Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
سنن الکبری البھیقی

Sunan Al Kubra Al Baihaqee

by Imam Baihaqee

21,812 Hadith253 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

سنن الکبری البھیقی · كتاب النذور ‹ كتاب النذور · حديث 20145

[ 19932 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو سعيد بن أبي عمرو قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا عبد الملك بن عبد الحميد الميموني ثنا روح ثنا بن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله سئل عن المرأة تجعل عليها عمرة في شهر مسمى ثم يخلو إلا ليلة واحدة ثم تحيض قال لتخرج ثم لتهل بعمرة لم لتنتظر حتى تطهر ثم لتطف بالكعبة ثم لتصل

ابو زبیر فرماتے ہیں کہ اس نے حضڑت جابر بن عبداللہ سے ایک عور تکے بارے میں سنا جس کے ذمہ ایک مخصوص مہینہ عمرہ تھا صرف ایک رات گزرنے کے بعد ا سکو حیض ہو گیا فرمایا: وہ نکلے اور عمرہ کا تلبیہ کہے پھر پاک ہونے کاانتظار کرے پاک ہنے کے بعد بیت اللہ کا طواف کرے پھر نماز پڑھ لے ۔

جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ سُئِلَ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحٌ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Vows › The Book of Vows · Hadith 20145

سنن الکبری البھیقی · كتاب النذور ‹ كتاب النذور · حديث 20146

[ 19933 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا داود بن معاذ ثنا عبد الوارث عن نافع أبي غالب في حديث ذكره عن أنس بن مالك رضى الله تعالى عنه في الصلاة على الجنازة قال فقال العلاء بن زياد يا أبا حمزة غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم غزوت معه حنينا فخرج المشركون فحملوا علينا حتى رأينا خيلنا وراء ظهورنا وفي القوم رجل يحمل علينا فيدقنا ويحطمنا فهزمهم الله عز وجل جميعا وجعل يجاء بهم فيبايعونه على الإسلام فقال رجل من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إن علي نذرا إن جاء الله بالرجل الذي كان منذ اليوم يحطمنا لأضربن عنقه فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم وجيء بالرجل فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا رسول الله تبت إلى الله فأمسك رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يبايعه ليفي الرجل بنذره قال فجعل الرجل يتصدى لرسول الله صلى الله عليه وسلم ليأمره بقتله وجعل يهاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقتله فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه لا يصنع شيئا بايعه فقال الرجل يا رسول الله نذري قال أني لم أمسك عنه منذ اليوم إلا لتوفي بنذرك فقال يا رسول الله ألا أومضت إلي فقال النبي صلى الله عليه وسلم إنه ليس لنبي أن يومض

ابو غالب نے حضرت انس بن مالک سے نما زجنازہ کے بارے مین ذکر ک اراوی کہتے ہین کہ علاء بن زیاد نے کہا: اے ابو حمزہ کی ااپ نے رسول اللہﷺ کے ساتھ مل کر غزوہ کیا ہے ؟ف رمایا: ہاں میں نے حنین کا غزوہ کیا مشزرکین نے ہمارے اوپر حملہ کر دی اہم نے اپنے شہسوارو کو اپنے پیچھے دیکھا مشرکین کا ایک آدمی ہمیں قتلکر رہا تھا اللہ نے ان کو شکست دی وہ اگر اسلام پر بیعت کر ہے تھے نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک نے کہا میں نے نذر مانی ہے کہ کلجو آدمی ہمیں قتل کر رہا تھا اگرا س و اللہ ہمارے پاس لے آیا میں ضرور ا س کی گردن اڑادوں گا نبی ﷺ خاموش ہو گئے آدمی لایا گی اجب اس نے نبیﷺ کو دیکھاتو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ! میں نے اللہ سے توبہ کی نبیﷺ نے اسسے سبیعت نہ لی تاکہ وہ اپنی نذر پوری کر لے ۔

العلاء بن زياد يا أبا حمزة غزوت مع رسول الله ← أنس بن مالك رضى الله تعالى عنه في الصلاة على الجنازة ← نافع أبي غالب في حديث ذكره ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي الروذباري أنبأ أبو بكر بن داسه

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Vows › The Book of Vows · Hadith 20146

سنن الکبری البھیقی · كتاب النذور ‹ كتاب النذور · حديث 20147

[ 19934 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدارمي قال قرأت على أبي اليمان أن شعيب بن أبي حمزة أخبره عن الزهري أخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود أن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال إن سعد بن عبادة الأنصاري رضى الله تعالى عنه استفتى رسول الله صلى الله عليه وسلم في نذر كان على أمه وتوفيت قبل أن تقضيه فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يقضيه عنها فكانت سنة بعد رواه البخاري في الصحيح عن أبي اليمان

ابن عباس فرماتے ہیں کہ سع دبن عبادہ انصاری نے رسول اللہﷺ سے اپنی والدہ کے بارے میں پوچھا جس پر نذر تھی او رنذر پوری کرنے سے پہلے فوت ہو گئی آپ ﷺ نے نذر پوری کرنے کا حکم دیا یہ بعد والوں کے لیے سنت بن گئی ۔

على أبي اليمان ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Vows › The Book of Vows · Hadith 20147

سنن الکبری البھیقی · كتاب النذور ‹ كتاب النذور · حديث 20148

[ 19935 ] أخبرنا أبو علي الروذباري أنبأ محمد بن بكر ثنا أبو داود ثنا عمرو بن عون أنبأ هشيم عن أبي بشر عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما أن امرأة ركبت البحر فنذرت إن نجاها الله أن تصوم شهرا فنجاها الله فلم تصم حتى ماتت فجاءت بنتها أو أختها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمرها أن تصوم عنها سائر الروايات فيه قد مضت في كتاب الصيام وكتاب الحج وبالله التوفيق

20148 - سعید بن جبیر ابن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عور تنے سمندر میں صفر شروع کیا اس نے نذر مانی اگر اللہ نے اسے نجات دے دی و وہ ایک مہنے کے روزے رکھئے گی اللہ نےاس کو نجات دے دی روزے رکھنے سے پہلے فوت ہو گئی اس کی بیٹی یا بہن آئی تو نبی ﷺ نے اسکی جان سے روزہ رکھنے کے بارے میں حکم دیا۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَ هُشَيْمُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو علي الروذباري أنبأ محمد بن بكر

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · The Book of Vows › The Book of Vows · Hadith 20148

سنن الکبری البھیقی · كتاب آداب القاضي ‹ كتاب آداب القاضي · حديث 20149

[ 19936 ] أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن صلة عن حذيفة رضى الله تعالى عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم بعث رجلا على نجران فشكوه فقال لأبعثن عليكم رجلا أمينا حق أمين فاستشرف لها أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فبعث أبا عبيدة بن الجراح رواه البخاري في الصحيح عن مسلم بن إبراهيم وأخرجه مسلم من وجه آخر عن شعبة

حضرت حذیفہ نبیﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے نجران پر ایک آدمی کو حاکم بنا کر روانہ کی اتو اہل نجران نے اسکی شکایت کی آپﷺ نے فرمایا: میں تمہارے اندر ایک ام ین آدمی کو بھیج دوں گا وج امانت کا حق بھی ادا کرے گا تو آپﷺ کے صحابہ نے دیکھ اتو آپﷺ نے ابو عبیدہ بن جرآح کو روانہ کیا۔

حُذَيْفَةَ، رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، ← صِلَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Book of ethics of judge › Book of ethics of judge · Hadith 20149

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17725

[ 17503 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو بن أبي جعفر ثنا عبد الله بن محمد ثنا أبو كريب ثنا أبو أسامة عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما قال لما نزلت هذه الآية وأنذر عشيرتك الأقربين ورهطك منهم المخلصين خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى صعد الصفا فهتف واصباحاه فقالوا من هذا الذي يهتف قالوا محمد قال فاجتمعوا إليه فقال يا بني فلان يا بني فلان يا بني عبد مناف يا بني عبد المطلب أرأيتكم لو أخبرتكم أن خيلا تخرج بسفح هذا الجبل أكنتم مصدقي قالوا ما جربنا عليك كذبا قال فإني نذير لكم بين يدي عذاب شديد قال فقال أبو لهب تبا لك ما جمعتنا إلا لهذا ثم قام فنزلت هذه الآية { تبت يدا أبي لهب } وقد تب كذا قرأ الأعمش إلى آخر السورة رواه البخاري في الصحيح عن يوسف بن موسى عن أبي أسامة ورواه مسلم عن أبي كريب

حضرت ابن عباس فرماتے یں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور ان میں سے جو آپﷺ کی مخلص جماعت ہے ان کو بھی تو رسول اکرم ﷺ نکلے اور صفا پر پڑھ کر آپ نے کی ذور دار آواز سے بلایا تو لوگوں نے کہا: یہ کون بلانے والا ہے بعض نے کہا: محمد ابن عباس کہتے ہیں اپﷺ کے پاس تماملوگ جمع ہو گئے تو آپﷺ نے فرمایا: اے بنی فلاں اے بنی فلاں اے بنی عبد مناف اے بنی عبدالمطلب تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں کیوں کہ اس پہار کے دامن سے ایک لشکر آرہا ہے تو کیا تم میری تصفدیق کرو گے انہوں نے کہا ہم نے کبھی بھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے وال اہو ابن عباس فرماتے ہیں کہ ابو لہت نے کہا تو ہلاک ہو جائے کیا اسی کام کے لیے تو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا پھر وہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورہ کو نازل کیا ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گیے او رہو خود بھی ہلاک ہو گیااسی طرح اعمش نے آخر سورہ تک تلاوت کی ۔

بن عباس رضى الله تعالى عنهما ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17725

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17726

[ 17504 ] وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق قال فحدثني من سمع عبد الله بن الحارث بن نوفل عن بن عباس عن علي بن أبي طالب رضى الله تعالى عنه قال لما نزلت هذه الآية على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنذر عشيرتك الأقربين واخفض جناحك لمن اتبعك من المؤمنين قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عرفت أني إن بادأت بها قومي رأيت منهم ما أكره فصمت عليها فجاءني جبريل عليه السلام فقال يا محمد إنك إن لم تفعل ما آمرك به ربك عذبك ربك ثم ذكر قصة في جمعهم وإنذاره إياهم

17726 - حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میں نے جان لیا کہ اگر ا کے ستاھ میں نے اپنی قوم سے ابتدا کی تو میں وہ چیز دکھوں گا جسے میں ان پسند کرتا ہوں اور ا لیے میں اس کے بیان کرنے سے خامش رہا میرے پاس حضڑت جبریل آئے اور انہوں نے کہا کہ اے محمد اگر آپ نے اپنے ر ب کے اس حکم کو پورا نہ کیا تو وہ آپ کو عذاب دے گا پھر آپ ق نے ان کو جمع ہونے کا اور ڈرانے کا قسہ بیان کیا۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عَنْهُ ← بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← مَنْ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17726

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17727

[ 17505 ] أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري بن الحمامي ببغداد أنبأ أحمد بن سلمان النجاد ثنا محمد بن إسماعيل ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري حدثني محمد بن عمرو بن علقمة عن محمد بن المنكدر عن ربيعة بن عباد الدؤلي قال رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بذي المجاز يتبع الناس في منازلهم يدعوهم إلى الله عز وجل ووراءه رجل وهو يقول يا أيها الناس لا يغرنكم عن دينكم ودين آبائكم قلت من هذا قالوا عمه أبو لهب

17727 - حضرت ربیعہ بن عبادہ دلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو دکھ اکہ آپ ذی الحجاز میں لوگوں کے پیچھے ان کے گھروں میں جاتے اور ان کو اللہ کے دین کی طرف بلاتے اور آپ کے پیچھے ایک ادمی تھا جو لوگو کو پکار پکار کر کہہ رہا تا کہ اے لوگ! یہ تمہیں تمہارے آباواجداد کے دین کے متعلق دھوکے میں نہ ڈال دے میں نے کہا: یہ کون ہے ؟ انہوں نےکہا:یہ آپﷺ کے چچا ابو لہب ہیں۔

ربيعة بن عبَّاد الدُّؤَلى ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أبو الحسن علي بن محمد المقري بن الحمامي ببغداد أنبأ أحمد بن سلمان النجاد

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17727

Sahih

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17728

[ 17506 ] أخبرنا أبو عبد الله الحافظ وإسحاق بن محمد بن يوسف السوسي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ العباس بن الوليد أخبرني أبي قال سمعت الأوزاعي قال حدثني يحيى بن أبي كثير حدثني محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي حدثني عروة بن الزبير قال سألت عبد الله بن عمرو بن العاص قال قلت حدثني بأشد شيء صنعه المشركون برسول الله صلى الله عليه وسلم قال أقبل عقبة بن أبي معيط ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي عند الكعبة فلوى ثوبه في عنقه فخنقه خنقا شديدا فأقبل أبو بكر رضى الله تعالى عنه فأخذ بمنكبيه فدفعه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال { أتقتلون رجلا أن يقول ربي الله وقد جاءكم بالبينات من ربكم } أخرجه البخاري في الصحيح من حديث الأوزاعي

17728 - عرو ہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ میں نئ عبداللہ بن عمرو بن عاص سے سولا کیا اور کہا کہ مجھے مشرکین کی سب سے زیادہ سخت تکلیف بیان کریں جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پہنچائی انہوں نے کہا کہ عقبہ بنابی معبد آیا اور رسول اللہﷺ کعبہ کے اپس نماز پڑھ رہے تھے ا س نے آپ کی گردن میں کپڑ ا لپیٹ کر ذور سے دبا یا تو حضرت ابو بکر صدیق آئے او رانہوں نے اس کے دونوں کندھوں سے پکڑ کر اسے رسول اللہﷺ سے دور کیا او رکہا: کیا تم ایسے آمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ اس پر تمہارے رب کی طرف سے دلائل بھی لایا ہے ۔

أخرجه البخاري في الصحيح من حديث الأوزاعي ← أقبل عقبة بن أبي معيط ← بأشد شيء صنعه المشركون برسول الله ← قُلْتُ ← سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبِي ← أبو العباس محمد بن يعقوب أنبأ العباس بن الوليد ← إسحاق بن محمد بن يوسف السوسي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17728

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17729

[ 17507 ] أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة أنبأ أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنبأ عبيد الله هو بن موسى أنبأ إسرائيل عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عبد الله هو بن مسعود رضى الله تعالى عنه قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم قائم يصلي عند الكعبة وجميع قريش في مجالسهم ينظرون إذ قال قائل منهم ألا تنظرون إلى هذا المرائي أيكم يقوم إلى جزور بني فلان فيعمد إلى فرثها ودمها وسلاها فيجيء به ثم يمهله حتى إذا سجد وضعه بين كتفيه فانبعث أشقاها فجاء به فلما سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم وضعه بين كتفيه وثبت النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا وضحكوا حتى مال بعضهم على بعض من الضحك فانطلق منطلق إلى فاطمة رضى الله تعالى عنها وهي جويرية فأقبلت تسعى حتى ألقته عنه وأقبلت عليهم تسبهم فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة قال اللهم عليك بقريش ثلاثا ثم سمى اللهم عليك بعمرو بن هشام وبعتبة بن ربيعة والوليد بن عتبة وأمية بن خلف وعقبة بن أبي معيط وعمارة بن الوليد قال عبد الله والله لقد رأيتهم صرعى يوم بدر يسحبون إلى قليب بدر ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وأتبع أصحاب القليب لعنة رواه البخاري في الصحيح عن أحمد بن إسحاق عن عبيد الله بن موسى وأخرجه هو ومسلم من وجه آخر عن أبي إسحاق

17729 - حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہﷺ کعبہ کے نزول نماز پرھ رہے تھے کہ مشرکین اپنی مجالس میں جمع ہو کر دیکھنے لگے ان میں سےا یک کہنے والے نے کہا: کیا تما سریاکار کی طرف نہیں دیکھتے ہو تم میں سے کون آل فلاں کے اونٹ کی طرف اجئے گا اوراس کی گوبر خون اور اوجھڑی لائے اور پھر ان کے سجدے میں جانے کا انتظار کرے اور جب وہ سجدے میں چلا جائے تو اس کے کندھوں کے درمیان میں رکھ دے تو قوم کاسب سے زیادہ بخت انسان اٹھا اور وہ او جھڑی وغیرہ لے آیا اور جب آپﷺ سجدے میں گئےتو اس بد بخت نے آپﷺ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیتو آپﷺ سجدے میں ہی ٹھہرے رہے تو وہ یہ منظر دیکھ کر ہنسنے لگے کہ شدید ہنسی کی وجہ سے ان کا بعض بعض پر گرنے لگ گیا تو اک جانے والا حضرت فاطمہ کی طرف گیا اور وہاس وقت بچی تھیں تو وہ دوڑتی ہوئی ائیںاور انہوں نے آپ ﷺ سے وہ اوجڑی دور کی اور پھر ان کو برا بھلا کہنا شروع کر دی اجب رسول اللہﷺ نے نماز ختم کر لیتو تی دفعہ کہا اے اللہ ! قریش کو پکڑ لے پھر ان لوگوں کے نام لے کر دعا کی اے اللہ عمرو بن حشاب عتبہ بن ربیعہ ولید بن عتبہ امیہ بن خلف عقبہ بن ا بی معبط اور عمارہ بن ولید ان سب کو پکڑلے حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں : اللہ کی قسم میں نے بدر کے دن ان سب کو گرت ہوئے دیکھا پھر ان کلو بدر کئ کنویں میں گھسیٹ کر پھینک دیا گیا اس کے بعد رسول اللہﷺ نے فرمایا: اصحاب قلیب پر لعنت بھی مسلط کر دی گئی ۔

عبد الله هو بن مسعود رضى الله تعالى عنه ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنبأ عبيد الله هو بن موسى أنبأ إسرائيل

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17729

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17730

[ 17508 ] حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف إملاء أنبا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا علي بن الحسن الهلالي ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ وأبو بكر بن الحسن القاضي قالا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق قالا ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا الحارث بن عبيد ثنا سعيد الجريري عن عبد الله بن شقيق عن عائشة رضى الله تعالى عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يحرس حتى نزلت هذه الآية يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس فأخرج النبي صلى الله عليه وسلم رأسه من القبة فقال يا أيها الناس انصرفوا فقد عصمني الله ورواية الهلالي فقال لهم أيها الناس قال الشافعي يعصمك من قتلهم أن يقتلوك حتى تبلغهم ما أنزل إليك فبلغ ما أمر به فاستهزأ به قوم فنزل { فاصدع بما تؤمر وأعرض عن المشركين إنا كفيناك المستهزئين }

17730 – حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی نگرانی کی جاتی تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی اے رسول جو آپ کی طرف آپ کے ربنے نازل کیا ہے اس کی تبلیغ کیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اپنئ رب کے پیغام کو نہ پہنچایا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچانے والا ہے وت آپ نے اپنا سر اپنے یمت سے نکال کر کہا اے لوگوں اب تم چلے جاؤ اللہ نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے ۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب ہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان کے قتل سے بچایے گا کہ وہ اپ کو قتل کرے ج بتک کہ آپ اس چیز کی تبلیغ کرتے رہیں گےئ جو چیز آپ کی طرف نازل کی گئی ہئ تو آپ نےا سچیز کی تبلیغ کی جس کا آپ کو حکم دیا گیا تھا ت قوم نے اسپر آپ کا مذاق اڑانا شروع کر دیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آتی کریمہ پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر بیان کریں او رمشرکین سے منہ پھیر لیجیے آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سا کے لیے ہم کافی ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو بكر بن الحسن القاضي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أبو محمد عبد الله بن يوسف إملاء أنبا أبو بكر محمد بن الحسين القطان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17730

سنن الکبری البھیقی · كتاب السير ‹ كتاب السير · حديث 17731

[ 17509 ] أخبرنا أبو طاهر أنبأ أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا عمر بن عبد الله بن رزين ثنا سفيان عن جعفر بن إياس عن سعيد بن جبير عن بن عباس رضى الله تعالى عنهما في قول الله عز وجل إنا كفيناك المستهزئين قال المستهزئون الوليد بن المغيرة والأسود بن عبد يغوث الزهري والأسود بن المطلب وأبو زمعة من بني أسد بن عبد العزى والحارث بن عيطل السهمي والعاص بن وائل فاتاه جبريل عليه السلام شكاهم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأراه الوليد أبا عمرو بن المغيرة فأومأ جبريل إلى أبجله فقال ما صنعت قال كفيته ثم أراه الأسود بن المطلب فأومى جبريل إلى عينيه فقال ما صنعت قال كفيته ثم أراه الأسود بن عبد يغوث الزهري فأومأ إلى رأسه فقال ما صنعت قال كفتيه ومر به العاص بن وائل فأومأ إلى أخمصه فقال ما صنعت قال كفيته فأما الوليد بن المغيرة فمر برجل من خزاعة وهو يريش نبلا له فأصاب أبجله فقطعها وأما الأسود بن المطلب فعمي فمنهم من يقول عمي هكذا ومنهم من يقول نزل تحت سمرة فجعل يقول يا بني ألا تدفعون عني قد قتلت فجعلوا يقولون ما نرى شيئا فلم يزل كذلك حتى عميت عيناه وأما الأسود بن عبد يغوث الزهري فخرج في رأسه قروح فمات منها وأما الحارث بن عيطل فأخذه الماء الأصفر في بطنه حتى خرج خرؤه من فيه فمات منها وأما العاص بن وائل فبينما هو كذلك يوما إذ دخل في رأسه شبرقة حتى امتلأت منها فمات منها وقال غيره فركب إلى الطائف على حمار فربض به على شبرقة فدخلت في أخمص قدمه شوكة فقتلته

17731 – حضرت ابن عباس اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے می فرماتے ہیں کہ آپ سے مذاق کرنےو الے یہ لوگ تھے ولید بن مغیرہ اسود بن عبدایغوث زہری اسود بن مطلب ابو زمعہ بنی اسد بن عبدالعزی ھآرث ن عیطل اسہی اسی اور عاص بن وائل اس کے بعد آپ ﷺ کے پاس جبریل آیے تو آپ نے جبریل سے ان لوگوں کی شکایت بیان کی پھر آپﷺ نے جبریل کو ولید ابو عمرو بن مغیرہ کو دیکھایا تو حضرت جبریل ناس کے ہاتھ کی موتی رگ کی طرف اشارہ کیا تو آپ نے کہا: تو نے کیا کیا؟ اس نے کہا کہ آپ کی اس سے کفایت کی گئی پھر آپ نے ان کو اسود بن لطب دکھایا تو حضڑت جبریل نے اسکی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور آپ نے کہا : تو نے کیا کیا؟ ضرت جبریل نے فرمایا: کہ آپ بچا لیے گئے یہں پھر آپ نےا ن کو اسود بن عبد یغوث الز ہری دکھای اوت انہوں نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیاتو آپ نے پوچھا: تو نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ اس سے بچا لیے گئے ہیں پھر آپ ﷺ نےا ن کو حار چبن عیطل سہی کو دکھایا تو انہوں نے اسکے سر کیئ طرف اشارہ کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے ساتھ کیا کیا؟ حضرت جبرئیل نے فرمایا کہ آپ ﷺ محفوظ کر دیے گئے ہیں پرھ عاص بن وائل گزرا تو انہوں نے اس کے قدم کی خالی جگہ کی طرف اشارہ کیا آپﷺ نے فرمایا: کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ بے فکر ہو جائیں اس کےبعد ولید بن مغیرہ بنی خزاعہ کے ایک آدمی کے قریب سے گزرا جو اپنے تیر کے پھالے کو درست کر رہا تھا اور یہ تیر ولید بن مغیرہ کی رگ میں لگا اور اسے کاٹ دیا اور رہا اسود ابن مطلب وہ اندھا ہو گیا تو بعض لوگ اس کے بارے میں کہتے کہ وہ ایسے اندھا ہوا او ربعض کہتے ہیں: وہ بیول کے درخت کے نیچے اترا اور اپنے بیٹوں سے کہنے لگا: مجھے بچاؤ میں مر گیا وہ کہنے لگے : ہمیں کوئی چیز نظر نہیں آتی جس سے آپ کو بچائیں وہ یہی الفاظ کہتا رہا وہ د یکھو وہ مجھے مار رہا ہے اسے مجھ سے دور کرو وہ میری آنکھوں میں کاٹنے جہو رہا ہے وہ کہتے ہمیں تو کوئی چیز نظر نہیں آرہی اس کیہی حالت رہی کہ آنکھوں سے اندھا ہو گیا اور اہ اسود بن عبدا یغوث زہری تو اس کے سر میں دانے نکلے اور وہ انہی دانوں کے ساتھ سر گیا اور اسی طرح حارث بن عئطل کے پیٹ میں زرد رنگ کا پانی پڑ گئی کہا سکا پایخانہ اسکے منہ سے نکل آیا ار وہ بھ اسی سے مر گیا اور رہ اعاص بن واےل تو اس کے ساتھ بھی اسے ہی ہوا کہ اس کے سر میں کانٹا لگا جو پورے سر میں پھیل گیا اور وہ اسسے مر گیا ۔

كفيناك المستهزئين ← بن عباس رضى الله تعالى عنهما في قول الله عز وجل ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← سُفْيَانَ، ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو طاهر أنبأ أبو بكر محمد بن الحسين القطان

Sunan Al Kubra Al Baihaqee · Bios book › Bios book · Hadith 17731

chevron_left Previous
1…1,7591,7601,761…1,818
Next chevron_right
All Chapters
1. The Book of Purity
    1. Statement of water2. Collect the doors of the pots3. Intercourse with toothpicks4. Combining the doors of the year of ablution and imposing it5. Collecting the doors of eloquence6. Gathering the doors of the event7. Collecting the doors of what requires washing8. Intercourse of washing doors from impurity9. Intercourse doors for tayammum10. Collecting the doors of what spoils the water11. Gathering the doors of the water that is defiled and that which is not defiled12. Gathering wiping doors on the socks13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
2. Menstruation Book
    13. Combining the doors of washing for Friday, Eid and so on
3. The Book of Prayer
    14. Door15. Male intercourse doors for prayer and residence16. Gathering the doors to receive the qiblah17. Intercourse doors recipe prayer
4. Prayer book
    20. Intercourse doors of what is permissible from work in prayer21. Intercourse with the gates of reverence in prayer and turning towards it, God, the Exalted, the Exalted, said: {The believers who are humble in their prayers have succeeded}22. Intercourse with the doors of prostration of recitation23. Intercourse with the doors of the prostration of forgetfulness and the prostration of thanksgiving24. Intercourse doors are the least or most rewarding of the work of prayer25. Group reading doors26. Intercourse with the doors of prayer with impurity and the place of prayer in the mosque and elsewhere27. Gathering the doors of the hours when you hate voluntary prayer28. Intercourse with volunteer prayer doors and the month of Ramadan29. Intercourse doors of the virtue of the group and the excuse to leave it30. Intercourse with the doors of the imam’s prayer sitting, standing, standing, and so on31. Collective doors differing intentions of the imam and the congregation and so on
4. Prayer book
    17. Intercourse doors recipe prayer18. Intercourse with chapel doors19. Intercourse doors of speech in prayer
4. Prayer book
    32. Intercourse with the doors of the position of the imam and the congregation33. Intercourse doors of the imam prayer and the prescription of the imams34. Intercourse with the doors of proving the leadership of women and others35. Intercourse with the traveler prayer doors and the gathering during travel
5. Friday book
    36. ۔۔37. Intercourse with the doors of washing for Friday and the sermon and what is required in the Friday prayer38. Combining the doors of engagement etiquette39. Combine the doors early to Friday and so on40. And from the gathering of the doors of the body for Friday
6. Fear Prayer Book
    41. ..
7. Eid prayer book
    41. ..
8. Eclipse prayer book
    42. ۔۔
9. Prayer book for rain
    43. ..44. Intercourse with the doors of the one who does not pray
10. The funeral book
    45. ۔۔46. Intercourse doors washing the dead47. Combining the doors of the number of the shroud and how the spirits48. Intercourse with the doors of the martyr and whoever prays for him and washes49. Intercourse holds the funeral doors50. Collect the doors of the funeral walk51. Intercourse doors of the first to pray for the dead