Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 554

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ) وَ (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ).

" حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ سورہ(إِذَا السَّمَا ءُ انْشَقَّتْ) اور سورہ (اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) میں سجدہ کیا ۔ جناب ایوبؒ فرماتے ہیں : بے شک حضرت عطاء بن میناء نیک لوگوں میں سے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ مِينَاءَ، ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 554

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 555

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ مِينَاءَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ) [الانشقاق: 1]، وَفِي (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ) [العلق: 1]. وَزَعَمَ أَيُّوبُ: أَنَّ عَطَاءَ بْنَ مِينَاءَ كَانَ مِنْ صَالِحِي النَّاسِ.

"حضرت عطاء بن میناء سے روایت ہےکہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ(إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ)اور سورہ(اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ)میں سجدہ کیا ۔ جناب ایوبؒ فرماتے ہیں : بے شک عطاء بن میناء نیک لوگوں میں سے تھے۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ مِينَاءَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 555

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 556

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ عَامَ الْفَتْحِ سَجْدَةً، فَسَجَدَ النَّاسُ كُلُّهُمْ، فَمِنْهُمُ الرَّاكِبُ وَالسَّاجِدُ فِي الْأَرْضِ، حَتَّى إِنَّ الرَّاكِبَ لَيَسْجُدَ عَلَى يَدِهِ.

"حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فتح مکہ والے سال سجدے والی آیت تلاوت فرمائی تو تمام لوگوں نے سجدہ کیا ۔ ان میں سوار لوگ بھی تھے اور زمین پر سجدہ کرنے والے بھی حتی کہ سوا ر شخص اپنے ہاتھ پر سجدہ کرتا تھا۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بِخَبَرٍ غَرِيبٍ غَرِيبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 556

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 557

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ، فَيَقْرَأُ السُّورَةَ فِيهَا السَجْدَةُ، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى لَا يَجِدَ أَحَدُنَا مَكَانًا لِجَبِينِهِ.

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمیں قرآن مجید کی تلاوت سنایا کرتے تھے ، آپ جب کوئی ایسی سورت تلاوت فرماتے جس میں سجدہ ہوتا تو آپ سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے حتی کہ ہم سے بعض کو اپنی پیشانی رکھنے کے لیے جگہ نہیں ملتی تھی۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 557

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 558

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقْرَأُ السَّجْدَةَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَسْجُدُ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى يَزْحَمَ بَعْضُنَا بَعْضًا.

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرمﷺ کی موجودگی میں آیت سجدہ تلاوت کرتے تو آپ سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے یہاں تک کہ ہم ( جگہ تنگ ہونے کی بنا پر ) ایک دوسرے کو دھکیلتے ۔"

كُنَّا نَقْرَأُ السَّجْدَةَ عِنْدَ النَّبِيِّ فَيَسْجُدُ، وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى يَزْحَمَ بَعْضُنَا بَعْضًا. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 558

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 559

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، نَا شُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ- نَا اللَّيْثُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَوْقَ هَذَا الْمَسْجِدِ، فَقَرَأَ (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ) فَسَجَدَ فِيهَا، وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ فِيهَا. قَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ هَذَا الْخَبَرِ -فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ "كِتَابِ الْكَبِيرُ"- مَنْ قَالَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، أَوْ سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي: (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ). قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَأَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّمَا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَ بَعْدَ الْهِجْرَةِ بِسِنِينَ (1). قَالَ فِي خَبَرِ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَدِمَتُ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَيْبَرَ، قَدِ اسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ. وَقَالَ قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَحِبْتُ النَّبِيَّ ثَلَاثَ سَنَوَاتٍ، وَقَدْ أَعْلَمَ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ فِي (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ) وَ (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ). وَقَدْ أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الْمُخْبِرَ وَالشَّاهِدَ الَّذِي يَجِبُ قَبُولُ شَهَادَتِهِ وَخَبَرِهِ مَنْ يُخْبِرُ بِكَوْنِ الشَّيْءِ، وَيَشْهَدُ عَلَى رُؤْيَةِ الشَّيْءِ وَسَمَاعِهِ، لَا مَنْ يَنْفِي كَوْنَ الشَّيْءِ وَيُنْكِرُهُ، وَمَنْ قَالَ: لَمْ يَفْعَلْ فُلَانٌ كَذَا، لَيْسَ بِمُخْبِرٍ وَلَا شَاهِدٍ. وَإِنَّمَا الشَّاهِدُ مَنْ يَشْهَدُ وَيَقُولُ: رَأَيْتُ فُلَانًا يَفْعَلُ كَذَا، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ كَذَا. وَهَذَا لَا يَخْفَى عَلَى مَنْ يَفْهَمُ الْعِلْمَ وَالْفِقْهَ، وَقَدْ بَيَّنْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا. وَتَوَهَّمَ بَعْضُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرِ الْعِلْمَ أَنَّ خَبَرَ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ (1)، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ حُجَّةُ مَنْ زَعَمَ أَنْ لَا سُجُودَ فِي الْمُفَصَّلِ. وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ أَنَّ الشَّاهِدَ مَنْ يَشْهَدُ بِرُؤْيَةِ الشَّيْءِ أَوْ سَمَاعِهِ، لَا مَنْ يُنْكِرُهُ وَيَدْفَعُهُ. وَأَبُو هُرَيْرَةَ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ سَجَدَ فِي (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ) [الانشقاق: 1] وَ (اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ) [العلق: 1]، بَعْدَ تَحَوُّلِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، إِذْ كَانَتْ صُحْبَتُهُ إِيَّاهُ إِنَّمَا كَانَ بَعْدَ تَحَوُّلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ لَا قَبْلُ.

"جناب نعیم بن عبداللہ المجمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے ساتھ اس مسجد کے اوپر نماز پڑھی تو انہوں نے سورہ ( إِذَا السَّماَءُ انْشَقَّتْ) پڑھی اور اس میں (آیت سجدہ پر ) سجدہ کیا۔ ( نماز مکمل کرنے کے بعد فرمایا) میں نے رسول اللہﷺ کو اس پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔"( امام صاحب فرماتے ہیں ) میں نے اس حدیث کے طرق کتاب الکبیر کی کتاب الصلاۃ میں بیان کیے ہیں۔ جس میں راوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی کہ وہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرمﷺ کو ( اس سورت میں سجدہ کرتے ) دیکھا یا میں نے نبی اکرمﷺ کے ساتھ(إِذَا السَّماَءُ انْشَقَّتْ) میں سجدہ کیا۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت ابوہریرہ ؓ ہجرتے کے کئی سال بعد نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوئے ہیں ۔ جناب عراک بن مالک کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: میں مدینہ منورہ آیا جبکہ نبی کریمﷺ خیبر میں تھے ، آپ نے سبا ع بن عَرْفَطَہ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین بنایا تھا۔ حضرت قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں : میں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: میں نے تین سال نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں گزارے ۔ اور انہوں نے بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سورہ ( إِذَا السَّماَ ءُ انْشَقَّتْ)اور(اقْرَأْ بِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ میں نے اپنی کتابوں میں بہت سارے مقامات پر بیان کیا ہے کہ بے شک وہ مخبر اور شاہد جس کی شہادت اور خبر قبول کرنا واجب اور ضروری ہے وہ وہ ہے جو کسی چیز کے ہونے کی خبر دے یا کسی چیز کو دیکھنے اور سننے کی گواہی دے نہ کہ وہ شخص جو کسی چیز کے ہونے کی نفی کرے اور اس کا انکار کرے ۔ اور جو شخص کہے فلاں شخص کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے ، میں نے اسے ایسے ایسے کہتے ہوئے سنا ہے ۔ اور یہ بات صاحب علم اور فہم وفراست والے شخص پر مخفی نہیں ہے ۔ میں نے یہ مسئلہ اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر بیان کیا ہے ۔ اور بعض کم علم لوگوں کو جناب حارث بن عبید کی روایت حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجری کے بعد مفصل سورتوں میں سجدہ نہیں کیا۔" سے وہم ہوا ہے کہ یہ ان لوگوں کی دلیل ہے جو گمان کرتے ہیں کہ مفصل سورتوں میں سجدہ نہیں ہے ۔ اور یہ اسی قبیل سے ہے جسے میں نے بیان کیا ہے کہ شاہد وہ ہوتا ہے جو کسی چیز کو دیکھنے یا سننے کی گواہی دے ، نہ کہ وہ شخص جو اس کا انکار اور رد کرے ۔ اور حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو سورہ(إِذَا السَّماَ ءُ انْشَقَّتْ) اور (اقْرَأْبِا سْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ) میں ہجرت مدینہ کے بعد سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ کیونکہ وہ آپ کی صحبت میں نبی اکرمﷺ کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے بعد رہے ہیں نہ کہ ہجرت سے پہلے۔"

نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 559

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 560

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِخَبَرِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، نَا أَبُو قُدَامَةَ -وَهُوَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَوْ غَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، نَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ.

"امام صاحب نے اپنے استاد محترم جناب حارث بن عبید کی سند سے حضرت ابن عباس ؓ کی مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے ۔"

أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، أَوْ غَيْرِهِ، ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← أَبُو قُدَامَةَ -وَهُوَ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ← أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، ← بِخَبَرِ الْحَارِثِ بْنِ عُبَيْدٍ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 560

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 561

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الشَّهِيدِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ وَأَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، قَالُوا: نَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ الشَّهِيدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: وَحَدَّثَنِي بَكْرٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ صَلَاةَ الْعَتَمَةِ، وَقَرَأَ (إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ) فَسَجَدَ. فَقُلْتُ لَهُ: مَا هَذِهِ السَّجْدَةُ؟ قَالَ: سَجَدْتُ بِهَا خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَقَالَ الصَّنْعَانِيُّ: عَنْ أَبِيهِ. وَزَادَ فِي آخِرِ الْخَبَرِ: فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا حَتَّى أَلْقَاهُ. وَقَالَ أَبُو الْأَشْعَثِ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي الْقَاسِمِ فَسَجَدَ بِهَا، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ بِهَا، حَتَّى أَلْقَى أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"حضرت ابو رافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ ؓ کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی ، انہوں نے(إِذَا السَّمآءْ انْشَقَّتْ) کی تلاوت کی تو سجدہ کیا ۔ میں نے ان سے عرض کی: یہ کیسا سجدہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا: میں نے ابو القاسم ﷺ کے پیچھے اس سورت میں سجدہ کیا ہے ۔ صنعانی نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے آخر میں ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے : میں ہمیشہ اس سورت میں سجدہ کرتا رہوں گا حتی کہ آپ سے ( قیامت والے دن ) ملاقات کر لوں"ابو الاشعت کہتے ہیں:عن ابیہ عن بکر بن عبداللہ۔وہ فرماتے ہیں : میں نے ابو القاسم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے اس سورت میں سجدہ کیا لہٰذا میں ابو القاسم ﷺ سے سے ملاقات کرنے تک مسلسل اس سورت میں سجدہ کرتا رہوں گا۔"

الْمُعْتَمِرُ، ← أبو الأشعث أحمد بن المقدام العجلي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← إسحاق بن إبراهيم بن الشهيد، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 561

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 562

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ (1) قَالَ [73 - أ]: [حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ:] (2) قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَأَيْتُ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَرَأَيْتُ كَأَنِّي قَرَأْتُ سَجْدَةً، فَسَجَدْتُ فَرَأَيْتُ الشَّجَرَةَ كَأَنَّهَا تَسْجُدُ بِسُجُودِي، فَسَمِعْتُهَا -وَهِيَ سَاجِدَةٌ- وَهِيَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي عِنْدَكَ بِهَا أَجْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا قَبِلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ السَّجْدَةَ ثُمَّ سَجَدَ، فَسَمِعْتُهُ -وَهُوَ سَاجِدٌ - يَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ الرَّجُلُ عَنْ كَلَامِ الشَّجَرَةِ.

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کی : میں نے آج رات خواب میں دیکھا گویا کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں ، میں نے دیکھا گویا کہ میں نے آیت سجدہ تلاوت کی ہے تو میں نے سجدہ کیا ، میں نے درخت کو دیکھا کہ وہ بھی میرے سجدے کی وجہ سے سجدہ کر رہا ہے ۔ میں نے اسے سجدے کی حالت میں یہ دعا مانگتے ہوئے سنا:((اللھُمَّ اکْتُبْ لِیْ عِنْدَکَ بِھَا وِزْرًا ، وَقْبَلْھَا مِنِّیْ کَمَا قَبِلْتَ مِنْ عَبْدِکَ دَاوْدَ)) "اے اللہ میرے لیے اپنے پاس اس سجدے کے بدلے اجرو ثواب لکھ لے ، اسے میرے لیے اپنے پا س ذخیرہ کر لے ، اس کے بدلے میرے گناہ معاف فرما، اور مجھ سے اسے قبول فرما جیسے تو نے اپن بندے داؤدؑ سے قبول کیا تھا۔"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ نے آیت سجدہ تلاوت فرمائی پھر سجدہ کیا ، میں نے آپ کو سنا آپ سجدے میں وہی دعا پڑھ رہے تھے جو آدمی نے درخت کی دعا بیان کی تھی۔"

ابْنُ عَبَّاسٍ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← لِي ابْنُ جُرَيْجٍ ← حَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، ← أ]: ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 562

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 563

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْحُلْوَانِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ صَلَّى بِنَا فِي هَذَا الْمَسْجِدِ -يَعْنِي الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ - فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَكَانَ يَقْرَأُ السَّجْدَةَ فَيَسْجُدُ فَيُطِيلُ السُّجُودَ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ. فَقَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي جَدُّكُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: وَاحْطُطْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَلَمْ يَقُلِ: اقْبَلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَإِنَّمَا كُنْتُ تَرَكْتُ إِمْلَاءَ خَبَرِ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ: "سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ" لِأَنَّ بَيْنَ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ وَبَيْنَ أَبِي الْعَالِيَةِ رَجُلًا غَيْرَ مُسَمًّى، لَمْ يَذْكُرِ الرَّجُلَ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، وَخَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ.

"جناب محمد بن زید بن ختیس بیان کرتے ہیں کہ حسن بن محمد بن عبید اللہ بن ابی یزید نے ہمیں مسجد حرام میں رمضان المبارک کے مہینے میں نماز پڑھائی ۔ وہ آیت سجدہ پڑھتے تو سجدہ کرتے اور طویل سجدہ کرتے ، انہیں اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: مجھے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ انہیں میرے دادا جناب عبید اللہ بن ابی یزید نے حضرت ابن عباسؓ سے روایت بیان کی ہے ۔ پھر اس جیسی روایت ذکر کی ۔ اور کہا:"واحطط عنی بھا وزرا"( اے اللہ) اس سجدے کے بدلے میرے گناہ معاف فرما دے " اور یہ الفاظ روایت نہیں کیے : مجھ سے قبول فرما جیسے تم نے اپنے بندے داود سے قبول فرمایا تھا۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے ابوالعالیہ کی حضرت کی حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت کی کہ نبی اکرمﷺ رات کے وقت قرآن مجید کے سجدے میں یہ دعا پڑھتے تھے :((سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِی خَلَقَہُ وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ بِحَوْلِہٖ وَقُوَّتِہٖ))"میرے چہرے نے اس ذات کےلیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا ہے اور اپنی کما ل قدرت وطاقت سے اس کے کان اور آنکھیں بنائی ہیں۔" کی املا ء ترک کردی تھی کیونکہ حضرت خالد الخداء اور ابو العالیہ کے درمیان ایک متعین شخص کا واسطہ ہے جسے عبدالوہاب بن عبدالمجید اور خالد بن عبداللہ واسطی نے ترک کر دیا ہے ۔ ( اس لیے اس کی سند منقطع ہے ۔)"

مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْحُلْوَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 563

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 564

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بُنْدَارٌ، أَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أَنَا خَالِدٌ -وَهُوَ الْحَذَّاءُ-، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، عَنْ خَالِدٍ -وَهُوَ الْحَذَّاءُ- عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ: غَيْرَ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ لَمْ يَقُلْ: بِاللَّيْلِ وَزَادَ: يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.

"امام صاحب اپنے استاد گرامی جنا ب بندار سے حضرت ابو العالیہ کی حضرت عائشہ ؓ سے روایت بیان کرتے ہیں ۔ حدیث کے راوی جناب ابو بشر نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے :"رات کے وقت اور ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے کہ: آپ یہ دعاتین بار پڑھتے تھے۔"

ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ← عَائِشَةَ: غَيْرَ أَنَّ أَبَا بِشْرٍ لَمْ يَقُلْ: بِاللَّيْلِ وَزَادَ: ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← خَالِدٍ -وَهُوَ الْحَذَّاءُ- ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَائِشَةَ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← خَالِدٍ -وَهُوَ الْحَذَّاءُ- ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بُنْدَارٌ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 564

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 565

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -: مِثْلَ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: يَقُولُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَإِنَّمَا أَمْلَيْتُ هَذَا الْخَبَرَ، وَبَيَّنْتُ عِلَّتَهُ فِي هَذَا الْوَقْتِ مَخَافَةَ أَنْ يَغْتَرَ بَعْضُ طُلَّابِ الْعِلْمِ بِرِوَايَةِ الثَّقَفِيِّ وَخَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَيُتَوَهَّمَ أَنَّ رِوَايَةَ عَبْدِ الْوَهَّابِ وَخَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ صَحِيحَةٌ.

"امام صاحب اپنے استاد محترم جناب یعقوب بن ابراہیم دورقی کی سند سے جناب ابو العالیہ کی حضرت عائشہ ؓ کی مذکورہ بالا بندار کی روایت جیسی روایت بیان کرتے ہیں ، فرق یہ ہے کہ اس روایت میں امام صاحب یہ الفاظ بیان کرتے ہیں : آپ یہ دعا سجدے میں کئی بار پڑھتے تھے۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ روایت ( جس میں خالد حذاء اور ابو لعالیہ کے درمیان ایک شخص کا واسطہ موجود ہے ) اس وقت بیان کر دی ہے ، اس ڈر سے کہ بعض طالب علم جناب ثقفی اور خالد بن عبداللہ کی روایت سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائیں اور وہ عبدالوہاب اور خالد بن عبداللہ کی روایت کو صیح سمجھنے لگیں ( حالانکہ وہ منقطع ہے ۔)"

فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا. ← عَائِشَةَ مِثْلَ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← رَجُلٌ: ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 565

chevron_left Previous
1234…41
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals