Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17758

[ 17536 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ عبد الرحمن بن الحسن القاضي ثنا إبراهيم بن الحسين ثنا آدم بن أبي إياس ثنا ورقاء عن بن أبي نجيح عن مجاهد قال أسلم عياش بن أبي ربيعة وهاجر إلى النبي صلى الله عليه وسلم فجاءه أبو جهل بن هشام وهو أخوه لأمه ورجل آخر معه فقال له إن أمك تناشدك رحمها وحقها أن ترجع إليها فأقبل معهما فربطاه حتى قدما به مكة فكانا يعذبانه

17758 - حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ عیاش بن ابی ربیعہ نےا سلام قبول کیا اور نبی اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کی تو ان کے پاس ان کے اخیانی بھائی ابو جہل بن ہشام اور ان کے ستاھ ایک اور آدمی آیا اور انہوں نے ان سے کہ اکہ تیری ماں تجھے اپنی قربت اور اپنے حق کی قسم دیتی ہے کہ تو اس کی طرف لوٹ آتو حضرت عیاش بن ابی ربیعہ ان کے ساتھ لوٹ آئے تو انہوںنے ان کو باندھ دیا اور مدینہ میں لا کر طرح طرح کی سزا ئیں دیں۔

أسلم عياش بن أبي ربيعة ← مُجَاهِدٍ ← بن أَبِي نَجِيحٍ، ← وَرْقَاءُ ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ عبد الرحمن بن الحسن القاضي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17758

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17759

[ 17537 ] أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا سفيان عن عمرو عن عكرمة قال كان ناس بمكة قد أقروا بالإسلام فلما خرج الناس إلى بدر لم يبق أحد إلا أخرجوه فقتل أولئك الذين اقروا بالإسلام فنزلت فيهم { إن الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم } إلى قوله { وساءت مصيرا إلا المستضعفين من الرجال والنساء والولدان لا يستطيعون حيلة ولا يهتدون سبيلا } حيلة نهوضا إليها وسبيلا طريقا إلى المدينة فكتب المسلمون الذين كانوا بالمدينة إلى من كان بمكة فلما كتب إليهم خرج ناس ممن أقروا بالإسلام فاتبعهم المشركون فأكرهوهم حتى أعطوهم الفتنة فأنزل الله عز وجل فيهم { إلا من أكره وقلبه مطمئن بالإيمان }

17759 - حضرت عکرمہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نے کہا میں السما کا اقرار کر لیا جب لوگوں نے بدر کی طرف کوج کی اتو انہوں نے ان کو بھی نکلوا لیا اور ساتھ لے لیاتو یہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا قتل کر دیے گئے تو ان کے بارے میں یہ ایات نازل ہوئی اس قول تک جب طالم لوگوںکی فرشتے روحیں قبض کرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں تم کن میں تھے ؟ کا معنی ہے اسکی طرف اٹھنا جانا اور کامعنی ہے مدینہ کی طرف راستہ پس مدینہ کے مسلمانوں نے مکہ کے مسلمانوں کی طرف خط لکھے جب ان کی طرف خط لکھے گئے تو مکہ کے ان نو مسلمانوں میں سے کچھ نکلے تو مشرکین نے ان کو پکڑ لیا اور ان کو طرح طرح کی مصیبتوں سے دو چار کیا تو ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی جس پر جبر کیا گیا اور اس کا دل ایمان سے لبریز ہو تو اس پر کلمہ کفر کہنے پر کوئی گناہ نہیں۔

عِكْرِمَةَ، ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أبو محمد عبد الله بن يوسف أنبأ أبو سعيد بن الأعرابي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17759

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17760

[ 17538 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي قالا أنبأ أبو بكر سهل بن أحمد بن زكريا القطان ثنا أحمد بن محمد بن عيسى ثنا أبو نعيم ثنا شيبان عن يحيى عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم لما قال سمع الله لمن حمده قبل أن يسجد قال اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة اللهم أنج سلمة بن هشام اللهم أنج الوليد بن الوليد اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين اللهم أشدد وطأتك على مضر اللهم اجعل سنين كسني يوسف رواه البخاري في الصحيح عن أبي نعيم وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شيبان

17760 – حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کہتے تو سجدہ کرنے سے پہلے آپ ان لوگوں کے لیے دعا کرتے اے اللہ ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے اے اللہ ! ولید بن ولید کو نجات دے اے اللہ مومنین میں سے جو کمزور لوگ ہیں ان کو نجات دے اے اللہ ! اپنی پکڑ کو مضر قبیلے پر سخت کر دے اے اللہ ان پر ایسی قحط سالی ڈال جس طرح تو نے یوسف کے لوگوں پرقحط سالی ڈالی تھی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى ← شَيْبَانَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أنبأ أبو بكر سهل بن أحمد بن زكريا القطان ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17760

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17761

[ 17539 ] أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنبأ أبو منصور العباس بن الفضل ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا هشيم عن أبي بشر عن سعيد بن جبير أن رجلا من خزاعة كان بمكة فمرض وهو ضمرة بن العيص بن ضمرة بن زنباع فأمر أهله ففرشوا له على سرير فحملوه وانطلقوا به متوجها إلى المدينة فلما كان بالتنعيم مات فنزلت { ومن يخرج من بيته مهاجرا إلى الله ورسوله ثم يدركه الموت فقد وقع أجره على الله }

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ خزاعہ قبیلہ سے ایک آدمی مکہ میں تھا اور وہ بیمار ہو گیا اس کا نام ضمرہ بن عیض تھا یا عیص ابن ضمرہ بن زنباع تھا اس نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ وہ اسے مدینہ پہنچائیں انہوں نے اسے چار پائی پر اتھا لیااو رمدینہ کی جانب سفر کر دفی اجب وہ تنعیم مقام پر پہنچے تو یہ آدمی سفر میں ہی فوت ہو گیا تو اس وتق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جو شخص اپنئ گھر سے اللہ کے لیے ہجرت کرلے اور پھراسے راسرتے میں موت آجائے تو اس کا اجر اللہ پر واقع ہو گی ایہی تفسیر حسن بسری اور دوسرے مفسرین نے کی ہے ۔

أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو نصر بن قتادة أنبأ أبو منصور العباس بن الفضل

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17761

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17762

[ 17540 ] حدثنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو جعفر البغدادي ثنا أبو علاقة حدثني أبي ثنا بن لهيعة عن أبي الأسود عن عروة بن الزبير قال كان العباس بن عبد المطلب رضى الله تعالى عنه قد أسلم وأقام على سقايته ولم يهاجر

حضرت عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عباس نے اسلام قبول کیا آپ مکہ میں حاجیوں کو پانی پلانے والے عہد و پر کام کرتے رہے او ر ہجرت نہ کی ۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← بن لهيعة ← أَبِي ← أبو علاقة ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو جعفر البغدادي

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17762

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17763

[ 17541 ] حدثنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال ثم إن أبا العاص رجع إلى مكة بعد ما أسلم ولم يشهد مع النبي صلى الله عليه وسلم مشهدا ثم قدم المدينة بعد ذلك فتوفي في ذي الحجة من سنة أثنتي عشرة في خلافة أبي بكر رضى الله تعالى عنه وأوصى إلى الزبير بن العوام قال الشافعي رحمه الله كان يأمر جيوشه أن يقولوا لمن أسلم إن هاجرتم فلكم ما للمهاجرين وإن أقمتم فأنتم كأعراب المسلمين وليس يخيرهم إلا فيما يحل لهم

17763 - محمد بن اسحاق فرماتے ہی کہ ابو العاس اسلام قبول کرنے کے بعد پھر مکہ میں لوٹ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں شرکت نہ کی اس کے بعد پھر مدینہ میں آئے اور ذی الھجہ سن 12 ابو بکر کی خلافت میں وفات پائی اور زبیر بن عوام کی وسیت کی ۔

ثُمَّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17763

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17764

[ 17542 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر ثنا الحسن بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا وكيع عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا بعث أميرا على سرية أو جيش أوصاه في خاصة نفسه بتقوى الله وبمن معه من المسلمين خيرا وقال إذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى إحدى ثلاث خصال أو خلال فأيتهن أجابوك إليها فاقبل منهم وكف عنهم ادعهم إلى الإسلام فإن أجابوك فاقبل منهم وكف عنهم ثم ادعهم إلى التحول من دارهم إلى دار المهاجرين واعلموا أنهم إن فعلوا ذلك أن لهم ما للمهاجرين وأن عليهم ما على المهاجرين فإن أبوا واختاروا دارهم فأعلمهم أنهم يكونون مثل أعراب المسلمين يجري عليهم حكم الله الذي كان يجري على المؤمنين ولا يكون لهم في الفيء والغنيمة نصيب إلا أن يجاهدوا مع المسلمين وذكر الحديث رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة عن وكيع قال الشيخ وقد وردت أخبار في مثل هذا المعنى

17764 - حضرت سلیمان بن بریدہ وپانے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ کسی کسی کو لشکر پر امیر مقر رکر کے بھیجتے تو اسے خاص طور پر تقویٰ اختیا رکرنے کا حکم دیتے اور اسے یہ بھی حکم دیتے کہ جب تیری ملاقات اپنے ملاقات اپنے مشرک دشمنوں سے ہوتو پہلے ان کو تین چیزوں کی دعوت دینا اگر وہ تین میں سے کسی ایک کو بھی قبول کر لیں تو تم ان کی اس بات کو مان لین ااور ان سے قتال نہ کر نا سب سے پہلے ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دینا اگر وہ قبول کر لیں تو تم بھی ان سے ان کے اسلام کو قبول کرنا اور ان سے قتال نہ کرنا پھر ان کو اس جگہ کو بدلنے کا حکم دینا ان کو دار الا سلام کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دینا اور ساتھ یہ بھی بتا دینا کہ اگر وہ یہ کام کرتے ہیں تو ان کے حقوق و فرائض ویسے ہی ہوں گے جیسے باقی مہاجرین کے ہیں اور اگر وہ ہجرت سے انکار کریں اور اپنے وطن اور شہر کو پسند کریں تو ان ست کہنا کہ اس صورت میں تمہارے حقوق وفرائض دیہات کے مسلمان جیسے ہوں گے اور ان کا مال فیٰ او ر مال غنیمت میں کوئی حصہ نہ ہو گا سوئاے اس صور ت کے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد کریں۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17764

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17765

[ 17543 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو عبد الله إسحاق بن محمد بن إسحاق السوسي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبا العباس بن الوليد البيروتي أنبأ أبي أخبرني الأوزاعي ثنا الزهري حدثني عطاء بن يزيد الليثي حدثني أبو سعيد الخدري رضى الله تعالى عنه أن أعرابيا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فسأله عن الهجرة فقال إن الهجرة شأنها شديد فهل لك إبل قال نعم قال فهل تمنح منها قال نعم قال فهل تحلبها يوم وردها قال نعم قال فاعمل من وراء البحار فإن الله لن يترك من عملك شيئا أخرجه البخاري ومسلم في الصحيح من حديث الأوزاعي

17765 – حضرت ابو سعی دخدری فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ای دیہاتی آیا اس نے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ہجرت کا معاملہ بڑا مشکل ہے کیا تیرے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نےکہا: جی اپ نے فرمایا: ان میں سے کسی اونٹ کو عاریتا دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں آپ نے فرمایا: کیا س کے درود کے دن اس کا دودھ دوہتے ہو اور تقسیم کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی آپ نے فرمایا: تو پھر ان کو لے کر دریساؤں او رجنگلوں کی طر ف نکل جاؤ اور وہاں جا کر اچھے اعمال کرو اللہ تعالیٰ تیرے اعمال مین کچھ کو بھی کمی نہیں کرے گا ۔

أبو سعيد الخدري رضى الله تعالى عنه ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبا العباس بن الوليد البيروتي أنبأ أبي ← أبو عبد الله إسحاق بن محمد بن إسحاق السوسي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17765

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17766

[ 17544 ] أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل أنبأ أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنبأ سريج بن النعمان أبو الحسين ثنا فليح يعني بن سليمان عن هلال بن علي عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة رضى الله تعالى عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من آمن بالله ورسوله وأقام الصلاة وصام رمضان كان على الله أن يدخله الجنة هاجر في سبيل الله أو حبس في أرضه التي ولد فيها قالوا يا رسول الله أفلا تنبىء الناس بذلك قال إن في الجنة مائة درجة أعدها للمجاهدين في سبيله ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس فإنه أوسط الجنة وأعلى الجنة وفوقه عرش الله ومنه تفجر أنهار الجنة رواه البخاري في الصحيح عن يحيى بن صالح عن ولده فليح

17766 - حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو آدمی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا نماز قائم کی اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ اسے رور جنت میں داخل کرے گا چاہے وہ ہجرت کرے یااپنی ہی پیدائش والی جگہ پر بیتھا رہے صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول کیا ہم اس چیز کی لوگوں کو خبر نہدے دیں؟آپ نے فرمایا: بے شک جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان مجاہدین کے لیے تیار کیے ہیں جو ا سکے راستے میں جہاد کرتے ہیں او رہر دور جوں کا درمیانی فاسلہ انتنا ہے جتنا آسمان اور زمین کا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ← فليح يعني بن سليمان ← أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنبأ سريج بن النعمان أبو الحسين

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17766

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17767

[ 17545 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق أنبأ أبو مسلم ثنا علي بن عبد الله ثنا جرير ح وأنبأ أبو الحسن العلاء بن محمد بن أبي سعيد الإسفرائيني بها أنبأ أبو سهل بشر بن أحمد ثنا إبراهيم بن علي الذهلي ثنا يحيى بن يحيى أنبأ جرير عن منصور عن مجاهد عن طاوس عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح فتح مكة لا هجرة ولكن جهاد ونية وإذا استنفرتم فانفروا رواه البخاري في الصحيح عن علي بن المديني وعثمان بن أبي شيبة عن جرير ورواه مسلم عن يحيى بن يحيى وقوله صلى الله عليه وسلم لا هجرة يعني والله أعلم لا هجرة وجوبا على من أسلم من أهل مكة بعد فتحها فإنها قد صارت دار إسلام وأمن فلا يخاف أحد فيها أن يفتن عن دينه وكذلك غير مكة إذا صار في معناها بعد الفتح في الأمن

17767 – حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: فتح مکہ کے دن کوئی ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت باقی ہے او رجب تمہیں جہاد کی طرف بلایا جائے تو پھر تم نکلو۔ آپﷺ کے اس فرمان کا مطلبہ ہے کہ اہل مکہ مین سے جس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا ہے اس پر کوئی ہجرت واجب نہیں کیونکہ یہ دارالا سلام اور دار الا من بن گیا ہے اور کسی کو اس کےدین کے متعلق اس شہر میں فتنہ کا ڈر نہیں اور اسی طرح مکہ کے علاوہ دوسری جگہیں جب کہ وہ فتح ہونے کے بعا من و امان کا گہوارہ بن جائیں۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17767

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17768

[ 17546 ] وفي مثل ذلك ورد ما أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد ثنا الأسفاطي العباس بن الفضل ثنا سويد ح وأنبا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن النضر الجارودي أنبأ بشر بن آدم وسويد بن سعيد ثنا علي بن مسهر عن عاصم عن أبي عثمان قال أخبرني مجاشع بن مسعود السلمي قال جئت بأخي أبي معبد إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد الفتح فقلت يا رسول الله بايعه على الهجرة قال قد مضت الهجرة لأهلها فقلت يا رسول الله فعلى أي شيء تبايعه قال على الإسلام والجهاد والخير فبايعه قال أبو عثمان فلقيت أبا معبد فأخبرته بقول مجاشع فقال صدق رواه مسلم في الصحيح عن سويد بن سعيد وأخرجه البخاري من وجه آخر عن عاصم الأحول

17768 - حضرت مجاشع بن مسعود سلمی کہتے ہیں کہ میں اپنے بھائی ابو معبد کو فتح مکہ کے بعد رسول اکرم ﷺ کے پاس لے کر آیا اور میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ان سے ہجرت پر بیعت لیں تو آپ نے فرمایا: ہجرت جنہوں نے کرنی تھی انہوںنے کر لی تو میں نے کہا: یا رسول تو پھر آپ ان سے کسی چیز پر بیعت لیں گے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسلام جہاد اور خیر پر پھر آپﷺ نےا نسے بیع تلی ابو عچمان کہتے ہیں کہ میری ملاقات زابو معبد سے ہوئیتو میںنےان کو مجاشع کے قل کی خبر دی تو انہوں نے کہا کہ مجاشع نے سچ کہا۔

جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ ← مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← محمد بن النضر الجارودي أنبأ بشر بن آدم وسويد بن سعيد ← وأنبا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو عبد الله محمد بن يعقوب ← سُوَيْد ← الأسفاطي العباس بن الفضل ← علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد ← وَفِي مِثْلِ ذَلِكَ وَرَدَ مَا:

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17768

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17769

[ 17547 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا أبو الربيع سليمان بن داود ثنا فليح بن سليمان عن الزهري عن عمر بن عبد الرحمن بن أمية أن أباه أخبره عن يعلى بن منية رضى الله تعالى عنه قال جئت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثاني يوم الفتح فقلت يا رسول الله بايع أبي على الهجرة قال بل أبايعه على الجهاد وقد انقطعت الهجرة يوم الفتح كذا وجدته وإنما هو عمرو بن عبد الرحمن

17769 – حضرت یعلیٰ بن امیہ فرماتے ہیں کہ میں فتح مکہ کے دن اپنے والد کو رسول اللہﷺ کے پاس لے کر آیا اور آپ ﷺ سے کہا یا رسول اللہ میرے والد سے ہجرت پر بیعت لیجیےتو آپ ے فرمایا: نہیں بلکہ میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں کیونکہ ہجرت فتح مکہ کے دن سے منقطع ہو گئی ہے ۔

جئت رسول الله ثاني يوم الفتح فقلت ← يعلى بن منية رضى الله تعالى عنه ← عمر بن عبد الرحمن بن أمية أن أباه ← الزُّهْرِيِّ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← أبو الحسن علي بن محمد المقري أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17769

chevron_left Previous
1…1,7631,7641,765…1,818
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer25. Group reading doors26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead