سنن الکبری البھیقی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جماع أبواب التيمم · حديث 989
[ 934 ] أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا إسماعيل بن قتيبة ثنا يحيى بن يحيى قال قرأت على مالك ح وأخبرنا أبو عبد الله ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب إملاء ثنا السري بن خزيمة ثنا عبد الله بن مسلمة عن مالك عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة أنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره حتى إذا كنا بالبيداء أو بذات الجيش انقطع عقد لي فأقام رسول الله صلى الله عليه وسلم على التماسه وأقام الناس معه وليسوا على ماء وليس معهم ماء فأتى الناس إلى أبي بكر فقالوا ألا ترى ما صنعت عائشة أقامت برسول الله صلى الله عليه وسلم وبالناس معه وليسوا على ماء وليس معهم ماء فجاء أبو بكر الصديق رضى الله تعالى عنه ورسول الله صلى الله عليه وسلم واضع رأسه على فخذي قد نام فقال حبست رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس معه وليسوا على ماء وليس معهم ماء قالت فعاتبني أبو بكر وقال ما شاء الله أن يقول وجعل يطعن بيده على خاصرتي فما يمنعني من التحرك لإمكان رسول الله صلى الله عليه وسلم على فخذي فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أصبح على غير ماء فأنزل الله عز وجل آية التيمم فتيمموا فقال أسيد بن حضير وهو أحد النقباء ما هي بأول بركتكم يا آل أبي بكر قالت عائشة فبعثنا البعير الذي كنت عليه فوجدنا العقد تحته لفظ حديث القعنبي رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف وغيره عن مالك ورواه مسلم عن يحيى بن يحيى
سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم بیدار یا ذات الحیش جگہ پر پہنچے تو میرا ہار گم ہو گیا اس کی تلاش میں رسول الہﷺ نے قیام کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ قیام کیا اور وہا ںپانی نہیں تھا اور نہ ان کے پاس پانی نہ تھا لوگ سیدنا ابو بکر کے پاس آئے اور عرض کیا: آپ نہیں دیکھتے کہ عائشہ نے کیا کیا/ انہوں نے رسول اللہﷺ کو اور لوگوں کے ٹھہرا دیا اور وہ پانی پر نہیں تھے اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا۔ ابو بکر صدیق آئے اور رسول اللہﷺ میرے ران پر سر رکھے ہوئے تھے آپ سوئے ہوئے تھے تو انہوں نے کہا تو نے رسول اللہﷺ اور لوگوں کو روک دیا ہے اور وہ پانی پر نہیں تھے اور ان کے پاس بھی پانی نہیں تھا فرماتی ہیں کہ ابو بکر صدیق نے مجھے ڈانٹا جو اللہ نے چاہا کہا اور وہ میری کھو کھ میں اپنے ہاتھ سے چو کا مارتے تھے اور میں اس وجہ سے حرک نہیں کرتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ اپنا سر میری ران پر رکھے ہوتے تھے ۔ رسول اللہﷺ سو گئے یہاں تک کہ لوگوں نے بغیر پانی کے صبح کی۔ اللہ نے تمیم کی آیت نازل کر دی انہوں نے تمیم کیا۔ اسید ب حضیر جو نقیبوں مین سے تھے فرمانے لگے ۔ اے آل ابو بکر! یہ تمہاری وجہ سے پہلی برکت نہیں ہے ۔عائشہ فرماتی ہیں: ہم نے اونٹ کو اٹھایا جس پر آپﷺ تھے تو ہم نے ہار اس کے نیچے پایا۔
عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،
Hadith 989
