صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 400
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الْثَّقَفِيُّ، نَا بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانَا أَمْسَكَ، وَإِلَّا أَغَارَ، فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ: "عَلَى الْفِطْرَةِ". فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. قَالَ: "خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَإِذَا كَانَ الْمَرْءُ يَطْمَعُ بِالشَّهَادَةِ بِالتَّوْحِيدِ لِلَّهِ فِي الْأَذَانِ وَهُوَ يَرْجُو أَنْ يُخَلِّصَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ بِالشَّهَادَةِ بِاللَّهِ بِالتَّوْحِيدِ فِي أَذَانِهِ، فَيَنْبَغِي لِكُلِّ مُؤْمِنٍ أَنْ يَتَسَارَعَ إِلَى هَذِهِ الْفَضِيلَةِ طَمَعًا فِي أَنْ يُخَلِّصَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ. خَلَا فِي مَنْزِلِهِ، أَوْ فِي بَادِيَةٍ، أَوْ قَرْيَةٍ، أَوْ مَدِينَةٍ، طَلَبًا لِهَذِهِ الْفَضِيلَةِ، وَقَدْ خَرَّجْتُ أَبُوابَ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ أَيْضًا فِي مَوْضِعٍ غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ، فِي نَوْمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمْرُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا بِالْأَذَانِ لِلصُّبْحِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِ تِلْكَ الصَّلَاةِ. وَتِلْكَ الْأَخْبَارُ أَيْضًا خِلَافُ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنْ لَا يُؤَذَّنَ لِلصَّلَاةِ بَعْدَ ذَهَابِ وَقْتِهَا، وَإِنَّمَا يُقَامُ لَهَا بِغَيْرِ أَذَانٍ.
"حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ صبح کی نماز کے وقت (دشمن کی بستیوں پر ) حمل آور ہوتے تھے پھر اگر اذان کی آواز سن لیتے تو ( حملہ کرنے سے) رک جاتے ( اور اگر اذان کی آواز نہ سنتے تو) حملہ کر دیتے ۔ چنانچہ ایک دن آپ نے ایک شخص کو سنا وہ کہہ رہا تھا: اللہ اکبر ، اللہ اکبر ( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) تو آپ نے فرمایا: وہ فطرت اسلام پر ہے ۔ تو اس نے کہا: اشھد ان لا الہ الا اللہ ( میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) آپ نے فرمایا: تو جہنم کی آگ سے نجات پا گیا ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کو اذان میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے اعلان وگواہی دینے کی خواہش ہو اور وہ امید رکھتا ہو کہ اس کی اذان میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دینے سے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی آگ سے نجات عطا فرمائیں گے تو ہر مومن کو اس خواہش اور تمنا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ اسے آگ سے نجات دے دیں گے ، اس فضیلت کے حصول میں سبقت کرنی چاہیے ۔ وہ اپنے گھر میں تنہا ہو یا جنگل میں یا بستی و شہر میں اکیلا ہو ، اس فضیلت واجر کو حاصل کرنے کےلیے ( اسے اذان دینی چاہیے ) میں نے اس جگہ کے علاوہ بھی کئی مقامات پر سفر میں اذان کے ابواب کو بیان کیا ہے ( مثلا ) نبی اکرمؓ کا صبح کی نماز سے سوئے رہ جانا حتی کہ سورج طلوع ہوگیا اور آپ ﷺ کا حضرت بلا لؓ کو نماز صبح کی اذان دینے کا حکم دینا جبکہ اس کا وقت ختم ہوچکا تھا ۔ یہ احادیث ان لوگوں کے قول کے برعکس ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ نماز کا وقت ختم ہو جانے کے بعد اس کےلیے اذان نہیں دی جائے گی بلکہ بغیر اذان کہے صرف اقامت کہی جائے گی۔"
أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← بَهْزٌ -يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 400
