صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 352
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا. فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَقْتِ الصَّلَاةِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ. فَقَالَ عُرْوَةُ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ"، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ [أَنْ] تَدْخُلَهَا
"حضرت ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ منبر پر تشریف فرما تھے تو انہوں نے نماز کچھ موخر کردی ۔ تو حضرت عروہ بن زبیر نے فرمایا: بے شک جبرائیل ؑ نے محمد ﷺ کو نماز کے وقت کے متعلق بیان فرمایا ہے ۔ تو حضرت عمر نے کہا: خوب سمجھ لو تم کیا کہہ رہے ہو۔ تو حضرت عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود کو سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے ابو مسعود انصاری ؓ کو فرماتے سنا ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جبرائیل ؑ نازل ہوئے تو انہوں نے مجھے نماز کے وقت کی خبر دی ، تو میں نے ان کے ساتھ نماز اد ا کی ، پھر میں نے اس کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی ، تو انہوں نے پانچ نمازیں اپنی انگلیوں پر شمار کیں ۔ اور میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر ادا کی اور بسا اووقات اسے موخر کیا جبکہ گرم شدید ہوجاتی ۔ اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آ پ نے نماز عصر ادا کی جبکہ سورج بلند اور سفید تھا، اس سے پہلے کہ وہ زرد ہوتا ۔ تو ایک شخص نماز سے فارغ ہو کر غروب آفتاب سے پہلے ذوالحلیفہ آجاتا ۔ اور آپ نماز مغرب ، غروب آفتاب کے وقت ادا کرتے ، اور عشاء کی نماز اس وقت پڑھتے جب افق سیاہ ہو جاتا ہے ، اور بعض اوقات لوگوں کے جمع ہونے تک اسے موخر کردیتے ۔ ایک مرتبہ صبح کی نماز کو اندھیرے میں لوگوں کے جمع ہونے تک اسے موخر کر دیتے ۔ ایک مرتبہ صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کی ، پھر دوسری مرتبہ اسے روشنی میں پڑھا ، پھر اس کے بعد آ پ کی نماز اندھیرے ہی میں ہوتی تھی حتی کہ آپﷺ وفات پاگئے ۔ پھر آپ نے کبھی روشنی میں نماز ادا نہیں کی۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : روایت میں یہ اضافہ صرف اسامہ بن زید راوی بیان کیا ہے ۔ اس پوری حدیث میں دلیل ہے کہ شفق سے مراد سفیدی ہے سرخی نہیں ۔ کیونکہ حدیث میں ہے : " اور آپ عشاء کی نماز اس وقت ادا کرتے جب افق سیاہ ہوجاتا ۔" اور افق سیاہ اس وقت ہوتا ہے جب سرخی کے ختم ہونے کے بعد ظاہر ہونے والی سفیدی غائب ہوجائے ۔ کیونکہ سرخی جب ختم ہوتی ہے تو سفیدی اس کے بعد باقی رہتی ہے پھر سفیدی غائب ہوتی ہے تو افق سیاہ ہوتا ہے ۔ اور حضرت جابر بن عبداللہ بن ؓ کی روایت میں ہے : " پھر بلال ؓ نے دن کی سفیدی ختم ہونے پر عشاء کی اذان کہی ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے نما زکی اقامت کہی ، پھر آپ نے نماز پڑھائی ۔"
«نَزَلَ جِبْرِيلُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← عُرْوَةَ ← لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، ← أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا، ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 352
