Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 328

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُهَاجِرِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظُّهْرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَبْرِدْ أَبْرِدْ" -أَوْ قَالَ: "انْتَظِرِ، انْتَظِرْ-"، فَقَالَ: "إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ". قَالَ أَبُو ذَرٍّ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ".

"حضر ت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے مؤذن نے ظہر کی اذان کہی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھنڈا کرو، ٹھنڈا کرو۔ یا فرمایا: انتظار کرو ، انتظار کرو، پھر فرمایا: بے شک گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے لہٰذا جب گرمی شدید ہوجائے تو نماز کو ٹھنڈا کرلو۔" حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں : "(لہٰذا ہم نے نماز ظہر اس وقت ادا کی ) جب ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھ لیا۔"

أَبُو ذَرٍّ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ". ← إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ← "انْتَظِرِ، انْتَظِرْ-"، ← النَّبِيُّ "أَبْرِدْ أَبْرِدْ" -أَوْ ← أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ الظُّهْرَ، ← اَبِیْ ذَرٍّ ← زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُهُ ← الْمُهَاجِرِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 328

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 329

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَ (1) سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيِّ وَأَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ الضَّبِّيِّ، قَالُوا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ -وَهُوَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ-[49 - ب] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب گرمی سخت ہوجائے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے ( پڑھو) کیونکہ گرمی کی سختی جہنم کی بھاپ سے ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيِّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 329

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 330

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ-، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا الصَّلَاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ".

"حضر ت ابن عمر ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : بلاشبہ گرمی کی سختی جہنم کی بھاپ سے ہے ، شدید گرمی میں نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کرو۔"

"إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا الصَّلَاةَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ". ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ- ← بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 330

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 331

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيَّ-، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا-؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "أَبْرِدُوا الظُّهْرَ فِي الْحَرِّ".

"حضرت عائشہ ؓ رسول اللہﷺ سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: گرمی میں نماز ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھو۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ الْخُرَيْبِيَّ-، ← الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 331

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 332

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا-. أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ. قَالَ أَحْمَدُ: فِي حُجْرَتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الظُّهُورُ عِنْدَ الْعَرَبِ يَكُونُ عَلَى مَعْنَيَيْنِ. أَحَدُهُمَا أَنْ يَظْهَرَ الشَّيْءُ حَتَّى يُرَى وَيُتَبَيَّنُ فَلَا يَخْفَى. وَالثَّانِي أَنْ يَغْلِبَ الشَّيْءُ عَلَى الشَّيْءِ. كَمَا يَقُولُ الْعَرَبُ: ظَهَرَ فُلَانٌ عَلَى فُلَانٍ، وَظَهَرَ جَيْشُ فُلَانٍ عَلَى جَيْشِ فُلَانٍ أَيْ غَلَبَهُمْ. فَمَعْنَى قَوْلِهَا: لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ: أَيْ لَمْ يَتَغَلَّبِ الْفَيْءُ عَلَى الشَّمْسِ فِي حُجْرَتِهَا. أَيْ لَمْ يَكُنِ الظِّلُّ فِي الْحُجْرَةِ أَكْثَرَ مِنَ الشَّمْسِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ".

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جبکہ سورج میرے حجرے میں چمکتا تھا( دھوپ موجود ہوتی تھی) سایہ پھیلا نہیں ہوتا تھا۔"احمد کہتے ہیں: "فی حجر تھا"یعنی سایہ ان کے حجرے میں پھیلا نہیں ہوتا تھا۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اہل عرب کے نزدیک ظھور کے دو معنی ہیں ۔ ایک واضح ہوجائے اس میں کوئی پوشیدگی نہ رہے ۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ایک چیز دوسری پر غالب آجائے ۔ جیسا کہ عرب کہتے ہیں : فلاں فلاں شخص پر ظاہر ہو گیا ، اور فلاں کا لشکر فلاں کے لشکر پر ظاہر ہوگیا ہے یعنی ان پر غالب آگیا ہے ۔ لہٰذا حضرت عائشہ ؓ کے فرمان "لم یظھر الفی ء بعد"کا مطلب یہ ہے کہ سایہ ان کے حجرے میں دھوپ پر غالب نہیں آیا تھا۔ یعنی نماز عصر کے وقت حجرے میں سایہ دھوپ سے زیادہ نہیں تھا۔"

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيِّ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 332

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 333

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ [50 - أ] بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ، حَينَ (2) انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ. قَالَ: وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ قُلْنَا لَهُ: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ. قَالَ: فَصَلَّوَا الْعَصْرَ، قَالَ: فَقُمْنَا، فَصَلَّيْنَا. فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نَا ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: بِهَذَا نَحْوَهُ.

"حضرت علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب بیان کرتے ہیں کہ وہ نماز ظہر ادا کرنے کے بعد بصرہ میں حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس ان کے گھر آئے ، اور ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا ۔ پھر جب ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا: تم نے نماز عصر پڑھ لی ہے ؟ ہم نے عرض کی: ہم تو ابھی نماز ظہر ادا کر کے آئے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : نماز عصر ادا کر لو۔ لہٰذا ہم اٹھے اور نماز (عصر ) پڑھ لی، پھر جب ہم ( نماز سے) فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "یہ منافق کی نماز ہے ۔ وہ بیٹھا سورج کا انتظار کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوجاتا ہے تو کھڑے ہو کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے ، وہ اس میں بہت تھوڑا اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے ۔"امام صاحب اپنے استاد یونس عبدالاعلیٰ کی سند سے حضرت علاء بن عبدالرحمان ہی سے مذکورہ بالا روایت کی طرح بیان کرتے ہیں ۔"

الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 333

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 334

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ أَبُو بَحْرٍ، نَا شُعْبَةُ، نَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ يَعْقُوبَ-، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبَا مُوسَى مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى، يَقُولُ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّ يَدِي فِيمَا نَسَخْتُ مِنْ كِتَابٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، قَالَ: نَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ صَلَاةَ الْمُنَافِقِ يَنْتَظِرُ حَتَّى إِذَا اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ، وَكَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ شَيْطَانٍ -أَوْ عَلَى قَرْنَيِ شَيْطَانٍ- نَقَرَهَا أَرْبَعًا، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى. وَقَالَ ابْنُ بَزِيعٍ: بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، أَوْ فِي قَرْنَيْ شَيْطَانٍ. وَقَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: "نَقَرَهَا أَرْبَعًا لَا يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا".

"حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" بلاشبہ یہ منافق کی نماز ہے ، وہ انتظار کرتا رہتا ہے ۔ حتی کہ سورج زرد ہوجاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان یا شیطان کے دو سینگوں پر ہوتا ہے تو کھڑا ہو جاتا ہے ، اور چار ٹھونگیں مار لیتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا کرتا ہے "یہ ابوموسیٰ کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ ابن بزیغ کی روایت میں ہے : شیطان کے دو سینگوں کے درمیان یا شیطان کے دو سینگوں میں "اور کہا کہ شعبہ کہتے ہیں: " چار ٹھو نگیں ما ر لیتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کو بہت تھوڑا یاد کرتا ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ يَعْقُوبَ-، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ أَبُو بَحْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 334

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 335

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، نَا الزُّهْرِيُّ؛ ح حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وَتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ". قَالَ مَالِكٌ: تَفْسِيرُهُ ذَهَابُ الْوَقْتِ.

"حضرت سالم اپنے والد محترم ( حضرت عبداللہ ؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:جس شخص کی نماز عصر فوت ہوگئی گویا اس کے اہل وعیال اور مال ہلاک ہوگئے ۔ مالک ؒ فرماتے ہیں : اس کی تفسیر یہ ہے کہ وہ وقت نکل جانے پر نماز پڑھتا ہے ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← "الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ". ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 335

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 336

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، نَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ الْهُذَلِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، فَقَالَ: بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[50 - ب] قَالَ: "مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ أُحْبِطَ عَمَلُهُ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ: بِهَذَا مِثْلَهُ؛ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: "فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ".

"حضرت ابو ملیح ہذلی ؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت بریدہ اسلمی ؓ کے ساتھ ایک ابر آلود دن میں جہاد میں تھے تو انہوں نے فرمایا: نماز( عصر ) کو جلدی ادا کر لو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے عصر ترک کی اس کے عمل ضائع کر دیئے جاتے ہیں ۔" امام صاحب حسین بن حریث کی سند مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کرتے ہیں کہ اس میں ان الفاظ کا فرق ہے ۔"فقد حبط عملہ"تو اس کے عمل رائیگاں گئے۔"

"فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ". ← أَبِي قِلَابَةَ: بِهَذَا مِثْلَهُ؛ غَيْرَ أَنَّهُ ← يَحْيَى ← هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← "مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ أُحْبِطَ عَمَلُهُ". ← بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ب] ← كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، ← أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ الْهُذَلِيَّ ← يحيى بن أبي كثير أن أبا قلابة ← هِشَامٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 336

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 337

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ فَنُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ.

"حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز مغر ب پڑھتے تھے پھر ہم بنو سلمہ ( کے محلے ) میں آتے تو ہم تیر گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتے تھے۔"

كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ فَنُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 337

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 338

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ يَرْجِعُونَ فَيَرَى أَحَدُهُمْ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ.

"حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ ( صحابہ کرام ) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز مغرب پڑھتے تھے پھر وہ ( اپنے گھروں کو) لوٹتے تو ان میں سے کوئی شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتا تھا۔"

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 338

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 339

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن إبراهيم الدورقي و مؤمل بن هشام اليشكري قالا حدثنا ابن علية عن محمد ابن إسحاق ح وحدثنا الفضل بن يعقوب الجزري نا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق حدثني يزيد بن أبي حبيب عن مرثد بن عبد الله اليزني قال : قدم علينا أبو أيوب غازيا و عقبة بن عامر يومئذ على مصر فأخر المغرب فقام إليه أبو أيوب فقال : ما هذه الصلاة يا عقبة ؟ فقال : شغلنا فقال أما والله ما بي إلا أن يظن الناس إنك رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تزال أمتي بخير - أو على الفطرة - ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم هذا لفظ حديث الدورقي وقال المؤمل و الفضل بن يعقوب أما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تزال أمتي أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن موسى الحرشي نا زياد بن عبد الله نا محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب : فذكر الحديث وقال أما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تزال أمتي بخير - أو على الفطرة - ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم قال : بلى

" حضرت مرثد بن عبداللہ یزنی ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ایوب ؓ جہاد کرتے ہوئے ہمارے پاس آئے جبکہ ان دنوں مصر کے گورنر حضرت عقبہ بن عامر ؓ تھے ۔ تو انہوں نے مغرب کی نماز تاخیر سے ادا کی ، تو حضرت ابو ایوب ؓ ان کے پاس گئے اور فرمایا: اے عقبہ ! یہ کونسی نماز ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ہم مشغول تھے ( اس لیے تاخیر ہوگئی) تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم ! مجھے کوئی مشک نہیں مگر لوگ یہ گمان کریں گے کہ آپ نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح ( نماز موخر ) کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "میری امت ہمیشہ خیرو بھلائی یا فرمایا: فطرت پر رہے گی ، جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کا جمگٹھا ہونے تک موخر نہیں کریں گے ۔ یہ دورقی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ مؤمل اور افضل بن یعقوب کی روایت میں ہے :"کیا آپ نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت ہمیشہ خیرو بھلائی پر رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ امام ابو بکر محمد بن موسیٰ حرشی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ اور کہا : "کیا آپ نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت ہمیشہ خیرو بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کا جمگٹھے ہونے تک موخر نہیں کریں گے " تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں ( میں نے سنا ہے ) "

مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← محمد ابن إسحاق ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يعقوب بن إبراهيم الدورقي و مؤمل بن هشام اليشكري ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 339

chevron_left Previous
1…222324…41
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals