سنن الکبری البھیقی · کتاب الصلاة ‹ جماع أبواب إثبات إمامة المرأة وغيرها · حديث 5353
[ 5136 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر بن حفص المقري بن الحمامي رحمه الله ببغداد ثنا أحمد بن سلمان النجاد ثنا جعفر بن محمد بن شاكر ثنا أبو نعيم ثنا الوليد بن جميع حدثتني جدتي عن أم ورقة بنت عبد الله بن الحارث وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها ويسميها الشهيدة وكانت قد جمعت القرآن وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين غزا بدرا قالت تأذن لي فأخرج معك أداوي جرحاكم أمرض مرضاكم لعل الله تعالى يهدي لي شهادة قال إن الله تعالى مهد لك شهادة فكان يسميها الشهيدة وكان النبي صلى الله عليه وسلم قد أمرها أن تؤم أهل دارها وإنها غمتها جارية لها وغلام كانت قد دبرتهما فقتلاها في إمارة عمر فقيل إن أم ورقة قتلتها جاريتها وغلامها وأنهما هربا فأتى بهما فصلبهما فكانا أول مصلوبين بالمدينة فقال عمر رضى الله تعالى عنه صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول انطلقوا نزور الشهيدة
ام ورقہ بنت عبداللہ بن حآرث فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ ان کے پاس آتے ۔ آپ نے ان کا نام شہید رکھا ہوا تھا ۔ ان کو قرآن اد تھا۔ نبی ﷺ جب غزوہ بندر کے لیے نکلے تو کہنے لگیں: مجھے بھی اجازت دیں تاکہ میں زخمیوں کو دوائی دوں گی اور مریضوں کی تیمار داری کروں گی ۔ شاید اللہ مجھے بھی شہادت دے دے ۔ آپﷺ نے فرمایا: اللہ تجھے شہادت ک اہدیہ دینے والا ہے ۔ آپﷺ ان کا نام شہید لیتے تھے ۔ نبی ﷺ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کروائے ۔ ان کی لونڈی اور غلام نے مل کر ان کو عمر کے دور حکومت میں مار ڈالا۔ کہا گیا کہ ام ورقہ کو اس کے غلام اور لونڈی نے قتل کر دیا ہے اور وہ دونوں بھاگ گئے ۔ ان کو پکڑ کر لایا گیا اور سولی دی گئی ۔ حضرت عمر نے فرمایا: رسول اللہﷺ نے صحیح فرمایا تھا کہ چلو ہم شہید سے ملنے چلیں۔
الْوَلِيدُ بْنُ جَمِيعٍ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ← أبو الحسن علي بن أحمد بن عمر بن حفص المقري بن الحمامي
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Prayer book › Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others · Hadith 5353
