صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 508
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ شَكَوْا سَعْدًا إِلَى عُمَرَ فَذَكَرُوا مِنْ صَلَاتِهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ، فَقَدِمَ عَلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ مَا عَابُوهُ مِنْ أَمْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: إِنِّي لَأُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ، فَمَا أَخْرِمُ عَنْهَا، إِنِّي لَأَرْكُدُ بِهِمْ فِي الْأُولَيَيْنِ، وَأَحْذِفُ بِهِمْ فِي الْأُخْرَيَيْنِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: ذَاكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ. هَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ. وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: وَأُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ.
"حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ اہل کوفہ نے ( اپنے گورنر ) حضرت سعد ؓ کی نماز کے بارے میں امیر المومنین حضرت عمر ؓ سے شکایت کی ( کہ نماز پڑھانی نہیں آتی ) حضرت عمر ؓ نے انہیں پیغام بھیجا ( کہ مدینہ منورہ تشریف لائیں) تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ( حضرت عرم ) نے ان کی نماز کے بارے میں اہل کوفہ کی شکایت ذکر کی۔ انہوں نے فرمایا: بے شک میں انہیں رسول اللہﷺ کی نماز جیسی نماز پڑھاتا ہوں اور اس میں کوئی کمی نہیں کرتا ۔ میں انہیں پہلی دو رکعتیں طویل پڑھاتا ہوں اور آخری دو رکعتیں مختصر پڑھاتا ہوں ۔ تو حضرت عمر ؓ نے انہیں فرمایا: اے ابو اسحاق ! آپ کے بارے میں ( مجھے ) یہی توقع ہے ۔ یہ دورقی کی روایت ہے اور مخزومی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:"واخفف الاخریین"( میں آخری دو رکعتوں میں تخفیف کرتا ہوں یعنی مختصر پڑھاتا ہوں ۔)"
جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 508
