صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 520
أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ثنا بندار حدثنا أبو بكر - يعني الحنفي - أنا الضحاك - وهو - ابن عثمان - حدثني بكير بن عبد الله بن الأشج حدثنا سليمان بن يسار أنه سمع أبا هريرة يقول : ما رأيت أحدا أشبه صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم من فلان لأمير كان بالمدينة قال سليمان : فصليت أنا وراءه فكان يطيل في الأوليين ويخفف الأخريين ويخفف العصر وكان يقرأ في الأوليين من المغرب بقصار المفصل وفي الأوليين من العشاء بوسط المفصل رضي الله عنه وفي الصبح بطول المفصل قال أبو بكر : هذا الاختلاف في القراءة من جهة المباح جائز للمصلي أن يقرأ في المغرب وفي الصلوات كلها التي يزاد على فاتحة الكتاب فيها بما أحب وشيئا من سور القرآن ليس بمحظور عليه أن يقرأ بما شاء من سور القرآن غير أنه إذا كان إماما فالاختيار له أن يخفف في القراءة ولا يطول بالناس في القراءة فيفتنهم كما قال المصطفى صلى الله عليه وسلم لمعاذ بن جبل : أتريد أن تكون فتانا وكما أمر النبي صلى الله عليه وسلم الأئمة أن يخففوا الصلاة فقال : من أم منكم الناس فليخفف وسأخرج هذه الأخبار أو بعضها في كتاب الإمامة فإن ذلك الكتاب موضع هذه الأخبار
"جناب سلیمان بن یسار بیان کرتےہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو فرماتےہوئے سنا : میں نے مدینہ منورہ کے فلاں امیر سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشاب ( نماز پڑھنے والے ) کسی شخص کو نہیں دیکھا۔ جناب سلیمان فرماتے ہیں: تو میں نے بھی اس امیر کے پیچھے نماز پڑھی ( تو وہ اس طرح نماز پڑھتے کہ) (ظہر کی) پہلی دو رکعتوں میں طویل قراءت کرتے اور آخری دو رکعتوں میں کم قراءت کرتے ۔ اور عصر کی نماز مختصر پڑھاتے ۔ وہ نماز مغرب کی پہلی دو رکعتوں مین قصار المفصل ( چھوٹی سورتیں پڑھتے اور عشا ء کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں اوساظ المفصل ( درمیانی ) سورتیں پڑھتے۔"امام ابوبکر ؒ فرماتےہیں: قراءت کے متعلق یہ اختلاف جائز قسم کے اختلاف سے ہے ۔ نمازی کے لیے جائز ہے کہ وہ نماز مغرب اور دیگر تمام نمازوں ، جن میں سورہ فاتحہ کے علاوہ مزید قراءت کی جاتی ہے، میں قرآن مجید کی جو سورت اسے محبوب ہو، پڑھ لے ، اس کے لیے یہ ممنوع نہیں کہ وہ اپنی چاہت کے مطابق قرآن مجید کی کوئی سورت پڑھے ۔ سوائے اس حالت کے کہ وہ امام ہو تو پھر بہتر یہ ہے کہ وہ مختصر قراءت کرے اور طویل قراءت کر کے لوگوں کو آزمائش میں نہ ڈالے ( کہ نماز باجماعت پڑھنا ترک کر دیں ) جیسا کہ نبی اکرمﷺ نے ( طویل قراءت کرنے پر ) حضرت معاذ بن جبل ؓ سے فرمایا تھا: " کیا تم فتنہ باز بننا چاہتے ہو۔" اور جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ائمہ کو ہلکی اور مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ، آپ نے فرمایا: تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کروائے تو اسے تخفیف کرنی چاہیے ( مختصر نماز پڑھانی چاہیے ۔" عنقریب میں ان تمام احادیث یا ان میں سے بعض احادیث "کتاب الامامۃ"میں بیان کروں گا کیونکہ ان احادیث کا اصل مقام وہی کتا ب ہے ۔"
سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← الضَّحَّاكُ -وَهُوَ ابْنُ عُثْمَانَ-، ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 520
