Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 566

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: عَرَضْتُ النَّجْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَسْجُدْ مِنَّا أَحَدٌ. قَالَ أَبُو صَخْرٍ: وَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ فَلَمْ يَسْجُدَا.

"امام صاحب اپنے استاد محترم جناب یعقوب بن ابراہیم دورقی کی سند سے جناب ابو العالیہ کی حضرت عائشہ ؓ کی مذکورہ بالا بندار کی روایت جیسی روایت بیان کرتے ہیں ، فرق یہ ہے کہ اس روایت میں امام صاحب یہ الفاظ بیان کرتے ہیں : آپ یہ دعا سجدے میں کئی بار پڑھتے تھے۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ روایت ( جس میں خالد حذاء اور ابو لعالیہ کے درمیان ایک شخص کا واسطہ موجود ہے ) اس وقت بیان کر دی ہے ، اس ڈر سے کہ بعض طالب علم جناب ثقفی اور خالد بن عبداللہ کی روایت سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائیں اور وہ عبدالوہاب اور خالد بن عبداللہ کی روایت کو صیح سمجھنے لگیں ( حالانکہ وہ منقطع ہے ۔)"

عَرَضْتُ النَّجْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَلَمْ يَسْجُدْ مِنَّا أَحَدٌ. ← أَبِيهِ ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← ابْنِ قُسَيْطٍ، ← أَبُو صَخْرٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 566

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 567

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا (1) أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيِّ -قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: وَكَانَ رَبِيعَةُ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ مِمَّنْ (2) حَضَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ-، قَالَ رَبِيعَةُ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ سُورَةَ النَّحْلِ حَتَّى إِذَا أَتَى السَّجْدَةَ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا نَمُرُّ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ وَأَحْسَنَ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ. وَلَمْ يَسْجُدْ.

"جناب ابوبکر بن ابی ملکیہ ؒ فرماتے ہیں: حضرت ربیعہ حضرت عمر بن الخطاب ؓکی خدمت میں حاضر ہونے والے بہترین لوگوں میں سے ہیں ۔ حضرت ربیعہ فرماتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب ؓ نے جمعۃ المبارک کے روز منبر پر سورہ نحل کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب سجدہ کی آیت پر پہنچے تو فرمایا: اے لوگو! ہم آیت سجدہ کے پاس سے گزر رہے ہیں تو جس شخص نے سجدہ کیا تو اس نے درست اور اچھا کام کیا ۔ اور جس نے سجدہ نہ کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور آپ نے سجدہ نہ کیا۔"

كَانَ رَبِيعَةُ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ مِمَّنْ حَضَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ-، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: ← رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيِّ ← عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 567

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 568

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مَرَّةً، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَرَوَى أَبُو صَخْرٍ هَذَا الْخَبَرَ عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَعَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، جَمِيعًا. حَدَّثَنَا بِهِمَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، نَا عَمِّي عَنْ أَبِي صَخْرٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ مُنْفَرِدَيْنِ. وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ (1)، وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: (وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى) فَلَمْ يَسْجُدْ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ.

"حضرت زید بن ثابت ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو سورہ النجم کی تلاوت کر کے سنائی تو آپ نے سجدہ تلاوت نہ کیا۔"امام صاحب اسی روایت ابو صحر سے دو مختلف سندوں سے بیان کرتے ہیں کہ جناب عطاء بن یسار سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے سوال کیا ۔ تو انہوں نے فرمایا: بے شک انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو (والنجم ازا ھوی) پڑھ کر سنائی تو آپ نے سجدہ تلاوت نہیں کیا۔"

Hadith 568

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 569

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ -وَهَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيِّ-، نَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، فَمَنَ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". قَالَ الْمَخْزُومِيُّ مَرَّةً: قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ.

"حضرت ابو ہریرہؓ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب قاری آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ۔ لہٰذا جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← -وَهَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيِّ-، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 569

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 570

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر انا أحمد بن عبدة الضبي أخبرنا عبد العزيز يعني بن محمد الداروردي - عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إذا أمن الإمام فأمنوا فمن وافق قوله قول الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه قال أبو بكر : في قول النبي صلى الله عليه وسلم : إذا أمن الإمام فأمنوا ما بان وثبت أن الإمام يجهر بآمين إذ معلوم عند من يفهم العلم أن النبي صلى الله عليه وسلم لا يأمر المأموم أن يقول آمين عند تأمين الإمام إلا والمأموم يعلم أن الإمام يقوله ولو كان الإمام يسر آمين لا يجهر به لم يعلم المأموم أن إمامه قال آمين أو لم يقله ومحال أن يقال للرجل إذا قال فلان كذا فقل مثل مقالته وأنت لا تسمع مقالته هذا عين المحال وما لا يتوهمه عالم أن النبي صلى الله عليه وسلم يأمر المأموم أن يقول آمين إذا قاله إمامه وهو لا يسمع تأمين إمامه قال أبو بكر فاسمع الخبر المصرح بصحة ما ذكرت أن الإمام يجهر بآمين عند قراءة فاتحة الكتاب

"حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگیا تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے فرمان مبارک"جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔"میں اس بات کی دلیل ہے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام بلند آواز سے آمین کہے گا ، کیونکہ علم کو سمجھنے والا شخص بخوبی جانتا ہے کہ نبی ﷺ نے مقتدی کو امام کی آمین کے وقت آمین کہنے کا حکم اسی وقت دیا ہے جب وہ اپنے امام کو آمین کہتے ہوئے سنے گا ۔ اور اگر امام آہستہ آواز سے آمین کہے اور اسے بلند آوز سے نہ کہے تو مقتدی کو پتہ نہیں چلے گا کہ اس کے امام نے آمین کہی ہے یا نہیں اور یہ بات محال وناممکن ہے کہ کسی شخص سے کہا جائے کہ فلاں شخص جب ایسے کہے تو تم بھی ویسے ہی کہنا حالانکہ تم اس کے قول کو سن نہ سکو۔ یہ تو بالک ہی ناممکن اور محال بات ہے ۔ ایسی محال بات کسی عالم شخص کے وہم میں بھی نہیں آسکتی کہ نبی اکرمﷺ کو حکم دیں کہ وہ اپنے امام کی آمین کے وقت آمین کہے حالانکہ وہ اپنے امام کی آمین کو سنتا ہی نہ ہو ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : لیجیے اب وہ صریح او رواضح حدیث سنیے جو ہماری بات کے صحیح ہونے کی دلیل ہے کہ امام سورہ فاتحہ کی قراءت کرنے کے بعد بلند آواز سے آمین کہے گا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← عبد العزيز يعني بن محمد الداروردي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 570

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 571

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى نا إسحاق بن إبراهيم - وهو ابن العلاء الزبيدي - حدثني عمرو بن الحارث عن عبد الله بن سالم عن الزبيدي قال أخبرني الزهري عن أبي سلمة و سعيد عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا فرغ من قراءة أم القرآن رفع صوته قال آمين

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جب ام القرآن کی قراءت سے فارغ ہوتے تو اپنی بلند آواز سے آمین کہتے۔"

آمين ← كان رسول الله إذا فرغ من قراءة أم القرآن رفع صوته ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي سلمة و سعيد ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إسحاق بن إبراهيم وهو ابن العلاء الزبيدي ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 571

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 572

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى نا أبو سعيد الجعفي حدثني ابن وهب أخبرني أسامة - وهو ابن زيد - عن نافع عن ابن عمر كان : إذا كان مع الإمام يقرأ بأم القرآن فأمن الناس أمن ابن عمرو ورأى تلك السنة

"جناب نافعؒ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ جب امام کے ساتھ ہوتے اور وہ ام القرآن پڑھتا تو لوگ آمین کہتے تو حضرت ابن عمر ؓ بھی آمین کہتے اور وہ اسے سنت سمجھتے تھے۔"

نَافِعٍ ← أسامة وهو ابن زيد ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْجُعْفِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 572

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 573

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، إِنْ كَانَ حَفِظَ اتِّصَالَ الْإِسْنَادِ. حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ بِلَالٍ؛ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَا تَسْبِقْنِي بِآمِينَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَكَذَا أَمْلَى عَلَيْنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَصْلِهِ بَيْنَ طَهْرَانِ أَخْبَارِ (1) الثَّوْرِيِّ عَنْ عَاصِمٍ فَقَالَ: عَنْ بِلَالٍ. وَالرُّوَاةُ إِنَّمَا يَقُولُونَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ بِلَالًا قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"حضرت بلال ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی : آپ مجھ پر آمین ( کہنے ) میں سبقت نہ لیجائیں امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : جناب محمد بن حسان نے یہ حدیث ہمیں اسی طرح املا ء کروائی ہے کہ یہ راویت امام سفیان ثوری اپنے استاد عاصم سے اور وہ حضرت بلال ؓ سے بیان کرتےہیں کہ جبکہ دیگر روۃ اس سند میں جناب عاصم کے استاد ابوعثمان کا اضافہ کرتے ہیں ( اور وہ کہتے ہیں کہ) ان بلا لا قال للنبیﷺ کہ حضرت بلال ﷺ نے نبی اکرمﷺ سے عرض کی۔"

مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 573

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 574

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- عَنْ سُهَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: السَّأَمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَعَلَيْكَ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَاكَ، فَسَكَتُّ. ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّأَمُ عَلَيْكَ. فَقَالَ: "عَلَيْكَ". فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَلِكَ. ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ، فَقَالَ: السَّأَمُ عَلَيْكَ. فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّأَمُ، وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ، إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ. أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ، وَلَا التَّفَحُّشَ. قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِمْ. إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ حُسَّدٌ وَهُمْ (1) لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى السَّلَامِ وَعَلَى آمِينَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

"حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک یہودی رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو اس نے کہا : "السام علیک یا محمد "اے محمد تم پر موت ( نازل) ہو ۔ نبی ؑ نے فرمایا : اور تم پر بھی ہو۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : میں نے بت کرنے کا ارادہ کیا مگر نبی اکرمﷺ کی ناپسند یدگی معلوم ہونے پر خاموش رہی۔ پھر ایک اور یہودی آپ کے پاس آیا تو اس نے بھی کہا: آپ پر موت طاری ہو۔ آپ نے جواباً فرمایا: تم پر ہی ہو۔ میں نے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا لیکن میں جان گئی کہ آپ اسے برا سمجھتے ہیں( لہٰذا میں خاموش رہی) پھر تیسرا ( یہودی ) داخل ہوا تو اس نے کہا : آپ پر موت ( نازل ) ہو ۔ اس بار مجھ سے رہا نہ جاسکا یہاں تک کہ میں نے کہا: تجھ ہی پر موت نازل ہو، تجھ پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہو، اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم رسول اللہ ﷺ کو ایسے الفاظ کے ساتھ سلام کرتے ہوئے جبن الفا ظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیی فحش گوئی اور بے حیائی کو پسند نہیں فرماتے ، انہوں نے جیسے ہمیں سلام کیا ، ویسے ہی ہم نے انہیں جواب دے دیا تھا۔ بلاشبہ یہودی بہت زیادہ حسد کرنے والی قوم ہے اور وہ ہم پر کسی چیز میں اتنا حسن نہیں کرتے جتنا وہ ہمارے سلام اور آمین کہنے پر حسن کرتے ہیں ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے اس قصے کے متعلق ابن ابی ملیکہ کی حضرت عائشہ ؓ سے روایت "کتاب الکبیر"میں بیان کردی ہے ۔"

عَائِشَةُ: فَهَمَمْتُ ← السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ. ← دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 574

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 575

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ- نَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا قَالَ الْإِمَامُ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ)، فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ. وَالْإِمَامُ يَقُولُ آمِينَ. فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". هَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ.

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب امام(غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمِ وَلَا الضَّالِّیْنَ)پڑھے تو ، تم آمین کہو، بلاشبہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے ، تو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"یہ صنعانی کی حدیث ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 575

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 576

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، نَا رَوْحُ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَيْضًا الزَّعْفَرَانِيُّ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ: أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا وَضَعَ، اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا رَفَعَ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "اللَّهُ أَكْبَرُ" كُلَّمَا رَفَعَ وَوَضَعَ، وَزَادَ ثُمَّ يَقُولُ: "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ" عَنْ يَمِينِهِ، "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ" عَنْ يَسَارِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: اخْتَلَفَ أَصْحَابُ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، فَقَالَ [بَعْضُهُمْ]: إِنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

"جناب واسع بن حیان سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے رسول اللہﷺ کی نماز کے بارے میں سوا ل کیا تو انہوں نے کہا: جب بھی آپ اٹھتے اور جھکتے "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے تھے۔" اور یہ اضافہ بیان کیا ہے : پھر آپ اپنی دائیں جانب "السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ"کہتے اور اپنی بائیں جانب بھی " السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ "فرماتے ۔"امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں : جناب عمرو بن یحییٰ کے شاگردوں نے اس سند میں اختلاف کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم سے سوال کیا میں نے اس کو کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے ۔

عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ أَيْضًا الزَّعْفَرَانِيُّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 576

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 577

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمَقَامِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: "إِنِّي رَأَيْتُ رَجُلًا يُصَلِّي، يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أُمَّ لَكَ (1)؟

"حضرت عکرمہ بیان کرتےہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم کے پاس ( نماز میں) ہر اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر کہتے ہوئے دیکھا تو میں حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے وہ ہر اٹھتے اور جکھتے وقت"اللہ اکبر" کہتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا: تیری ماں مر جائے کیا یہ رسول اللہﷺ کی نماز نہیں ہے ؟"

عِكْرِمَةَ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 577

chevron_left Previous
12345…41
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals