Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 13

عَنْ (ابْنِ )بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَ رَسُوْل ُاللہِ ﷺ یَتَوَ ضَّأُ لِکَلِّ صَلَاۃِ إِلَّا یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ فَإِنَّہُ شُغِلَ ، فَجَمَعَ بَیْنَ الظُّھْرِ وَالْعَصْرِ بِوُ ضُوْءِ وَاحِدٍ

’’ حضرت بر یدہ ؓسے روایت ہےوہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺفتح مکہ کے دن کے سوا ہر نماز کے لئے وضو کیا کرتے تھے ۔ (اس روز ) آپ مشغول ہو گئے تھے تو آپ نے ایک ہی وضو سے ظہر اور عصر (کی نمازوں ) کو جمع کر کے ادا کیا ۔

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ،

Hadith 13

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 14

عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْہِ : أَنَّ النَّبِیَّ ﷺکَانَ یَتَوَضَّأُ لِکُلِّ صَلَاۃِ ، فَلَمَّا کاَنَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ صَلَّی الصَّلَوَاتِ کُلَّھَا بِوُ ضُوْءِ وَاحِدٍ ۔ قَالَ أَبُوْ بَکْرٍ : لَمْ یُسْنِدْ ھٰذَاالْخَبَرَ عَنِ الثَّوْرِیِّ أَ حَدٌ نَعْلَمُہُ غَیْرَالْمُعْتَمِرِ وَوَکِیْعِ ،وَرَوَاہُ أَصْحَابُ الثَّوْرِیِّ وَغَیْرُ ھُمَا عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مَحَارِبٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَعَنِ النَّبِیِّ ﷺ ، فِإِنْ کَانَ الْمُعْتَمِرُ وَوَکِیْعٌ مَعَ جَلَا لَتِھِمَا حَفِظَا ھٰذَا الِإْ سْنَادَ وَاتِّصَالَہُ؟ فَھُوَ خَبَرٌ غَرِیْبٌ۔

’’ حضرت سلیمان اپنے والد حضرت بریدہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ ہر نماز کے لیے وضو کیا کرتے تھے ۔ پھر فتح مکہ والے دن آپ نے تمام نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں ۔ ‘‘ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں ’’ معمر اور وکیع کے سوا کسی نے یہ روایت امام سفیان ثوری کے شاگرد معمر اور وکیع کے علاوہ دوسرے راویوں نے یہ روایت امام سفیان سے ، انہوں نے محارب سے انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کی ہے۔جلیل القدر معتمر اور وکیع نے اگرچہ سند اور اس کے اتصال کو حفظ کیا ہے مگر یہ روایت نہایت غریب ہے ۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ

Hadith 14

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 15

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَ بْنِ حَبَّانَ عَنْ عُبَیْدِاللہِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ ،قَالَ ، قُلْتُ لَہُ : أَرَأَیْتَ وَضُوْ ءَعَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَا ۃِ طَاھِر اًکَانَ أَوْ غَیْرَ طَاھِرٍ عَمَّنْ ھُوَ ؟قَالَ : حَدَّثَتْہُ أَسْمَاءُ بِنْتُ زَیْدِ الْخَطَّابِ ، أَنَّ عَبْدَاللہِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ أَبِیْ عَامِرِ الْغَسِیْلَ حَدَّثَھَا أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ ﷺکاَنَ أُمِرَ بِالْوُ ضُوْ ءِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ طَاھِر اًکَانَ أَوْغَیْرَ طَاھِرٍ فَلَمَّا شَقَّ ذٰلِکَ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ ﷺ أُ مِرَ بِا لسِّوَ اکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عِنْہُ الْوُ ضُوْءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ وَکَا نَ عَبْدُاللہِ یَرٰی أَنَّ بِہِ قُوَّ ۃُ عَلٰی ذٰلِکَ فَفَعَلَہُ حَتّٰی مَاتَ ۔ھٰذَا حَدِیْثُ یَعْقُوْ بَ بْنِ إِبْرَاھِیْمَ ، غَیْرَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَنْصُوْرِ قَالَ :وَکَانَ یَفْعَلُہُ حَتَّی مَاتَ

’’جناب محمد بن یحٰیی ؒ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبید اللہ بن عبداللہ بن عمر سے کہا : آپ کے خیال میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا پاکی یا نا پاکی (باوضو ہو نے یا بے وضو ہونے ) کی حالت میں ہر نماز کے لیے وضو کرنا کسی سے مروی ہے ؟ حضرت عبیداللہ نے فرمایا : انہیں حضرت اسماء بنت زید بن خطاب نے بیان کیا کہ انہیں حضرت عبداللہ بن حنظلہ بن ابی عامر جنہیں فرشتوں نے ٖغسل دیا تھا ، (راوی حدیث ان کے بیٹے ہیں بذات خود نہیں ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو پاکی یا نا پاکی کی ہر حالت میں وضو کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ جب یہ کام رسول اللہﷺ کے لیے مشکل ہو گیا تو آپ کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ اور (ہر نماز کے لیے ) وضو کا حکم آپ سے ساقط کر دیا گیا، سوائے اس کے کہ آپ کا وضو ٹوٹ جائے (تو پھر وضوکرنا ہو گا )حضرت عبداللہ ؓکا خیال تھا کہ وہ اس کی (ہر نماز کےلیے نئے وضو کی ) طاقت رکھتے ہیں چنانچہ انہوں نے موت تک ایسے ہی کیا۔ یہ یعقو ب بن ابراہیم کی روایت ہے۔ محمد بن منصور کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ’’وکان یفعلہ حتی مات ‘‘وہ فوت ہونے تک اسی طرح عمل کرتے رہے۔‘‘

عُبيدِاللهِ بنِ عبدِاللهِ بنِ عمرَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ یَحْيَ بْنِ حِبَّانّ

Hadith 15

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 16

عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ: إِنَّہُ شَھِدَ عَلِیَّا صَلَّی الْظُّھْرَ ثُمَّ جَلَسَ فِی الرَّ حْبَۃِ فِی حَوَائِجِ النَّاسِ ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ دَعَا بِتَوْرِمِنْ مَاءِ فَمَسَحَ بِہِ ذِرَاعَیْہِ وَوَجْھَہُ وَرَأْسَہُ وَرِجْلَیْہ ِثُمَّ شَرِبَ فَضْلَ وُضُوْئِہِ وَھُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ نَاساً یَکْرَھُوْنَ أَنْ یَشْرَ بُوْ اوَھُمْ قِیَامٌ إِنَّ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ ، وَقَالَ :ھٰذَا وُضُوْءُ مَنْ لَّمْ یُحْدِثْ۔أَخْبَرَنَا أَ بُوْ طَاھِرِ، ثَنَا أَبُوْبَکْرِ،ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ مُوْسٰی ، ثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَ ۃَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، وَقَالَ :إِنِّی رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللہِﷺ فَعَلَ کَمَا فَعَلْتُ، وَقَالَ :ھٰذَا وُضُوْءُ مَنْ لَّمْ یُحْدِثْ

’’حضرت نزال بن سبرہؒ سے روایت ہے کہ وہ حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے ظہر کی نماز ادا کی پھر لو گوں کی ضروریات ومسائل کے (حل ) کےلیے صحن میں بیٹھ گئے ۔ پھر جب عصر کا وقت ہوا تو انہوں نے پانی کابرتن منگوایا اور اس سے اپنے دونوں ہاتھوں ، چہرے،سراور دونوں پاوں کا مسح کیا (یعنی خوب دھونے کی بجائے ہلکاپھلکا وضو کیا)پھر کھڑے ہو کر باقی ماندہ پانی پی لیا۔ پھرفرمایا:کچھ لوگ کھڑےہو کرپانی پینا ناپسند کرتے ہیں، بے شک رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی کیا تھا کہ جیسے میں نے کیا تھا۔اورفرمایا تھا :یہ اس شخص کاوضو ہے جس کا وضوٹوٹا نہ ہو ۔ حضرت نزال بن سبرہ سے مروی دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ : ’’میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا جیسے میں نے کیاہے ، اور آپ نے فرمایا :یہ اس شخص کا وضو ہے جس کا وضو ٹوٹا نہ ہو ۔‘‘ حضرت نز ال سے مروی تیسر ی روایت میں صرف یہ ہے کہ ’’یہ اس شخص کا وضو ہے جس کا وضو ٹوٹا نہ ہو ۔‘‘

Hadith 16

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 17

عَنْ زِرِّیْنِ حُبَیْشٍ قَالَ : أَ تَیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالِ الْمُرَادِیَّ أَسْأَلُہُ عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ فَقَالَ : مَاجَاءَ بِکَ یَا زِرُّ ؟قُلْتُ: ابْتِغَاءَ الْعِلْمِ ۔ قَالَ یَازِرُّ!فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَضَعُ أَجْنِحَتَھَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ رِضًا بِمَا یَطْلُبُ ۔قَالَ ، فَقُلْتُ:إِنَّہُ وَقَعَ فِی نَفْسِی شَیْءٌ مِنَ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ بَعْدَ الْغَائِطِ ۔ وَکُنْتَ امْرَءَامِنْ أَ صْحَابِ رَسُوْلِ اللہِ ﷺفَھَلْ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللہِ یَذْکُرُ مِنْ ذٰلِکَ شَئْاً؟قَا لَ نَعَمْ ۔کَا نَ یَأْ مُرُنَا إِذَاکُنَّا سَفَراً۔أَوْقَالَ مُسَافِرِ یْنَ ۔ أَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَۃَ أَیَّامِ وَلَیَا لِیْھِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَۃِ ، وَلٰکِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلِ وَنَوْمِ۔ھٰذَا حَدِیْثُ الْمَخْزُ وْمِیِّ ۔ وَقَا لَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَۃَ فِی حَدِیْثِہِ ، فَقَالَ :قَدْا بَلَغَنِیْ أَنَّ الْمَلَا ئِکَۃَ تَضَعُ أَجْنِحَتَھا

’’حضرت زربن حبیش ؒ کہتے ہیں کہ میں حضرت صفوان بن عسال مرادیؓ کی خدمت میں موزوں پر مسح کرنے کے متعلق دریافت کرنے کے لیے حاضر ہوا ۔ انہوں نے پوچھا :اے زر !کیسے آنا ہوا ؟میں نے کہا کہ علم کی تلاش میں(حاضر ہوا ہوں)انہوں نے فرمایا :اے زر !بے شک فرشتے طالب علم کی علمی طلب اور جستجو پر رضا مندی اور خوشی کے اظہار کے لیے اپنے پر بجھا دیتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی : قضائے حاجت کے بعد موزوں پر مسح کرنے کے متعلق میرے دل میں کھٹکا سا ہے ، اور آپ رسو ل اللہ ﷺکے صحابی ہیں ،کیا آپ نے رسول اللہ ﷺکو اس بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فر مایا :ہاں (سنا ہے )آپ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ جب ہم مسافر ہوں تو جنات کے سوا اپنے موزے تین دن رات تک نہ اتاریں ، پاخانہ ، پیشاب اور نیند (کی وجہ) سے ا(اتارنے کی ضرو رت نہیں )یہ مخزومی کی روایت ہے ۔ احد بن عبدہ کی روایت میں ہے : ’’مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں ۔)

الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← أَ تَیْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالِ الْمُرَادِیَّ أَسْأَلُہُ ← زِرِّیْنِ حُبَیْشٍ

Hadith 17

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 18

عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَا لِبِ ۔قَالَ : کُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءَفَا سَتْحَیَبْتُ أَنْ أَسْأَ لَ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ لِأَ نَّ ابْنَتَہُ کَانَتْ عِنْدِیْ ، فَأَمَرْتُ رَجُلَا ، فَسَأَلَہُ ،فَقَالَ :مِنْہُ الْوُضُوْءُ

’’حضرت علی بن ابو طالب ؓ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں : میں بہت زیادہ مذی والا شخص تھا ۔ میں نے ( اس بارے میں ) رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے میں شرم محسو س کی کیانکہ آ پ کی صاحبزادی میرے نکاح میں تھی ۔ میں نے ایک آ دمی کو (یہ مسئلہ پوچھنے کا ) حکم دیا تو اس نے نبیﷺ سے (یہ مسئلہ )پوچھا ،آپ نے فرمایا :مذی (نکلنے ) سے وضو کرنا ہو گا۔‘‘

کُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءَفَا سَتْحَیَبْتُ ← عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَا لِبِ

Hadith 18

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 19

عَنْ عَلِیَّ :قَا لَ: اسْتَحْیَیْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ عَنِ الْمَذِیِّ مِنْ أَ جْلِ فَاطِمَۃَ ، فَأَ مَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَ سْوَ دِ فَسَأَ لَ عَنْ ذٰلِکَ النَّبِیَّﷺ ،فَقَالَ : فِیْہِ الْوُضُوْءُ

’’حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے فاطمہ ؓ کی وجہ سے مذی کے متعلق مسئلہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہوئے شرم محسو س کی تو میں نے حضرت مقداد بن اسود کو (یہ مسئلہ پوچھنے کا ) حکم دیا ۔ انہوں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا :اس (مذی) میں وضو کرنا (واجب ) ہے ۔‘‘

فِيهِ الْوُضُوءُ ← ذَلِكَ النَّبِيُّ

Hadith 19

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 20

عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبِ ، قاِلَ : کُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءَ فَجَعَلْتُ أَ غْتَسِلُ فِی الشِّتَا ءِ حَتّٰی تَشَقَّقَ ظَھْرِیْ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّﷺ ۔أوْ ذُکِرَ لَہُ ۔فَقَالَ لِیْ :لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَیْتَ الْمَذِیَّ فَا غْسِلْ ذَکَرَکَ ، وَتَوَضَّأْ وُضُوْءَکَ، لِلْصَّلَاۃِ فَإِذَا أَنْضَحْتَ الْمَاءَ فَا غْتَسِلْ ۔قَالَ أَبُوْ بَکْرِ ،قَوْلُہُ : لَا تَفْعَلْ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِی أَقُوْلُ لَفْظُ زَ جْرِ یُرِیْدُ نَفْیَ إِیْجَا بِ ذٰلِکَ الْفِعْلِ

’’حضرت علی بن ابو طالب ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : میں بکثرت مذی والا شخص تھا ۔ میں سر دی کے موسم میں ٖغسل کرتا تھا ۔ یہاں تک کہ میری کمر سردی کی وجہ سے پھٹ گئی (اس میں درد ہونے لگا ) میں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا یا آپ کو بتا یا گیا تو آپ نے مجھے فرمایا : یہ غسل نہ کرو ، جب تم مذی (نکلی ہوئی )دیکھو تو شرم گاہ دھو لو اور نماز کے وضو جیسا وضو کر لو ،اور جب تمہاری منی نکل جائے تو غسل کرو۔ ‘‘ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں ’’لا تفعل ‘‘ نہ کرو ‘‘ کلمہ زجر ہے ،اس سےآپ کی مراد مذی نکلنے پر غسل کرنے کے وجوب کی نفی کرنا ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ

Hadith 20

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 21

عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَ سْوَدِ : أَنَّ عَلَی بْنَ أَبِیْ طَالِبِ أَمَرَہُ أَنْ یَسْأَ لَ رَسُوْ لَ اللہِ ﷺ عَنِ الرَّجُلِ إِذَادَنَا مِنْ أَھْلِہِ فَخَرَجَ مِنْہُ الْمَذِیُّ مَاذَا عَلَیْہِ ؟ قَالَ عَلِیُّ : فَإِنَّ عِنْدِیْ ابْنَۃَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ وَأَنَا أَ سْتَحْیِ أَنْ أَ سْأَ لَہُ ۔قَالَ الْمِقْدَادُ : فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ عَنْ ذٰلِکَ ۔ فَقَالَ : إِذَا وَجَدَ ذٰلِکَ أَ حَدُکُمْ فَلْیَنْضَحْ فَرْجَہُ وَلْیَتَوَضَّأُ وُضُوْءَہُ لِلصَّلَا ۃِ

’’حضرت مقداد بن اسود ؓ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابو طالب ؓ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے متعلق پوچھیں جو اپنی بیو ی کے قریب ہوتا ہے تو اس کی مذی نکل جاتی ہے اس پرکیا لازم ہے؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا :چونکہ میرے پاس (میرے نکاح میں ) رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی ہیں اس لیے میں آپ سے سوال پوچھتے ہوئے شرماتا ہوں ۔ حضرت مقداد ﷺفرماتے ہیں :تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا ۔ آپ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص یہ پائے (کہ مذی نکل گئی ہے ) تو اپنی شرم گاہ دھو لے اور وہ نماز کے لیے جیسا وضو کرتا ہے ویسا وضو کر لے ۔‘‘

ذَلِكَ ← المقداد: فسألت رسول الله ← أَ سْتَحْیِ أَنْ أَ سْأَ لَہُ ← عَلِیُّ فَإِنَّ عِنْدِی ابْنَۃََ رَسُولِ اللہِ ← الرَّجُلِ إِذَادَنَا مِنْ أَھْلِہِ فَخَرَجَ مِنْہُ الْمَذِیُّ مَاذَا عَلَیْہِ

Hadith 21

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 22

عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ، قَالَ ، قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَ بِیْ طَالِبِ :أَ رْسَلْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَ سْوَ دِإِلٰی رَسُوْلِ اللہِ ﷺ فَسَأَ لَہُ عَنِ الْمَذِیِّ یَخْرُجُ مِنَ الْإِ نْسَان کَیْفَ یَفْعَلُ ؟فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ تَوَ ضَّأْ وَانْضَحْ فَرْ جَکَ

’’حضرت ابن عباس ﷺ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابو طالب ﷺ میں نے حضرت مقداد بن اسود ﷺ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں (مسئلہ پوچھنے کے لیے ) بھیجا ۔ تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا کہ جس شخص کی مذی نکل جائے وہ کیا کرے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وضو کرو اور اپنی شرم گاہ دھو لو۔‘‘

ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 22

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 23

عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبِ ، قَالَ : کُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءَ، فَسُئِلَ لِیَ النَّبِیُّﷺعَنْ ذٰلِکَ ۔ فَقَالَ : یَکْفِیْکَ مِنْہُ الْوُضُوْءُ۔قَالَ أَبُوْبَکْرِ : وَفّٰی خَبَرَ سَھْلِ ابْنِ حُنَیْفِ عَنِ النَّبِیِّﷺ الَّذِیْ فِی الْمَذِیِّ، قَالَ: یَکْفِیْکَ مِنْ ذٰلِکَ الْوُضُوْءُ قَدْ خَرَجْتُہُ فِی بَابِ نَضْحِ الثَّوْبِ مِنَ الْمَذِیِّ

’’حضرت ابن عباس ﷺ سے روایت ہے ،وہ کہتے ہیں کہ حضرت علی بن ابو طالب ﷺ نے فرمایا : میں بہت زیادہ مذی والا شخص تھا ۔ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : مذی (نکلنے ) سے تمہارے لیے وضو کرنا کافی ہو گا ۔‘‘ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : نبی ﷺ نے مذی کے بارے میں حضر ت سھل بن حنیف کی پوری روایت کے الفاظ یوں ہیں ’’یکفیک من ذلک الوضو ء‘‘ ’’مذی نکلنے سے وضو کرنا تیرے لیے کافی ہو گا۔‘‘میں نے اسےمذی لگنے سے کپڑے دھونے کے باب میں ذکر کر دیا ہے ۔

النَّبِيِّ الَّذِي فِي الْمَذْيِ ← یَکْفِیْکَ مِنْہُ الْوُضُوْءُ۔قَالَ أَبُوْبَکْرِ وَفّٰی خَبَرَ سَھْلِ ابْنِ حُنَیْفِ ← کُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءَ، فَسُئِلَ لِیَ النَّبِیُّﷺعَنْ ذٰلِکَ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ،

Hadith 23

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 24

عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ : إِذَا وَجَدَأَحَدُکُمْ فِی بَطْنِہِ شَیْئاً فَأَ شْکَلَ خَرَجَ مِنْہُ شَیْ ءٌ أَوْلَمْ یَخْرُجْ ، فَلَا یَخْرُجْ حَتّٰی یَسْمَعَ صَوْتًا أَ وْیَجِدَ رِیْحًا ۔ ھٰذَا حَدِیْثُ خَالِدِ بْن ِعَبْدِاللہِ

’’حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص کو اپنے پیٹ سے کچھ نکلا ہے یا نہیں نکلا تو وہ ( مسجد سے ) نہ نکلے حتی کہ آواز سن لے یا بو محسوس کرے ۔‘‘یہ خالد بن عبد اللہ کی روایت ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ،

Hadith 24

chevron_left Previous
1234…26
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals