سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب سجود التلاوة · حديث 3425
رواہ مسلم عن محمد بن رمح۔ ورواہ عبید اللہ بن أبی جعفر عن الأعرج عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: سجدت مع رسول اللہﷺ۔ فی( اذا السماء انشقت) و ( اقرا باسم ربک الذی خلق) سجدتین۔ أخبرناہ أبو عبداللہ الحافظ أخبرنا اسماعیل بن أحمد حدثنا محمد بن الحسن بن قتیبۃ حدثنا حرملۃ بن یحیی أخبرنا ابن وھب أخبرنی عمرو عن عبید اللہ بن أبی جعفر فذکرہ ۔ رواہ مسلم فی الصحیح عن حرملۃ بن یحیی۔
سیدنا ابو دردا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نماز پڑھ رہے تھے ہم نے سنا کہ آپ نے تین مرتبہ پڑھا۔ پھر فرمایا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں ۔ یہ کلمات بھی تین بار کہے اور اپنے ہاتھ پھیلائے گویا کوئی چیز پکڑ رہے ہیں ۔ جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے نماز میں آپ ﷺ کو کچھ ایسے کلمات کہتے سنا جو اس سے پہلے آپ نہی کہا کرتے تھے اور ہم نے آپ کو نماز میں ہاتھ پھیلائے دیکھا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس اللہ کی اس پر پھٹکار پڑے وہ آگ کا شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ میرے چہرے کے سامنے ڈال دے تو میں نے تین بار پڑھا پھر کہا میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں پھر بھی وہ پیچھے نہ ہٹا تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں اگر ہمارے بھائی سلیمان کیدعا نہ ہوئی تو میں اسے پکڑ کر باندھ لیتا تاکہ اہل مدینہ کے بچے اس سے کھیلتے۔ ابو ہریہر سے اس کے ہم معنی حڈیث فوت ہونے والی قضا نمازوں کے مسئلے میں گزر چکی ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← رواہ عبید اللہ بن أبی جعفر ← مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← رَوَاهُ مُسْلِمٌ،
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of prostration of recitation · Hadith 3425
