ بِالْخَبَرِ. فَقَالَ: "يَا فُلَانُ! مَا يَحْمِلُكَ عَلَى لُزُومِ هَذِهِ السُّورَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ؟ ". قَالَ: إِنِّي أُحِبُّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "حُبَّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ".

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی انہیں مسجد میں نماز پڑھاتے تھے، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: وہ جب بھی نماز میں کسی سورت کی تلاوت کرتے تو قراءت کی ابتداء (قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ) سے کرتے ، حتی کہ اس سے فارغ ہو جاتے تو پھر اس کے ساتھ ایک اور سورت تلاوت کرتے ۔ وہ ہر رکعت میں اسی طرح کرتے ۔ پھر جب نبی اکرمﷺ ان کے ہاں تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو اس بات کی خبر دی ۔ آپ نے اس سے پوچھا : اے فلان ! ہر رکعت میں اسی سورت کی تلاوت کرنے پر کس چیز نے ابھارا ہے ؟ اس نے عرض کی: مجھے اس سے بڑی محبت ہے تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس سورت کی محبت تجھے جنت میں داخل کر دے گی۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْد الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 537

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 538

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، نَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: جَاءَ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُ هَذَا الْحَرْفَ: (مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ) [محمد: 15] أَوْ يَاسِنٍ؟ فَقَالَ: "أَكُلَّ الْقُرْآنِ أَحْصَيْتَ إِلَّا هَذَا؟ قَالَ: إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ. إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، وَلَكِنَّهُ إِذَا دَخَلَ فِي قَلْبٍ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ. وَإِنَّ أَخْيَرَ الصَّلَاةِ الرُّكُوعُ وَالسُّجُودُ. وَإِنِّي أَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ، ثُمَّ أَخَذَ بَيْدِ عَلْقَمَةَ فَدَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَعَدَّهُنَّ عَلَيْنَا. قَالَ الْأَعْمَشُ: وَهِيَ عِشْرُونَ سُورَةً عَلَى تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ. أَوَّلُهُنَّ الرَّحْمَنُ وَآخِرَتُهُنَّ الدُّخَانُ، الرَّحْمَنُ، وَالنَّجْمُ، وَالذَّارِيَاتُ، وَالطُّورُ، هَذِهِ النَّظَائِرُ. وَاقْتَرَبَتِ، وَالْحَاقَّةُ، وَالْوَاقِعَةُ، وَ (ن) وَالنَّازِعَاتِ، وَسَأَلَ سَائِلٌ، وَالْمُدَّثِّرُ، وَالْمُزَّمِّلُ، وَوَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، وَعَبَسَ، وَلَا أُقْسِمُ، وَهَلْ أَتَى، وَالْمُرْسَلَاتِ، وَعَمَّ يَتَسَاءَلُونَ، وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ، وَالدُّخَانُ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، نَا الْأَعْمَشُ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا الْأَعْمَشُ: فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ إِلَى قَوْلِهِ: فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فَسَأَلَهُ. ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ: عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ، لَمْ يَزِيدُوا عَلَى هَذَا.

"جناب شقیق روایت بیان کرتے ہیں کہ نہیک بن سنان حضرت عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دریافت کیا: آپ یہ حرف ( قراءت کیس کر تمہیں( ما ء خیر اٰسن) یا(یاسن) تو انہوں نے فرمایا: کیا تم نے اس کے علاوہ سارا قرآن محفوظ ( یاد ) کر لیا ہے ؟ تو وہ کہنے لگے : بے شک میں ایک ہی رکعت میں ساری مفصل سورتیں پڑھ لیتا ہوں۔ تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا: ( پھر تو تم ) نہایت تیر رفتاری سے پڑھتے ہوگے جیسے شعر تیزی سے پڑھے جاتے ہیں ۔ بلاشبہ کچھ لوگ قرآن مجید اپنی زبانوں سے پڑھتے ہیں لیکن وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترتا ، لیکن قرآن مجید جب دل میں داخل ہو کر اس میں راسخ ہوجائے تو نفع دیتا ہے ۔ اور بے شک بہترین نماز رکوع وسجود (زیادہ ) کرنا ہے ۔ اور بے شک میں ان ملتی جلتی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں رسول اللہﷺ ایک رکعت میں دو دو سورتیں پڑھتے تھے۔ پھر جناب علقمہ کا ہاتھ پکڑا اور اند تشریف لے گئے ، پھر باہر تشریف لائے تو ہمیں وہ سورتیں شما رکر کے بتائیں ، پھر باہر تشریف لائے تو ہمیں وہ سورتیں شما ر کر کے بتائیں ۔ جناب اعمش فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ ؓ کی تالیف کے مطابق وہ بیس سورتیں ہیں۔ ان میں سے پہلی سورت الرحمٰن اور آخری سورت الدخان ہے ۔ سورۃ الرحمٰن اور سورہ النجم ، سورہ الذاریات اور سورہ الطّور ملتی جلتی سورتیں ہیں۔ ( دیگر ملتی جلتی سورتیں یہ ہیں) سورہ اقتربت (القمر ) اورسورۃ الحاقۃ سورۃ الواقعۃ اور سورہ ن(القلم)۔ سورہ النازعات اور سورہ سأل سائل (المعارج) سورہ المدثر اور سورہ المزمل ۔ سورہ ویل للمطففین اور سورہ عبس۔ سورہ لااقسم(القیامۃ) اور ھل اتی(الدھر) اور سورہ المرسلات اور سورہ عم یتساءلون۔ اور سورہ اذا الشمس کورت اور سورہ الدخان ۔ امام صاحب اپنے اساتذہ کرام جناب ابو موسیٰ ، یوسف بن موسیٰ اور سلم بن جنادہ کی سند سے اعمش سے روایت بیان کرتے ہیں۔ تمام اساتذہ کرام نے ان الفاظ تک مکمل حدیث بیان کی ہے ۔: پھر جب علقمہ اندر گئے اور حضرت عبداللہ سے دریافت کیا ۔ پھر ہمارے پاس باہر تشریف لائے تو فرمایا:( وہ ملتی جلتی سورتیں ) حضرت عبداللہ کی تالیف کے مطابق مفصل سورتوں کی ابتداء سے بیس سورتیں ہیں۔ اس سے زیادہ روایت انہوں نے بیان نہیں کی۔"

جَاءَ نَهِيكُ بْنُ سِنَانٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 538

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 539

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا كَهْمَسٌ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ قَالَتْ: بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ.

"جناب عبداللہ بن شقیق العقیلی ؒ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا رسول اللہﷺ ایک رکعت میں کئی سورتیں جمع کر ک پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں آپ) مفصل سورتیں ( پڑھ لیا کرتے تھے) یہ وکیع کی حدیث ہے۔ جناب دورقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: میں ( عبداللہ بن شقیق العقیلی) نے کہا: حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا رسول اللہﷺ چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں) جب آپ کسی سفر سے واپس آتے ( تو پڑھتے تھے) میں نے عرض کی: کیا آپ سورتوں کو ملا کر پڑھ لیتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں ) آپ مفصل سورتیں ( ملا کر پرھ لیتے تھے) میں نے دریافت کیا: کیا آپ بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا: ( ہاں) جب لوگوں نے آپ کو بوڑھا اور کمزور کر دیا ( تو آ پ بیٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے)۔

"بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ". ← الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ ← إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ ← الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي الضُّحَى؟ ← الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ← کهمس بن الحسن ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← كَهْمَسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 539

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 539

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا كَهْمَسٌ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ قَالَتِ: الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ قَالَتْ: بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ.

حضرت جسرہ بنت وجاجہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: نبی اکرمﷺ نماز میں ایک ہی آیت مبارکہ ( ساری رات) بار بار پڑھتے رہے حتیٰ کہ صبح ہوگئی ۔ وہ آیت مبارکہ یہ ہے : ( اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَذِیْزُ الْحَکِیْمْ) (المائدۃ:۱۱۸) "( اے اللہ!) اگر تو انہیں عذاب دے گا تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے گا تو بے شک تو ہی غالب نہایت حکمت والا ہے ۔"

"بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ". ← الْمُفَصَّلَ. قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ ← إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِةٍ. قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ ← الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي الضُّحَى؟ ← الْمُفَصَّلُ. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ← کهمس بن الحسن ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← كَهْمَسٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 539

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 540

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ نا أبو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ -أَوْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ-. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

"امام صاحب نے اس سلسلے میں اپنے استاد محترم جناب محمد بن العلا ء کی سند سے حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت بیان کی ہے ۔"

أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ -أَوْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ-. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 540

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 541

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، نَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ لِمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ: يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ، أَتَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِـ (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ)، وَ (إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ) فَقَالَ: [نَعَمْ]. قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: فَمَحْلُوفَةٌ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[71 - أ] يَقْرَأُ فَيَبْدَأُ بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ (المص). قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ خَبَرَ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، بِخَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي قَوْلِهِ: يَقْرَأُ فِيهِمَا، يُرِيدُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَمِيعًا.

"جناب محمد بن عبدالرحمان سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت زید بن ثابت ؓ نے مروان بن حکم سے کہا: اے ابو عبدالملک کیا تم نماز مغرب میں( قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ) اور(اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ) پڑھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ حضرت زید بن ثابت ؓ نےفرمایا: تو قسم کھائی جاسکتی ہے ، بے شک میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ دو طویل ترین سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت المص ( الاعراف ) سے قراءت کی ابتداء کرتے تھے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے ہشام کی ان کے والد محترم حضرت عروہ کی حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت املا ء کراچکا ہوں کہ نبی اکرمﷺ نماز مغرب کی دونوں رکعتوں میں سورہ اعراف ہی پڑھا کرتے تھے ۔ جناب محمد بن عبدالرحمٰن کی روایت میں یہ ہے : "آپ دونوں میں ( سورۂ اعراف ) پڑھتے تھے ۔ ان کی مراد یہ ہے کہ آپ دونوں رکعتوں میں ( ایک ہی سورت ) پڑھتے تھے۔"

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 541

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 542

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبقرةَ، فَقَرَأَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمِائَةِ، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ. ثُمَّ مَضَى حَتَّى بَلَغَ الْمِائَتَيْنِ. فَقُلْتُ يَرْكَعُ، ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَقُلْتُ: يَرْكَعُ. ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ، فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ، فَكَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ، وَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ"، ثُمَّ سَجَدَ وَكَانَ سُجُودُهُ مِثْلَ رُكُوعِهِ، فَقَالَ فِي سُجُودَهُ: "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى". وَكَانَ إِذَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ سَأَلَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ تَعَوَّذَ، وَإِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَا تَنْزِيهٌ لِلَّهِ سَبَّحَ. هَذَا لَفْظُ مُؤَمَّلٍ.

"حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے ایک رات نبی اکرمﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ، آپ نے قراءت شروع کی تو سو آیات کی تلاوت فرمائی ، میں نے ( دل میں ) کہا: آپ رکوع کریں گے ۔ پھر آپ نے قراءت جاری رکھی اور دو سو آیات تک قراءت کی ، میں نے ( دلی میں) کہا: ( اب) آپ رکوع کریں گے ( لیکن ) آپ نے پھر قراءت کی حتی کہ سورت ختم کردی ، میں نے کہا: آپ اب رکوع کریں گے ( مگر) آپ نے پھر سورۂ نساء شروع کر دی ، آپ نے (مکمل سورت) تلاوت کرنے کے بعد رکوع کیا تو آپ کا میرے خیال میں رکوع بھی آپ کے قیام کی طرح ( طویل ) تھا۔ آپ نے اپنے رکوع میں یہ کلمات پڑھے"سبحان ربی العظیم" پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کا سجدہ بھی آپ کے رکوع کی طرح طویل تھا۔ آپ نے اپنے سجدوں میں یہ تسبیح پڑھی:"سبحان ربی الاعلیٰ"آپ جب کسی آیت رحمت کی تلاوت فرماتے تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرتے ، اور جب کسی عذاب والی آیت کی قراءت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کے عذاب سے پناہ مانگتے اور جب کسی ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تنزیہ وتقدیس ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ۔ یہ مومل کی روایت ہے ۔"

حُذَيْفَةَ ← صِلَةَ، ← الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 542

chevron_left Previous
1…38394041
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals