Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 460

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار نا يحيى عن بن أبي ذئب ح وحدثنا البسطامي حدثنا ابن أبي فديك عن ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان عن أبي هريرة : فذكر الحديث قالا : رفع يديه مدا ولم يشبكا وليس في حديثهما قصة ابن أبي ذئب أنه أراهم صفة تفريج الأصابع أو ضمها

" جناب سعید بن سمعان ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں تو انہوں نے مکمل حدیث بیان کی ۔ ( جنات ابن ابی ذئب کے دونوں شاگرد : یحییٰ اور ابن ابی فدیک) کہتے ہیں : "آپ نے اپنے ہاتھ اٹھاتے ہوئے بلند کیے ۔" دونوں نے کوئی الجھاؤ بیان نہیں کیا اور ان دونوں کی روایت میں ابن ابی ذئب کا قصہ مذکورہ نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے شاگردوں کو انگلیاں کھولنے یا بند کرنے کی کیفیت دکھائی تھی۔"

الْحَدِيثَ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← الْبِسْطَامِيُّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 460

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 461

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى ثُمَّ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَعْلَمُ غَيْرَ هَذَا. فَقَالَ: "إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ [63 - ب]: هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ.

"حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مسجد میں داخل ہوئے ( آپ کے بعد ) ایک شخص آیا ، اس نے نماز پڑھی ( پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ) آپ کو سلام عرض کیا ، آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: واپس جاؤ اور نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ( وہ دوبارہ پڑھ کر آیا تو آپ نے پھر وہی ارشاد فرمایا) حتی کہ آپ نے تین بار ایسے کیا ( اسے واپس لوٹایا اور اس نے نماز پڑھی ) تو اس شخص نے عرض کی : ( اے اللہ کے رسول! ) اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر معبوث فرمایا ہے میں اس کے علاوہ ( نماز کا طریقہ ) نہیں جانتا ( لہٰذا آپ مجھے درست طریقہ سکھا دیں ) تو آپ نے فرمایا: جب تم نماز کےلیے ( قبلہ رخ ) کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو ، پھر جو حصہ تمہیں قرآن مجید سے آسان لگے اس کی تلاوت کرو ، پھر پورے اطمینان وسکون سے رکوع کرو ، پھر اٹھو حتی کہ اعتدال کے ساتھ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ ، پھر مکمل اطمینان کے و سکون کے ساتھ سجدہ کرو ، پھر سجدے سے سر اٹھاؤ تو پورے اطمینان سے بیٹھ جاؤ ، اور اپنی پوری نماز میں اسی طرح (اطمینان وسکون اختیار ) کرو ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : یہ بندار کی روایت ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 461

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 462

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ وَأَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ. إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ. اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ. أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ". قَالَ أَبُو صَالِحٍ: "لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ".

"حضرت علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے : وَجَّھْتُ ۔۔۔۔۔۔۔۔اُتُوْبُ اإلَیْکَمیں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طر ف متوجہ کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو یکسو ہر کر پیدا فرمایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔ بلاشبہ میری نماز ، میری قربانی ، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کےلیے ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور میں پہلا مسلمان ہوں ۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے ، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے ۔ تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں ۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور میں اپنے گناہوں کا اقرار و اعتراف کر تا ہوں لہٰذا تو میرے تمام گناہ معاف فرما دے ، بے شک تیرے سوا کوئی ذات گناہوں کو نہیں بخشتی اور مجھے عمدہ وبہترین اخلاق اپنانے کی توفیق عطا فرما ، عمدہ اخلاق کی توفیق توہی دیتا ہے ، اور مجھے برے اخلاق سے پھیر دے ، صرف تو ہی برے اخلاق سے پھیر سکتا ہے ، میں ( احکام بجا لانے کے لیے ) حاضر ہوں اور فرماں برداری کےلیے کمر بستہ ہوں ، ساری خیر وبھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، اور برائی کی نسبت تیری طرف نہیں ہے ، میں تیری توفیق سے قائم ہوں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے ، تو بہت بابرکت ہے اور تیری ذات بڑی بلند ہے ، میں تجھ سے معافی کا طلب گار ہوں اور تیری طرف رجوع کر تا ہوں ( توبہ کرتا ہوں) ۔ "ابو صالح کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : "تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔"

مِنَ الْمُشْرِكِينَ ← وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الْأَعْرَجِ ← عمه الماجشون بن أبي سلمة ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ وَأَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ جَمِيعًا ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 462

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 463

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى (1)، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، وَعَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ، عَنِ الْأَعْرَجِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَأَحَدُهُمْ يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ الْحَرْفَ وَالشَّيْءَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: "وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ"، أَيْ: لَيْسَ مِمَّا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ.

"امام صاحب اپنے استاد محمد بن یحییٰ سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کرتے ہیں ۔ جناب محمد یحییٰ فرماتے ہیں : ( میرے اساتذہ میں سے ) ایک دوسرے سے کچھ الفاظ کا اضافہ بیان کرتے ہیں ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتےہیں: آپ کا یہ فرمان اور شر کی نسبت تیری طرف نہیں ہے ،کا مطلب یہ ہے کہ شران چیزوں میں سے نہیں جن سے تیرا تقرب حاصل کیا جاتا ہے ۔"

أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: "وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ"، أَيْ: لَيْسَ مِمَّا يُتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْكَ. ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَأَحَدُهُمْ يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ الْحَرْفَ وَالشَّيْءَ. ← الْأَعْرَجِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، وَعَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 463

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 464

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ-، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَقَالَا: "وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ". وَلَمْ يَذْكُرَا: "وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ". وَلَا: "وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ".

"حضرت علی بن ابی طالب ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اللہ اکبر کہنے کے بعد جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے ۔"وجھت وجھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔"میں نے اپنا چہرہ اس ذات اقدس کی طرف متوجہ کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے ۔" پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: " اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔" امام صاحب کے اساتذہ کرام جناب ربیع بن سلیمان اور بحربن نصر ) دونوں نے یہ الفاظ ذکر نہیں کیے : " اور مجھے بہترین اخلاق کی راہ دکھا، بہترین اخلاق کی راہنمائی تیرے سوا کوئی نہیں کرتا۔" اور نہ یہ الفاظ روایت کیے ہیں: " اور مجھے برے اخلاق سے پھیر دے ، برے اخلاق کو تیرے سوا کوئی ذات نہیں پھیر سکتی ۔"

الحديث بطوله ← حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّكْبِيرِ: "وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ"، ← رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 464

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 465

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَغَيْرُهُمْ، قَالَ عَلِيٌّ: أَخْبَرَنَا، وَقَالُ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بِأَبِي وَأُمِّي مَا تَقُولُ فِي سُكُوتِكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: أَقُولُ: "اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز ( کی ابتداء ) میں اللہ اکبر کہتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے ، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، یہ فرمائیں کہ آپ تکبیر اور قراء ت کےدرمیان اپنی خاموشی میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں یہ دعا پڑھتا ہوں:اَللھُمَّ نَقِّنِیْ مِنْ خَطَایَایَ کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الأَبَیْضُ مِنَ الدَّنَسِ ، اَللھُمَّ اغْسِلْنِیْ مِنْ خَطَایَایً بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ۔" اے اللہ ! میرے میری خطاؤں کے درمیان اسی طرح دوری ڈال دے جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری ڈالی ہے ۔ اے اللہ مجھے میری خطاؤں سے اس طرح پاک صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے پاک صاف کیا جاتا ہے ، اے اللہ میرے گناہوں کو برف ، پانی اور اولوں سے دھو دے ۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ، سَكَتَ هُنَيَّةً، فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← وَقَالُ الْآخَرُونَ: ← عَلِيٍّ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَغَيْرُهُمْ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 465

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 466

أَخْبَرَنَا [64 - أ] أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، نَا بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ. فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ، قَالَ: "أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ. فَقَالَ: "أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهُنَّ. كَانَ رَسُولُ اللَّهِ [64 - ب] إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ يَقُولُ: "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَاهُ مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ وَسَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ مُؤَمَّلٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا حَارِثَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ. وَقَالَ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ: عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ غَيْرَ أَنَّ سَلْمًا لَمْ يَقُلْ: فَيُكَبِّرَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَحَارِثَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ -رحمه الله- لَيْسَ مِمَّنْ يَحْتَجُّ أَهْلُ الْحَدِيثِ بِحَدِيثِهِ.

"حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص ( مسجد میں ) آیا جبکہ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی تو اس نے ( نماز شروع کرنے کےلیے ) اللہ اکبر ( اور ساتھ ان الفاظ کا اضافہ کر دیا ) تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں ، بہت زیاد بابرکت تعریفیں۔" پھر جب رسول اللہﷺ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے تھے ؟ تو تمام لوگ خاموش رہے ، آپ نے پھر پوچھا : یہ کلمات کس نے کہے ہیں، کیونکہ اس نے کوئی بری بات نہیں کہی ؟ تو اس شخص نے کی : اے اللہ کے رسول میں نے کہے ہیں، میں آیا تو میری سانس پھولی ہوئی تھی تو میں نے وہ کلمات کہے ۔ آپ نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے پر سبقت لینے کی کوشسش کر رہے تھے کہ کون ان کلمات کو لے کر اوپر ( اللہ تعالیٰ کے دربار میں ) جائے ۔" جب کہ ابو موسیٰ کی روایت میں یہ ہے کہ :" بے شک ایک شخص نماز میں داخل ہوا تو اس نے کہا: تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کےلیے ہیں، بہت زیادہ بابرکت تعریفیں۔" اور یہ بھی کہا : تو لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کی: میں نے یہ کلمات کہے ہیں اور ان کلمات کو کہنے کا میرا ارادہ فقط خیر وبھلائی تھا ۔ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بلاشبہ ان کلمات کو حاصل کرنے کےلیے بارہ فرشتوں نے ایک دوسرے پر سبقت کرنے کی کوشش کی ( مگر ) وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا اجرو ثواب کیسے لکھیں حتی کہ انہوں نے اپنے پروردگار سے پوچھا تو اس نے فرمایا: میرے بندے نے جیسے کہا ویسے ہی لکھ دو ( یعنی اس کا متعین اجر نہیں ہے بلکہ میں خود ہی اس کا اجر عطا کروں گا ) امام ابو بکر ؒ فرماتےہیں : نبی اکرم ﷺ سے آپ کی رات کی نماز ( تہجد ) شروع کرنے کے متعلق دعائیں مختلف الفاظ میں روایت کی گئی ہیں۔ میں نے وہ دعائیں صلاۃ اللیل کے ابواب میں بیان کر دی ہیں۔ رہی وہ دعا جسے خراسان کے عام لوگ اپنی نما ز کی ابتدا میں پڑھتے ہیں کہ " سُبْحَانَکَ اللھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّ کَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ"" اے اللہ تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ومنزہ ہے ، تیرا نام بہت بابرکت ہے اور تیری ذات بہت بلند وبالا ہے اور تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے ۔" تو ہمیں اس دعا کے بار ے میں فن حدیث کے ماہرین کے نزدیک نبی اکرمﷺ سے ثابت شدہ کوئی حدیث معلوم نہیں ہے ۔ اس دعا کے متعلق ہمارے علم کے مطابق بہترین سند وہ ہے جسے ابو المتوکل حضرت ابو سعید ؓ سے بیان کرتے ہیں ( اور وہ درج ذیل ہے ۔)"

أَنَسٍ، ← ثابت وقتادة ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 466

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 467

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه محمد بن موسى الحرشي نا جعفر بن سليمان الضبعي نا علي بن علي الرفاعي عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل إلى الصلاة كبر ثلاثا ثم قال : سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك ثم يقول : لا إله إلا الله ثلاث مرات ثم يقول : الله أكبر ثلاثا ثم يقول : أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه ثم يقرأ قال أبو بكر : وهذا الخبر لم يسمع في الدعاء لا في قديم الدهر ولا في حديثه استعمل هذا الخبر على وجهه ولا حكي لنا عن من لم نشاهده من العلماء أنه كان يكبر لافتتاح الصلاة ثلاث تكبيرات ثم يقول : سبحانك اللهم وبحمدك إلى قوله ولا إله غيرك ثم يهلل ثلاث مرات ثم يكبر ثلاثا

"حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جب رات کے وقت نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو تین بار اللہ اکبر کہتے پھر یہ دعا پڑھتے : "سُبْحَانَکَ اللھُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ"" اے اللہ! تو اپنی تعریف کے ساتھ پاک ہے ، تیرا نام بہت برکت والا ہے ، تیری ذات بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبو د برحق نہیں ہے ۔" پھر تین بر لا الہ الا اللہ ( اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے ) کہتے پھر تین بار اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ) کہتے آ پھر یہ دعا پڑھتے : اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ ثم یقرأ"" میں خوب سننے والے بہت جاننے والے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، شیطان مردود سے ، اس کے وسوسوں ، اس کے تکبر اور اس کے شعر سے ۔" پھر آپ قراء ت فرماتے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : دعا کے متعلق اس حدیث کے بارے میں زمانہ قدیم اور زمانہ جدید میں نہیں سنا گیا کہ اس کے عین مطابق عمل کیا گیا ہو ۔ اور جن علمائے کرام کو ہم نے دیکھا نہیں ہے ان کے متعلق بھی ہمیں بیان نہیں کیا گیا کہ وہ نما زکی ابتدا ء کےلیے تین بار اللہ اکبر کہتے تھے ۔ پھر یہ دعا پڑھتے : سبحانک اللھم وبحمدک ۔۔۔۔۔ ولا الہ غیرک" پھر تین بار لا الہ الا اللہ پڑھتے ہوں اور پھر تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے ہوں ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← علي بن علي الرفاعي ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← أبو بكر ناه محمد بن موسى الحرشي ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 467

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 468

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه محمد بن موسى الحرشي نا جعفر بن سليمان الضبعي نا علي بن علي الرفاعي عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل إلى الصلاة كبر ثلاثا ثم قال : سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك ثم يقول : لا إله إلا الله ثلاث مرات ثم يقول : الله أكبر ثلاثا ثم يقول : أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه ثم يقرأ قال أبو بكر : وهذا الخبر لم يسمع في الدعاء لا في قديم الدهر ولا في حديثه استعمل هذا الخبر على وجهه ولا حكي لنا عن من لم نشاهده من العلماء أنه كان يكبر لافتتاح الصلاة ثلاث تكبيرات ثم يقول : سبحانك اللهم وبحمدك إلى قوله ولا إله غيرك ثم يهلل ثلاث مرات ثم يكبر ثلاثا

"حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب نماز کی ابتداء کرتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کبیرا ( اللہ بہت ہی بڑا ہے ) کہتے تین بار الحمد للہ کثیرا ( کثرت سے تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ) پڑھتے تین بار سبحان اللہ بکرۃ واصیلا ( اے اللہ میں صبح وشام تیری پاکی بیان کرتا ہوں ) پڑھتے ۔ پھر حضرت ابو سعید ؓ کی حدیث میں مذکورہ تعوذ جیسا تعوذ پڑھتے ۔ مگر حضرت جبیر بن مطعم کی حدیث کی سند میں محدثین نے اختلاف کیا ہے ۔ یہ شعبہ کی روایت ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← علي بن علي الرفاعي ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← أبو بكر ناه محمد بن موسى الحرشي ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 468

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 469

ورواه حصين بن عبد الرحمن عن عمر بن مرة فقال : عن عباد بن عاصم عن نافع بن جبير بن مطعم عن أبيه ح حدثناه عبد الله بن سعيد الأشج نا ابن إدريس ح وحدثنا هارون بن إسحاق و فضيل جميعا عن حصين بن عبد الرحمن : قال أبو بكر : و عاصم العنزي و عباد بن عاصم مجهولان لا يدري من هما ولا يعلم ما روى حصين أو شعبة

" امام صاحب نے حضرت جبیر کی حدیث کو جناب حصین بن عبدالرحمان کی سند سے بھی بیان کیا ہے ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : عاصم عنزی اور عباد بن عاصم دونوں مجہول راوی ہیں ان کے متعلق معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں ۔ اور حصین یا شعبہ کی روایت کے صیح ہونے کا علم بھی نہیں ہوسکتا ۔"

حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← هارون بن إسحاق و فضيل جميعا ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبِيهِ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبَّادِ بْنِ عَاصِمٍ ← عُمَر بْنِ مُرَة ← ورواه حصين بن عبد الرحمن

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 469

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 470

وروى حارثة بن محمد عن عمرة عن عائشة : كان رسول الله إذا افتتح الصلاة رفع يديه حذو منكبيه فكبر ثم يقول : سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك أخبرنا أبو الطاهر نا أبو بكر حدثناه مؤمل بن هشام و سلم بن جنادة قالا حدثنا أبو معاوية قال مؤمل قال : حدثنا حارثة بن محمد وقال سلم بن جنادة عن حارثة بن محمد غير أن سلما لم يقل : فكبر قال أبو بكر : و حارثة بن محمد رحمه الله ليس ممن يحتج أهل الحديث بحديثه

" حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک بلند کرتے ، اللہ اکبر کہتے ، پھر یہ دعا پڑھتے : "سُبْحَانَکَ اللھُمَّ وَبَحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّ کَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ"" اے اللہ میں تیری تعریف کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتا ہوں ، تیرا نام بہت بابرکت ہے ، تیری بزرگی بہت بلند دبالا ہے اور تیرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ہے ۔"امام صاحب کے استاد سلم بن جنادہ نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے ۔" پھر اللہ اکبر کہا۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں : حارثہ بن محمد ؒ ان راویوں میں سے نہیں ہے جن کی حدیث کو محدثین کرام دلیل وحجت تسلیم کرتے ہیں ۔"

عَمْرَةَ ← وروى حارثة بن محمد

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 470

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 471

وَهَذَا صَحِيحٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ مِثْلَ حَدِيثِ حَارِثَةَ لَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَلَسْتُ أَكْرَهُ الِافْتِتَاحَ بِقَوْلِهِ: "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ" عَلَى مَا ثَبَتَ عَنِ الْفَارُوقِ -رَحِمَهُ اللَّهُ- أَنَّهُ كَانَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ، غَيْرَ أَنَّ الِافْتِتَاحَ بِمَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خَبَرِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِمَا بِنَقْلِ الْعَدْلِ عَنِ الْعَدْلِ مَوْصُولًا إِلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبُّ إِلَيَّ وَأَوْلَى بِالِاسْتِعْمَالِ، إِذِ اتِّبَاعُ سُنَّةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفْضَلُ وَخَيْرٌ مِنْ غَيْرِهَا.

" نبی اکرمﷺ کی بجائے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے صیح ثابت ہے کہ وہ حارثہ ؒ کی حدیث میں مذکورہ دعا جیسی دعا سے نماز کی ابتداء کرتے تھے ۔ میں اس دعا کے ساتھ نماز کی ابتداء کرنے کو ناپسند نہیں کر تا: "سبحانک اللھم وبحمدک" کیونکہ حضرت عمر فاروقؓ سے ثابت ہے کہ آپ اس دعا کے ساتھ نماز کی ابتداء کرتے تھے ۔ لیکن اس دعا کے ساتھ نماز کی ابتداء کرنا مجھے زیادہ پسند ہے اور وہی عمل کے زیادہ لائق ہے ج ونبی اکرم ﷺ سے عادل راویوں کی سند سے حضرت علی اور ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں جو موصول بیان ہوئی ہے ۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی سنت کی اتباؑ و پیروی دوسرے حضرات کی سنت کی اتباع سے افضل واعلیٰ اور بہتر ہے ۔"

النَّبِيِّ فِي خَبَرِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِمَا بِنَقْلِ الْعَدْلِ ← الْفَارُوقِ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ، غَيْرَ أَنَّ الِافْتِتَاحَ بِمَا ثَبَتَ ← النَّبِيِّ وَلَسْتُ أَكْرَهُ الِافْتِتَاحَ بِقَوْلِهِ: "سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ" عَلَى مَا ثَبَتَ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ مِثْلَ حَدِيثِ حَارِثَةَ لَا ← وَهَذَا صَحِيحٌ

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 471

chevron_left Previous
1…333435…41
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals