صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 49
عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْد الرَّحْمٰنِ أَخْبَرَہُ: أَنَّہُ سَأَلَ عَائِشَۃَ کَیْفَ کَانَتْ صَلَاۃُ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ ؟ فَقَالَتْ: مَاکَانَ رَسُوْلُ اللہِﷺ یَزِیْدُ فِی رَمَضَانَ وَلَا فِی غَیْرِہِ عَلَی إِحدٰی عَشَرَۃَ رَکْعَۃً یُصَلِّیْ أَرْبَعاً فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِھِنَّ وَطُوْلِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّیْ أَرْبَعاً فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِھِنَّ وَطُوْلِھِنَّ ثُمَّ یُصَلِّیْ ثَلَاثاً أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ؟ فَقَالَ:" یَا عَائِشَۃُ " إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَا مَانِ وَلَا یَنَامُ قَلْبِیْ۔
"حضرت ابوسلمہ عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہﷺ کی نماز (تہجد) کی کیفیت کے متعلق پوچھا؟حضرت عائشہؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ رمضان المبارک یا رمضان المبارک کے علاوہ (کسی اور مہینے مین) گیارہ رکعات سے زیادہ ادا نہیں کرتے تھے، آپ چار رکعتیں ادا کرتے ، ان کی عمدگی اور طوالت کا مت پوچھو۔ پھر آپ رکعتیں ادا کرتے ان کی خوبی اور لمبائی کے متعلق مت پوچھو۔ پھر آپ تین رکعتیں ادا کرتے ۔" حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ ادا کرنے سے پہلے سوجاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے عائشہ !بے شک میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔(وہ بیدار رہتا ہے ۔)
أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ
Hadith 49
