Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 508

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ فَذَكَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ، فَمَا أَخْرِمُ عَنْهَا، إِنِّي لَأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ بِهِمْ فِي الْأُخْرَيَيْنِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ. هَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ. وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: وَأُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ.

"حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ اہل کوفہ نے ( اپنے گورنر ) حضرت سعد ؓ کی نماز کے بارے میں امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے شکایت کی ( کہ نماز پڑھانی نہیں آتی ) حضرت عمر ؓ نے انہیں پیغام بھیجا ( کہ مدینہ منورہ تشریف لائیں) تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ( حضرت عرم ) نے ان کی نماز کے بارے میں اہل کوفہ کی شکایت ذکر کی۔ انہوں نے فرمایا: بے شک میں انہیں رسول اللہﷺ کی نماز جیسی نماز پڑھاتا ہوں اور اس میں کوئی کمی نہیں کرتا ۔ میں انہیں پہلی دو رکعتیں طویل پڑھاتا ہوں اور آخری دو رکعتیں مختصر پڑھاتا ہوں ۔ تو حضرت عمر ؓ نے انہیں فرمایا: اے ابو اسحاق ! آپ کے بارے میں ( مجھے ) یہی توقع ہے ۔ یہ دورقی کی روایت ہے اور مخزومی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:"واخفف الاخریین"( میں آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا ہوں یعنی مختصر پڑھاتا ہوں ۔)"

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 508

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 509

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَأَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ -وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ- عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ -وَهُوَ أَبُو بِشْرٍ- عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا نَحْزِرُ (1) قِيَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الظُّهْرِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ قَدْرَ قِرَاءَةِ ثَلَاثِينَ آيَةً، قَدْرَ قِرَاءَةِ (الم (1) تَنْزِيلُ) السَّجْدَةِ. قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكِ. قَالَ: وَحَزَرْنَا قِيَامَهُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ ذَلِكَ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ زِيَادِ بْنِ أَيُّوبَ.

"حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں رسول اللہﷺ کے قیام کی مقدار کا اندازہ سورہ"الم تنزیل السجدہ " کی قراءت کے برابر ، تیس آیات کی قراءت کے برابر کرتے تھے ۔ فرماتے ہیں : اور ہم نے آخری دو رکعتوں میں آپ کے قیام کی مقدار کا اندازہ اس سے نصف (قراءت کا ) کیا ۔ فرماتے ہیں: اور ہم نے عصر کی پہلی دو رکعتوں میں آپ کے قیام کی مقدار کا اندازہ اس سے نصف ( آیات کی قراءت ) کا کیا۔ یہ زیادہ بن ایوب کی حدیث کے الفاظ ہیں۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الصديق ← الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ وَهُوَ أَبُو بِشْرٍ، ← مَنْصُورٌ، وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ ← هُشَيْمٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 509

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 510

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ: بِـ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى)، (وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا) وَنَحْوِهَا، وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِأَطْوَلَ مِنْ ذَلِكَ.

"جناب سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا : رسول اللہﷺ ظہر اور عصر میں سورہ ( والیل اذا یغشی ) اور (والشمس وضحھا ) اور ان جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔"

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 510

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 511

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَاضِي مَرْوَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ بِـ (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ) وَنَحْوِهَا.

"جناب عبداللہ بن بریدہ اسلمی اپنے والد محترم حضرت بریدہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ ظہر کی نماز میں سور ت(اذا السمآ ء انشقت )اور اس جیسی سورتیں پڑھتے تھے اور صبح کی نماز میں اس سے لمبی قراءت کیا کرتے تھے۔"

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ قَاضِي مَرْوَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 511

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 512

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثَنَا قَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمْ كَانُوا يَسْمَعُونَ مِنْهُ النَّغَمَةَ فِي الظُّهْرِ بِـ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى)، وَ (هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ).

"حضرت انس بن مالک ؓ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں آپ سے سورہ ( سبح اسم ربک الاعلٰی)اور (ھَلْ أَتٰکَ حَدِیثُ الْغَاشِیَۃِ) کی قراءت ترنم کے ساتھ سنا کرتے تھے۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةُ، وَثَابِتٌ، وَحُمَيْدٌ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 512

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 513

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَبُو مَعْمَرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ، نَا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِعِكْرِمَةَ: رُبَّمَا قَرَأْتُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِـ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ)، وَ (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ)، وَإِنَّ نَاسًا يَعِيبُونَ ذَاكَ عَلَيَّ؟ قَالَ: "سُبْحَانَ اللَّهِ. وَمَا بَأْسُ ذَاكَ؟ اقْرَأْ بِهِمَا، فَإِنَّهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ. ثُمَّ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ جَاءَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ. هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى. وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ: وَأَنَّ أَقْوَامًا يَعِيبُونَ (1). وَلَمْ يَقُلْ: وَمَا بَأْسُ ذَاكَ. وَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يَقْرَأْ فِيهِمَا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ؛ لَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا.

"جناب حنظلہ سدوسی کہتےہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ ؒ سے کہا: میں نماز مغرب میں بعض اوقات (قُلْ أَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِی)اور (قُلْ أَعُوْذُ بِرَبّالنَّاسِ)کی قراءت کرتا ہوں اور کچھ لوگ اس کی وجہ سے میری عیب جوئی کرتے ہیں ( مجھے ملامت کرتے ہیں ) تو انہوں نے ( تعجب سے ) فرمایا: سُبْحَانَ اللہ! اس میں حرج ہے ۔ تم ان دونوں سورتوں کو پڑھا کرو کیونکہ وہ قرآن مجید کا حصہ ہیں ، پھر فرمایا: مجھے حضرت ابن عباسؓ نے حدیث بیان کہ کہ رسول اللہﷺ تشریف لائے تو آپ نے دو رکعت اد اکیں ، ان میں آپ نے ام الکتاب کے سوا کوئی سورت نہ پڑھی ۔ یہ محمد بن یحییٰ کی حدیث ہے ۔ اور محمد بن زیاد نے یہ الفاظ روایت کیے کہ "أَنَّ أَقْوَامًا یَعِیْبُوْنَ"کچھ لوگ اسے عیب سمجھتے تھے ( یعنی انہوں نے "نَاسًا "کی جگہ "أَقْوَامًا "کا لفظ بیان کیا ہے ، معنیٰ ایک ہی ہے ) اور یہ الفاظ روایت نہیں کیے ، "اس میں کیا حرج ہے ۔ "اور کہا: مجھے حضرت ابن عباس ؓ نے حدیث بیان کہ کہ نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے تو آپ نے دو رکعت ادا کیں ، ان میں سورت فاتحہ کے علاوہ کوئی سورت نہ پڑھی ، سورت فاتحہ کے بعد مزید کچھ نہ پڑھا۔"

حَنْظَلَةَ السَّدُوسِيِّ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 513

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 514

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ [68 - ب] بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ مِثْلَهُ.

جناب محمد بن جبیر بن مطعم اپنے والد جناب جبیر بن معطم ؓ سے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو نماز مغرب میں سورۂ طور پڑھتے ہوئے سنا ۔ امام صاحب اپنے اساتذہ کرام جناب علی بن خشرم اور سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی کی سند سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کرتے ہیں ۔

أَبِیہِ مِثْلَہُ۔ ← ابْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى ← وَثَنَا بُنْدَارٌ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ ب] بْنِ مُطْعِمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← النَّبِیَّ یَقْرَاُ فِی المغرب بالطور۔(34:5) ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 514

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 515

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِطُولِ الطُّولَيْنِ.

"حضرت زید بن ثابت ؓبیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نما زمغرب میں دو طویل ترین سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت پڑھا کرتے تھے ۔"

كَانَ النَّبِيُّ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِطُولِ الطُّولَيْنِ. ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 515

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 516

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، نَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ؟ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولِ الطُّولَيْنِ. قَالَ: قُلْتُ: وَمَا طُولُ الطُّولَيْنِ؟ قَالَ: الْأَعْرَافُ. فَسَأَلْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ وَمَا الطُّولَانِ؟ فَقَالَ مِنْ قِبَلِ رَأْيِهِ: الْأَنْعَامُ وَالْأَعْرَافُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. وَفِي خَبَرِ رَوْحٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ نَصْرٍ الْمُقْرِيَّ يَقُولُ: أَشْتَهِي أَنْ أَقْرَأَ فِي الْمَغْرِبِ مَرَّةً بِالْأَعْرَافِ.

"جناب مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے ( انہیں ) فرمایا: تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم مغرب کی نماز میں قصار مفصل ( چھوٹی چھوٹی ) سورتیں پڑھتے ہو؟ بے شک رسول اللہﷺ نما ز مغرب میں دو بہت لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھا کرتے تھے ۔ وہ کہتےہیں : میں نے عرض کی: د و طویل ترین سورتوں میں سے ایک طویل تر سورت کونسی ہے ( جسے نبی کریم پڑھا کرتے تھے ؟) تو انہوں نے فرمایا: وہ سورۂ اعراف ہے۔ ( جناب ابن جریج) کہتے ہیں : میں نے ابن ابی ملیکہ سے پوچھا : وہ طویل ترین سورتیں کون سی ہیں ؟ تو انہوں نے اپنی رائے سے جواب دیا: سورۂ انعام اور سورۂ اعراف ۔ یہ عبدالرزاق کی روایت کے الفاظ ہیں ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے حضرت احمد بن نصر المقری کو فرماتے ہوئے سنا : "میری خواہش ہے کہ میں نماز مغرب میں ( سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے) ایک بار سورۂ اعراف پڑھوں۔"

مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 516

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 517

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُحَاضِرٌ، نَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَعْرَافِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ مُحَاضِرَ بْنَ الْمُوَرِّعِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ. قَالَ أَصْحَابُ هِشَامٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ: عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَوْ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، شَكَّ هِشَامٌ.

"حضرت زید بن ثابت ؓسے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نماز مغرب میں دونوں رکعتوں میں سورہ اعراف پڑھا کرتے تھے۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : مجھے علم نہیں کہ اس سند میں کسی راوی نے محاضربن مورع کی متابعت کی ہو۔ جناب ہشام کے شاگرد اس سند میں شک کے ساتھ روایت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں :" حضرت زید بن ثابت ؓ یا حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے ۔" یہ شک ہشام کو ہوا ہے ۔"

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← مُحَاضِرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 517

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 518

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَوْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ -شَكَّ هِشَامٌ-، قَالَ لِمَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ: إِنَّكَ تُخِفُّ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ

"جناب ہشام اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرب ابو ایوب ؓ یا حضر ت زید بن ثابت ؓ ( ہشام کو شک ہے ) نے مروان کو کہا جبکہ وہ مدینہ منورہ کے گورنر تھے: بے شک آپ نماز مغرب کی دونوں رکعتوں میں بہت کم قراءت کرتے ہیں ، اللہ کی قسم! بے شک رسول اللہﷺ تو ان دونوں رکعتوں میں پوری سورت اعراف پڑھا کرتے تھے۔( ہشام ) کہتے ہیں: تو میں نے اپنے والد محترم سے پوچھا : مروان ان دونوں رکعتوں میں کیا پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: طول المفصل( لمبی سورتوں میں سے ) پڑھا کرتا تھا۔ ہشام سے وکیع اور شعیب بن اسحاق نے اسی طرح روایت کیا ہے ، دونوں شک کےساتھ بیان کرتے ہیں ، کہتے ہیں : "حضرت زید یا حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے ۔"

لِمَرْوَانَ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ: إِنَّكَ تُخِفُّ الْقِرَاءَةَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ مِنَ ← أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ، أَوْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ -شَكَّ هِشَامٌ-، ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 518

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 519

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا سلم بن جنادة نا وكيع نا أبو كريب نا شعيب بن إسحاق أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عبد الجبار بن العلاء نا سفيان عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله ح وحدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي حدثنا سفيان عن الزهري ح وحدثنا عبد الله بن محمد الزهري نا سفيان نا الزهري ح وحدثنا علي بن خشرم أخبرنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله ح وحدثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي نا سفيان عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس عن أمه أم الفضل بنت الحارث : أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في المغرب بالمرسلات هذا لفظ حديث الدورقي غير أن عبد الجبار لم يقل : في المغرب

"حضرت ابن عباس ؓ اپنی والدہ محترمہ حضرت ام الفضل بنت الحارث ؓ سے روایت کرتےہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو نماز مغرب میں سورہ مرسلات پڑھتے ہوئے سنا۔ یہ دورقی کی روایت کے الفاظ ہیں ۔ مگر ( امام صاحب کے استاد محترم ) عبدالجبار نے یہ الفاظ روایت نہیں کیے کہ: "نماز مغرب میں"( یہ سورت سنی ہے ۔)"

أمه أم الفضل بنت الحارث أنها ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 519

chevron_left Previous
1…3738394041
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals