سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب اختلاف نية الإمام والمأموم وغير ذلك · حديث 5100
[ 4879 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو زكريا يحيى بن إبراهيم قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أخبرنا الربيع بن سليمان أخبرنا الشافعي أخبرنا سفيان بن عيينة أنه سمع عمرو بن دينار يقول سمعت جابر بن عبد الله يقول كان معاذ يصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم العشاء أو العتمة ثم يرجع فيصليها لقومه من بني سلمة قال فأخر النبي صلى الله عليه وسلم العشاء ذات ليلة فصلى معاذ معه ثم رجع فأم قومه فقرأ بسورة البقرة فتنحى رجل من خلفه فصلى وحده فقالوا له أنافقت فقال لا ولكني آتي وإن معاذا صلى معك ثم رجع فأمنا فافتتح بسورة البقرة فلما رأيت ذلك تأخرت وصليت وإنما نحن أصحاب نواضح نعمل بأيدينا فأقبل النبي صلى الله عليه وسلم على معاذ فقال أفتان أنت يا معاذ أفتان أنت اقرأ بسورة كذا وسورة كذا
جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ معاذ نبی ﷺ کے ساتھ عشا کی نماز پڑھتے پھر بنو سلمہ جو جا کر عشا کی نماز پڑھاتے ۔ راوی کہتے ہیں: ایک دن نبی نئے عشا کی نماز مؤخر کر دی معاذ نے نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی پھر انہوں نے واپس آکر اپنی قوم کی امات کرواےی اور اس میں سورہ بقرہ پڑھی ۔ ایک شخص نے الگ ہو کر نما زپڑھ لی ۔ انہوں نےکہا: کیا تو منافق ہو گیا ہے ؟ کہنےلگا نہیں میں نبی ﷺ کے پاس جاؤں گا اور جا کر عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ! آپﷺ نے نماز میں تاخیر کی اور معاذ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ پھر واپس آکر ہماری امامت کروائی اور اس نے سورہ بقرہ شروع کر دی ۔
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو زكريا يحيى بن إبراهيم، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on · Hadith 5100
