Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ اللِّبَاسِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 782

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ، وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا".

''حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہےاوریہ کہ میں اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹوں۔ ''

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The door-of-clothing intercourse in prayer · Hadith 782

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ اللِّبَاسِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 783

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ؛ وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْمِلُ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ عَلَى عُنُقِهِ فِي الصَّلَاةِ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا.

''حضرت ابو قتادہ بن ربعی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوالعاص کی بیٹی (یعنی اپنی نواسی) کو نماز میں اپنی گردن پر بیٹھا لیا کرتے تھے ، پھر جب آپ سجدہ کرتے تو اسے (زمین پر) رکھ دیتے اور جب آپ کھڑے تو اسے اٹھا لیتے۔''

أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ← أَبِي قَتَادَةَ؛ وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ← سَعِيدٌ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The door-of-clothing intercourse in prayer · Hadith 783

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ اللِّبَاسِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 784

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا بِهِ الدَّوْرَقِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَهُوَ يَحْمِلُ بِنْتَ زَيْنَبَ عَلَى عُنُقِهِ، فَيَؤُمُّ النَّاسَ، فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا.

''حضرت ابو قتادہ بن ربعی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوالعاص کی بیٹی (یعنی اپنی نواسی) کو نماز میں اپنی گردن پر بیٹھا لیا کرتے تھے ، پھر جب آپ سجدہ کرتے تو اسے (زمین پر) رکھ دیتے اور جب آپ کھڑے تو اسے اٹھا لیتے۔''

بِهِ الدَّوْرَقِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The door-of-clothing intercourse in prayer · Hadith 784

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ اللِّبَاسِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 785

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ فَقَذَفَهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَخَذَتْهُ مِنْ ظَهْرِهِ، وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ، فَقَالَ: "اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأَ مِنْ قُرَيْشٍ، أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ، وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ، وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ -شُعْبَةُ الشَّاكُّ-، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ وَأُلْقُوا فِي بِئْرٍ، غَيْرَ أَنَّ أُمَيَّةَ أَوْ أُبِيَّ تَقَطَّعَتْ أَوْصَالُهُ فَلَمْ يُلْقَ فِي الْبِئْرِ".

''حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اس دوران میں رسول اللہ ﷺ سجدہ رہے تھے اور آپ کے ارد گرد چند قریشی بیٹھے تھے، جب عقبہ بن ابی معیط اونٹ کی اوجھری لے کر آیا اور اسے رسول اللہ ﷺ پر ڈال دیا، تو آپ اپنا سر مبارک اٹھا نہ سکے، چنانچہ حضرت فاطمہؓ آئیں اور اسےآپ کی کمر سے اتارا اور اس برے کام کے کرنے والے پربد دعا کی۔ آپ نے یہ بددعا کی: ''الے اللہ !قریش کی اس جماعت ابو جہل بن ہشام ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ،عقبہ بن ابی معیط اور امیہ بن خلف یا ابی بن خلف، امام شعبہ کوشک ہے، کو (اپنے درد ناک عذاب کے ساتھ) پکڑ لے، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : میں نے ان قریش سرداروں کو دیکھا کہ وہ بدر والے دن قتل کر دیے گئے اور ایک کنویں میں پھینک دیے گئے، سوائے امیہ یا ابی کے کہ اس کے جوڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے تو اسے کنویں میں نہ پھینکا گیا۔''

عَبْدُ اللَّهِ ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبَا إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The door-of-clothing intercourse in prayer · Hadith 785

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ اللِّبَاسِ فِی الصَّلَاۃِ · حديث 786

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلٍ، نَا حَفْصٌ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ، خَلَعُوا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا انْفَتَلَ، قَالَ لَهُمْ: "مَا شَأْنُكُمْ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ نَعْلَيْكَ فَخَلَعْنَا نِعَالَنَا. فَقَالَ: "أَتَانِي آتٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّ فِي نَعْلِي أَذًى فَخَلَعْتُهُمَا، فَإِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ، فَإِذَا رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا فَلْيَمْسَحْهُمَا بِالْأَرْضِ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِمَا". جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْمَوَاضِعِ الَّتِي تَجُوزُ الصَّلَاةُ عَلَيْهَا وَالْمَوَاضِعِ الَّتِي زُجِرَ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهَا

''حضر ت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن ہمیں نماز پڑھائی تو آپ نے اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ دیے۔ صحابہ کرام نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے جوتے اتار دیے ہیں تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے، پھر جب آپ فارغ ہوئے توانہیں فرمایا: تمہیں کیا ہوا تھا کہ تم نے اپنے چوتے اتار دیے تھے؟ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتے اتار دیے ہیں تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیے ۔ توآپ نے فرمایا : (میں نے تو اس لیے اتارے تھے )کہ میرے پاس ایک آنے والا (فرشتہ)آیا تو ا نے مجھے بتایا کہ میرے جوتوں میں گندگی لگی ہوئی ہے، تو میں نے اتار دیا۔ لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو وہ (جوتے) دیکھ لے، اگر وہ اپنے جوتوں میں گندگی دیکھے تو انہیں زمین کے ساتھ رگڑلے، پھر انہیں پہن کر نماز پڑھ لے۔''

يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِي نَعَامَةَ، ← الْحَجَّاجِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← حَفْصٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَقِيلٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The door-of-clothing intercourse in prayer · Hadith 786

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 321

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ، فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الْفَجْرِ نَزَلَتْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ فَشَهِدُوا مَعَكُمُ الصَّلَاةَ جَمِيعًا، ثُمَّ صَعِدَتْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ. فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ-: مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: جِئْنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ. فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الْعَصْرِ، نَزَلَتْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ فَشَهِدُوا مَعَكُمُ الصَّلَاةَ جَمِيعًا، ثُمَّ صَعِدَتْ [48 - أ] مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ. قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ- فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: جِئْنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ. قَالَ: فَحَسِبْتُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو تمہارے پاس آگ پیچھے آتے رہتے ہیں ۔ پھر جب نماز فجر کا وقت ہوتا ہے تو دن کے فرشتے ناز ل ہوتے ہیں اور وہ تمہارے ساتھ اکٹھے نماز میں حاضر ہوتے ہیں پھر رات کے فرشتے اوپر جڑھ جاتے ہیں ۔ اور دن کے فرشتے تمہارے ساتھ رہ جاتے ہیں ، تو ان کا رب ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان سے بخوبی واقف ہے ، تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے ؟ فرمایا کہ وہ جواب دیتے ہیں : ہم آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم نے انہیں نماز اد ا کرتے ہوئے چھوڑ ا ہے ۔ پھر جب نماز عصر کا وقت ہوتا ہے تو رات کے وقت فرشتے نازل ہوتے ہیں اور تمہارے ساتھ اکٹھے نماز ادا کرتے ہیں ، پھر دن کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے تمہارے ساتھ رہ جاتے ہیں ۔ فرمایا: تو ان کا رب ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں بخوبی جانتا ہے ، وہ فرماتا ہے : تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے ؟ فرمایا کہ میرا خیال ہے وہ کہتے ہیں: تو ( اے اللہ) انہیں قیامت کے دن معاف فرما دینا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 321

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 322

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ -وَهُوَ الْأَعْمَشُ-، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "يَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ. وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ. فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ".

"حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نماز فجر اور نماز عصر میں جمع ہوتے ہیں ۔ نماز فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں ۔ اور نماز عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں تو ان سے ان کا رب سوال کرتا ہے تم نے میرے بندوں کو کیسے چھوڑا ؟ تو وہ کہتے ہیں : ہم ان کے پاس آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ نماز ادا کر رہے تھے ۔ لہٰذا تو انہیں قیامت کے روز معاف فرمادینا۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانَ -وَهُوَ الْأَعْمَشُ-، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 322

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 323

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحُسَيْنِ وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ وَمُوسَى بْنُ خَاقَانَ الْبَغْدَادِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ -وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ- وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ. فَقَالَ: "صَلِّ مَعَنَا". فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ [صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ]- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظُّهْرَ، وَقَالَ: وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْفَجْرَ بِغَلَسٍ. فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ أَخَّرَ فَوْقَ الَّذِي كَانَ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا. ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ " قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أَجِدْ فِي كِتَابِي عَنِ الزَّعْفَرَانِيِّ: الْمَغْرِبَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي.

"حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے نمازوں کے وقت کے بارے میں پوچھا ۔ تو آپ نے فرمایا: ہمارے ساتھ نماز پڑھو (تمہیں وقت معلوم ہوجائے گا) پھر جب سورج ڈھل گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی ، اور کہا کہ آپ نے عصر کی نماز ادا کی جبکہ سورج بلند اور صاف و روشن تھا، اور سورج غروب ہونے پر نماز مغرب ادا کی ، اور نماز عشاء شفق غائب ہونے پر ادا کی ، اور نما فجر اندھیرے میں ادا کی ، پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے حضرت بلال ﷺ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اذان دی اور اسے ٹھنڈ ا کیا تو خوب ٹھنڈا کیا۔ اور آپ نے اسے حکم دیا تو انہوں نے نماز عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج زندہ (خوب روشن) تھا آپ نے کل سے زیادہ تاخیر سے ادا کی اور آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے سرخی غائب ہونے سے پہلے نماز مغرب کی اقامت کہی، اور آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے تہائی رات گزرنے پر عشاء کی نماز قائم کی اور آپ کے حکم سے انہوں نے نماز فجر کو روشنی میں قائم کیا، پھر آپ نے فرمایا: نماز کے وقت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی: میں موجود ہوں، اے اللہ کے رسول ۔ آپ نے فرمایا: تمہاری نمازوں کے اوقات اس کے درمیان ہیں جو تم نے ( دو دن میں ) دیکھا ہے ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں: میں نے اپنی کتاب میں زعفرانی سے یہ الفاؓ نہیں پائے : "مغرب دوسرے دن میں ۔"

وقت الصلوات ← أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ -وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ- وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ، ← مُوسَى بْنُ خَاقَانَ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَحْمَد بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحُسَيْنِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 323

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 324

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَوَاقِيتِ. لَمْ يَزِدْنَا بُنْدَارٌ عَلَى هَذَا. قَالَ بُنْدَارٌ: فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي دَاوُدَ، فَقَالَ: صَاحِبُ هَذَا الْحَدِيثِ يَنْبَغِي [48 - ب] أَنْ يُكَبَّرَ عَلَيْهِ. قَالَ بُنْدَارٌ: فَمَحَوْتُهُ مِنْ كِتَابِي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَنْبَغِي أَنْ يُكَبَّرَ عَلَى أَبِي دَاوُدَ حَيْثُ غَلِطَ. وَأَنْ يُضْرَبَ بُنْدَارٌ عَشَرَةً، حَيْثُ مَحَا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ كِتَابِهِ. [لِأَنَّهُ] حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى مَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ أَيْضًا عَنْ عَلْقَمَةَ. غَلِطَ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيَّرَ بُنْدَارٌ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ أَيْضًا عَنْ عَلْقَمَةَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِخَبَرِ حَرَمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ شُعْبَةَ: بِالْحَدِيثِ تَمَامِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ رَادٌّ (1) عَلَى زَعْمِ الْعِرَاقِيِّينَ أَنَّ الْمُقِرَّ عِنْدَ الْحَاكِمِ أَنَّ لِفُلَانٍ عَلَيْهِ مَا بَيْنَ دِرْهَمٍ إِلَى عَشَرَةِ دَرَاهِمَ، أَنَّ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ دَرَاهِمَ. فَجَعَلُوا هَذَا الْمُحَالَ مِنَ الْمَقَالِ بَابًا طَوِيلًا، فَرَّعُوا مَسَائِلَ عَلَى هَذَا الْخَطَإِ. وَقَوْدُ مَقَالَتِهِمْ يُوجِبُ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْيَوْمَيْنِ وَاللَّيْلَتَيْنِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي غَيْرِ مَوَاقِيتِهَا، لِأَنَّ قَوْدَ مَقَالَتِهِمْ أَنَّ أَوْقَاتِ الصَّلَاةِ مَا بَيْنَ الْوَقْتِ الْأَوَّلِ، وَالْوَقْتِ الثَّانِي. وَأَنَّ الْوَقْتَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِي خَارِجَانِ مِنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، كَزَعْمِهِمْ أَنَّ الدِّرْهَمَ وَالْعَشَرَةَ خَارِجَانِ مِمَّا أَقَرَّ بِهِ الْمُقِرُّ، وَأَنَّ الثَّمَانِيَةَ هُوَ بَيْنَ دِرْهَمٍ إِلَى عَشَرَةٍ. قَدْ أَمْلَيْتُ مَسْأَلَةً طَوِيلَةً مِنْ هَذَا الْجِنْسِ.

"حضرت بریدہ ؓ نبی ﷺ سے اوقات نماز کے متعلق روایت بیان کرتے ہیں ۔ بندار نے ہمیں اس سے زیادہ روایت بیان نہیں کی ۔ بندار کہتے ہیں: میں نے اسے ابوداؤد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: "اس روایت کے راوی پر نماز جنازہ پڑھی جانی چاہیے ۔"اس روایت کے راوی پر نماز جنازہ پڑھی جانی چاہیے ۔ "بندا ر کہتے ہیں: تو میں نے اس روایت کو اپنی کتا ب سے مٹا دیا۔ امام ابوبکر کہتے ہیں: ابوداؤد پر نماز جنازہ پڑھی جانی چاہیے کیونکہ انہوں نے غلطی کی ہے ۔ اور بندار کو یہ حدیث اپنی کتاب سے مٹانے کی وجہ سے دس کوڑے مارے جانے چاہئیں۔ یہ حدیث صیح ہے جیسا کہ ثوری نے بھی علقمہ سے روایت کیا ہے ابوداؤد نے غلطی کھائی ہے اور بندار نے اس کو تبدیل کر دیا ہے ۔ یہ حدیث صیح ہے ۔ اسے ثوری نے بھی علقمہ سے روایت کیا ہے ۔ امام ابوبکر حرمی بن عمارہ کی سند سے مکمل حدیث بیان کرتے ہیں ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث عراقیوں کے اس دعویٰ کی تردید کرتی ہے کہ حاکم کے پاس کوئی شخص یہ اقرار کر لے کہ فلاں شخص کے اس پر ایک سے دس درہم تک واجب ہیں تو اس پر آٹھ درہم واجب ہوں گے ۔ اس طرح انہوں نے اس محال بات کو طویل باب کی شکل دے دی ہے ۔ اور اس غلط حکم پر بے شمار فرعی مسائل کی بنیاد رکھی ہے ۔ ان کے اس قول سے یہ واجب ہوت اہے کہ جبرائیل ؑ نے نبی اکرم ﷺ کو دو دن اور دو راتیں پانچوں نمازین ان کے اوقات کے بغیر پڑھائیں ۔ کیونکہ ان کے قول کا لازم یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات پہلے اور دوسرے وقت کے درمیان ہیں اور پہلا اور دوسرا وقت نماز کے وقت سے خارج ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے کہ حاکم کے سامنے ، ایک اور دس درہم ، اقرار کرنے والے کے اقرار سے خارج ہیں اور آٹھ درہم ، ایک اور دس درہم کے درمیان ہے۔ میں اس قسم کا طویل مسئلہ املاء کرواچکا ہوں۔

صَاحِبُ هَذَا الْحَدِيثِ يَنْبَغِي ← بندار: فذكرته لأبي داود ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 324

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 325

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ-، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -وَهُوَ ابْنُ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الزُّرَقِيُّ -؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا أَبُو أَحْمَدَ، نَا سُفْيَانُ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ وَكِيعٌ: عَنِ الزُّرَقِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، فَصَلَّى بِيَ الظُّهْرَ حِينَ مَالَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ الشِّرَاكِ. وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ. وَصَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى بِيَ الْفَجْرَ حِينَ حُرِّمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَى الصَّائِمِ [49 - أ] وَصَلَّى بِيَ الْغَدَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَصَلَّى بِيَ الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، وَصَلَّى بِيَ الْمَغْرِبَ حِينَ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ حِينَ مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى بِيَ الْغَدَاةَ بَعْدَمَا أَسْفَرَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ: الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ. هَذَا وَقْتُكَ، وَوَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَةَ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ. يُزَادُ (1) كَلَامُ الْإِمَامِ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي آخِرِ الْبَابِ الَّذِي تَقَدَّمَهُ إِلَى آخِرِ هَذَا الْبَابِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

اس بات کی دلیل کا یبان کہ نبی مکرم محمد ﷺ سے پہلے انبیا ء کرام پر پانچ نمازیں فرض تھیں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کی امت پر فرض ہیں

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حكيم بن حكيم بن عباد بن سهل بن حنيف ← الزُّرَقِيِّ ← وَكِيعٌ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← بُنْدَارٌ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ -وَهُوَ ابْنُ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الزُّرَقِيُّ ← مغيرة يعني ابن عبد الرحمن ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 325

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 326

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (2)، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا صَلَّيْتُمُ الصُّبْحَ فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلِ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تُصَلُّوا الْعَصْرَ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، فَإِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، فَإِذَا غَابَ الشَّفَقُ، فَهُوَ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ".

"حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو اس کا وقت باقی ہے یہاں تک کہ سورج کی پہلی کرن نکل آئے ، پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھ لو تو اس کا وقت عصر کی نماز ادا کرنے تک باقی ہے ۔ پھر جب تم عصر کی نماز پڑھ لو تو سورج زرد ہونے تک اس کا وقت باقی ہے ۔ پھر جب سورج غروب ہوجائے تو وہ (نماز مغرب کا ) وقت ہے ۔ یہاں تک کہ سرخی غائب ہو جائے ۔ پھر جب سرخی غائب ہوجائے تو وہ نصف رات تک ( نماز عشاء کا) وقت ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 326

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 327

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، نَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "الصَّلَاةُ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا".

" حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا: نماز اول وقت میں ( ادا کرنا افضل ہے )۔

"الصلاة في أول وقتها" ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ اَیُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ← الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بُنْدَارُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 327

chevron_left Previous
1…212223…41
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals