صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 313
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا وَكِيعٌ، نَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ وَبَاشَرْتُهَا، وَقَبَّلْتُهَا، وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا. فَسَكَتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ). فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِلنَّاسِ كَافَّةً؟ فَقَالَ: "لَا. بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً".
"حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں ایک عورت سے باغ میں ملا تو میں نے اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا ، اس کے ساتھ پیا ر محبت کیا ، اسے بوسہ دیا اور اس سے جماع کے سوا ہر کام کیا ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے ، تو یہ آیت کریمہ ناز ہوئی ، بے شک نیکیان برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔ یہ نصیحت پکڑنے والوں کےلیے نصیحت ہے ۔ "تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بلایا اور اس پر یہ آیت تلاوت کی ۔ تو حضرت عمرؓ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حکم اس کےلیے خاص ہے یا تمام لوگوں کےلیے ؟ تو آپ نے فرمایا : بلکہ تمام لوگوں کےلیے ہے ۔"
جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 313
