Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 264

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فُضِّلْنَا عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ؛ جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدًا، وَجُعِلَ تُرَابُهَا لَنَا طَهُورًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَأُوتِيتُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِنْهُ أَحَدٌ قَبْلِي، وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي".

"حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ہمہں لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے:ہمارے لیے پوری زمین مسجد بنائی گئی ہے، جب ہمیں پانی نہ ملے تو اس کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے الی بنائی گئی ہے اور ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی مانند بنائی گئی ہیں اور سورہ بقرہ کے آخر سے یہ آیات مجھے عرش تلے کےخزانے کے گھر سے عطا کی گئی ہیں۔اس میں سے مجھ سے پہلے کوئی (نبی )دیا گیا ہے نہ میرے بعد کسی کو دیا جاۓ گا۔"

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 264

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 265

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ؛ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيَّ قَطُّ إِلَّا وَهُمْ يَدِينَانِ الدِّينَ. وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرَفَيِ النَّهَارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. وَقَالَ فِي الْخَبَرِ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "قَدْ أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ. أُرِيتُ سَبِخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ" وَهُمَا الْحَرَّتَانِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي هِجْرَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "فَفِي قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أُرِيتُ سَبِخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ"، وَإِعْلَامِهِ إِيَّاهُمْ أَنَّهَا دَارُ هِجْرَتِهِمْ -وَجَمِيعُ الْمَدِينَةِ، كَانَتْ هِجْرَتَهُمْ- دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الْمَدِينَةِ سَبِخَةٌ، وَلَوْ كَانَ التَّيَمُّمُ غَيْرَ جَائِزٍ بِالسَّبِخَةِ، وَكَانَتِ السَّبِخَةُ عَلَى مَا تَوَهَّمَ بَعْضُ أَهْلِ عَصْرِنَا، أَنَّهُ مِنَ الْبَلَدِ الْخَبِيثِ، بِقَوْلِهِ: (وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا) [الأعراف: 58] لَكَانَ قَوْدُ هَذِهِ الْمَقَالَةِ أَنَّ أَرْضَ الْمَدِينَةِ خَبِيثَةٌ لَا طَيِّبَةٌ. وَهَذَا قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِنَادِ، لَمَّا ذَمَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: إِنَّهَا خَبِيثَةٌ، فَاعْلَمْ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهَا طَيْبَةَ -أَوْ طَابَةَ-، فَالْأَرْضُ السَّبِخَةُ هِيَ طَيِّبَةٌ، عَلَى مَا خَبَّرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الْمَدِينَةَ طَيْبَةُ. وَإِذَا كَانَتْ طَيْبَةَ وَهِيَ سَبِخَةٌ فَاللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ- قَدْ أَمَرَ بِالتَّيَمُّمِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ فِي نَصِّ كِتَابِهِ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعْلَمَ أَنَّ الْمَدِينَةَ طَيْبَةُ -أَوْ طَابَةُ- مَعَ إِعْلَامِهِ إِيَّاهُمْ أَنَّهَا سَبِخَةٌ. وَفِي هَذَا مَا بَانَ وَثَبَتَ أَنَّ التَّيَمُّمَ بِالسِّبَاخِ جَائِزٌ.

"نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ جب مجھے میرے والدین کی شناخت ہوئی (یعنی جب میں نے ہوش سنبھالا) تو وہ دونوں دین دار تھے۔ اور کوئی دن ہم پر ایسا نہیں گزرتا مگر اس میں صبح وشام رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لاتے تھے۔پھر مکمل حدیث بیان کی۔اور اس روایت میں ہے:تو رسو اللہ ﷺ نے فرمایا:"مجھے تمہارا ہجرت کا گھر دکھایا دیا گیا ہے ۔مجھے دوہ سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان کھجوروں والی شورزدہ زمین دکھائی گئی ہے۔لا بتین سے مراد مدینہ منورہ کے دہ حرے ہیں یعنی سیا پتھریلی زمین والے حصے پھر نبی اکرم ﷺ کی مکی سے مدینہ کی طرف ہجرت کے متعلق طویل حدیث بیان کی۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں؛نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان مجھے دہ سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان کھجوروں والی شورزدہ زمین دکھائی گئی اور آپ کا انہیں بتایا کہ وہ ان کی ہجرت کی جگہ ہے اور پورا مدینہ منورہ ان کی ہجرت گاہ تھا، میں یہ دلیل ہے کہ پورا مدینہ شورزدہ ہے اور اگر شورزدہ زمین سے تمیم کرنا نا جائز نہ ہوتا اور شورزدہ زمین ناپاک وخبیث چیز ہوتی جیسا کہ ہمارے بعض ہم عصروں کا خیال ہے، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے دلیل لیتے ہوئے:(وَالَّذِی خَبُثَ لَا یَخْرُجُ إِلاَّنَکِداً) اور جو خراب (زمین) ہے اس کی پیدی اورا بہت کم نکلتی ہے تو ان کے اس دعوے کا مطلب یہ ہوتا ہے کی مدینہ منورہ خبیث وناپاک ہے طیبہ (پاکیزہ اور عمدہ) نہیں ہے یہ بعض اہل عناد کا قول ہے جو انہوں نے مدینہ منورہ کی مذمت کرتے ہوۓ کہا کہ وہ خبیث زمین ہے، خوب جان لو! نبی اکرم ﷺ نے اسے طیبہ یا طابہ قراردیا ہ۔لہٰذا شوریدہ زمین ہی پاکیزہ ہے۔جیسا کی نبی اکرم ﷺ نے خبردی ہے کہ مدینہ منورہ طیبہ ہے

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 265

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 266

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي التَّيَمُّمِ: "ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ".

"حضرت عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمیم کے متعلق فرمایا:چہرے اور دونوں ہاتھوں کے لیے ایک ہی ضرب ہے۔"

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ذَرٍّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 266

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 267

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ [39 - ب] يَاسِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي التَّيَمُّمِ قَالَ: "ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ".

"حضرت عمار بن یاسر ؓ رسول اللہ ﷺ سے تمیم کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:چہرے اور ہاتھوں کے لیے ہی ضرب (ایک بار ہاتھ مٹی پر مارنا ہے)۔"

"ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ". ← رَسُولِ اللَّهِ فِي التَّيَمُّمِ ← عَمَّارِ بْنِ ب] يَاسِرٍ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 267

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 268

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: لَا تُصَلِّ. فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ. فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: "إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ"؛ وَضَرَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ.

"حضرت عبدالرحٰمن بن ابزی ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا تو اس نے کہا:میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا( تو میں کیا کروں؟) حضرت عمر ؓ نے فرمایا:تم نماز نہ پڑھو۔(بلکہ پانی ملنے تک انتظار کرو) تو حضرت عمار ؓ نے کہا:اے میرے امیرالمومنین! کیا آپ کو یا دنہیں جب میں اور آپ ایک سریہ میں تھے توہم جنبی ہو گئے تھے اور ہمیں پانی نہیں ملا تھا۔تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی جبکہ میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی تھی۔پھر جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس اۓ تو میں نے یہ واقعہ آپ کو بیان کیا تھا۔تو آپ نے فرمایا:تمہیں صرف اتنا ہی کافی تھا۔اور نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا پھر اس میں پھونک ماری اور اس کے ساتھ اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔"

فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ. فَلَمَّا أَتَيْنَا النَّبِيَّ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ← وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا، فَلَمْ نَجْدِ الْمَاءَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا ← عَمَّارٌ، أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ ← عُمَرُ: لَا تُصَلِّ، ← إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ ← أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ← ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، ← ذَرٍّ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 268

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 269

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عبد الله بن سعيد الأشج نا أبو يحيى - يعني التيمي - عن الأعمش عن سلمة عن كهيل عن سعيد بن عبد الرحمن عن أبيه قال : جاء رجل إلى عمر فقال : إنا نجنب وليس معنا ماء فذكر قصته مع عمار بن ياسر وقال وقال - يعني عمارا - فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته فقال : إنما كان يكفيك أن تقول بيديك : هكذا وهكذا وضرب بيديه إلى التراب ثم نفضهما ثم نفخ فيهما ومسح بهما وجهه ويديه قال أبو بكر أدخل شعبة بين سلمة بن كهيل وبين سعيد بن عبد الرحمن في هذا الخبر ذرا رواه الثوري عن سلمة عن أبي مالك و عبد الله بن عبد الرحمن بن أبزى عن عبد الرحمن بن أبزى إلا أنه ليس في خبر الثوري و شعبة نفض اليدين من التراب

"حضرت عبدالرحمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر ؓ کے پاس آیا تو اس نے کہا:ہم جنبی ہو جاتے ہیں اور ہمارے پاس پا نی نہیں ہے( تو نماز کیسے ادا کریں) پھر انہوں نے حضرت عمار بن یاس ؓ کے ساتھ ان کا واقعہ بیان کیا کہتے ہیں:اور حضرت عمار نے فرمایا: تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ کو یہ واقعہ بتایا۔آپ نے فرمایا:تیرے لیے یہ کافی تھا کہ تو اپنے دنونوں ہاتھوں سے ایسے ایسے کرتا۔"آپ نے اپنے دونوں ہاتھ مٹی پر مارے، پھر انہیں جھاڑ ا بھر ان میں پھونک ماری اور ان سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں:اس حدیث کی سند میں امما شعبہ نے سلمہ بن کھیل اور سعید بن عبداکرحٰمن کے درمیان ذر (راوی ) کو داخل کر دیا ہے اس حدیث کا امام ثوری نے سلمی سے اور انہوں نے ابو مالک اور عبد اللہ بن عبدالرحٰمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے عبدالرحمان بن ابزیٰ ؓ سے بیان کیا ہے۔مگر امام ثوری اور شعبہ کی روایت میں ہاتھوں سے مٹی جھاڑنے کا ذکر نہیں ہے

إنما كان يكفيك ← يعني عمارا فأتيت رسول الله فأخبرته ← قصته مع عمار بن ياسر ← نجنب وليس معنا ماء ← جَاءَ رَجُلٌ إلَى عُمَرَ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← كهيل ← سَلَمَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أبو يحيى يعني التيمي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 269

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 270

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَوْلُهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ: "ثُمَّ تَمْسَحَهُمَا" هُوَ النَّفْضُ بِعَيْنِهِ. وَهُوَ مَسْحُ إِحْدَى الرَّاحَتَيْنِ بِالْأُخْرَى لِيَنْفُضَ مَا عَلَيْهِمَا مِنَ التُّرَابِ.

"حضرت شقیق ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں جضرت عبداللہ اور ابو موسٰی ؓ کے ساتھ بیتھا ہوا تھا تو حضرت ابوموسٰی ؓ نے کہا:اے ابوعبدالرحمان! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر ایک شخص جنبی ہو جاۓ تو اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے، کیا وہ تمیم کرتا رہے گا؟ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا:وہ تمیم نہیں کرے گا (اور نماز پڑھے گا) تو حضرت ابوموسٰی ؓ نے کہا: کیاآپ نے حضرت عمار کا حضر عمر ؓ سے کہا ہوا قول نہیں سنا:(جس میں وہ کہتے ہیں کہ) مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ضروری کام کے لیے بھیجا تو (راستے میں) میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ ملاتو میں جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا (اور نماز پڑھ لی) پھر میں نے(واپس آکر) نبی اکرم ﷺ کو بتایا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:"تمہیں اتنا یہ کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر ان کو (آپس میں) ملتے پھر ان سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو مسح کر لیتے۔امام ابوبکر فرماتے ہیں:اس حدیث میں آپ کا یہ فرمان ثُمَّ تَمْسَحَ اس سے مراددونوں ہاتھوں سے مٹی جھاڑنا ہی ہے۔(کونکہ) النفض ایک ہتھیلی کو دوسری کے ساتھ ملنے کو کہتے ہیں تا کہ ان پر لگی ہوئی مٹی جھڑے جاۓ۔

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 270

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 271

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، نَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَإِنَّا سَرَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ السَّحَرُ قَبْلَ الصُّبْحِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ، وَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا. فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ. وَقَالَ: ثُمَّ نَادَى بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسٍ، ثُمَّ انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ. فَقَالَ لَهُ: "مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ. فَقَالَ: "عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ". ثُمَّ سَارَ وَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ، فَدَعَا فُلَانًا -قَدْ سَمَّاهُ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ- وَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ لَهُمَا: "اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ". فَانْطَلَقَا. فَتَلَقَّيَا امْرَأَةً بَيْنَ سَطِيحَتَيْنِ (1) أَوْ مَزَادَتَيْنِ -عَلَى بَعِيرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: ثُمَّ نُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا. فَسُقى مَنْ شَاءَ، وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ. قَالَ: وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، وَقَالَ: "اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "فَفِي هَذَا الْخَبَرِ أَيْضًا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُتَيَمِّمَ إِذَا صَلَّى بِالتَّيَمُّمِ ثُمَّ وَجَدَ الْمَاءَ فَاغْتَسَلَ إِنْ كَانَ جُنُبًا، أَوْ تَوَضَّأَ إِنْ كَانَ مُحْدِثًا، لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ إِعَادَةُ مَا صَلَّى بِالتَّيَمُّمِ. إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَأْمُرِ الْمُصَلِّيَ بِالتَّيَمُّمِ لَمَّا أَمَرَهُ بِالِاغْتِسَالِ بِإِعَادَةِ مَا صَلَّى بِالتَّيَمُّمِ. وَفِي الْخَبَرِ أَيْضًا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمُغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ قَبْلَ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى الْجَسَدِ غَيْرَ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ. إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَمَرَ الْجُنُبَ بِإِفْرَاغِ الْمَاءِ عَلَى نَفْسِهِ وَلَمْ يَأْمُرْهُ بِالْبَدْءِ بِالْوَضُوءِ وَغَسْلِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ، ثُمَّ إِفَاضَةِ الْمَاءِ عَلَى سَائِرِ الْبَدَنِ، كَانَ فِي أَمْرِهِ إِيَّاهُ مَا بَانَ وَصَحَّ أَنَّ الْجُنُبَ إِذَا أَفَاضَ عَلَى نَفْسِهِ كَانَ مُؤَدِّيًا لِمَا عَلَيْهِ مِنْ فَرْضِ الْغُسْلِ. وَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ بَدْءَ الْمُغْتَسِلِ بِالْوُضُوءِ ثُمَّ إِفَاضَةَ الْمَاءِ عَلَى سَائِرِ الْبَدَنِ اخْتِيَارٌ وَاسْتِحْبَابٌ لَا فَرْضٌ وَإِيجَابٌ.

"حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہم ایک رات چلتے رہے حتی کہ جب صبح سے قبل سحر کا وقت ہوا تم ہم نے پڑاؤ ڈالا، اور مسافر کے نزدیک آخری رات کی نیند سے زیادہ پر لطف لمہ کوئی نہیں ہوتا(لہٰذا ہم سو گئے) تو ہمیں سورج کی حرارت ہی نے بیدار کیا (یعنی صبح دیر تک سوتے رہے اور فجر کی نماز رہ گئی) پھر انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا اور کہا کہ پھر آپ نے نماز کے لے اذان کہلوائی اور لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوۓ تو اچانک آپ کی نظر الگ تھلک بیٹھے ایک شخص پر پڑی جس کے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔آپ نے اس سے پوچھا:اے فلاں! تجھے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا ہے؟ تو اس نے عرض کی:اے اللہ کے رسو ل ! میں جنبی ہو گیا اور (نہانے کے لیے)پانی نہیں ہے۔آپ نے فرمایا: تجھ پر پاک مٹی (سے تمیم کرنا)لازم ہے کونکہ وہ تجھے کافی ہو جاۓ گا۔پھر آپ چل پڑے (راستے میں) لوگوں نے آپ سے (پانی کی قلت کا ) شکوۃ کیا۔تو آپ نے فلاں کو بلایا۔ابورجاء نے ان کا نام بیان کیا تھا مگر عوف بھول گئے۔اور حضرت علی ؓ کو بلایا اور ان دونوں کا حکم دیا جاؤ ، ہمارے لیے پانی تلاش کرکے لاؤ تو وہ دونوں (پانی کی تلاش میں) چل پڑھے تو وہ ایک عورت سے ملے جو اپنے اونٹ پر دہ پانی کے تھیلوں یا مشکیزوں کے درمیان سوار جارہی تھی۔پھر حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا اور کہا:پھر آپ نے لوگوں میں اعلان کروادیا:"جانوروں کو پلا لو ااور خود بھی پی لو تو جس نے چاہا (اپنے جانوروں کو) پلا لیا اور جس نے چاہا خود پی لیا۔سب سے آخر میں آپ نے اس شخص کو پانی کا برتن دیا جو جنبی ہو گیا تھا۔اور فرمایا:جاؤ اسے اپنے اور اوپر بہالو(یعنی غسل کر لو) امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ تمیم کر کے نماز پڑھنے وال شخص جب پانی پا لے تو اسے غسل کرنا ہوگا اگر وہ جنبی تھا۔اور اگرمحدث تھا تو اسے وضو کرنا ہو گا لیکن تمیم کے ساتھ ادا کی گئی نمازوں کا اعادہ اس پر واجب نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تمیم کرکے نماز پڑھنے والے کو جب (پانی ملنے پر) غسل کرنے کا حکم دیا تو اس تمیم کے ساتھ پڑھی گئی نمازوں کے اعادے کا حکم نہیں دیا۔اس حدیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ غسل جنابت کرنے والے شخص پر اعضاۓ وضو کے علاوہ (باقی )جسم پر پانی بہانے سے پہلے وضو کرنا واجب نہیں ہے ۔کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے جب جنبی شخص کو اپنے جسم پرپانی بہانے کا حکم دیا تو اسے وضو اور اعضاء وضو کو دھونے سے ابتداکرنے اور پھر پورے جسم پر پانی بہانے کا حکم نہیں دیا،جنبی شخص کو آپ کے حکم سے یہ واضح اور صحیح ثابت ہو گیا کہ جنبی شخص جب اپنے جس پر پانی بہالے تو وہ فرض غسل کو ادا کرنے والا سمجھا جاۓگا۔اور اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ غسل کرنے والے شخص کا وضو سے ابتداء کرنا پھر سارے بدن پر پانی بہانا اختیاری اور مستحب عمل ہے،فرضی اور وجوبی نہیں۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← عَوْفٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 271

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 272

أَخْبَرَنَا [40 - ب] أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ فِي قَوْلِهِ: (وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ) [النساء: 43] قَالَ: "إِذَا كَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوِ الْقُرُوحُ أَوِ الْجُدَرِيُّ، فَيَجْنُبُ، فَيَخَافُ إِنِ اغْتَسَلَ أَنْ يَمُوتَ فَلْيَتَيَمَّمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "هَذَا خَبَرٌ لَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ (1).

"حضرت ابن عباس ؓ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (وإِنْ کُنْتُمْ مَرْضٰی أَوْعَلٰی سَفَرٍ) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو کے متعلق مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ:اگر مسلمان شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہو جاۓ یا اسے پھوڑے پھنسی نکل آۓ یا وہ چیچک میں مبتلا ہو جاۓ اور وہ جنبی ہو جاۓ غسل کرنے کی صورت میں موت سے ڈرے تو وہ تمیم کر لے اما ابوبکر فرماتے ہیں :اس روایت کو عطاء بن سائب کے سوا کسی نے مرفوعاروایت نہیں کیا۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعُهُ فِي قَوْلِهِ: (وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ) ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 272

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 273

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، نَا أَبِي، أَخْبَرَنِي إِيَّاهُ الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ (1) أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "مَا لَهُمْ، قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ -ثَلَاثًا- قَدْ جَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ -أَوِ التَّيَمُّمَ- طَهُورًا". شَكَّ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُ.

"حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص سردیوں میں جنبی ہو گیا تو اس نے(مسئلہ) پوچھا:تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا۔(اس نے غسل کیا) تو وہ فوت ہو گیا۔نبی اکرمﷺ کو یہ واقعہ بتایا گیا تو آپ نے فرمایا: انہیں کیا ہو ا تھا،انہوں ن اسے قتل کر دیا، اللہ تعالیٰ انہیں قتل کرے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا:((پھر فرمایا) اللہ تعالیٰ نے مٹی یا تیمیم کو پاک کرنے والا بنایا ہے حضرت ابن عباس ؓ کے بارے میں شک ہے(کہ انہوں نے مٹی کہا یا تمیم)پھریہ شک ختم ہو گیا۔"

ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ. ← إِيَّاهُ الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ عَطَاءً ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 273

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 274

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ-، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمٍ: "أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ، فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ فَرَدَّ عَلَيْهِ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ تَطْهِيرِ الثِّيَابِ بِالْغَسْلِ مِنَ الْأَنْجَاسِ

"حضرت ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت عمیر ؒ بیان کرتے کہ میں اور نبی اکرام ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت میومنہ ؓ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن یسارآۓ حتی کہ ہم حضرت ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری ؓ کی خدمت میں حاضر ہوۓ تو ابو جہیم ؓ نے فرمایا:رسول اللہ ﷺ جمل کنویں کی جانب سے تشریف لاۓ تو ایک آدمی آپ کو ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا۔تو رسول اللہ ﷺ نے سلام کا جواب نہ دیا حتی کی آپ دیوار کے پاس آۓ (اور اپنے ہاتھوں کو دیوار پر مار کر)ا پنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کیا،پھر اس کے سلام کو جواب دیا۔"

أقبلت ← عُمَيْرٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 274

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ تَطھِیرِ الثِّیَابِ بِالغَسلِ مِنَ الأَنجَاسِ · حديث 275

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُمْ، كُلَّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، نَا هِشَامٌ؛ ح وَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ. فَقَالَ: "حُتِّيهِ، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ، ثُمَّ انْضَحِيهِ". هَذَا حَدِيثُ حَمَّادٍ. وَفِي خَبَرِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: "ثُمَّ رُشِّي وَصَلِّي فِيهِ". وَفِي خَبَرِ يَحْيَى: "ثُمَّ تَنْضَحِيهِ وَتُصَلِّي فِيهِ". وَلَمْ يَذْكُرِ الْآخَرُونَ النَّضْحَ وَلَا الرَّشَّ، إِنَّمَا ذَكَرُوا الْحَتَّ، وَالْقَرْصَ بِالْمَاءِ ثُمَّ الصَّلَاةَ فِيهِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: "وحيته"، ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ [41 - أ] لَمْ يَزِدْ عَلَى هَذَا.

"حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے کپڑے کو لگ جانے والے حیض کے خون کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا:اسے کھرچ دے،پھر اسے پانی سے ملو پھر اسے چھینٹے مار لو۔یہ حماد کی حدیث ہے۔ابن عیینہ کی روایت میں ہے ثُمَّ رُشِّیَ وَصَلِّی فِیْہِ "پھر اسے پانی سے چھینٹے مار اور اس میں نماز پڑھ لے۔یحٰیی کی روایت میں ہے:ثُمَّ تَنْضَحِیْہِ وَتُصَلِّیْ فِیْہِ پھر اسے دھو کر اس میں نماز پڑھ لے باقی راویوں نے چھینٹے مارنے اور دھونے کا ذکر نہیں کیا۔انہوں نے صفر کھر چنے ،پانی سے ملنے اور پھر اس کپڑے میں نماز پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔جبکہ وکیع کی حدیث میں ہے:وُحُتِّیْہِ ثُمَّ اقْرُصِیْہِ بِالْمَاءِ اور اسے کھرچ لو پھر اسے پانی سے مل لو اس سے زیادہ الفاظ بیان نہیں کیے۔

دَمِ الْحَيْضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← کُلُّهُمْ ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity · Hadith 275

chevron_left Previous
1…2223242526
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals