Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17734

[ 17512 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن بن إسحاق حدثني الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أم سلمة رضى الله تعالى عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت لما ضاقت علينا مكة وأوذي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وفتنوا ورأوا ما يصيبهم من البلاء والفتنة في دينهم وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يستطيع دفع ذلك عنهم وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم في منعة من قومه وعمه لا يصل إليه شيء مما يكره ما ينال أصحابه فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم إن بأرض الحبشة ملكا لا يظلم أحد عنده فالحقوا ببلاده حتى يجعل الله لكم فرجا ومخرجا مما أنتم فيه فخرجنا إليها أرسالا حتى اجتمعنا ونزلنا بخير دار إلى خير جار أمنا على ديننا ولم نخش منه ظلما وذكر الحديث بطوله

ام المو منین حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ہم پر مکہ تنگ ہو گیااور اصحاب رسول کو طرح طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے اپنے دین پر عمل کرنے سے آزمائشوں اورفتون کو دیکھا اور یہ کہر سول اکرم ﷺ بھی ان کے دفاع سے قاصر ہیں کیونکہ درمیان میں آپﷺ کی قوم اور آپ کے چچا رکاوٹ بنے ہوئے تھے او ر آپ اپنے ساتھیوں کی تکلیفوں میںبے بش ہوگئے تو اپ نے ان سے کہا کہ حبشہ کی سر زمین میں ان کا بادشا ہ اپنے پاس کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا تم ان ے شہر میں چلے جاو جب تک کہ اللہ تعالیٰا سکے متبادل تمہارے لیے اور راستہ نہ نکال دے پھر ہم آہستہ آہستہ یہاں سے نکلے کہ ہم حبہ میں جمع ہو گئے اور ہم اچھے گھر اور اچھ پڑوس میں تھے وہاں ظلم و زیادتی کا ڈر بھی نہ تھا پھر لمبی حدیث بیان کی ۔

أم سلمة رضى الله تعالى عنها زوج النبي ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← بن إِسْحَاقَ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17734

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17735

[ 17513 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا العباس بن الفضل الأسفاطي ثنا أحمد بن يونس ثنا داود بن عبد الرحمن ثنا عبد الله بن عثمان عن أبي الزبير محمد بن مسلم أنه حدثه أن جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه حدثه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لبث عشر سنين يتبع الحاج في منازلهم في المواسم مجنة وعكاظ ومنازلهم بمنى من يؤويني وينصرني حتى أبلغ رسالات ربي وله الجنة فلم يجد أحدا يؤويه وينصره حتى أن الرجل ليدخل صاحبه من مصر واليمن فيأتيه قومه أو ذوو رحمه فيقولون احذر فتى قريش لا يصيبك يمشي بين رحالهم يدعوهم إلى الله يشيرون إليه بأصابع حتى يبعث الله من يثرب فيأتيه الرجل منا فيؤمن به يقرئه القرآن فينقلب إلى أهله فيسلمون بإسلامه حتى لم يبق دار من دور يثرب إلا فيها رهط من المسلمين يظهرون الإسلام ثم يبعث الله فائتمرنا واجتمعنا سبعين رجلا منا فقلنا حتى متى رسول الله صلى الله عليه وسلم يطرد في جبال مكة ويخال أو قال ويخاف فرحلنا حتى قدمنا عليه الموسم فوعدنا شعب العقبة فاجتمعنا فيه من رجل ورجلين حتى توافينا فيه عنده فقلنا يا رسول الله علام نبايعك قال تبايعوني على السمع والطاعة في النشاط والكسل وعلى النفقة في العسر واليسر وعلى الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وأن تقولوا في الله لا يأخذكم في الله لومة لائم وعلى أن تنصروني إن قدمت عليكم يثرب وتمنعوني مما تمنعون منه أنفسكم وأزواجكم وأبناءكم ولكم الجنة فقلنا نبايعك فأخذ بيده أسعد بن زرارة وهو أصغر السبعين رجلا إلا أنا فقال رويدا يا أهل يثرب إنا لم نضرب إليه أكباد المطي إلا ونحن نعلم أنه رسول الله وأن إخراجه اليوم مفارقة العرب كافة وقتل خياركم وأن تعضكم السيوف وأما أنتم قوم تصبرون على عض السيوف وقتل خياركم ومفارقة العرب كافة فخذوه وأجركم على الله وأما أنتم تخافون من أنفسكم خيفة فذروه فهو أعذر لكم عند الله فقالوا أخر عنا يدك يا أسعد بن زرارة فوالله لا نذر هذه البيعة ولا نستقيلها فقمنا إليه رجلا رجلا يأخذ علينا شرطه ويعطينا على ذلك الجنة

17735 - حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ میں دس سال ٹھہرے اور موسم حج میں آپﷺ حاجیوں کے پیچھے ان کئ گھروں میں جاتے جو مجحنہ اور عکاظ میں تھے اور اسی طرح آپ ﷺ منیٰ میں بھی ان کے گھروں میں جاتے اور آپﷺ فرماتے جو مجھے ٹھکانہ دے گا اور میری دد کرے کہ میں اللہ کے پیغامات کی تبلیغ کروں اور ان کو لوگوں تک پہنچا دوںتو اس کےلیے جنت ہے تو آپﷺ کو ٹھکانہ اور مدد کرنے کے لیے کوئی بھی تیار نہ کہ مضر اور یمن سے کوئی آدمی آتا تو اس کی قوم اور اس کے عزیر واقارب کے لوگ اسے کہتے کہ قریش کے ایک جوان سے بچتا اور اسے ملاقات نہ کرنا وہ لوگوں کئ گھروں میں ا کر ان کو اللہ کے دین کی دعوت دیتا ہے اور لوگ آپﷺ کی طرف انگلیوں سے اشارے کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مدینہ میں منتخب فمایا: اور ہم میں سے کوئی آدمی آپﷺ کے پاس آیا اور وہ آپ پر ایما ن لے آیااور اپ اسے قران کی تعلیم دیتے پھر وہ آدمی اپنئ گھر لوتا تو اس کے اسلام کی وجہ سے اسکے اہل و عیال بھی اسلام قبول کر لیتے کہ یثرب مین کوئی ایسا گھر نہیں تھا جس میں مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور یہ لوگ اسلام کی تبلیغ کرتے پھر اللہ تعالیٰ نے اسکام کے لیے ہمیں چنا اور ہم ستر آدمیوں نے اکٹھے ہو کر مشاورت کی اور کہا آپ کو کب تک مکہ کے پہاروں میں دھکیلا جائے گا اور کب تک آپ خوف کی زندگی ان پہاروں میں گزریں گے اس کے بعد وہ ہم نے وہاں کو چ کیا او رموسم حج میں آپ سے ملاقات کی تو آپ نے شعب عقبہ میں ہمارے ساتھ ملاقات کا وعدہ کیا کہ ہم اس میں ایک ایک اور دو دو ہو کر داخل ہوئے کہ ہم سب اکٹھے ہو گئے او رک ا: یا رسول اللہﷺ ہم آپ کی کس بات پر بئعت کریں تو آپ نے فرمایا: تم میری بی و فرما نبر دایر پر کرو خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی اور خوش حال اور تنگ دستی میں خرچ کرنے پر اور نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرن پرا ور اللہ کے دین کے دعوت دینے یا عمل کرنے پر کسی مامت کعرنے والے کی مملامت کی پروا نہ کرنے پر اوراس بات پر کہ اگر میں تمہارے پاس یثرب اؤں تو تم نے میری مدد کرنی ہے اور تم نے مجھے بھی اس چیز سے بچانا جس چیز سے تم اپنے آپ کو اپنی بیویں کو اپنی اولادوں کو بچاتے ہو تو ایسی صورت میں تمہارے لیے جنت ہے ۔

أن جابر بن عبد الله رضى الله تعالى عنه ← أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17735

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17736

[ 17514 ] حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى ثنا إسماعيل بن قتيبة ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا جرير عن قابوس بن أبي ظبيان عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة فأمر بالهجرة وأنزل عليه وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا

17736 - حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ مکہ میں تھے آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا گیا اور آپ پر یہ آیت نازل ہوئی: اور ا س طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار مجھے جہاں لے جا اچھی طرح لے جا اور جہا سے نکال اچھی طرح نکال اور میرے لیے اپنے پاس سے غلبہ اور مدد گار مقرر فرما۔

بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17736

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17737

[ 17515 ] أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر بن درستويه ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحجاج بن أبي منيع ثنا جدي عن الزهري عن عروة عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يومئذ بمكة للمسلمين قد رأيت دار هجرتكم أريت سبخة ذات نخل بين لابتين وهما الحرتان فهاجر من هاجر قبل المدينة حين ذكر ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجع إلى المدينة بعض من كان هاجر إلى أرض الحبشة من المسمين وتجهز أبو بكر رضى الله تعالى عنه مهاجرا فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم على رسلك فإني أرجو أن يؤذن لي فقال أبو بكر رضى الله تعالى عنه وترجو ذلك بأبي أنت وأمي قال نعم فحبس أبو بكر رضى الله تعالى عنه نفسه على رسول الله صلى الله عليه وسلم لصحابته وعلف راحلتين عنده ورق السمر أربعة أشهر أخرجه البخاري في الصحيح بطوله من حديث عقيل ويونس عن الزهري

17737 – حضرت عائشہ سےر وایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے فرمایا: مجھے تمہارے مقام ہجرت دکھایا گیا ہے یہ لا دے کی دو پہاڑیہوں کے درمیان واقع ایک نخلستانی علاقہ ہے اس کے بعد لوگوں نے مدینہ کی جانب ہجرت کی عام مہاجرین حبشہ بھی مدینہ ہی آگئے حضڑت ابو بکر نے ابھی سفر مدینہ کے لیے سازو سامام تیار کر لی الیکن رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: ذرا ک رہو کیونکہ تو قع ہے مجھے بھی اجازت دے دی جائے گی ابو بکر نے کہا: میرے ماں باپ آپﷺ پر فدا کیا آپ کو اس پر ماید ہے آپﷺ نے فرمایا: ہاں اس کے بعد اب وبکر کے رکے رہے تاکہ رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر کریں ان کے پاسدو اینٹیاں تھیں انہیں بھی چار ماہ تک ببول کے پتوں کاخوف چارہ کھلایا۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← جَدِّي، ← الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي مَنِيعٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17737

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17738

[ 17516 ] أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا أبو الوليد هشام بن عبد الملك الباهلي وأبو عمر حفص بن عمر النمري قالا ثنا شعبة قال أنبأ أبو إسحاق قال سمعت البراء رضى الله تعالى عنه يقول كان أول من قدم علينا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم مصعب بن عمير وابن أم مكتوم وكانا يقرآن القرآن ثم جاء عمار بن ياسر وبلال وسعد ثم جاء عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه في عشرين وبينهم من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء قط فرحهم به حتى رأيت الولائد والصبيان يسعون في الطرائق يقولون جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم جاء رسول الله قال فما قدم المدينة حتى قرأت { سبح اسم ربك الأعلى } في سور مثلها من المفصل رواه البخاري في الصحيح عن أبي الوليد

17738 - حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے ساتھیوں میں سے سب سے پہلے ہمارے پاس آنے والے حضرت مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم تھے وہ دونون قران کریم کی تعلیم دیتے تھے پھر عمار بن یاسر بلال اور سعد آئے پھر رسول اللہﷺ کے ساتھیوں؟ میں سے بیسیں نمبر پر حضرت عمر بن خطاب آئے پھر حضور ﷺ تشریف لائے تو اہل مدینہ نے اتنی خوشی سنائی کہ میں نے اس سے پہلے اتنا خوش ہوتے ہوئے انہیں نہیں دیکھا کہ میں لڑکوں اور بچوں کو دیکھا کہ وہ مدینے کی گلیوں میں دوڑتے ہوئے یہ اواز بلند کر رہے تھے کہر سول کریم ﷺ تشریف لائے آپﷺ جب مدیہ میں تشرفی لائے تو میں نے اور اس جیسی مفصل سورتیں پڑھ لی تھیں۔

شُعْبَةُ، ← أبو عمر حفص بن عمر النمري ← أبو الوليد هشام بن عبد الملك الباهلي ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنبأ عبد الله بن جعفر

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17738

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17739

[ 17517 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو اليمان الحكم بن نافع أنبأ شعيب بن أبي حمزة عن الزهري حدثني عروة بن الزبير أن أسامة بن زيد رضى الله تعالى عنه أخبره أن النبي صلى الله عليه وسلم ركب على حمار على إكاف على قطيفة فدكية وأردف أسامة بن زيد وراءه يعود سعد بن عبادة في بني الحارث بن الخزرج قبل وقعة بدر فسار حتى مر بمجلس فيه عبد الله بن أبي بن سلول وذلك قبل ان يسلم عبد الله بن أبي فإذا بالمجلس رجال من المسلمين والمشركين عبدة الأوثان واليهود وفي المسلمين عبد الله بن رواحة فما غشيت المجلس عجاجة الدابة خمر بن أبي أنفه بردائه ثم قال لا تغبروا علينا فسلم النبي صلى الله عليه وسلم ثم وقف فنزل فدعاهم إلى الله عز وجل وقرأ عليهم القرآن قال فقال عبد الله بن أبي بن سلول أيها المرء إنه لا أحسن مما تقول إن كان حقا فلا تؤذينا به في مجلسنا ارجع إلى رحلك فمن جاءك فاقصص عليه فقال عبد الله بن رواحة بلى يا رسول الله فاغشنا به في مجالسنا فإنا نحب ذلك فاستب المسلمون والمشركون واليهود حتى كادوا يتثاورون فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يخفضهم حتى سكتوا ثم ركب النبي صلى الله عليه وسلم دابته فسار حتى دخل على سعد بن عبادة رضى الله تعالى عنه فقال له النبي صلى الله عليه وسلم يا سعد ألم تسمع ما قال أبو حباب يريد عبد الله بن أبي قال كذا وكذا فقال سعد بن عبادة يا رسول الله اعف عنه واصفح فوالذي أنزل الكتاب لقد جاء الله بالحق الذي أنزل عليك ولقد اصطلح أهل هذه على أن يتوجوه فيعصبوه فلما رد الله ذلك بالحق الذي أعطاك شرق بذلك فذلك فعل به ما رأيت فعفا عنه النبي صلى الله عليه وسلم وكان وأصحابه يعفون عن المشركين وأهل الكتاب كما أمرهم الله عز وجل ويصبرون على الأذى قال الله عز وجل { ولتسمعن من الذين أوتوا الكتاب من قبلكم ومن الذين اشركوا أذى كثيرا وإن تصبروا وتتقوا فإن ذلك من عزم الأمور } وقال الله { ود كثير من أهل الكتاب لو يردونكم من بعد إيمانكم كفارا حسدا من عند أنفسهم من بعد ما تبين لهم الحق فاعفوا واصفحوا حتى يأتي الله بأمره إن الله على كل شيء قدير } وكان النبي صلى الله عليه وسلم يتأول في العفو ما أمر الله به حتى أذن لهم فيهم فلما غزا النبي صلى الله عليه وسلم بدرا فقتل الله به من قتل من صناديد كفار قريش قال بن أبي بن سلول ومن معه من عبدة الأوثان هذا أمر قد توجه فبايعوا رسول الله صلى الله عليه وسلم على الإسلام رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان وأخرجاه من حديث معمر وعقيل عن الزهري

حضرت عروہ بن زبیر نے فرمایا کہ مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی کہ نبی ﷺ ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان بندھا ہوا تھا اور نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک مخملی چادر بچھی ہوئی تھی اور آپ ﷺ نے اپنے پیچھے حضرت اسامہ بن زید کو بٹھایا ہوا تھا آپﷺ بنی حآرث بن خزرج میں حضرت سعد ب نعبادہ کی عیادت کے لیے تشرفی لے جا رہے تھے یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے آخضرت نے سفر کیا کہ ایک مجلس سے گزرے جس میں عبدلالہ بن ابی بن سلول بھی تھا اور یہا س کے اسلام لانے سے پہلے کا واقعہ ہے اور اسی طرح اس مجلس کے اندر مسلمان مشرکین دیت پرست اور یہودی سب شریک تھے اور مسلمانوں میں سے عبداللہ بن رواحہ بھی تھے جب مجلس پر سواری کا گرد پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی چادر ے اپنی ناک چھپالی اور پھر کہا ہمارے اوپر غبارنہ اڑاؤ رسول اکرم ﷺ نے سلام کی ااور وہا رک گئے اور اتر کر اہیں اللہ کی طرف بلایا اور ان کو قران مجید کی تلاوت بھی سنائی عبداللہ بن ابی بن سلول بولا میاں میں ان باتوں کے سمجھنے سے قاصر ہوں اور اگر وہ چیز جو تو کہتا ہے حﷺ ہے تو ہماری مجلسوں میں آکر ہمیں تکلف نہ دیا کرو اپنئ گھر جاؤ ہم سے ہو تمہارے پاس آئے اس سے بیان کرو اس پر حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں کیونکہ ہم اسے پسند کرتے ہیں پھر مسلمونں مشرکوں اور یہودیوں میں تو تو میں میں ہونے لگی او قریب تھا کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ کر دیتے لیکن آپﷺ انہیں برابر خاموش کرتے رہے اور ب وہ خاموش ہو گئے تو آخضرت اپنی سواری پر بیٹھ کر حضرت سعد بن عبادہ کے یہا گئے پھر آپ ﷺ نے ان سے کہا کہ اسے سعد تم نے نہیں سنا کہ ابو عباب نےآج کیا بات کہی ؟ آپ کا اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف تھا کہ اس نے یوں یوں باتیں کہی ہیں حضرت سعد بن عبادہ نے کہا: یا رسول اللہ اسے معاف کر دیجیے اور درگزر فرمائیے اس ذات کی قسم جس نے کتاب کو نازل فرمایا: اللہ تعالیٰ نے وہ حق آپ کو عطا فرمایا ہے جو عطا فمایا تھا اس بستی کے لوگ تشریف آوری سے پہلےاس ات پر متفق ہو گئے تھے کہ اسے تاج پہنا دیں اور شاہی عمامہ اس کےس ر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نےاس منصوبہ کو اس حق کی وجہ سے ختم کر دیا جو اس نے آپ وک عطا فرمایا ہے تو اسے حق سے ھسد ہو گیا اور اسی وجہ سے اس نے یہ معاملہ کیا ہے جو آپ نے دیکھا تو اسے آخضرت نے معاف کر دیا اور آپ کے اصحاب بھی مشرکین اور اہل کتا کو معاف کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیاتھا اور دوران کی تکلیفوں پر سبر کیا کرتے تھ اللہ عالیٰ کا فرمان ہے اور تمہیں ضرور ضڑور ان لوگؤں کی جن کو تم سے پلے کتاب دی گئی اور مشرک لوگوں کی تکلیف دہ باتیں سننا پڑیں گی اور اگر تم نے صبر کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو یہ برے ہمت کےکامو میں سے ہے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اہل کتاب کے بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر میں لوٹا دیہں اپنی طرف سے حسد کرتے ہوئے اور حﷺ واضح ہو جانے کے بعد پس ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم آجائے ۔

عروة بن الزبير أن أسامة بن زيد رضى الله تعالى عنه ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَنْبَأَ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17739

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17740

[ 17518 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو الحسن محمد بن سنان القزاز ثنا إسحاق بن يوسف الأزرق ثنا سفيان الثوري عن الأعمش عن مسلم البطين عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال أخرج أهل مكة النبي صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر الصديق رضى الله تعالى عنه إنا لله وإنا إليه راجعون أخرجوا نبيهم ليهلكن قال فقرأ أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن الله على نصرهم لقدير وكان بن عباس رضى الله تعالى عنه يقرؤها قال أبو بكر الصديق رضى الله تعالى عنه فعلمت أنها قتال قال بن عباس وهي أول آية نزلت في القتال

17740 - حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب اہل مکہ نے نبی ﷺ کو نکالا تو حضڑت اب وبکر صدیق نے پڑھا اور کہا کہ انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا ہے تو یہ ضرور ضرور ہلاک ہو جائیں گے ابن عباس نے کہا کہ پھر یہ آیتنازل ہوئی اجازت دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی گئی کیونکہ وہ مظلوم ہیں ور ان کی مدد کرنے پر اللہ تعالیٰ قادر ہے حضرت ابن عباس سے کی قرآت سے پرھتے تھے اور اب وبکر صدیق نے کہا کہ میں نے جان لیا کہ اس سے مراد قتال ہے اور ابن عباس نے کہا کہ سب سے پلے قتل کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔

بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17740

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17741

[ 17519 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس قاسم بن القاسم السياري بمرو ثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشاني ثنا علي بن الحسن بن شقيق ثنا الحسين بن واقد عن عمرو بن دينار عن عكرمة عن بن عباس أن عبد الرحمن بن عوف وأصحابا له رضى الله تعالى عنهم أتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا نبي الله كنا في عز ونحن مشركون فلما آمنا صرنا أذلة فقال إني أمرت بالعفو فلا تقاتلوا القوم فلما حوله الله إلى المدينة أمره بالقتال فكفوا فأنزل الله { ألم تر إلى الذين قيل لهم كفوا أيديكم وأقيموا الصلاة وآتوا الزكاة فلما كتب عليهم القتال إذا فريق منهم يخشون الناس }

17741 – حضڑت ابن عباس فرماتے ہیں کہ عبدالرھمٰن بن عوف اور ان کے ستاھی نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا اے اللہ کے نبی ! جب ہم مشرک تھے تو ہم برے عزت والے تھے اور ب ہم نے اسلام قبول کیا تو ہم ذلیل ہو گئے تو آپﷺ نے فرمایا: مجھے درگزر کا حکم دیا گیا اور قتال کرنے سے منع کیا گیا ہے پھر جب آپﷺ مدینہ میں چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نےآپ کو قتال کرنے کا حک مدے دیا جب قتال کا حکم ملا تو یہ لوگ قتا سے رک گئے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کیا آپﷺ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جن کو کہا گیا کہ اپنے ہاتھ لڑائی سے روکو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو پ جب ان پر قال فرض ہوا تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے ڈرنے لگ گیا۔

أصحابا له رضى الله تعالى عنهم أتوا النبي ← بن عباس أن عبد الرحمن بن عوف ← عِكْرِمَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَاتِمٍ الْبَاشَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17741

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17742

[ 17520 ] أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما في قوله فاقتلوا المشركين حيث وجدتموهم وقوله { قاتلوا الذين لا يؤمنون بالله ولا باليوم الآخر } قال فنسخ هذا العفو عن المشركين وقوله { يا أيها النبي جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم } فأمره الله بجهاد الكفار بالسيف والمنافقين باللسان وأذهب الرفق عنهم

حضرت ابن عباس اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرماتے ہیں مشرکین کو جہاں پاؤ ان کو قتل کر دو اور اسی طرح اس آیت کے بارے میں تم ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان آیات سے مشرکین سے درگزر کو منسوخ کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے می فرماتے ہیں: اے نبی ﷺ! کفار او ر منافقین سے قتال کیجیے اور ان پر سختی کیجیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس آیت میں کفار سے جہاد یا سیف کرنے کا حکم دیا اور منافقین سے جہاد باللسان کا حکم دیا اور ان پر نرمی کرنے کو ختم کر دیا۔

فنسخ هذا العفو ← بن عباس رضى الله تعالى عنهما في قوله فاقتلوا المشركين حيث وجدتموهم وقوله ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17742

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17743

[ 17521 ] وبهذا الإسناد عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال قوله { وأعرض عن المشركين } { و لست عليهم بمصيطر } يقول لست عليهم بجبار { فاعف عنهم واصفح } { وان تعفوا وتصفحوا } { فاعفوا واصفحوا حتى يأتي الله بأمره } { قل للذين آمنوا يغفروا للذين لا يرجون أيام الله } ونحو هذا في القرآن أمر الله بالعفو عن المشركين وأنه نسخ ذلك كله قوله { اقتلوا المشركين حيث وجدتموهم } وقوله { قاتلوا الذين لا يؤمنون بالله ولا باليوم الآخر } إلى قوله { وهم صاغرون } فنسخ هذا العفو عن المشركين

17743 – ایس سند سے حضڑت ابن عباس سے منقول ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متعلق فرمایا: انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب کہ آپ ان پر زبر دستی کرنے والے ہیں ہیں اور اسی طرح یہ قول ان کو معاف کیجیے اور ان سے درگزر کیجیے او ر ایسے ہی ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئیا ور حکم صار فرمائیں اور یہ آیت کریمہ آپﷺ ایمان والؤں سے کہ دیں کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے دنوں کی توقع نہیں رکھتے اور انجیسی تھی بھی قران مید میں آیات ہیں جن کے اندر اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے درگزر کرنے کا حکم دیا وہ سب کی سب اللہ تعالیٰ کےاس فرمسان اور اس فرمان تم ان لوگوں سے قتال کرو جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے سے مشرکین سے درگزر کو منسوخ کر دیا گیا ہے ۔

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17743

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17744

[ 17522 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر أحمد بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا معاوية بن عمرو عن أبي إسحاق هو الفزاري عن عثمان بن عطاء عن أبيه عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال قال الله عز وجل { فإن تولوا فخذوهم واقتلوهم حيث وجدتموهم ولا تتخذوا منهم وليا ولا نصيرا إلا الذين يصلون إلى قوم بينكم وبينهم ميثاق } الآية وقال { لا ينهاكم الله عن الذين لم يقاتلوكم في الدين ولم يخرجوكم من دياركم } الآية ثم نسخ هؤلاء فأنزل الله { براءة من الله ورسوله إلى الذين عاهدتم من المشركين } إلى قوله { فإذا انسلخ الأشهر الحرم فاقتلوا المشركين حيث وجدتموهم } وأنزل { قاتلوا المشركين كافة كما يقاتلونكم كافة } قال { وإن جنحوا للسلم فاجنح لها } ثم نسخ ذلك هذه الآية { قاتلوا الذين لا يؤمنون بالله ولا باليوم الآخر ولا يحرمون ما حرم الله ورسوله }

17744 – حضرت ابن عباس بیان کرتے ہین کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو انہیں پکڑو اور قتل کرو جہاں بھی ہاتھ لگ ھائیں خبر دار ان میں سے کسی کو بھی اپنا رفیق اور مدد گار نہ بنا بیٹھنا سوائے ان لوگوں کے جو اس قوم سے تعلق رکھتے ہیں جن سے تمہارے معاہدہ ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور نہ تم کو جلا وطن کیا اللہ تعالیٰ تم کو ان کے ستاھ احسان اور حصن سلوجک کرنے سے نہیں روکتا پھر یہ آیات منسوخ ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ ایات نازل فرمائیں اللہ عالیٰ کے اس فمان تک اللہ اور اس کےر سول ان مشرکین سے اعلان برائت کرتے ہیںۃ جن سے تم نے عہد کیا ہے۔

الله عز وجل الآية ← بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، ← أبى اسحاق هو الفزارى ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17744

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17745

[ 17523 ] أخبرنا أبو القاسم عبد العزيز بن محمد العطار ببغداد ثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدقاق ثنا عبد الملك بن محمد الرقاشي ثنا أبي ثنا المعتمر بن سليمان قال سمعت أبي يحدث عن الحضرمي عن أبي السوار عن جندب بن عبد الله رضى الله تعالى عنه قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم رهطا واستعمل عليهم عبيدة بن الحارث قال فلما انطلق ليتوجه بكى صبابة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فبعث مكانه رجلا يقال له عبد الله بن جحش وكتب له كتابا وأمره أن لا يقرأه إلا لمكان كذا وكذا لا تكرهن من أصحابك على المسير معك فلما صار إلى ذلك الموضع قرأ الكتاب واسترجع قال سمعا وطاعة لله ورسوله قال فرجع رجلا من أصحابه ومضى بقيتهم معه فلقوا بن الحضرمي فقتلوه فلم يدر ذلك من رجب أو من جمادى الآخرة فقال المشركون قتلهم في الشهر الحرام فنزلت { يسألونك عن الشهر الحرام قتال فيه قل قتال فيه كبير } إلى قوله { والفتنة أكبر من القتل } قال فقال بعض المسلمين لئن كانوا أصابوا خيرا ما لهم أجر فنزلت { إن الذين آمنوا والذين هاجروا وجاهدوا في سبيل الله أولئك يرجون رحمة الله والله غفور رحيم }

17745 - حضرت جندب بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک گروہ کو روانہ کی ااور اس پر بعیدہ بن حارث کو امیر بنایااور جب وہ جانے کے لیے نجلا تو ا سکو رسول اللہﷺ کی محبت نے رلا دیا آپق نے ان کی جگہ پر عبداللہ جحش کو امیر بنا دیا او ر ایک خط لکھ کر دیا اور ان سے کہا کہ اس کو فرلاں جگہ پر کھول کر پڑھنا اور آپﷺ نے فرمایا: اپنے ساتھ سفر پر لے جانے کے لیتے اپنے کسی بھی ساتھی پر جبر نہ کرنا ج وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں پر آپ نے خط کھولنے کا حکم دیا تھا تو انہوں نے خط کھول کر پڑھا اور ساتھ ہی اناللہ وانا الیہ راجعون بھ پڑھ دیا اور کہا کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات سنی اور ا انہوں نے اس کو قتل کر دیا اور ان کو پتا نہ چلا کہ یہ رجب کا عیینہ ہے یا جمادی اخریٰ کا تو مشرکین نے کہا کہ تم نے حرمت والے مہینے میں قتل کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ والی آیا ت نازل فرمائیں اس قول تک یہ لوگ آپﷺ سے حڑمت والے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں توآپﷺ کہہ دیجیے کہ ان میں قتال کرتا تو کبیرہ گناہ ہے ۔

جندب بن عبد الله رضى الله تعالى عنه ← أبي السوار ← الْحَضْرَمِيِّ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ← أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ← أبو القاسم عبد العزيز بن محمد العطار

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17745

chevron_left Previous
1…1,7611,7621,763…1,818
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer25. Group reading doors26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead