Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 25

عَبْدِاللہِ بْنِ زَیْدِ قَالَ : سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ عَنْ الرَّجُلِ یَجِدُ الشَّیْ ءَ وَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ ۔ فَقَالَ : لَا یَنْصَرِفُ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتاً أَوْیَجِدَ رِیْحًا

’’حضرت عبداللہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آدمی کے متعلق پو چھا جو نماز کے دوران کچھ محسوس کرتا ہے ۔ آ پ نے فرمایا :وہ (نماز توڑ کر ) نہ پھرے حتی کہ (ہوا خارج ہونے ) کی آ واز سن لے یا بو محسوس کر لے ۔‘‘

لَا یَنْصَرِفُ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتاً أَوْیَجِدَ رِیْحًا ← الرَّجُلِ یَجِدُ الشَّیْ ءَ وَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَبْدِاللہِ بْنِ زَیْدِ

Hadith 25

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 26

أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّﷺ قَالَ : لَا یَزَالُ الْعَبْدُ فِی الصَّلَاۃِ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ تَحْبِسُہُ مَالَمْ یُحْدِثْ ۔ وَالْإِ حْدَاثُ أَنْ یَفْسُوَ أَ وْ یَضْرُطَ۔إِنِّی لَا أَسْتَحْیِیْ مِمَّا لَمْ یَسْتَحْیِیْ مِنْہُ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ

’’حضرت ابو ہریر ہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :بندہ اس وقت تک حالت نماز میں ہی رہتا ہے جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے اور وضو نہ تو ڑے ۔ احداث یہ ہے کہ بلا آواز یا بآواز ہوا خارج کرے ۔ میں اس چیز (کو بیان کرنے) سے نہیں شرماتا جسے رسول اللہ ﷺ نے ( بیان کرتے ہوئے ) شرم محسوس نہیں کی ۔‘‘

أَبُو هُرَيْرَةَ

Hadith 26

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 27

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ لَا وُضُوْءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْرِیْحٍ۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آواز یابو محسوس کیے بغیر وضو(واجب ) نہیں ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 27

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 28

عَنْ أَ بِیْ ھُرَیْرَۃَقَالَ قَالَ رَسُوُْل اللہِ ﷺ : إِذَا وَجَدَ أَ حَدُکُمْ فِی بَطْنِہِ شَیْئاً فَأَ شْکَلَ خَرَجَ مِنْہُ شَیْءٌ أَوْلَمْ یَخْرُجْ ،فَلَایَخْرُجَنَّ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتاً أَ وْ یَجِدَ رِیْحاً

’’حضرت ابو ہریر ہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کوئی چیز محسوس کرے اور شک میں مبتلا ہو جائے کہ آیااس کے پیٹ سے کوئی چیز نکلتی ہے یا نہیں ،تو وہ (مسجد سے ) ہرگز نہ نکلے حتی کہ آواز سن لے یا بو محسو س کرے۔‘‘

أَ بِیْ ھُرَیْرَۃَ

Hadith 28

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 29

عَنْ أَ بِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ ،قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اللہِﷺ إِ نَّ الشَّیْطَانَ یَأْتِیْ أَ حَدَکُمْ فِی صَلَاتِہِ فَیَقُوْلُ :إِ نَّکَ قَدْ أَ حْدَثْتَ۔ فَلْیَقُلْ :کَذَبْتَ ، إِلَّامَا وَجَدَ رِیْحَہُ بِأَ نْفِہِ أَ وْ سَمِعَ صَوْتَہُ بِأُذْنِہِ۔ ھٰذَا لَفْظُ وَکِیْعِ قَالَ أَ بُوْ بَکْرِ ۔ قَوْ لُہُ : فَلْیَقُلْ ، کَذَبْتَ أَ رَادَ فَلْیَقُلْ کَذَبْتَ بِضَمِیْرِہِ ۔ لَا یَنْطِقُ بِلِسَا نِہِ إِذًالْمُصَلِّی غَیْرُ جَائِزِ لَّہُ أَنْ یَّقُوْلَ :کَذَ بْتَ نُطْقاً بِلِسَا نِہِ

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :شیطان تم میں سے کسی ایک کے پاس اس نماز کے دوران آتا ہے اور کہتا ہے کہ تم نے تو وضو توڑ لیا ہے ، تو اسے کہنا چاہیے :تو نے جھو ٹ کہا ہے سوائے اس کے کہ اپنے کان سے آواز سن لے یا اپنے ناک سے بو محسوس کر لے ۔امام ابو بکر ؒ کہتے ہیں کہ :’’فلیقل کذبت ‘‘اسے کہنا چاہیے کہ تو نے جھوٹ بولا ہے ۔ ‘‘ اس سے نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ ہے کہ نمازی اپنے دل میں کہے ( تاکہ اس کا وسوسہ دور ہو جائے ) زبا ن سے نہ کہے کیو نکہ نما زی کے لیے زبان سے ’’کذبت ‘‘ کہناجائز نہیں ہے ( یعنی اس کے لیے کلام کرنا منع ہے ۔)

أَ بِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ

Hadith 29

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 30

قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ، یَأْ ثَرُہُ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ : ( کُلُّ ابْنِ اٰدَمَ أَ صَابَ مِنَ الزِّنَا لَا مَحَا لَۃَ ، فَا لْعَیْنُ زِنَاؤُھَا النَّظَرُ، وَالْیَدُ زِنَاؤُھَااللَّمْسُ ، وَالنَّفْسُ تَھْوِی أَوْتَحْدُثُ وَیُصَدِّ قُہُ أَوْ یُکَذِّ بُہُ الْفَرْجُ ) قَالَ أَ بُوْ بَکْرِ قَدْأَعْلَمَ النَّبِیُّﷺ أَنَّ اللَّمْسَ قَدْ یَکُوْنُ بِالْیَدِ قَالَ اللہُ عَزَّوَ جَلَّ (وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَاباًفِی قِرْطَاسِ فَلَمَسُوْہُ بِأَ یْدِیْھِمْ ) قَدْ عَلَّمَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ أَ نَّ اللَّمْسَ قَدْ یَکُوْنُ بِا لْیَدِوَکَذٰلِکَ النَّبِیُّﷺ لَمَّا نَھٰی عَنْ بَیْعِ اللِّمَاسِ دَلَّھُمْ نَھْیَہُ عَنْ بَیْعِ اللَّمْسِ أَنَّ اللَّمْسَ بِالْیَدِ وَھُوَ أَ نَّ یَلْمِسَ الْمُشْتَرِیُّ الْثَّوْبَ مِنْ غَیْرِ أَ نَّ یَقْلِبَہُ وَیَنْشُرَہُ وَیَقُوْ لُ عِنْدَ عَقْدِ الشِّرَاءِ: إِذَا لَمَسْتُ الثَّوْبَ بِیَدِ یْ فَلَا خِیَارَ لِی بَعْدُ إِذَا نَظَرْتُ إِلٰی طُوْلِ الثَّوْبِ وَعَرْ ضِہِ أَوْظَھَرْ تُ مِنْہُ عَلٰی عَیْبِ ۔وَالنَّبِیُّ ﷺ قَالَ لِمَا عِزِبْنِ مَالِکِ حِیْنَ اَقَرَّ عِنْدَہُ بِالزِّنَا: لَعَلَّکَ قَبَّلْتَ أَوْ لَمَسْتَ فَدَلَّتْ ھٰذِہِ اللَّفْظَۃُ عَلٰی أَنَّہُ إِنَّمَا أَ رَادَ بِقَوْ لِہِ :أَوْلَمَسْتَ غَیْرَ الْجِمَاعِ الْمُوْ جِبِ لِلْحَدِّ ۔ وَکَذٰلِکَ خَبَرُ عَائِشَۃَ ۔ قَالَ أَبُوْ بَکْرِ :وَلَمْ یَخْتَلِفْ عُلَمَا ؤُناَ وَالْحِجَازِ یِّبْنَ وَالْمِصْرِیِّیْنَ وَالشَّا فِعِیُّ وَأَھْلُ الْأَ ثَرِ أَ نَّ الْقُبْلَۃَ وَاللَّمْسَ بِا لْیَدِ ، إِ ذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَ الْیَدِوَ بَیْنَ بَدَنِ الْمَرْلَۃِ إِذَا لَمَسَھَا حِجَابٌ وَلَا سُتْرَۃٌمِنْ ثَوْبِ وَلَا غَیْرِہِ، أَنَّ ذٰلِکَ یُوْ جِبُ الْوُضُوْءَ غَیْرَ أَ نَّ مَالِکَ بْنَ أَنَسِ کَانَ یَقُوْلُ :إِ ذَا کَانَتِ الْقُبْلَۃُ وَاللَّمْسُ بِالْیَدِ لَیْسَ بِقُبْلَۃِ شَھْوَۃٍفَإِنَّ ذٰلِکَ لَا یُوْ جِبُ الْوُضُوْءَ ۔قَالَ أَبُوْبَکْرِ ھٰذِہِ اللَّفْظَۃُ وَیُصَدِّقُہُ أَوْ یُکَذِّبُہُ الْفَرْجُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِی أَ عْلَمْتُ فِی کِتَابِ الإِیْمَانِ أَنَّ التَّصْدِیْقَ قَدْیَکُوْنُ بِبَعْضِ الْجَوَارِحِ لَا کَمَا ادَّعٰی مَنْ مَوَّہَ عَلٰی بَعْضِ النَّا سِ أَنَّ التَّصْدِیْقَ لَا یَکُوْنُ فِیْ لُغَۃِ الْعَرَابِ إِلَّا بِا لْقَلْبِ ۔ قَدْ بَیَّنْتُ ھٰذِہِ الْمَسْأَلَۃَ بِتَمَا مِھَا فِی کِتَابِ الإِ یْمَانِ

’’حضرت ابو ہریرہ ؓ رسول اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہر ابن آدم زنا سے کچھ نہ کچھ پاتا ہے ۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے۔ ہاتھ کازنا لمس (چھوٹا ) ہے ، نفس چاہتا ہے یاخیال کرتا ہے کہ اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کر دیتی ہے۔امام ابوبکربن خزیمہ ؒ فرماتے ہیں : (اس حدیث )میں نبی ﷺنے بیان فرمایا ہے لمس کبھی ہاتھ سے بھی ہوتا ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے : (ولو نزلنا علیک کتابا فی قر طاس فلمسوہ بایدیہمہ ) ’’اور اگر ہم کاغذ پر لکھا ہوا کوئی نوشتہ آ پ پر نازل کرتے پھر اس کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے ۔۔۔‘‘(اس آیت مبارکہ میں ) ہمارےپروردگار عزوجل نے بھی بیان فرمادیا کہ لمس ہاتھ سے بھی ہوتاہے ۔اس طرح نبی ﷺ کا بیع اللماس سے منع کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ لمس ہاتھ سے ہوتا ہے ۔بیع لمس کا مطلب یہ ہے کہ خریدار کپڑے کو پلٹےاور کھولے بغیر ہاتھ سے چھوئے اور خرید تے وقت کہے :’’جب میں کپڑوں کو چھو لوں گا تو پھر کپڑے کے طول و عرض کو دیکھنے کے بعد یا کوئی عیب معلوم ہونے پر مجھے کوئی اختیار نہ ہو گا ۔نبی ﷺ نے حضرت ماعز بن مالک ؓسے فرمایا تھا ،جب اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر زنا کاری کا اقرار کیا تھا ۔ شاید کہ تم نے بوسہ لیا ہو یا چھو ا ہو ۔ یہ لفظ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا اس فرمان سے مقصد یہ تھا :’’یا تو نے حد کو واجب کرنے والے جماع کے علاوہ چھوا ہو ۔‘‘اسی طرح حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے ۔‘‘امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ہمارے حجازی ، مصری ، شافعی اور محدثین کا اس میں اختلاف نہیں ہے کہ بوسہ لیتے ہوئے یاہاتھ سے چھوتے وقت جب ہاتھ اور عورت کے جسم کے درمیان کوئی پردہ یا کپڑے کی آڑ نہ ہو تو وضو واجب ہو جا تا ہے ۔ البتہ امام مالک بن انس ؒ فرماتے تھے :’’جب بوسہ اور ہاتھ سے چھونا بغیر شہوت کے ہوتو اس سے وضو واجب نہیں ہوتا ۔‘‘امام ابو بکر ؒ فرما تے ہیں:(آپ کے )یہ الفاظ ’’شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ‘‘اسی قبیل سے ہیں جسے میں نے کتاب الا یمان میں بیان کیا ہے کہ تصدیق (دل کے علا وہ ) کبھی دیگر اعضاء سے بھی ہوتی ہے ۔ اس شخص کے دعوے کے برعکس جس نے کچھ لوگوں کو فریب دیا ہے کہ لغت عربی میں تصدیق صرف دل سے ہوتی ہے ۔ میں نے یہ مسئلہ کتاب الایمان میں مکمل بیان کر دیا ہے ۔

أَ بُوْ بَکْرِ قَدْأَعْلَمَ النَّبِیُّﷺ ← أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ، یَأْ ثَرُہُ

Hadith 30

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 31

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِیَّﷺ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللہِ أَتَوَ صَّأُ مِن لُّحُوْمِ الْغَنَمِ؟ قَالَ إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ وَإِنْ شئْتَ فَلَا تَتَوَ ضَّأْ۔ قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِن لُّحُوْمِ الْإِبِلِ؟قَالَ: نَعَمْ ۔ قَالَ: أُصَلِّی فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أُصَلِّیْ فِیْ مَبَارِکِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: لَا ۔ قَالَ أَبُوْ بَکْرً: لَمْ نَرَ خِلَا فاًبَیْنَ عُلَمَاءِ أَھْلِ اْلحَدِیْثِ أَنَّ ھٰذَا الْخَبَرَ صَحِیْحٌ مِنْ جِھَۃِ النَّفْلِ۔ وَرُوِیَ ھٰذَا الْخَبَرَ أَیْضاً عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِیْ ثَوْرٍ، أَشْعَثُ ابْنُ أَبِی الشَّعْثَا ءِ الْمَحَارِبُّی وَ سَمَّاکُ بْنُ حَرْبٍ فَھٰؤُلَاءِ ثَلَاۃٌ مِنْ أَجِلَّۃِ رَوَاۃِ الْحَدِیْثِ ، قَدْ رَوَوْا عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی ثَوْرٍ ھٰذَا الْخَبَرَ

"حضرت جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبیﷺ سے سوال کیا تو کہا: اللہ کے رسول ! کیا میں بکریوں کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو وضو کر لو اور اگر چاہو تو وضو نہ کرو۔"اس نے عرض کی : کیا اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپ نے فرمایا:ہاں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرو۔ اس نے پوچھا : کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں(پڑھ لو) ، اس نے عرض کیا: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں کہ ہمیں علائے اہل حدیث کے درمیان اس بات پر اختلاف کا علم نہیں ہے کہ یہ حدیث نقل کے اعتبار سے صیح ہے ۔ اس روایت کو جعفر بن ابوثور سے اشعت بن ابوشعثاء مَحاربی اور سماک بن حرب نے بھی روایت کیا ہے ۔ اس طرح ان تین اکابر روایوں نے اس حدیث کو جعفر بن ابوثور سے روایت کیا ہے ۔ (یعنی عثمان بن عبداللہ ، اشعت اور سماک نے یہ روایت بیان کی ہے ۔)

جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ

Hadith 31

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 32

عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَا ءَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: أُصَلِّی فِی مَبَارِکِ الْإِبِلِ ؟قَالَ: لَا قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِن لُّحُوْمِھَا؟ قَالَ: نَعَمْ ۔ قَالَ: أُصَلِّیْ فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِن لُّحُوْمِھَا؟" قَالَ: لَا ۔ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: وَلَمْ نَرَ خِلَا فاً بَیْنَ عُلَمَاءِ أَھْلِ الْحَدِیْثِ أَنَّ ھٰذَا الْخَبَرَ أَیْضًا صَحِیْحٌ مِنْ جِھَۃِ النَّقْلِ لِعَدَ الَۃِ نَاقِلِیْہِ۔

"حضرت برا بن عازب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور عرض کی : کیا میں اونٹوں کے باڑ ے میں نماز پڑ ھ لوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے پوچھا : کیا میں ان کے گوشت سے وضو کروں ؟ آپ نے فرمایا:ہاں ۔ اس نے عرض کی : کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں(پڑھ سکتے ہو) اس نے دریافت کیا: کیا میں بکریوں کے گوشت (کھانے ) سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : علمائے اہل حدیث کے درمیان کوئی اختلاف ہمیں نہیں کہ یہ حدیث بھی نقل کے اعتبار سے صیح ہے کیونکہ اس کے روای عادل ہیں۔ "

لَا۔ ← أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ← أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ← نَعَمْ ← أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِهَا ← لَا۔ ← أُصَلِّي فِي مَبَارِکِ الْإِبِلِ ← جَا ءَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ

Hadith 32

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 33

عَنْ بَسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ: أَنَّھَا سَمِعَتِ النَّبِیَّﷺ یَقُوْلُ: إِذَا مَسَّ أَحَدُکُمْ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔ أَخْبَرَنَا أَبُوْ طَاھِرٍ حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرٍ، قَالَ : سَمْعْتُ یُوْنُسَ بْنَ عَبْدِ الْأَ عْلَی الصَّدَفِیَّ یَقُوْلُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَھْبٍ عَنْ مَالِکٍ قَالَ : أَرَی الْوُضُوْءَ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ اسْتِحْبَا باً وَلَا أُوْجِبُہُ ۔ أَخْبَرَنَا أَبُوْطَاھِرٍ ، ثَنَا أَبُوْبَکْرٍ ، ثَنَا عَلِیُّ بْنُ سَعِیْدِ النِّسَورِیُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلِ عَنِ الْوُضُوْ ءِ مِنْ مَسِّ الذِّکَرِ ، فَقَالَ: أَسْتَحِبُّہُ وَلَا أُوْجِبُہُ

"حضرت بسرہ صوان ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو اسے وضو کرنا چاہیے۔"امام مالک ؒ فرماتے ہیں، میرے نزدیک شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو کرنا مستحب ہے میں اسے واجب قرار نہیں دیتا۔ جناب علی بن سعید نسوی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل ؒ سے شرم گاہ کو چھونے سے وضو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں اسے مستحب سمجھتا ہوں ، اسے واجب قرار نہیں دیتا۔

الْوُضُوْ ءِ مِنْ مَسِّ الذِّکَرِ فَقَالَ: أَسْتَحِبُّہُ وَلَا أُوْجِبُہُ ← سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلِ ← عَلِیُّ بْنُ سَعِیْدِ النِّسَورِیُّ ← أَبُوْبَکْرٍ ← أَبُوْطَاھِرٍ ← أَرَی الْوُضُوْءَ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ اسْتِحْبَا باً وَلَا أُوْجِبُہُ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسَ بْنَ عَبْدِ الْأَ عْلَی الصَّدَفِیَّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← إِذَا مَسَّ أَحَدُکُمْ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔ ← النَّبِيِّ ← بَسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ: أَنَّھَا

Hadith 33

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 34

ثَنَاأَبُوْ بَکْرٍ، قَالَ : وَسَمَعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیٰی یَقُوْلُ : نَرَی الْوُضُوْ ءَ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ اسْتِحْبَاباً لَا إِیْجَاباً لَا إِیْجَا باً بِحَدِیْثِ عَبْدِ اللہِ بْنِ بَدْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ ۔ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ : وَکَانَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللہُ یُوْجِبُ الْوُضُوْ ءَ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ اتِّبَا عَاً بِخَبَرِ بَسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ لَا قِیَاسًا ۔ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ: وَبِقَوْلِ الشَّافِعِیِّ أَقُوْلُ۔ لِاَ نَّ عُرْوَۃَ قَدْ سَمِعَ خَبَرَ بَسْرَۃَ مِنْھَا لَا کَمَا تَوَھَّمَ بَعْضُ عُلَمَا ئِنَا أَنَّ الْخَبَرَ وَاہٌ لِطَعْنِہِ فِیْ مَرْوَانَ

"امام ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے بن یحییٰ کو فرماتے ہوئے سنا: ہمارے نزدیک حضرت طلق ؓ کی حدیث کی وجہ سے شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو کرنا مستحب ہے ، واجب نہیں ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں :امام شافعی ؒ قیاس کرنے کی بجائے حضرت بسرہ بنت صفوان ؒ کی حدیث کی اتباع کرتے ہوئے مس ذکر سے وضو کو واجب قرار دیتے تھے۔امام ابوبکر فرماتے ہیں : میں بھی امام شافعی کے فرمان کے مطابق موقف موقف رکھتا ہوں کیونکہ حضرت عروہ نے حضرت بسرہ ؓ سے یہ حدیث سنی ہے ۔ بعض علماء کے اس تو ہم کے برعکس جو کہتے ہیں کہ یہ حدیث مروان میں طعن کی وجہ سے ضعیف ہے ۔"

بِقَوْلِ الشَّافِعِیِّ أَقُوْلُ۔ لِاَ نَّ عُرْوَۃَ قَدْ ← أَبُو بَکْرٍ ← اتِّبَا عَاً بِخَبَرِ بَسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ لَا قِیَاسًا ← کَانَ الشَّافِعِیُّ یُوْجِبُ الْوُضُوْ ءَ مِنْ مَسِّ ال ← أَبُو بَکْرٍ ← قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، ← اسْتِحْبَاباً لَا إِیْجَاباً لَا إِیْجَا باً بِحَدِیْثِ عَبْدِ اللہِ بْنِ بَدْرٍ ← نَرَی الْوُضُوْ ءَ مِنْ مَسِّ ال ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← ثَنَاأَبُوْ بَکْرٍ،

Hadith 34

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 35

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُوْلَ اللہِﷺ خَرَجَ مِنَ الْخَلَا ءِ فَقُرِّبَ إِلَیْہِ طَعَامٌ فَقَالُوْا: أَلا نَأْتِیْکَ بِوَ ضُوْءِ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوْ ءِ إِذَا قُمْتُ إِلَی الصَّلَاۃِ۔ وَقَالَ الدَّوْرَقِیُّ : لِلصَّلَاۃِ

"حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ بیت الخلاء سے (قضائے حاجت کے بعد) نکلے تو آپ کی خدمت میں کھان لایا گیا۔ صحابہ کرام نے عرض کی: کیا ہم آپ کے لیے وضو کا پانی لائیں؟ آپ نے فرمایا: بے شک مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گای ہے جب میں نماز پڑھنے کےلیے کھڑا ہوں۔"دورقی کی روایت میں" الی الصلاۃ" کی بجائے" للصلاۃ" لفظ ہے ۔ (معنی ایک ہی ہے۔)

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 35

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 36

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ :خَرَ جْنَا مَعَ رَسُولْ اللہِ ﷺ فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ ، فَأَصَابَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ امْرَاَۃَ رَجُلِ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللہِﷺ قَافِلًا ، أَتٰی زَوْجُھَا وَکَانَ غَائِباً ، فَلَمَّا أُخْبِرَ الْخَبَرُ حَلَفَ لَا یَنْتَھِیْ حَتّٰی یَھْرِیْقَ فِی أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ دَماً فَخَرَجَ یَتْبَعُ أَثَرَ رَسُوْلِ اللہِﷺ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللہِ مَنْزِلًا ، فَقَالَ: مَنْ رَجُلٌ یَکْلَؤُنَا لَیْلَتَنَا ھٰذِہِ؟ فَانْتَدَبَ رَجُلٌ مِنَ الْمُھَا جِرِیْنِ وَرَجُلٌ مِنَ الأَنَصَارِ ، فَقَالَا : نَحْنُ یَا رَسُولَ اللہِ ، قال: فَکُوْنَا بِفَمِ الْشِّعْبِ ۔ قَالَ : وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِﷺ وَأَصْحَابُہُ قَدْ نَزَلُوْا إِلَی الشِّعْبِ مِنَ الْوَادِیِّ، فَلَمَّا أَنْ خَرَجَ الرَّجُلَانِ إِلٰی فَمِ الشَّعْبِ قاَلَ الْأَ نْصَارِیُّ لِلْمُھَا جِرِیِّ : أَیُّ اللَّیْلِ أَحَبُّ إِلَیْکَ أَنْ أَکْفِیَکَہُ ، أَوَّلَہُ أَوْ اٰخِرَہُ؟ قَالَ: بَلِ اکْفِنِیْ أَوَّلَہُ۔ قَالَ : فَاضْطَجَعَ الْمُھَاجِرِیُّ فَنَامَ۔ وَقَامَ الْأَنْصَارِیُّ یُصَلِّی۔ قَالَ: وَأَتٰی زَوْجُ الْمَرْأَۃِ فَلَمَّا رَأَی شَخْصَ الرَّجُلِ عَرَّفَ أَنَّہُ رَبِیْثَۃُ الْقَوْمِ۔ قَالَ : فَرَمَاہُ بِسَھْمٍ فَوَضَعَہُ فِیْہِ۔ قَالَ : فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ وَثَبَتَ قَائِماً یُصَلِّیْ۔ ثُمِّ رَمَاہُ بِسَھْمٍ اٰخَرَ فَوَ ضَعَہُ فِیْھِ ،قَالَ: فَنَزَعَہُ فَوَضَعہُ وَثَبَتَ قَائِماً یُصَلِّیْ ثُمَّ عَادَ لَہُ الثَّالِثَہَ، فَوَضَعَہُ فِیْہِ فَنَزَعَہُ فَوَضَعَہُ ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ ، ثُمَّ أَھَبَّ صَاحِبَہُ ، فَقَالَ: اجْلِسْ فَقَدْ أُثْبِتُّ۔ فَوَثَبَ ، فَلَمَّا رَاٰھُمَا الرَّجُلُ عَرَفَ أَنَّہُ قَدْ نَذِرَبِہِ، فَھَرَبَ۔ فَلَمَّا رَأْ ی الْمُھَاجِرِیُّ مَا بِالأَ نْصَارِیِّ مِنَ الدِّمَاءِ قَالَ: سُبْحَانَ اللہِ أَفَلَا أَھْبَبْتَنِی أَوَّلَ مَا رَمَاکَ؟ قَالَ : کُنْتُ فِی سُوْرَۃٍ أَقْرَأُھَا، فَلَمْ أُحِبُّ أَنْ أُقْطَعَھَا حَتَّی أَنْفَدَھَا ، فَلَمَّا تَابَعَ عَلیَّ الرَّمْیَ رَکَعْتُ فَأَذَنْتُکَ، وَأَیْمُ اللہِ لَوْلَا أَنْ أُضِیْعَ ثَغْرًا أَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللہِﷺ بِحْفِظْہِ لقَطَعَ نَفْسِیْ قَبْلَ أَنْ أُقْطَعَھَا أَوْ أُنْفِدَھَا ۔ ھٰذَا حَدِیْثُ مُحَمَّدِبْنِ عِیْسٰی

۔ "حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے(نجد کے علاقے ) نخل پر غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہﷺ کے ساتھ شرکت کی ۔ (دوران غزوہ ) ایک مسلمان نے ایک مشرک کی بیوی کو قتل کر دیا۔ (غزوے سے فارغ ہو کر ) جب رسول اللہﷺ واپس تشریف لانے لگے تو اس عورت کا شوہر آگیا جو کہ (پہلے موجود نہ تھا۔ جب اسے(اس کی بیوی کے قتل کے متعلق ) بتایا گیا کہ تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ محمد ﷺ کے صحابہ میں خون ریزی کیے بغیر باز نہیں آئے گا۔ لہٰذا رسول اللہﷺ کے تعاقب میں نکلا۔ رسول اللہﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو فرمایا:اس رات ہماری حفاظت کون کرے گا؟ (آپ کا فرمان سن کر ) ایک مہاجر صحابہ اور ایک انصاری صحابی اس کام کےلیے آمادہ ہوئے ، دونوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسو ل! ہم یہ خدمیت سر انجا م دیں گے ۔ آپ نے فرمایا : تم دونوں گاٹی کے منہ پر پہرپ دینا ۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں:رسول اللہﷺ اور اس کے صحابہ کرام وادی سے گھاٹی کی طرف اتر آئے ۔ پھر جب دونوں صحابہ گھاٹی کے منہ پر پہنچ گئے تو انصاری نے مہاجر سے کہا : آپ کو رات کا کونسا حصہ زیادہ پسند ہے کہ میں اس میں تم کو بے نیاز کردوں ، رات کا پہلا حصہ یا آخری ؟ اس نے کہا : مجھے پہلے حصے میں بے نیاز کردو(یعنی پہلے حصے میں آرام کرنے کا موقع دے دو) لہٰذا مہاجر صحابی لیٹ کر سوگئے" اور انصاری صحابی کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ۔ (اسی اثنا ء میں مقتولی) عورت کا خاوند آگیا ، جب اس نے (دور سے ) انصاری صحابی کا سایہ دیکھا تو پہچان گیا کہ وہ اپنی قوم کے نگران اور پہرے دار ہیں ۔ چناچہ اس نے انہیں تیر مارا جو ان (کے جسم ) میں پیوست ہوگیا۔ حضرت جابر کہتے ہیں: انہوں نے تیر کو کھینچ کر نکالا اور اسے رکھ دیا ۔ اور خود نماز میں مشغول رہے ۔ پھر اس نے دوسرا تیر مارا ۔ جو پھر ان ( کے جسم ) میں پیوست ہوگیا، انہوں نے اسے (جسم سے) اکھاڑا او ر (زمین پر ) رکھ دیا، پھر رکوع کیا اور سجدہ کیا (نماز مکمل کی ) پھر اپنے ساتھی کو جگایا اور کہا : اٹھو : مجھے (تیروں سے )زخمی کر دیا گیا ہے تو (چونک کر ) اٹھ بیٹھے۔ جب اس (مشرک)نے ان دونوں کو دیکھا کہ وہ اس سے خبر دار ہوگئے ہیں۔ لہٰذا وہ بھاگ گیا۔ پھر جب مہاجر صحابی نے انصاری کو خون میں لت پت دیکھا تو کہا: سبحان اللہ! آپ نے مجھے اسی وقت کیوں نہ جگا دیا جب اس نے آپ کو پہلا تیر مارا تھا؟ انہوں نے فرمایا : میں ایک ایسی سورت کی تلاوت کر رہا تھا کہ جسے پہلے بھی پڑھا کرتا تھا تو میں نے اسے مکمل کیے بغیر چھوڑنا پسند نہ کیا۔ لیکن جب اس نے مجھےمسلسل تیروں کا نشانہ بنایا تو میں نے رکوع کر لیا اور (نماز مکمل کر کے ) آپ کو اطلاع دی۔ اللہ کی قسم! اگر اس سرحد کو ضائع کرنے کا خدشہ نہ ہوتا جس کی حفاظت اور نگہابانی کا حکم رسول اللہﷺ نے دیا ہے ، تو اس سورت کو چھوڑنے یا مکمل کرنے سے پہلے وہ میری جان ختم کردیتا۔" یہ محمد بن عیسیٰ کی روایت ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ:

Hadith 36

chevron_left Previous
1234…26
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals