Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 376

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (1)، نَا سِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ، إِلَّا الْإِقَامَةَ -يَعْنِي: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ-.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال ؓ کو اذان کے کلمات دوہرے اور تکبیر کے کلمات اکہرے کہنے کا حکم دیا گیا تھا سوائے اقامت کے یعنی قد قامت الصلاۃ کے ۔"

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 376

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 377

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ (1)، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ رَجُلًا، فَأَذَّنُوا، فَأَعْجَبَهُ صَوْتُ أَبِي مَحْذُورَةَ، فَعَلَّمَهُ الْأَذَانُ: "اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَعَلَّمَهُ الْإِقَامَةَ مَثْنَى.

دوہری اقامت کے ساتھ اذان میں ترجیع کا بیان

أَبِي مَحْذُورَةَ: ← ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← مَكْحُولٌ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← هَمَّامٌ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 377

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 378

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ مُؤَذِّنُ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَقْعَدَهُ فَأَلْقَى عَلَيْهِ الْأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا، قَالَ بِشْرٌ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ: هُوَ مِثْلُ أَذَانِنَا هَذَا. فَقُلْتُ لَهُ: أَعِدْ عَلَيَّ. فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ. قَالَ: بِصَوْتٍ ذَلِكَ الصَّوْتِ يُسْمِعُ مَنْ حَوْلَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَرَّتَيْنِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ رَفَعَ صَوْتَهُ، فَقَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ مَرَّتَيْنِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ.

" حضرت ابومحذ ورہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے انہیں بٹھایا تو انہیں اذان کا ایک ایک کلمہ سکھایا ۔ بشر کہتے ہیں : مجھے ( میرے استاد ) ابراہیم نے کہا: وہ ہماری اس اذان ہی کی طرح ہے ۔ تو میں نے ان سے گذارش کہ کہ مجھے ( وہ اذان ) دوہرا دیجیے ، تو انہوں نے فرمایا: اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ، اللہُ أَکْبْرُ اللہُ أَکْبَرُ ، (ا للہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ (نماز کی طرف آؤ ، نماز کےلیے آؤ) حَیَّ عَلَی الْفَلَا حِ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ، ( کامیابی وکامرانی کی طرف آؤ ۔ فلاح کی طرف آؤ) اَللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ (اللہ بہت بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ) لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ (اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں۔) امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: عبدالعزیز بن عبدالملک نے یہ حدیث حضرت ابو محذورہ سے نہیں سنی بلکہ انہوں نے یہ حدیث عبداللہ بن محیر یز کے واسطے سے حضرت ابو محذورہ ؓ سے بیان کی ہے ۔"

أَبِي مَحْذُورَةَ: ← عَبْدُ الْمَلِكِ، جَمِيعًا ← أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ مُؤَذِّنُ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 378

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 379

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه بندار نا أبو عاصم أخبرنا ابن جريج أخبرني عبد العزيز بن عبد الملك بن أبي محذورة عن عبد الله بن محيريز وحدثناه يعقوب بن إبراهيم الدورقي نا روح نا ابن جريج أخبرني عبد العزيز بن عبد الملك بن أبي محذورة أن عبد الله بن محيريز أخبره - وكان يتيما في حجر أبي محذورة بن معير - حين جهزه إلى الشام : فقلت لأبي محذورة : إني خارج إلى الشام وإني أسأل عن تأذينك فذكر الحديث بطوله إلا أن بندار قال في الخبر من أول الأذان وألقى علي رسول الله صلى الله عليه وسلم التأذين هو نفسه فقال قل : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر ثم ذكر بقية الأذان مثل خبر مكحول عن ابن محيريز ولم يذكر الإقامة وزاد في الحديث زيادة كثيرة قبل ذكر الأذان وبعده وقال الدورقي قال في أول الأذان : الله أكبر الله أكبر وباقي حديثه مثل لفظ بندار وهكذا رواه روح عن ابن جريج عن عثمان بن السائب عن أم عبد الملك بن أبي محذورة عن أبي محذورة قال في أول الأذان : الله أكبر الله أكبر لم يقله أربعا قد خرجته في باب التثويب في أذان الصبح ورواه أبو عاصم و عبد الرزاق عن ابن جريج وقالا في أول الأذان : الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر قال أبو بكر : فخبر ابن أبي محذورة ثابت صحيح من جهة النقل وخبر محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن محمد بن عبد الله بن زيد بن عبد ربه عن أبي ثابت صحيح من جهة النقل لأن ابن محمد بن عبد الله بن زيد قد سمعه من أبيه و محمد بن إسحاق قد سمعه من محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي وليس هو مما دلسه محمد بن إسحاق وخبر أيوب و خالد عن أبي قلابة عن أنس صحيح لا شك ولا إرتياب في صحته وقد دللنا على أن الآمر بذلك النبي صلى الله عليه وسلم لا غيره فأما ما روى العراقيون عن عبد الله بن زيد فقد ثبت من جهة النقل وقد خلطوا في أسانيدهم التي رووها عن عبد الله بن زيد في تثنية الأذان والإقامة جميعا فرواه الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : حدثنا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أن عبد الله بن زيد لما رأى الأذان أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره فقال : علمه بلالا فقام بلال فأذن مثنى مثنى وأقام مثنى مثنى وقعد قعدة

"حضرت عبداللہ بن محیریز جو کہ حضرت ابو محذورہ بن معیرؓ کی پرورش میں مقیم تھے ، جب انہیں حضرت ابومحذورہ نے شام روانہ کرنے کےلیے تیار کیا تو وہ کہتے ہیں ، میں نے عرض کی : میں شام کی طرف جا رہا ہوں اور بے شک مجھ سے آپ کی اذان کے متعلق پوچھا جائے گا ، پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ مگر بندار نے اپنی روایت میں اذان کے شروع سے بیان کیا: اور رسول اللہﷺ نے بذات خود مجھے اذان سکھائی تو کہا : کہو : اللہ اکبر ، اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ، پھر باقی اذان مکحول کی ابن محیر یز سے روایت کی طرح بیان کی اور اقامت کا ذکر نہیں کیا اور اذان کے ذکر سے پہلے اور بعد میں بہت سارے اضافے حدیث میں بیان کیے ہیں : دورقی کہتے ہیں: اذان کی ابتداء میں کہا: اللہ اکبر ، اللہ اکبر ( یعنی دو مرتبہ کہا) باقی حدیث بندار کی روایت جیسی ہے ۔ اسی طرح روح نے اپنی سند سے حضرت ابو محذورہ ؓ کی اذان کے شروع میں دو دفعہ اللہ اکبر اللہ اکبر روایت کیا ہے ، چار مرتبہ روایت نہیں کیا۔ میں نے اسے صبح کی اذان میں تثویب کے باب میں بیان کیا ہے ۔ اور ابو عاصم اور عبدالرزاق نے ابن جریج سے روایت کیا تو دونوں نے اذان کی ابتداء میں اللہ اکبر اللہ اکبر کہا( یعنی چار مرتبہ روایت کیا ہے ) امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ابن ابی محذورہ کی حدیث نقل کے اعتبار سے صیح ہے ۔ کیونکہ یہ روایت ابن محمد بن عبداللہ بن زید نے اپنے باپ سے سنی ہے اور محمد بن اسحاق نے یہ روایت محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے سنی ہے اور وہ ان راویوں میں سے نہیں ہیں جن سے محمد بن اسحاق نے تدلیس کی ہے اور حضرت انس کی روایت جسے ابوقلابہ سے ایوب اور خالد روایت کرتے ہیں اس کی صحت میں کوئی بھی شک وشبہ نہیں ہے ۔ اور ہم اس بات کی دلیل بیان کر چکے ہیں کہ اس ( حضرت بلال کو دوہری اذان اور اکہری اقامت کہنے ) کا حکم دینے والے خود نبی اکرم ﷺ ہیں۔ البتہ عراقیوں نے حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے روایت کیا ہے وہ بھی نقل کے اعتبار سے صیح ہے اور انہوں نے ان سے اسانید کو خلط ملط کر دیا ہے جن کے ذریعے وہ حضرت عبداللہ بن زید ؓ سے اذان اور اقامت دونوں کو دہرانے کے بارے میں روایت کرتے ہیں ۔ لہٰذا اعمش نے عمرو بن مرہ سے اور انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے روایت کیا ہے ، وہ کہتے : ہمیں محمد ﷺ کے صحابہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زید ؓ نے اذان دیکھی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی ، تو آپ نے فرمایا: اسے بلال کو سکھا دو لٰہذا حضرت بلال ؓ کھڑے ہوئے تو انہوں نے دوہری اذان کہی اور اقامت کے کلمات بھی دو دو مرتبہ کہے ۔ اور ( اذان اور اقامت کے درمیان ایک مرتبہ ) بیٹھ گئے۔"

عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بُنْدَارٌ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 379

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 380

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا سلم بن جنادة نا وكيع عن الأعمش و رواه بن أبي ليلى عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن عبد الله بن زيد حدثناه عبد الله بن سعيد الأشج حدثناه عقبة ـ يعني بن خالد ـ ح و حدثناه الحسن بن قزعة حدثنا حصين بن نمير نا ابن أبي ليلى :

"امام صاحب نے اپنے استاد سلم بن جنادہ اور حسن بن قزعہ کی سندیں بیان کی ہیں۔"

ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← حصين بن نمير ← الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، ← و، ← عقبة يعني بن خالد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الأعمش و رواه بن أبي ليلى ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 380

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 381

ورواه المسعودي عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن معاذ بن جبل وهكذا رواه أبو بكر بن عياش عن لأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى فقال : عن معاذ أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر حدثنا بخبر المسعودي زياد بن أيوب نا يزيد بن هارون أخبرنا المسعودي ح وحدثنا زياد أيضا نا عاصم - يعني ابن علي - نا المسعودي ح وحدثنا بخبر أبي بكر بن عياش الحسن بن يونس بن مهران الزيات نا الأسود بن عامر نا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى : فقال : عن معاذ

"امام صاحب نے اپنے اساتذہ زیاد بن ایوب اور حسن بن یونس کی سند سے حضرت معاذ ؓ سے روایت بیان کی ہے ۔"

مُعَاذٌ، ← عبد الرحمن بن أبي ليلى فقال ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← وحدثنا بخبر أبي بكر بن عياش الحسن بن يونس بن مهران الزيات ← الْمَسْعُودِيِّ ← عَاصِمُ -يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ- ← وحدثنا زياد أيضا ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← بخبر المسعودي زياد بن أيوب ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← مُعَاذٌ، ← عبد الرحمن بن أبي ليلى فقال ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← لأعمش ← معاذ بن جبل وهكذا رواه أبو بكر بن عياش ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← ورواه المسعودي

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 381

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 382

ورواه حصين بن عبد الرحمن عن ابن أبي ليلى مرسلا فلم يقل : عن عبد الله بن زيد ولا عن معاذ ولا ذكر أحدا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم إنما قال : لما رأى عبد الله بن زيد من النداء ما رأى قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا المخزومي نا سفيان عن حصين عن عبد الرحمن بن أبي ليلى ورواه الثوري عن حصين و عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى ولم يقل : عن معاذ ولا عن عبد الله بن زيد ولا قال : حدثنا أصحابنا ولا أصحاب محمد بل أرسله أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى نا عبد الرزاق أخبرنا سفيان عن عمرو بن مرة و حصين بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم فداهمه الأذان فذكر الحديث أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر قال سمعت محمد بن يحيى يقول : و ابن أبي ليلى لم يدرك ابن زيد وروى هذا الخبر شريك عن حصين فقال عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن عبد الله بن زيد فذكر الحديث أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر حدثناه محمد بن يحيى نا يزيد بن هارون أخبرنا شريك عن حصين ورواه شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى ولم يقل : عن عبد الله بن زيد ولا عن معاذ وقال : حدثنا أصحابنا ولم يسم أحدا منهم

"حصین بن عبدالرحمٰن نے اسے ابن ابی لیلیٰ سے مرسل روایت کیا ہے ۔ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید یا حضرت معاز ؓ کا نام نہیں لیا ۔ اور نبی اکرمﷺ کے کسی اور صحابی سے روایت کی ہے بلکہ اس طرح کہا ہے : "جب عبداللہ بن زیدؓ نے اذان (خواب میں ) دیکھی تو رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا ۔ اور اس روایت کو ثوری نے حصین اور عمرو بن مرہ کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت کیا تو حضرت معاذ یا عبداللہ بن زید کا نام نہیں لیا ۔ اور نہ یہ کہا کہ حدثنا اصحابنا یا حدثنا اصحاب محمد بلکہ مرسلا بیان کیا ہے اور امام صاحب اپنے استاد محمد بن یحییٰ کی سند سے روایت بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا: نبی اکرم ﷺ کو اذان کے مسئلے نے فکر مند کر دیا تھا۔" پھر باقی حدیث بیان کی۔ امام صاحب کہتے ہیں : میں نے محمد بن یحییٰ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ابن ابی لیلیٰ نے حضرت عبداللہ بن زید کو نہیں پایا۔ جبکہ شریک نے یہ روایت حصین سے بیان کی تو کہا: عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن عبداللہ بن زید ( یعنی انہوں نے مو صولاً روایت کیا کہ ابن ابی لیلیٰ کی حضرت عبداللہ سے ملاقات نہیں ہوئی) پھر باقی حدیث بیان کی ۔ امام شعبہ نے اسے عمرو بن مرہ کے واسطے سے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے حضرت معاذ یا عبداللہ بن زید کا نام نہیں لیا( یعنی مرسلاً بیان کیا ہے ) اور کہا کہ حدثنا اصحابنا ( ہمیں ہمارے اصحاب نے حدیث بیان کی ہے ۔) لیکن ان میں سے کسی کا نام نہیں لیا۔"

أصحابنا ولم يسم أحدا منهم ← معاذ وقال ← عبد الله بن زيد ولا ← عبد الرحمن بن أبي ليلى ولم يقل ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← حصين ورواه شعبة ← شَرِيکٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← عبد الله بن زيد فذكر الحديث ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← حصين فقال ← و ابن أبي ليلى لم يدرك ابن زيد وروى هذا الخبر شريك ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← كان النبي فداهمه الأذان فذكر الحديث ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عمرو بن مرة و حصين بن عبد الرحمن ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← أصحابنا ولا أصحاب محمد بل أرسله ← عبد الله بن زيد ولا ← معاذ ولا ← عبد الرحمن بن أبي ليلى ولم يقل ← حصين و عمرو بن مرة ← عبد الرحمن بن أبي ليلى ورواه الثوري ← حُصَيْنٍ ← سُفْيَانَ، ← المخزومي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← له رسول الله ← لما رأى عبد الله بن زيد من النداء ما رأى ← أحدا من أصحاب النبي إنما ← معاذ ولا ← عبد الله بن زيد ولا ← ابن أبي ليلى مرسلا فلم يقل ← ورواه حصين بن عبد الرحمن

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 382

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 383

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه بندار نا محمد بن جعفر نا شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : أحيلت الصلاة ثلاثة أحوال والصيام ثلاثة أحوال فحدثنا أصحابنا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لقد أعجبني أن تكون صلاة المؤمنين أو المسلمين واحدة حتى لقد هممت أن أبث رجالا في الدور فيؤذنون الناس بحين الصلاة فذكر الحديث بطوله وقال عمرو حدثني بهذا حصين عن بن أبي ليلى قال شعبة : وقد سمعته من حصين عن بن أبي ليلى :

"عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ نماز میں تین مرتبہ تبدیلی ہوئی اور روزے بھی تین تبدیلیوں سے گزرے ۔ تو ہمارے اصحاب نے ہمیں بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مجھے یہ بات پسند آئی ہے کہ مومنوں یا مسلمانوں کی نماز ایک ہو حتی کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ محلوں میں کچھ آدمی پھیلا دوں تو وہ نماز کے وقت میں لوگوں کو اذان دیں ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی۔"عمرو کہتے ہیں : مجھےیہ روایت حصین نے ابی لیلیٰ سے بیان کی ۔ شعبہ کہتےہیں : میں نے یہ روایت حصین کے واسطے سے ابن ابی لیلیٰ سے سنی ۔"

أحيلت الصلاة ثلاثة أحوال والصيام ثلاثة أحوال فحدثنا أصحابنا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بُنْدَارٌ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 383

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 384

ورواه جرير عن الأعمش عن عمرو بن مرة فقال عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن رجل : بعض هذا الخبر أعني قوله : أحيلت الصلاة ثلاثة أحوال ولم يذكر عبد الله بن زيد ولا معاذا أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه يوسف بن موسى نا جرير بن الأعمش و رواه بن فضيل عن الأعمش عن عمرو ابن مرة عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : أحيلت الصلاة ثلاثة أحوال وأحيل الصوم ثلاثة أحوال : فذكر الحديث بطوله ولم يذكر عبد الله بن زيد ولا معاذ بن جبل ولا أحدا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ولا قال : حدثنا أصحابنا ولم يقل أيضا : عن رجل أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه هارون بن إسحاق الهمداني نا ابن فضيل عن الأعمش قال أبو بكر : هذا خبر العراقيين الذين احتجوا به عن عبد الله بن زيد في تثنية الأذان والإقامة وفي أسانيدهم من التخليط ما بينته و عبد الرحمن بن أبي ليلى لم يسمع من معاذ بن جبل ولا من عبد الله بن زيد بن عبد ربه صاحب الأذان فغير جايز أن يحتج بخبر غير ثابت على أخبار ثابتة وسأبين هذه المسألة بتمامها في كتاب الصلاة المسند الكبير لا المختصر

"جرید نے اعمش سے ، انہوں نے عمرو بن مرہ سے یہ روایت بیان کی تو کہا: عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے ایک آدمی سے اس روایت کا کچھ حصہ روایت کیا ، میری مراد یہ کلمات ہیں:"نماز تین مراحل سے گزری ۔ " انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت معاذ ؓ کا نام نہیں لیا۔ ابن فضیل نے یہ روایت بیان کی تو عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے کہا: نماز کو تین دفعہ تبدیلیوں سے گزرنا پڑا اور روزوں کو بھی تین مراحل سے گزرنا پڑا ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ لیکن حضرت عبداللہ بن زید حضرت معاذ یا کسی اور صحابی کا ذکر نہیں کیا اور نہ " حدثنا اصحابنا "کہا اور نہ "عن رجل"کہا ۔امام ابو بکر ؒ کہتے ہیں: حضرت عبداللہ بن زید سے عراقیوں کی یہ وہ حدیث ہے کہ جس سے وہ اذان اور اقامت کے دوہرے ہونے پر استدلال کرتے ہیں ۔ حالانکہ ان کی اسانید خلط ملط ہیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ۔ عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حضرت معاذ بن جبل ؓسے نہیں سنا اور نہ حضرت عبداللہ بن زید بن عبدربہ صاحب اذان سے سنا ہے لہٰذا صیحح ثابت کے مقابلے میں غیر ثابت روایات سے استدالال کرنا جائز نہیں ہے ۔ میں عنقریب یہ مکمل مسئلہ مسند کبیر کی کتاب الصلاۃ میں بیان کردوں گا، مسند مختصر میں نہیں۔"

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 384

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 385

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا رَوْحٌ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ؛ وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ مَوْلَاهُمْ، عَنْ أَبِيهِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ، وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِي أَبِي وَأَمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ -وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ- قَالَ: لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ مِنْ مَكَّةَ نَطْلُبُهُمْ فَسَمِعْتُهُمْ يُؤَذِّنُونَ بِالصَّلَاةِ فَقُمْنَا نُؤَذِّنُ، نَسْتَهْزِئُ بِهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَقَدْ الْخَبَرَ كُلَّهُ، عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ [57 - أ] أَنَّهُمَا سَمِعَا ذَلِكَ مِنْ أَبِي مَحْذُورَةَ.

"حضرت ابو محذورہؓ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ حنین سے واپس تشریف لائے تو میں دس میں سے دسواں شخص تھا جو مسلمانوں کی تلاش میں مکہ مکرمہ سے نکلا میں نے انہیں نماز کےلیے اذان دیتے ہوئے سنا، تو ہم نے ان کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے کھڑے ہو کر اذان دینا شروع کردی ( ہماری آواز سن کر ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے ان لوگوں میں ایک خوش آواز شخص کی اذان سنی ہے لہٰذا ٓپ نے ہماری طرف ( کسی شخص کو بلانے کےلیے ) بھیجا ۔ ( جب ہم حاضر خدمت ہوگئے تو آپ نے ہمیں اذان کہنے کا حکم دیا ) چنانچہ ہم نے ایک ایک کر کے اذان دی۔ میں سب سے آخر میں تھا ۔ جب میں نے اذان دی تو آپ نے فرمایا: میرے پاس آؤ ۔ پھر آپ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا اور میری پیشانی پر ( اپنا دست مبارک ) پھیرا اور مجھے تین با ر برکت کی دعا دی ۔ پھر فرمایا: جاؤ بیت الحرام کے پاس اذان کہو۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کیسے ( اذان دوں ) ؟ لہٰذا آپ نے مجھے اذان سکھائی جیسے آج کل مسلمان اذان دے رہے ہیں۔اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ، اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ،( اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ(میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ( میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔) أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، أَشْھَدُ أَن لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ(نماز کی طرف آؤ ، نماز کےلیے آؤ ۔) حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ،( کامیابی وکامرانی کی طرف آؤ ۔ فلاح کی طرف آؤ۔) صبح کی پہلی اذان میں یہ کلمات کہلوائے : الصلاۃ خیر من النوم ، الصلاۃ خیر من النوم ، ( نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نماز نیند سے بہتر ہے ) اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ (اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے ) لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) کہتے ہیں آپ نے مجھے اقامت کے کلمات دو دو مرتبہ سکھائے ۔ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ) أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ ، أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ ، حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ ، حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ۔قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ (نماز کھڑی ہوگئی ، نماز کھڑی ہوگئی ۔ ) اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ۔ ابن جریح کہتے ہیں : مجھے یہ ساری روایت عثمان نے اپنے باپ سے اور ام عبدالمالک بن ابی محذورہ سے بیان کی ، انہوں نے یہ روایت ابو محذورہ ؓ سے سنی ۔ ابن رافع اور یزید بن سنان نے حدیث میں اذان کی ابتداء میں اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ (یعنی چار مرتبہ ) کہا ہے ۔ یزید بن سنان نے اقامت کے کلمات دو رقی کی روایت کی طرح دو دو مرتبہ ذکر کیے ہیں ۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں کہا:"جب تم اقامت کہو تو دو مرتبہ کہو: قد قامت الصلاۃ قد قامت الصلاۃ، (نماز کھڑی ہوگئی ، نماز قائم ہوگئی۔) کیا تم نے سن لیا ہے ؟ اور یہ اضافہ بھی بیان کیا کہ حضرت ابو محذورہ ؓ اپنی پیشانی ( کے بالوں ) کو نہ کاٹتے تھے اور نہ ان میں مانگ نکالتے تھے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا تھا۔"یزید بن سنان نے اپنی روایت کے آخر میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ابن جریج نے کہا : مجھے یہ ساری حدیث عثمان نے اپنے باپ سے اور عبدالمالک بن ابی محذورہ سے بیان کی ہے ، انہوں نے یہ روایت حضرت ابو محذورہ ؓ سے سنی ہے ۔"

أَبِي مَحْذُورَةَ وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ ← أَبِي، وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ← عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ← أم عبد الملك بن أبي محذورة انهما سمعا ذلك من أبي محذورة ← أَبِيهِ مَوْلَى أَبِي مَحْذُورَةَ ← عثمان بن السائب مولاهم ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبِي مَحْذُورَةَ: ← أُمِّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ السَّائِبِ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 385

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 386

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب موذن فجر کی اذان میںحَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہہ لے تو کہے : الصلاۃ خیر من النوم ( نماز نیند سے بہتر ہے ۔)"

الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ. ← الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ← مِنَ السُّنَّةِ إِذَا ← أَنَسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 386

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الأَذَانِ وَالاِقَامَۃِ · حديث 387

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَوْنٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ-، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ يَتْبَعُ بِفِيهِ، وَوَصَفَ سُفْيَانُ يَمِيلُ بِرَأْسِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ (2)، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبَطْحَاءِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ وَعِنْدَهُ نَاسٌ يَسِيرٌ، فَجَاءَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، ثُمَّ جَعَلَ يَتْبَعُ فَاهُ هَاهُنَا -يَعْنِي بِقَوْلِهِ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ- وَقَالَ وَكِيعٌ عَنِ الثَّوْرِيِّ فِي هَذَا الْخَبَرِ: فَجَعَلَ يَقُولُ فِي أَذَانِهِ هَكَذَا، وَيُحَرِّفُ رَأْسَهُ، يَمِينَا وَشِمَالًا بِحَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ.

"حضرت ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال ؓ کو اذان دیتے ہوئے دیکھا ، وہ اپنے منہ کو ( دائیں بائیں ) پھیر رہے تھے۔ سفیان نے اس کی کیفیت بیان کی تو کہا : وہ اپنے سر کو دائیں اور بائیں موڑ رہے تھے ۔ حضرت ابو جحیفہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بطحاء کے مقام پر حاضر ہوا جبکہ آپ سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے اور آپ کے پاس تھوڑے سے لوگ تھے۔ چنانچہ بلالؓ آئے تو انہوں نے اذان کہی، پھر انہوں نے حی علی الصلاۃ حی علی الفلاح کہتے ہوئے اپنے چہرہ دائیں بائیں پھیرا ۔"ثوری اس روایت میں کہتے ہیں : انہوں نے اپنی اذان میں حی علی الفلاح کہتے ہوئے اپنے سر کو دائیں بائیں پھیرا ۔"

أَبِيهِ ← عَوْنٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ-، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the doors of the call to prayer and the station · Hadith 387

chevron_left Previous
1…262728…41
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals