Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 252

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، نَا شُعَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ-، نَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْلًا، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ؛ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا. وَقَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ". فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. ثُمَّ ذَكَرَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.

’’حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کوبیان کرتے ہوئے سنا : رسول اللہ ﷺ نے ایک گھڑا سوار لشکر بھیجا تو قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو پکڑ لائے جسے ثمامہ بن اثال کہا جاتاہے ، وہ اہل یمامہ کے سردار تھے ۔ انہوں نے اسے مسجد کے ستونوںمیں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا ۔ لہذا رسول اللہ ﷺ اس کے پاس تشریف لائے ، پھت طویل حدیث بیان کی ۔ اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ثمامہ کو کھو ل دو ۔‘‘ وہ مسجد کے قریب کھجور کے باغ میں گئے ، غسل کیا پھر مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو انہوں نے کہا: (أَشْھَدُأَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُ ہُ وَرَسُوْلُہُ)میں گوہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبو د بر حق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ پھر باقی حدیث بیان کی ۔ ‘

سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبٌ، يَعْنِي ابْنَ اللَّيْثِ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 252

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 253

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ أَبْنَاءُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ ثُمَامَةَ الْحَنَفِيَّ أُسِرَ (1) فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْدُو إِلَيْهِ، فَيَقُولُ: "مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ " فَيَقُولُ: إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ، وَإِنْ تَمُنَّ تَمُنَّ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تَرُدَّ الْمَالَ نُعْطِكَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. وَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّونَ الْفِدَاءَ، وَيَقُولُونَ: مَا يُصْنَعُ بِقَتْلِ هَذَا؟ فَمَنَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَسْلَمَ. فَحَلَّهُ وَبَعَثَ بِهِ إِلَى حَائِطِ أَبِي طَلْحَةَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ؛ فَاغْتَسَلَ. وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَقَدْ حَسُنَ إِسْلَامُ أَخِيكُمْ".

’’حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ثمامہ حنفی قیدی بنا لیے گئے (اور مسجد نبوی میں ستون سے باندھ دیے گئے ) تو نبی اکرم ﷺ پر صبح اس کے پاس جاتے اور فرماتے :ثمامہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ تو وہ کہتا :اگر آپ ( مجھے )قتل کریں گے تو خون والے کو قتل کریں گے ( کہ جس کا بدلہ لیا جائے گا ) اور اگر احسان کرو گے تو شکر گزار پر احسان کرو گے ۔ اور اگر آپ مال ودولت چاہتے ہیں تو ہم آ پ کو، جو آ پ چاہیں گے دے دیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ صحابی کرام سے فدیہ لینا پسند کرتے تھے ۔ اور کہتے تھے اس کو قتل کر کے آ پ کیا کریں گے ( یعنی اس کا کچھ فائدہ نہیں ہو گا ) چانچہ نبی اکرم ﷺ نے ایک اس پر احسان کیا ( اور اسے رہا کر دیا ) تو وہ مسلمان ہو گیا ۔ نبی ﷺ نے اسے کھول دیا اور اسے حضرت ابو طلحہ ؓ کے باغ میں بھیج دیا ، آ پ نے اسے غسل کرنے کا حکم دیا تو اس نے غسل کیا اور دو رکعت نماز ادا کی ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’تمہارے بھائی کا اسلام بہت خوب ہے ۔‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ أَبْنَاءُ عُمَرَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 253

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 254

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ: أَنَّهُ أَسْلَمَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَغَرِّ بِهَذَا: مِثْلَهُ سَوَاءً.

’’حضرت قیس بن عاصم ؓ سے روایت ہے کہ و ہ مسلمان ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پانی اور بیری (کے پتوں )سے غسل کرنے کا حکم دیا۔‘‘

الْأَغَرِّ بِهَذَا: مِثْلَهُ سَوَاءً. ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ أَبُو مُوسَى، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وسدر1. ← خَلِيفَةَ بْنِ الْحُصَيْنِ، ← الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 254

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 255

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَخْلَاهُ، فَأَسْلَمَ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ غُسْلِ التَطْهِيرِ وَالِاسْتِحْبَابِ مِنْ غَيْرِ فَرْضٍ وَلَا إِيجَابٍ

حضرت قیس بن عاصم ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے تنہائی میں ملاقات کی درخواست کی ، (آپ نے اس سے تنہائی میں ملاقات کی ) تو وہ مسلمان ہوگئے ،آپ نے انہیں پانی اور بیری (کے پتوں ) سے غسل کرنے کا حکم دیا ۔‘‘

خَلِيفَةَ بْنِ الْحُصَيْنِ، ← الْأَغَرِّ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the door to the washing of the sheath · Hadith 255

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ التَّطھِیرِ وَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ فَرضٍ وَلَا اِیجَابٍ · حديث 256

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ [37 - أ] عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَغُسْلِ الْمَيِّتِ، وَالْحِجَامَةِ".

’’حضرت عبداللہ زبیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں بیان فرمایا:’’چار کاموں سے غسل کیا جائے گا :(1)جنابت سے ،(2)جمعہ کے دن ، (3)میت کوغسل دینے سے اور (4)سینگی لگوانے سے ۔‘‘

عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ؛ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أ] ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation · Hadith 256

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ التَّطھِیرِ وَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ فَرضٍ وَلَا اِیجَابٍ · حديث 257

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: نَا زَائِدَةُ، نَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَلَا تُحَدِّثِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: بَلَى. ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "أَصَلَّى النَّاسُ؟ " فَقُلْنَا: لَا. هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: "ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ". قَالَتْ: فَفَعَلْنَا، فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ: "أَصَلَّى النَّاسُ؟ " فَقُلْنَا: لَا. هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ. فَقَالَ: "ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ". قَالَتْ: فَفَعَلْنَا. فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ. فَقَالَ: "أَصَلَّى النَّاسُ؟ " فَقُلْنَا: لَا. هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: ضَعُوا لِي مَاءً فِي الْمِخْضَبِ، فَفَعَلْنَا، قَالَتْ: فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَنُوءَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: "أَصَلَّى النَّاسُ؟ " فَقُلْنَا: لَا؛ هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؛ قَالَتْ: وَالنَّاسُ عُكُوفٌ فِي الْمَسْجِدِ، يَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ. ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

’’حضرت عبداللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے عرض کی :کیا آپ مجھے رسول اللہ ﷺ کی بیماری کے متعلق بیان نہیں کریں گی ؟ انہوں نے فرمایا :کیو ں نہیں رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے تو آ پ نے پو چھا :کیالوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ہم نے عرض کی :نہیں۔ اے اللہ کے رسول وہ آپ کے منتظر ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا :میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ، وہ کہتی ہیں :تو ہم نے آپ کے حکم کی تکمیل کی ۔ آپ نےغسل کیا ، پھر آپ (جانے کے لیے ) کھٹرے ہونے لگے تو آ پ پر بیہوشی طاری ہوگئی ۔ پھر آپ کو افاقہ ہوا تو دریافت فرمایا : کیالوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ میرے لیے ٹب میں پانی رکھو ، تو ہم نے آپ کے حکم کی تعمیل کی ( اور پانی رکھ دیا )، فرماتی ہیں :تو آ پ نے غسل کیا پھر کھڑے ہونے لگے تو آپ بے ہوش ہو گئے ،پھر آ پ کو ہوش آیا تو پو چھا :کیا لوگوں نے نماز ادا کرلی ہے ؟ ہم نے عرض کی : نہیں ، اے اللہ کے رسول ! وہ آ پ کا انتظا ر کر رہے ہیں ۔ وہ (حضر ت عائشہ ) کہتی ہیں : اور لوگ مسجد میں بیٹھے عشاء کی نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظا ر کر رہے تھے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی ۔ ‘‘

"أَصَلَّى النَّاسُ؟ فَقُلْنَا: لَا. هُمْ يَنْتَظِرُونَكَ ← بَلَى، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ ← مَرَضِ رَسُوْلِ اللہِ ← دَخَلْت عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْت إِلاَّ تُحَدِّثِينِي ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation · Hadith 257

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ التَّطھِیرِ وَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ فَرضٍ وَلَا اِیجَابٍ · حديث 258

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ -أَوْ عَمْرَةَ-، عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: "صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ، لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ فَأَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ". قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ، وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ، حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى نَحْوَهُ، وَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ يَذْكُرُهُ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: نَحْوَهُ. غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: مِنْ نُحَاسٍ، حِينَ جَعَلَ الْحَدِيثَ عَنْ عُرْوَةَ بِلَا شَكٍّ.

’’حضرت عائشہ ؓ بیا ن کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپ فوت ہو گئے تھے فرمایا :’’مجھ پر سات مشکیزوں سے پانی ڈالو جن کے سر بندھن کھولے نہ گئے ہوں ۔شاید کہ میں سکون پاؤں تو لوگوں کو وصیت کروں ۔‘‘حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں :تو ہم نے آپ کو حضرت حفصہ ؓ کے تانبے کے ٹب میں بٹھا یا اور اس مشکیزوں میں سے پانی آپ پر ڈالا حتی کہ آپ اشارہ کرنے لگے کہ تم نے تیمیل ارشاد کردی ہے ۔ (یعنی رک جاؤ ) پھرآپ باہر تشریف لے گئے ۔ ‘‘ امام صاحب اپنے استاد محمد بن یحیی سے حضرت عائشہ ہی سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں مگرانہوں نے ’’من نحاس ‘‘(پیتل کاٹب )نہیں کیا، لیکن انہوں نے یہ روایت بلاشک حضرت عروہ ہے سے بیان کی ہے ۔ جبکہ پچھلی سند میں عروہ یا عمرہ سے بیان کیا تھا )۔‘‘

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، أَوْ عَمْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation · Hadith 258

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ التَّطھِیرِ وَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ فَرضٍ وَلَا اِیجَابٍ · حديث 259

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ [37 - ب] كَانَ يَفْعَلُ. رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ حَدَّثَهُ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: رُبَّمَا تَوَضَّأَ وَنَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً.

حضرت عبداللہ بن ابی قیس ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا :رسول اللہ ﷺ جنابت کی حالت میں کیسے سوتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا :’’آپ ہر طرح کر لیا کرتے تھے ، بسا اوقات غسل کرکے سو جاتے اور بعض دفعہ وضو کرکے سو جاتے ۔ ‘‘امام صاحب اپنے استاد نصر ب بحر خولا نی سے حضرت عبد بن ابی قیس ہی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:بسا اوقات آپ وضو کرتے اور غسل کرنے سے پہلے سو جاتے ۔ تو میں نے کہا :تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جس نے اس کام میں وسعت و سہولت رکھی ہے ۔ ‘‘

بِمِثْلِهِ. ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَيْسٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← كُلُّ ذَلِكَ ب] كَانَ يَفْعَلُ. رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ. ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ نَوْمُ رَسُولِ اللَّهِ فِي الْجَنَابَةِ؟ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation · Hadith 259

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ التَّطھِیرِ وَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ فَرضٍ وَلَا اِیجَابٍ · حديث 260

أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمٍ السُّلَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الْكَتَّانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلَامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ مَا بُعِثَ وَهُوَ بِمَكَّةَ، وَهُوَ حِينَئِذٍ مُسْتَخْفِي، فَقُلْتُ: مَا أَنْتَ؟ قَالَ: "أَنَا نَبِيٌّ". قُلْتُ: وَمَا النَّبِيُّ؟ قَالَ: "رَسُولُ اللَّهِ". قَالَ: آللَّهُ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قُلْتُ: بِمَ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: "بِأَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ، وَنُكَسِّرَ الْأَوْثَانَ، وَدَارَ الْأَوْثَانِ، وَنَوْصِلَ الْأَرْحَامَ". قُلْتُ: نِعْمَ مَا أَرْسَلَكَ بِهِ. قُلْتُ: فَمَنْ تَبِعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ: "عَبْدٌ وَحُرٌّ" -يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ وَبِلَالًا- فَكَانَ عَمْرٌو يَقُولُ: رَأَيْتُنِي وَأَنَا رُبُعُ -أَوْ رَابِعُ الْإِسْلَامِ- قَالَ: فَأَسْلَمْتُ. قَالَ: أَتَّبِعُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "لَا، وَلَكِنِ الْحَقْ بِقَوْمِكَ، فَإِذَا أُخْبِرْتَ أَنِّي قَدْ خَرَجْتُ فَاتَّبِعْنِي" قَالَ: فَلَحِقْتُ بِقَوْمِي، وَجَعَلْتُ أَتَوَقَّعُ خَبَرَهُ وَخُرُوجَهُ، حَتَّى أَقْبَلَتْ رُفْقَةٌ مِنْ يَثْرِبَ، فَلَقِيتُهُمْ فَسَأَلْتُهُمْ عَنِ الْخَبَرِ. فَقَالُوا: قَدْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقُلْتُ: وَقَدْ أَتَاهَا؟ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَارْتَحَلْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَتَعْرِفُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "نَعَمْ. أَنْتَ الرَّجُلُ الَّذِي أَتَانِي بِمَكَّةَ". فَجَعَلْتُ أَتَحَيَّنُ خَلْوَتَهُ، فَلَمَّا خَلَا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلِّمْنِي مِمَّا

حضرت عمرو بن عبسہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آپ کی بعث کے ابتدائی ایام میں حاضر ہوا جبکہ آپ مکہ مکر مہ میں تشریف فرماتھے ۔ اور آپ خفیہ دعوت دینے میں مصروف تھے ۔ تو میں نے عر ض کی : آ پ کون ہیں آپ نے فرمایا :میں نبی ہوں ۔ میں نے کہا :نبی کیا ہوتا ہے ؟ آ پ نے فرمایا : (نبی ) اللہ کا رسول ہوتا ہے ۔میں نے عرض کی: کیاآپ کو اللہ نے بھیجا ہے ؟آپ نے فرمایا :ہاں ۔میں نے پو چھا :(اللہ تعالی نے ) آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا (مجھے اللہ تعالی نے یہ حکم دے کر بھیجا ہے کہ ) ہم اللہ تعالی کی عبادت کریں ،بتوں کو توڑ دیں اور بت خانے برباد کردیں اور صلہ رحمی کریں ۔ ‘‘ میں نے کہا (اللہ تعالی ٰنے ) آپ کو شاندار دعوت دے کر بھیجا ہے ۔ میں نے دریافت کیا: آپ کی اس دعوت کو کس نے قبول کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :ایک آزاد مرد اور ایک غلام نے قبو ل کی ہے یعنی حضرت ابو بکر اور بلال ؓ نے ۔حضرت عمر و ؓ کہاکرتے تھے :میں اپنے آپ کو چوتھا مسلمان سمجھتا ہوں ۔کہتے ہیں :میں مسلمان ہوگیا ۔کہتے ہیں :اے اللہ کے رسول ! میں (مکہ مکرمہ میں رہ کر ) آپ کی پیروی کروں ؟ آپنے فرمایا : نہیں ،(ابھی ) اپنی قوم میں چلے جاؤ، پھر جب تمہیں خبرملے کہ میں (غالب آگیا ہوں اور )منظر عام پر آگیا ہوں تو میری پیروی کرنا ۔ کہتے ہیں میں اپنی قوم میں چلا گیا ،اور آپ کے غلبے اور منظر عام پر آنے کا انتظار کرنے لگا ۔حتی کہ یثرب سے ایک قافلہ آیا تو میں انہیں ملا اور اس سے (نبی ﷺ کی ) خبر کے متعلق پوچھا ۔توانہوں نے کہا :رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ چلے گئے ہیں ۔ تو میں نے کہا:کیا آپ مدینہ منورہ پہنچ گئے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا:ہاں ۔کہتے ہیں :میں ( مدینہ منورہ کی طرف ) روانہ ہوا حتی کہ آپ کی خدمت میں پہنچ گیا ۔میں نے عرض کی: یارسول اللہ!کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں ؟آپ نے فرمایا :ہاں تو وہی شخص ہے جومکہ مکرمہ میں میرے پاس آیا تھا۔‘‘ تو میں آپ سے تنہائی میں ملنے کاموقع تلاش کرنے لگا ، پھر جب آپ تنہاہوئے تو میں نے عرض کی : اللہ کے رسول :مجھےوہ علم سکھا دیجیے جوآپ کو اللہ تعالیٰ نے سکھایا ہے ، اور میں تو جاہل شخص ہوں ۔ آپ نے فرمایا :جو چاہو پوچھو ۔ میں نے پوچھا : رات کا کونسا حصہ زیادہ قبولیت والا ہے ؟ آپ نےفرمایا :رات کا آخری پہر (زیادہ قبولیت والاہے )تم جتبی نماز پڑھو ۔ کیونکہ (اس وقت ) نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ لکھی جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ تم صبح کی نماز ادا کرلو ، پھر سورج طلوع ہونے تک رکے رہو ،حتی کہ وہ ایک یا دونیزوں کے برابر بلند ہو جائے ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں ۔ پھر جتنی چاہو نمازپڑھو کیونکہ (اس وقت ) نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور و ہ لکھی جاتی ہے (یعنی اس کا ثواب نمازی کے لیے لکھاجاتاہے ) حتی کہ نیزہ اپنے سائے کے برابر ہوجائے پھر (نماز پڑھنے سے ) رک جاؤ کیونکہ (اس وقت ) جہنم بھڑکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھولے جاتے ہیں ۔پھر جب سورج ڈھل جائے تو جتنی چاہو نماز پڑھو کیونکہ نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ لکھی جاتی ہے ۔ حتی کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو ۔ پھر سورج غروب ہونے لگے تو (نماز پڑھنا ) چھوڑ دو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے ۔اور (اس وقت ) کافر اس کی پوچا کرتے ہیں ۔ اور جب تم وضو کر وتواپنے ہاتھوں کو دھو لو کیونکہ جب تم اپنے ہاتھ دھوؤگے تو تمہارےگناہ انگلیو ں کے کناروں سے نکل جائیں گے ۔پھر جب تم اپنا چہرہ دھوؤ گے تو تمہارے گناہ تمہارے چہرے سے نکل جائیں گیں۔ پھر جب تم کلی کر و گے اور ناک جھاڑو گےتو تمہارے گناہ تمہارے نتھنوں سے نکل جائیں گے۔پھر جب تم اپنی کہنیاں دھوؤ گے تو تمہارے گناہ تمہاری کلائیوں سے نکل جائیں گے۔پھر جب تم اپنے سر کا مسح کر و گے تو تمہارے گناہ تمہارے بالوں کے کناروں سے نکل جائیں گے۔پھر جب تم اپنے پاؤں دھوؤ گے تو تمہارے گناہ تمہارے قدموں سے نکل جائیں گے پھر اگر تم اپنی مجلس میں بیٹھے رہے تو تمہارا وضو سے نصیب ہے (یعنی وضو کا ثواب ملے گا) اور اگر تم نے کھڑے ہو کر اپنے رب کو یاد کیا اور اس کی حمد وثنا بیان کی، اور دو رکعت نماز اپنے دل کی توجہ سے ادا کی تو تم اپنی خطاؤں سے اسی طرح(پاک صاف) ہو جاؤ گے جس طرح تم اپنی پیدائش کے دن(گناہوں سے پاک صاف) تھے۔کہتے ہیں:میں نے کہا اے عمرو! خوب سوچ سمجھ کر بات کرو کیونکہ تم بہت بڑی با ت بیان کر رہے ہو۔انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم ! میں عمر رسید ہ ہو چکا ہوں ، میرے موت کا وقت قریب ہے اور بے شک میں جھوٹ بولنے سے بے پروا ہوں(یعنی مجھے اس کی ضرورت نہیں) اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ فرمان ایک دو بار سنا ہوتا تو میں اسے بیان نہ کرتا لیکن میں نے اسے کئی بار سنا ہے ۔مجھے ابو سلام نے اسی طرح ابو امامہ سے بیان کیا ہے ۔سواۓ اس کے کہ میں کسی چیز میں بلا ارادہ غلطی کر جاؤں تو میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں۔‘‘

عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي سَلَّامٍ ← الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الْكَتَّانِيُّ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation · Hadith 260

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 261

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ -يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ-، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ، فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ. قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً.

’’حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت اسماء ؓ سے ایک ہار ادھارلیا (ایک جگہ پڑاؤ کے درمیان ) وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے کچھ صحابہ کرام کو اسے تلاش کرنے کےلیے بھیجا ۔تو نماز کاوقت ہوگیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی تو جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس کا شکوہ کیا ۔ اس پر آیت تمیم نازل ہوئی ۔ حضرت اسید بن حضیر ؓ نے کہا :(اے ام المومنین عائشہ ) اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے ، اللہ کی قسم ! جب بھی آپ کسی مشکل میں گرفتار ہوئیں تو اللہ نے آپ کی نجات کی راہ بنا دی اور مسلمانو ں کے لیے اس میں خیروبرکت عطا کردی ۔‘‘

أَبِيهِ ← هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 261

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 262

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا-[38 - ب] أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ -أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ- انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْتِمَاسِهِ. وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ. وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ. فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْه-، فَقَالُوا: أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِالنَّاسِ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ. فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

’’حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسو ل اللہ ﷺ کے کسی سفر میں آ پ کے ساتھ گئے حتی کہ جب ہم مقام بیداء یاذات جیش پر تھے تو میرا ہار ٹوٹ گیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ اس کی تلاش میں رک گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ رک گئے ۔ جبکہ وہ پانی کے مقام پر نہیں تھے ۔تولوگ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آئے اورکہنے لگے :آپ جانتے نہیں کہ عائشہ ؓ نے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور لوگوں کو ٹھہرا دیا ہے جبکہ وہ پانی کےمقام پر نہیں ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ چنانچہ ابو بکر صدیق ؓ تشریف لائے جبکہ رسول اللہ ﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے ۔‘‘پھر مکمل حدیث بیان کی ۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 262

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 263

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ -وَهُوَ سَعْدُ (1) بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ-، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فُضِّلَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى النَّاسِ بِثَلَاثٍ: جُعِلَتْ لَنَا الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَجُعِلَتْ صُفُوفُنَا كَصُفُوفِ الْمَلَائِكَةِ، وَأُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، مِنْ بَيْتِ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَ مِنْهُ أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا أَحَدٌ بَعْدِي".

لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دی گئی ہے ۔ ہمارے لیے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی بنا دیا گیا ہے ۔ ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنا دی گئی ہے ۔ اور مجھے سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات عرش کے نیچے خزانے کے گھر سے عطا کی گئی ہیں ۔ اس سے مجھ سے پہلے کسی کو کچھ دیا گیا ہے نہ میرے بعد کسی کو دیا جائے گا۔"

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← أَبِي مَالِكٍ -وَهُوَ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ الْأَشْجَعِيُّ-، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 263

chevron_left Previous
1…212223…26
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals