سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17734
[ 17512 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن بن إسحاق حدثني الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أم سلمة رضى الله تعالى عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت لما ضاقت علينا مكة وأوذي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وفتنوا ورأوا ما يصيبهم من البلاء والفتنة في دينهم وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يستطيع دفع ذلك عنهم وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم في منعة من قومه وعمه لا يصل إليه شيء مما يكره ما ينال أصحابه فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم إن بأرض الحبشة ملكا لا يظلم أحد عنده فالحقوا ببلاده حتى يجعل الله لكم فرجا ومخرجا مما أنتم فيه فخرجنا إليها أرسالا حتى اجتمعنا ونزلنا بخير دار إلى خير جار أمنا على ديننا ولم نخش منه ظلما وذكر الحديث بطوله
ام المو منین حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ہم پر مکہ تنگ ہو گیااور اصحاب رسول کو طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنے دین پر عمل کرنے سے آزمائشوں اورفتون کو دیکھا اور یہ کہر سول اکرم ﷺ بھی ان کے دفاع سے قاصر ہیں کیونکہ درمیان میں آپﷺ کی قوم اور آپ کے چچا رکاوٹ بنے ہوئے تھے او ر آپ اپنے ساتھیوں کی تکلیفوں میںبے بش ہوگئے تو اپ نے ان سے کہا کہ حبشہ کی سر زمین میں ان کا بادشا ہ اپنے پاس کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا تم ان ے شہر میں چلے جاو جب تک کہ اللہ تعالیٰا سکے متبادل تمہارے لیے اور راستہ نہ نکال دے پھر ہم آہستہ آہستہ یہاں سے نکلے کہ ہم حبہ میں جمع ہو گئے اور ہم اچھے گھر اور اچھ پڑوس میں تھے وہاں ظلم و زیادتی کا ڈر بھی نہ تھا پھر لمبی حدیث بیان کی ۔
أم سلمة رضى الله تعالى عنها زوج النبي ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← بن إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17734
