صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 448
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّهُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَأَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَهُوَ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ خَلْفِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، اللَّهُمَّ أَعْظِمْ لِي نُورًا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ فِي الْقَلْبِ مِنْ هَذَا الْإِسْنَادِ شَيْءٌ، فَإِنَّ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ مُدَلِّسٌ، وَلَمْ أَقِفْ هَلْ سَمِعَ حَبِيبٌ هَذَا الْخَبَرَ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَمْ لَا؟ ثُمَّ نَظَرْتُ، فَإِذَا أَبُو عَوَانَةَ رَوَاهُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ.
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ وہ ( ایک رات) رسول اللہﷺ کے پاس سوئے ۔ وہ فرماتے ہیں : چنانچہ ( صبح کے وقت) موذن آپ کے پاس آیا تو آپ یہ دعا پڑھتے ہوئے نما زکےلیے چل پڑے : اللھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ فِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ فِی سَمْعِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ فِی بَصَرِیْ نُوْرًا، وَاجْعَلْ خَلْفِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ فِی بِصَرِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ خَلْفِیْ نُوْرًا ، وَمِنْ أَمَافِیْ نُوْرًا ، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِیْ نُوْراً ، وَمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا ، اللھُمَّ أَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا۔"اے اللہ ! میرے دل میں نور پیدا فرماے دے ، اور میری زبان میں نور کر دے ، اور میری سماعت میں نور کر دے ، اور میری بصارت میں نور فرما دے ، اور میرے پیچھے نور کر دے اور میرے آگے نور کردے اور میرے اوپر نور کر دے اور میرے نیچے نور کر دے ۔ اے اللہ! میرے لیے نور کو عظیم کر دے ۔" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس اسناد کے متعلق میرا دل مطمئن نہیں ہے ۔ کیونکہ حبیب بن ابی ثابت مدلس ہے اور مجھے علم نہیں ہوسکا کہ آیا حبیب نے یہ روایت محمد بن علی سے سنی ہے یا نہیں ؟ پھر میں نے ( روایات میں ) غور وفکر کیا تو ( معلوم ہوا کہ) ابو عوانہ یہ روایت حصین کے واسطے سے حبیب بن ابی ثابت سے بیان کرتےہیں اور وہ کہتے ہیں: حدثنی محمد بن علی مجھے محمد بن علی نے حدیث بیان کی ( یعنی مدلس راوی نے اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے )"
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 448
